(۲۰۶) تاڑی
(۲۰۷) سیندھی
اقول: حتی علی قول من یجوز بقاطر الکرم فانہ(۱) ماء کان تشربہ فاذاارتوی ردہ کما یدل علیہ قول الزیلعی کمال الامتزاج بتشرب النبات الماء بحیث لایخرج منہ الابعلاج ثم ذکرقاطرالکرم بمامربخلاف الرطوبات السائلۃ من ھذہ الاشجارفانھا کالقارات النابعۃ من الاحجار واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں یہاں تک کہ جو حضرات انگور کی بیل سے ٹپکنے والے پانی سے وضو کے جواز کے قائل ہیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ دراصل یہ پانی تھاجب بیل میں جذب ہونے سے بچا تو بہنے لگا جیسا کہ قول زیلعی سے معلوم ہوتا ہے،امتزاج کا کمال یہ ہے کہ گھاس پانی کو اچھی طرح پی لے کہ بلا نکالے پانی نہ نکلے، پھر انہوں نے انگور کی بیل سے ٹپکنے والے پانی کا ذکر کیا بخلاف ان رطوبتوں کے جو اِن درختوں سے بہتی ہیں کیونکہ یہ ان روغنیات کی طرح ہیں جو پتھروں سے نکلتے ہیں واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱) ھذا ھو صریح مفادکلام الزیلعی ومن تبعہ لکن فی الارکان الاربعۃ لبحرالعلوم مانصہ اختلفوا فی ماء سال من الکرم ونحوہ بنفسہ ففی الھدایۃ یجوز بہ التوضی وفی الکافی وفتاوی قاضی خان لایجوز لانہ لیس ماء انماھو شبیہ بالماء ویطلق علیہ الماء مجازا اھ
یہ صریح مفہوم ہے زیلعی کے کلام کااور اس کے متبعین کے کلام کا، لیکن بحر العلوم کی ارکانِ اربعہ میں ہے اُس پانی میں اختلاف ہے جو انگور کی بیل سے ٹپکتا ہے، ہدایہ میں ہے اس سے وضو جائز ہے،کافی اور فتاوٰی قاضی خان میں ہے کہ وضو جائز نہیں کیونکہ وہ پانی نہیں ہے پانی کے مشابہ ہے اور اس پر پانی کا اطلاق مجاز ہے اھ
اقول لیس التعلیل فی الکافی ولا فی الخانیۃ بل لم ارہ لاحد قبلہ بل زعم(۱)العلامۃ ابن کمال الوزیر فی الایضاح عند قول متنہ لابما اعتصرمن شجراوثمرالروایۃ بالقصرکانھم ابوا عن اطلاق اسم الماء علیہ ایماء الی قصورہ عن حد الماء المطلق ولذلک لایجوز التوضی بہ اھ فھذا یوھم بل کمصرح ان کل عصارۃ ثمراوشجرماء حقیقۃ غیرانہ مقید لامطلق وھو باطل قطعاوالذی یقبلہ القلب فی ماء الکرم القاطر ایضاماقالہ بحرالعلوم واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں کہ تعلیل نہ کافی میں ہے اور نہ خانیہ میں ہے بلکہ میں نے اُن سے پہلے کسی کے کلام میں یہ نہیں دیکھا، بلکہ علامہ ابن کمال وزیر نے ایضاح کے متن کے پاس فرمایانہ اس پانی سے جو درخت یا پھل سے نچوڑا گیا ہو روایت قصر سے ہے،گویا وہ اس پر پانی کے نام کا اطلاق نہیں کرنا چاہتے ہیں، اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ ماءِ مطلق میں شامل نہیں، اور اس لئے اس سےوضوجائز نہیں ہے اھ اس سے وہم ہوتا ہے بلکہ صراحت ہی کہنی چاہئے کہ درختوں اور پھلوں کا پانی حقیقۃً پانی ہے،البتہ وہ مقید ہے مطلق نہیں ہے،حالانکہ یہ قطعاً باطل ہے اور انگور کی بیل کے پانی کی بابت دل لگتی بات بحرالعلوم ہی کی ہے واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۲۰۸) ماء الجبن کہ دودھ پھاڑ کر اس کی مائیت نکالتے ہیں۔
(۲۰۹) دہی کا پانی کہ کپڑے میں باندھ کر ٹپکائیں یا اس کے کونڈے میں اس سے چھٹے۔
(۲۱۰) مٹھا جسے چھاچھ بھی کہتے ہیں دہی سے مکھن جُدا ہونے کے بعد جو پانی رہ جائے۔
(۲۱۱) چاولوں کی پیچ۔
(۲۱۲)گوشت کاپانی کہ سربندبویام میں بے پانی رکھ کراوپر پانی بھر کرآنچ دینے سے خود گوشت سے مثل عرق نکلتا ہے۔
(۲۱۳) ماء اللحم کہ عرقیات کی طرح گوشت واجزائے مناسبہ سے ٹپکا کرلیتے ہیں۔
المخالطات
(۲۱۴) یخنی کہ پانی میں گوشت کا آبجوش نکالتے ہیں۔
(۲۱۵) ہر قسم کا شوربا۔ ہدایہ میں ہے:
لایجوز بالمرق فانہ لایسمی ماء مطلقا ۱؎۔
شوربا سےوضوجائز نہیں کہ اس کو مطلق پانی نہیں کہتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ ہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ عربیہ کراچی ۱/۱۸)
(۲۱۶ و ۲۱۷)جس پانی میں چنے یاباقلا پکایا اگر پانی میں ان کے اتنے اجزاء مل گئے کہ ٹھنڈا ہو کر پانی گاڑھا ہوجائے گاتو اس سے بالاتفاق وضو ناجائز ہے۔
اقول : وذلک ان العبارات الواضحۃ(عـہ)جاء ت ھھناعلی ثلٰثۃ وجوہ۔
میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں واضح عبارات تین قسم کی ہیں:
اول: مطلقاً جائز نہیں کیونکہ پکانے سے مکمل امتزاج حاصل ہوتا ہے لہٰذا مقید کرنا مفید ہوگا۔امام زیلعی اور ان کے متبعین کے ضابطہ میں اس کا بیان آئیگا،رحمہم اللہ تعالٰی۔
الثانی: لایجوز اذا وجد منہ ریح المطبوخ۔
دوم: وضو جائز نہیں جبکہ اس میں سے پکی ہوئی چیز کی بُو آتی ہو۔
الثالث: یجوز مالم یثخن وعلیہ الاکثروھوالاشھر والمنصوص علیہ فی ھامۃ(۱)المتون وفی الخانیۃ لوطبخ فیہ الحمص اوالباقلاء وریح الباقلاء یوجد منہ لایجوزبہ التوضوء وذکر الناطفی اذالم تذھب رقتہ ولم یسلب منہ اسم الماء جاز ۱؎ اھ وفی الجامع(۲)الکبیرثم المنیۃ والینابیع ثم الزیلعی والفتح وتجنیس الامام صاحب الھدایۃ ثم البحروتجنیس الملتقط ثم الحلیۃ والفتاوی الظھیریۃ ثم البرجندی واللفظ للفتح فی الینابیع لو تقع الحمص والباقلاء وتغیر لونہ وطعمہ وریحہ یجوز التوضی بہ فان طبخ فان کان اذابردثخن لایجوزالوضوء بہ اولم یثخن ورقۃ الماء باقیۃ جاز ۲؎ اھ وھذاکما تری اوسع الاقوال فاذا حصل شرطہ فی المنع حصل المنع بالاجماع۔
سوم: جب تک گاڑھا نہ ہو تو جائز ہے،اکثر اسی پر ہیں اور یہی مشہور تر ہے،اور عام متون میں یہی ہے، اور خانیہ میں ہے اگر پانی میں چنے یاباقلا پکایاگیا اور باقلا کی بُو اس میں آگئی تو اس سے وضو جائز نہیں اور ناطفی نے فرمایااگر اس کاپتلا پن ختم نہیں ہواہے اور اس پر پانی کا اطلاق ہوتاہے تو وضو جائز ہے ورنہ نہیں،جامع کبیر، منیہ، ینابیع، زیلعی، فتح، تجنیس (صاحب ہدایہ کی کتاب) پھر بحر، ملتقط کی تجنیس، حلیہ، فتاوٰی ظہیریہ اور برجندی میں ہے،عبارت فتح کی بحوالہ ینابیع ہے اگرچنے اور باقلاء پانی میں نچوڑ لیے گئے اور اس کا رنگ مزہ اور بُو بدل گئے تواُس سے وضو جائز ہے، تو اگر پکایا گیا اور ٹھنڈا ہونے پر گاڑھا ہوگیا تووضوجائز نہیں،اوراگر گاڑھا نہ ہوا اور پانی کی رقت ہنوز باقی ہے تو جائز ہے اھ جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں اس قول میں سب سے زیادہ گنجائش ہے، تو جب اس کی شرط منع میں حاصل ہو تو بالاجماع منع ثابت ہوگا۔ (ت)
(۱) کالوقایۃ والملتقی والغرر والتنویر ونور الایضاح حیث اعتبر وازوال الطبع بالطبخ ویاتی نصوصھا فی الفصل الثالث ۱۲ منہ غفرلہ۔
جیسے وقایہ، ملتقی، غرر، تنویر اورنورالایضاح،ان حضرات نے پکانے سے طبیعت کے زوال کا اعتبار کیا ہے تیسری فصل میں ان کتب کی عبارات آئیں گی ۱۲ منہ غفرلہ