| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول: نمک اقسام ہے ایک وہ رطوبت کہ پہاڑ یا غار سے جوش کر کے نکلتی اور جم جاتی ہے جیسے نمک لاہوری واندرانی اور سانبھریہ ابتداء جب تک بستہ نہ ہوئی تھی یقینا اُسی کی مانند ہے جب بستہ ہو کر پگھل جائے کہ وہ پانی کی نوع ہی سے نہیں، دوم دریائے نمک کامنجمد حصہ یہ بعض تیز وتندو حار وحاد چشموں کا پانی ہے کہ جب حرارتِ آفتاب اس میں عمل کرتی ہے کناروں کناروں سے جم جاتا ہے بیچ میں بہتا پانی رہتا ہے اس میں جو چیز پڑے ایک مدت کے بعد نمک ہوجاتی ہے اختلاف اسی پانی میں ہے۔
والذی یظھر لی انہ ان کان(۱) ماء حقیقۃکما ھو الظاھر فلا ینبغی الریب فی جواز الوضوء بہ لان الماء ماء سواء کان عذبا فراتا اوملحا اجاجا وقد قال فی الخانیۃ لوتوضأ بماء السیل یجوز وان خالطہ التراب اذا کان الماء غالبا رقیقا فراتا کان اواجاجا ۱؎ اھ وکونہ(۱) یجمد صیفاویذوب شتاء لایجعلہ نوعااٰخر غیر الماء فلیس من ارکان ماھیۃ الماء ولا من شرائطھا الجمودشتاء والذوبان صیفاوانماھذہ اوصاف تختلف باختلاف الاصناف ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج ھذا ینبت ویروی وھذا لایفعل شیا منہ وقد یمکن عقد(۲) الملح بماء البحر بالطبخ ولا یخرجہ ھذا عن المائیۃ فکذا لواجتزأ بعض المیاہ لشدۃ حدتہ عن الطبخ بحرارۃ الشمس لم یکن فیہ اختلاف الماھیۃ فھزا ربمایقضی لما فی الدر والدرر بالترجیح٭ لکن لمااختلفواولم یتبین الامر قدمت الحاظر علی المبیح٭ولکن العجب من العلامۃالشرنبلالی علل فی المراقی المنع من ذائب الملح بمامرانہ یذوب شتاء ویجمد صیفا ثم قال وقبل انعقادہ ملحا طھور ۲؎ اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میرے نزدیک اگر وہ حقیقۃً پانی ہی تھاجیسا کہ ظاہر ہے تو اس سے وضو کے جواز میں کوئی شک نہ ہونا چاہئے کیونکہ پانی تو پانی ہی ہے خواہ سخت میٹھا ہو یا سخت کڑوا ہو، خانیہ میں ہے اگر سیلاب کے پانی سےوضوکیاتوجائز ہے خواہ اس میں مٹی ملی ہُوئی ہو جبکہ پانی غالب رقیق ہو،میٹھا ہویا نمکین ہو اھ اور یہ بات کہ وہ گرمیوں میں جم جاتا ہے اور سردیوں میں پگھل جاتا ہے اس کو پانی کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں بنادیتا ہے کیونکہ جاڑوں میں جمنا گرمیوں میں پگھلنا نہ تو پانی کی ماہیت کے اورکان سے ہے اور نہ شرائط سے ہے اور یہ اوصاف ہیں جو قسموں کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں، کوئی سخت میٹھا، کوئی سخت نمکین، کوئی اُگانے والااور سیراب کرنے والا ہوتا ہے اورکچھ بے فائدہ ہوتا ہے اور کبھی سمندری پانی کو ابال کر نمک بنا لیا جاتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پانی نہیں تھا،اسی طرح اگر کوئی پانی آفتاب کی گرمی سے گرم ہونے کی وجہ سے متجزی ہوگیا تویہ اس کی ماہیت کو تبدیل نہیں کرتا،اس سے اس چیز کی ترجیح ظاہر ہوتی ہے جو در اوردرر میں ہے لیکن فقہاءء کے اختلاف کی وجہ سے میں نے منع کرنے والی دلیل کو مباح کرنے والی دلیل پر ترجیح دی ہے، مگر علامہ شرنبلالی پر تعجب ہے کہ انہوں نے مراقی الفلاح میں منع کی علت پگھلے ہوئے نمک میں یہ بتائی کہ وہ سردی میں پگھلتا اور گرمیوں میں جمتا ہے اور نمک بننے سے قبل وہ پاک ہوتا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خانیہ المعروف قاضی خان فصل فیما لایجوز التوضی نولکشور لکھنؤ ۱/۹) (۲؎ مراقی الفلاح مع الطحطاوی ،کتاب الطہارت نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۱۳)
(۱۹۱) نوشادر کا پانی کہ اس کے بہنے سے حاصل ہوتا ہے۔ (۱۹۲) آبِ کافور کہ اس کے پگھلنے سے حاصل ہو ریاحی کا فور جسے یہاں بھیم سینی کہتے ہیں دھوپ کی گرمی سے پگھل جاتا ہے۔ (۱۹۳) آبِ کافور کہ درخت کا فور کاٹتے وقت اس سے ٹپکتا ہے۔ (۱۹۴) آبِ نفط بالکسر ایک روغنی رطوبت تیز رائحہ ہے کہ بعض زمینوں سے اُبلتی ہے۔ (۱۹۵) مٹی کا تیل مثل آبِ نفط ہے۔بزازیہ میں ہے:
ماء الملح لایجوزالوضوء بہ وکذا ماء النفط ۱؎
(نمک کے پانی سے وضو جائز نہیں، اور ایسے ہی ماء النفط (ایک معدنی تیل) سے۔ ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیۃ مع العالمگیری نوع فی المستعمل والمطلق والمقیدنورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۰)
(۱۹۶) زِفت بالکسر درخت صنوبر نر کامد جو پھل نہیں دیتا۔ (۱۹۷) راتیانج درخت صنوبر مادہ کامدجس میں پھل آتا ہے۔ (۱۹۸) قطران ایک قسم کا درخت سروکامد۔ (۱۹۹) قیر ایک سیاہ رطوبت کہ بعض زمینوں یا گرم چشموں سے ابلتی ہے۔ (۲۰۰) قفر الیہود ایک بودار رطوبت بنفشی رنگ کہ مثل قیر بعض دریاؤں سے نکلتی ہے۔ (۲۰۱) عنبر کہ یہ بھی ایک قول میں ایک معدنی رطوبت ہے بعدکو حرارت آفتاب وغیرہ سے منجمد ہوجاتی ہے۔ (۲۰۲) مومیائی (۲۰۳) سلاجیت یہ دونوں پتھر کے مدہیں اورابتدا میں سیال ہوتے ہیں وکل ذلک فی معنی ماء النفط (یہ سب ماء النفط (ایک معدنی تیل) کے معنی میں ہیں۔ ت) (۲۰۴) نیم وغیرہ درختوں کامد (۲۰۵) موسم بہار میں انگور کی بیل سے خود بخودپانی ٹپکتا ہے اس میں اختلاف ہے اورراجح یہی ہے کہ اُس سےوضوجائز نہیں۔
فی الھدایۃ(لایجوزبما اعتصر من الشجر والثمر)لانہ لیس بماء مطلق والحکم عند فقدہ منقول الی التیمم اما الماء الذی یقطع من الکرم فیجوز التوضی بہ لانہ ماء یخرج من غیر علاج ذکرہ فی جوامع ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی وفی الکتاب اشارۃ الیہ حیث شرط الاعتصار ۱؎ اھ واقرہ فی العنایۃوالفتح وغیرھما وتبعہ صاحب المجمع فی شرحہ وفی التبیین ان کان یخرج من غیرعلاج لم یکمل امتزاجہ فجازالوضوء بہ کالماء الذی یقطر من الکرم ۲؎ اھ وتبعہ المحقق فی الفتح وقال صدرالشریعۃ وتبعہ ابن کمال باشا فی ایضاحہ اماما یقطر من شجر فیجوز بہ الوضوء ۳؎ اھ وھو اختیار الامام الاسبیجابی کما یاتی فی سادس ضوابط الفصل الثالث وادخلہ العلامۃالتمرتاشی فی متنہ فقال لابعصیرنبات بخلاف مایقطر من الکرم بنفسہ ۴؎ اھ
ہدایہ میں ہے (وضو اس پانی سے جائز نہیں جو درخت اور پھل سے نچوڑا گیا ہو)کیونکہ وہ مطلق پانی نہیں رہا،اورجب مطلق پانی نہ ہو تو پھر حکم تیمم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے بہرحال وہ پانی جو انگور کی بیل سے ٹپکتاہے اس سے وضو جائز ہے کہ وہ بغیر عمل کے نکلا ہے اس کو جوامع ابی یوسف رحمہ اللہ تعالٰی میں ذکر کیا اور کتاب میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ ا س میں نچوڑ کی شرط ہے اھ اور اس کو عنایہ اور فتح وغیرہ میں برقرار رکھااورصاحب المجمع نے اس کی شرح میں اس کی متابعت کی اور تبیین میں ہے کہ بغیر عمل کے اگر عرق نکل آئے تو اس کا امتزاج پورا نہ ہوگااور اس سے وضو جائز ہے جیسے انگور کی بیل سے ٹپکنے والا پانی اھ محقق نے فتح میں اس کی پیروی کی اورصدرالشریعۃ نے فرمایا ابن کمال پاشا نے اپنی ایضاح میں اس کی پیروی کی فرمایا جو پانی درخت سے ٹپکتا ہے اس سے وضو جائز ہے اھ اور وہ امام اسبیجابی کامختار ہے جیساکہ تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ میں آئیگااورعلامہ تمرتاشی نے اس کو متن میں داخل کیااور فرمایاگھاس کے عرق سے جائز نہیں بخلاف اس پانی کے جو انگور کی بیل سے خود بخود ٹپکتا ہے اھ (ت)
(۱؎ ہدایۃ باب الماء الذی یجوبہ ومالایجوز مطبع عربیہ کراچی ۱ /۱۶) (۲؎ تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبع الامیریہ ببولاق مصر ۱/۲۰) (۳؎ شرح الوقایۃ مالایجوزبہ الوضوء المکتبۃ الرشیدیۃ دہلی ۱/۸۴) (۴؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۴)
واغرب المدقق العلائی فی شرحہ فزادبعدقولہ من الکرم اوالفواکہ ولم ارہ لغیرہ والجمھور علی المنع ونصوا(عـہ)انہ الاوجہ الاظھرالاحوط ففی الکافی ثم ابن الشلبی علی الزیلعی والانقرویۃ لایتوضوء بماء یسیل من الکرم لکمال الامتزاج ذکرہ فی المحیط وقیل یجوز لانہ خرج من غیر علاج ۱؎ اھ وفی الخانیۃ لابالماء الذی یسیل من الکرم فی الربیع وکذا ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی ۲؎ اھ وفی الحلیۃ والظاھر انہ اوجہ اھ ثم اعاد فقال الظاھرانہ الاوجہ ۳؎ اھ وفی الغنیۃ ھوالاحوط ۴؎ اھ وفی غنیۃ ذوی الاحکام ھوالاظھر کما فی البرھان۵؎ وفی نور الایضاح لا یجوز بماء شجر وثمر ولوخرج بنفسہ من غیرعصر فی الاظھر ۶؎ اھ وفی مراقی الفلاح احترز بہ عما قیل انہ یجوز بمایقطربنفسہ لانہ لیس لخروجہ بلا عصر تاثیر فی نفی القیدوصحۃ نفی الاسم عنہ ۷؎ اھ وفی الدر ھوالاظھر کما فی الشرنبلالیۃ عن البرھان واعتمدہ القھستانی) فقال والاعتصار یعم الحقیقی والحکمی کماء الکرم وکذا ماء الدابوغۃ(۱) والبطیخ بلا استخراج ۱؎ اھ واقرہ ط وفی الھندیۃ ولا بماء یسیل من الکرم کذا فی الکافی والمحیط وفتاوٰی قاضی خان وھو الاوجہ ھکذا فی البحروھوالاحوط کذا فی شرح منیۃ المصلی لابرھیم الحلبی ۲؎ اھ وفی البحرالرائق والنھر الفائق المسرح بہ فی کثیر من الکتب انہ لایجوز الوضوء بہ واقتصر علیہ قاضی خان فی الفتاوٰی وصاحب المحیط وصدربہ فی الکافی وذکرالجواز بصیغۃ قیل وفی شرح منیۃ المصلی الاوجہ عدم الجواز فکان ھوالاولی لما انہ کمل امتزاجہ کما صرح بہ فی الکافی فما وقع فی شرح الزیلعی انہ لم یکمل امتزاجہ ففیہ نظر ۱؎ اھ وفی ش عن الرملی علی المنح من راجع کتب المذھب وجداکثرھا علی عدم الجواز فیکون المعمول علیہ فما فی ھذا المتن (یرید التنویر) مرجوع بالنسبۃ الیہ ۲؎ اھ۔
اور مدقق علائی نے اپنی شرح میں بڑی عجیب بات کہی یعنی یہ کہ من الکرم کے بعد انہوں نے ''اوالفواکہ''کااضافہ کیا،میں نے ان کے علاوہ کسی اور کے کلام میں یہ نہ دیکھا،اور جمہور کے نزدیک ممنوع ہے اور صراحت کی ہے کہ یہی اوجہ،اظہر اور احوط ہے، کافی، ابن شلبی علی الزیلعیاور انقرویہ میں ہے کہ اس پانی سےوضونہ کرے جو انگور کی بیل سے بہتا ہے کیونکہ اس میں کمال امتزاج پایا جاتا ہے،اس کو محیط میں ذکر کیا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ جائز ہے کیونکہ بغیر عمل کے نکلا ہے خانیہ میں ہے کہ اس پانی سے جائز نہیں جو موسم ربیع میں انگور کی بیل سے نکلتا ہے،اسی طرح اس کو ذکر کیا ہے شمس الائمہ حلوانی نے اھ اور حلیہ میں ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہی اوجہ ہے اھ پھر اعادہ کیا اور فرمایا ظاہر یہی ہے کہ یہ اوجہ ہے اھ اور غنیہ میں ہے کہ یہ احوط ہے اھ اور غنیہ ذوی الاحکام میں ہے یہی اظہر ہے جیسا کہ برہان میں ہے اورنور الایضاح میں ہے وضو جائز نہیں درخت یا پھل کے پانی سے خواہ بلا نچوڑے ازخود نکل آئے،اظہر یہی ہے اور مراقی الفلاح میں ہے اس سے اس قول سے احتراز کیا کہ وضو اس پانی سے جائز ہے جو بلانچوڑے خود نکل آئے،کیونکہ اس کے بلانچوڑے نکلنے میں نفی قید میں کوئی تاثیر نہیں ہے اسی طرح اس سے اس نام کے سلب کرنے میں کوئی تاثیر نہیں ہے اھ اور در میں اسی کو اظہر کہا جیساکہ شرنبلالیہ میں برہان سے ہے اور اسی پر قہستانی نے اعتماد کیا اور کہا نچوڑنا حقیقی اور حکمی دونوں کو عام ہے جیسے انگور کا پانی اسی طرح تربوز کا پانی،اور خربوزے کا پانی بلا نکالے ہوئے اھ اور اس کو 'ط'نے برقرار رکھااور ہندیہ میں ہے نہ اس پانی سے جو انگور کی بیل سے نکلتا ہے اسی طرح کافی، محیط میں ہے اورفتاوٰی قاضی خان میں ہے یہی اوجہ ہے یہی بحر میں ہے اور یہی احوط ہے اسی طرح شرح منیۃ المصلی میں ہے جو ابراہیم حلبی کی ہے اھ اور بحر اور نہر میں ہے کہ بہت سی کتب میں صراحت ہے کہ اس سے وضو جائز نہیں،اور اس پر قاضیخان نے فتاوٰی میں اکتفاء کیا،اسی طرح صاحبِ محیط نے اس پر اکتفاء کیا اور اس کو ابتداء میں ذکر کیا کافی میں اورجواز کا ذکر بصیغہ قیل کیا اور شرح منیۃ المصلی میں ہے کہ اوجہ عدمِ جواز ہے تو یہی اولٰی ہے کیونکہ اس کا امتزاج مکمل ہو گیا ہے جیسا کہ کافی میں مصرّح ہے تو شرح زیلعی میں اس کے امتزاج کو مکمل نہ بتاناقابلِ اعتراض ہے اھ اور 'ش' میں رملی علی المنح سے منقول ہے کہ جس نے کُتبِ مذہب کو دیکھا ہے اس کو معلوم ہوگا کہ اکثر میں عدم جواز ہے تو اسی پر اعتماد ہوگا، تو جو اس متن (تنویر) میں ہے وہ اس کی نسبت مرجوع ہے اھ۔ (ت)
(عـہ)وقدمر تأییدہ فی ۱۸۰ فتذکر ۱۲ منہ غفرلہ (م) اس کی تائید گزر چکی ہے ملاحظہ ہو ۱۸۰۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ حاشیۃ الشلبی علٰی تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریۃ ببولاق مصر ۱/۲۰) (۲؎ قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱/۹ ) (۳؎ حلیہ) (۴؎ غنیۃ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۲) (۵؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدرر کتاب الطہارت مطبعۃ الکاملیۃ بیروت ۳/۱ ۲) (۶؎ نورالایضاح کتاب الطہارۃ علمیہ لاہور ص۳) (۷؎ مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ص۱۴)
(۱)الدا بوغۃ والدابوقۃ والحبحب ھوالبطیخ الاخضرکما فی ش عن بعض المحشین عن کتب الطب وذکر فی التحفۃ والمخزن دابوقۃ بالقاف وزعماانہ من اسمائہ بالعربی وذکرامنھااللاغ والبطیخ الھندی والبطیخ الشامی والبطیخ الفلسطینی وبالفارسیۃ ھندوانہ وبالھندیۃ تربوزولم یذکرادابوغہ بالغین ۱۲ منہ۔ (م)
دابوغہ، دابوقہ اورحبحب تربوز کو کہتے ہیں جیسا کہ شامی میں ہے کہ بعض حاشیہ نگاروں نے کتبِ طب سے اس کی یہی تشریح نقل کی ہے اور تحفہ اور مخزن میں دابوقہ ''ق'' سے ہے،ان کاخیال ہے کہ یہ اس کا عربی نام ہے ان دونوں کتب میں لاغ اور بطیخ ہندی، بطیخ شامی اور بطیخ فلسطینی کاذکر ہے فارسی میں ہندوانہ اور ہندی میں تربوز کہتے ہیں ان دونوں کتابوں میں دابوغہ ''غ''کے ساتھ کا ذکر نہیں ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الطہارت مجتبائی دہلی ۱/۳۴) (۲؎ ہندیۃ فیما لایجوزبہ التوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۱) (۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارۃ سعید کمپنی کراچی ۱/۶۹) (۲؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۳۳)