| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
تبیین الحقائق وبحرالرائق وبزازیہ میں ہے:لایجوز بماء الملح وھو یجمد فی الصیف ویذوب فی الشتاء عکس الماء ۱؎۔
نمک کے پانی سے وضو جائز نہیں، نمک گرمی میں جم جاتا ہے اور سردی میں پگھلتا ہے پانی کے برعکس۔
(۱؎ تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱/ ۱۹)
غرر وتنویر ودرر ودر میں ہے: والنظم للدرر (یجوز ان) ای الوضوء والغسل بماء ینعقد بہ الملح) کذا فی عیون المذاھب (لابماء الملح) الحاصل بذوبان الملح کذا فی الخلاصۃ ولعل الفرق ان الاول باق علی طبیعتہ الاصلیہ والثانی انقلب (عـہ) الی طبیعۃاخری ۱؎ اھ واعترضہ محشیہ العلامۃ نوح افندی کمافی ش بان عبارۃ الخلاصۃ ولوتوضو بماء الملح لایجوز ثم نقل عن البزازیہ و الزیلعی ماقدمناقال واقرہ صاحب البحر والعلامۃالمقدسی ومقتضاہ انہ لایجوز بماء الملح مطلقا ای سواء انعقد ملحا ثم ذاب اولا وھو الصواب عندی ۱؎ اھ ملخصا۔
عبارت درر کی ہے وضو اور غسل جائز ہے (اس پانی سے جس سے نمک بنا ہے) یہی عیون المذاہب میں ہے (نہ کہ نمک کے پانی سے) جو نمک سے پگھل کر حاصل ہوتا ہے،خلاصہ میں یہی ہے اور غالباً فرق یہ ہے کہ اوّل اپنی اصل طبیعت پر واقع ہے اور دوسرا دوسری طبیعت کی طرف منتقل ہوگیا اھ اس پر اس کے محشی علامہ نوح آفندی نے اعتراض کیا ہے، جیساکہ ''ش'' میں ہے کہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے کہ اگر کسی نے نمک کے پانی سے وضو کیا تو جائز نہیں۔ پھر بزازیہ اور زیلعی سے انہوں نے وہی نقل کیا جو ہم نے بیان کیا اور فرمایا اس کو صاحب بحر اور علامہ مقدسی نے برقرار رکھا اس کا مفہوم وہی ہے کہ نمک کے پانی سے مطلقاً وضو جائز نہیں ہے خواہ نمک بن کر پھر پگھلا ہو یا نہ اور میرے نزدیک یہی صواب ہے اھ ملخصا۔ (ت)
(عـہ )قال الخادمی اورد الجمد والبخار اھ اقول توھم(۱) الانقلاب فی الجمد انما یتأتی ممن یزعم ان السمن فی الشتاء لایبقی سمنابل ینقلب ماھیہ اکری قال واجیب المراد الطبیعۃ غیر الملائمۃ للمائیہ اھ اقول ومراد الایرادان الماء یجمد ویصیربخارا فلا یتوضو بہ ثم اذا ذاب ذاک وتقاطر ھذا جاز لعود ھما الی المائیہ کما کاناعلیھا فلو ان الماء الذی سینعقد ملحا کان باقیا علی طبیعۃ الاصلیہ کما قلتم انما لایجوز الوضوء بہ حین یصیر ملحا فاذا ذاب فقد عاد الی طبیعۃ الاولی فما وجہ الفرق بین ماسینعقدوماکان انعقد فان ضر تخلل الانقلاب الی طبیعۃ اخری فلیضر فی الجمد الذائب والسحاب الصائب وحاصل الجواب ان المضر تخلل طبیعۃ لاتناسب طبیعۃ الماء وذلک فی الملح بخلاف الجمد والبخار اھ اقول ویکدرہ(۱)ان لیس بین ماء ملح سینعقد ملحاوبین الملح الا السیلان والجمود وبھذا لقدر لایحصل تباین الطبیعتین وعدم التناسب بینھماکیف وھو حین ھو علی شرف الانعقاد فیہ کل ما فی الملح غیر انہ لم یجمد وسیجمد کالسمن والعسل فی الصیف والشتاء فکیف یقال ان الطبیعۃ الملحیہ لاتناسب طبیعۃ ذالک الماء فانقلت المراد بطبیعۃ الماء ھی الرقۃ ولا شک ان الجمود یباینھا اقول فیعودالایراد بالجمد فان التباین بین الرقۃ والجمود لذاتیھما لالمایعرضانہ من ماء اوملح فعلیک بالتثبت واللّٰہ تعالٰی اعلم ثم رأیت الجواب المذکور فی الخادمی للدانی افندی قال بعدہ وھی طبیعۃ الملحیہ فیکون ماؤہ بعد الذوبان کماء الذھب والفضۃ بخلاف الجمد اذا انقلب ماء فانہ ملائم یطبع الماء اھ نقلہ السید الازھری اقول والرد علی ھذااظھر فانہ لاینقلب بعد الذوبان الا الی ماکان علیہ وقد کان عندکم علی طبیعتہ الاصلیہ فکذالک بعد الزوبان ۱۲ منہ غفرلہ (م) خادمی نے کہا کہ جمد اور بخار سے اعتراض کیا گیاہے اھ میں کہتا ہوں جمد میں انقلاب کا وہم یہ وہی کہہ سکتا ہے جس کو یہ گمان ہو کہ گھی سردیوں میں گھی نہیں رہتا ہے بلکہ اس کی ماہیت بدل جاتی ہے فرمایا، جواب دیا گیا ہے کہ مراد وہ طبیعت ہے جو پانی کے مناسب نہ ہو اھ میں کہتا ہوں کہ اعتراض یہ ہے کہ پانی جم کر بخار بنتا ہے تو اس سے وضو نہیں کیا جاتا ہے، پھر جب یہ پگھلتاہے اور ٹپکتا ہے تو وضو جائز ہوتاہے کیونکہ یہ دونوں پانی بن جاتے ہیں، تو جو پانی جم کر نمک ہوجاتا ہے اگر بقول آپ کے اپنی اصلی طبیعت پر باقی ہوتو اس سے نمک ہونے کی حالت میں وضو جائز نہ ہوگا، اور جب وہ پگھلے گا تو اپنی پہلی طبیعت کی طرف واپس آجائے گا تو جومنعقد ہوگا اور جو منعقد ہوچکا ہے اس میں فرق کی کیا وجہ ہے تو اگر پانی کا دوسری طبیعت کی طرف انقلاب خلل پیدا کرتا ہے تو یہ چیز اس جمد میں بھی مضر ہونی چاہئے جو پگھل گیا ہے اور اسی طرح بہنے والے بادل میں اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ مضر ایسی طبیعت کا خلل انداز ہوناجو پانی کی طبیعت سے مناسب نہ ہو، اور یہ چیز نمک میں ہے بخلاف جمد اور بخار کے۔میں کہتا ہوں اس کو یہ چیز مکدر کرتی ہے کہ جو نمکین پانی نمک بننے والا ہے اور جو بالفعل نمک ہے اس میں سوائے سیلان اور جمد کے کیا فرق ہے اور دونوں عدمِ مناسبت بھی نہ ہوگی، پھر جب وہ جمنے کے قریب ہوتا ہے تو اس میں وہ تمام خصوصیات ہوتی ہیں جو نمک میں ہوتی ہیں صرف اتنا ہے کہ وہ ابھی جما نہیں ہے اب جم جائیگا جیسے گھی اور شہد گرمی اور جاڑے میں، تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ نمک کی طبیعت اس پانی کے مناسب نہیں، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پانی کی طبیعت سے مراد رقّت ہے اور کچھ شک نہیں کہ جمود اس کے مخالف ہے۔میں کہتا ہوں پھر وہی اعتراض ہوگا کہ جمد میں تباین رقّت اور جمود کا ذاتی ہے عارضی نہیں کہ پانی یا نمک کی وجہ سے ہو، تو غور کرنا لازم ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ پھر میں نے مذکور جواب دانی آفندی کی خادمی میں دیکھا اس کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ نمک کی طبیعت ہے تو اس کا پانی پگھلنے کے بعد سونے چاندی کے پانی کی طرح ہوگا بخلاف جمد کے جب وہ پانی ہوجائے کیونکہ یہ پانی کی طبیعت کے مناسب ہے اھ اس کو سید ازہری نے نقل کیا۔میں کہتا ہوں اس پر رد اظہر ہے کیونکہ وہ پگھلنے کے بعد پہلی ہی حالت کی طرف لَوٹے گا اور تمہارے نزدیک وہ اصل طبیعت پر تھا تو اسی طرح پگھلنے کے بعد ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱؎ درر غرر کتاب الطہارۃ دارالسعادۃ مصر ۱/۲۱) (۱؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۳۲)