(۱۵۶) دُلھن کو(۲) بیاہ کر لائیں تو مستحب ہے کہ اس کے پاؤں دھو کر مکان کے چاروں گوشوں میں چھڑکیں اس سے برکت ہوتی ہے یہ پانی بھی قابلِ وضو رہنا چاہئے اگر دُلھن باوضو یا نابالغہ تھی کہ یہ اور اس کا سابق از قبیل اعمال ہیں نہ ازنوع عبادات اگرچہ نیت اتباع انہیں قربت کردے واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱۵۷) حائض ونفسا نے قبل انقطاع دم بے نیت قربت غسل کیا یہ پانی بھی قابلِ وضو ہے۔
(۱۵۸) مرد کے وضو وغسل سے جو پانی بچا قابلِ طہارت بلاکراہت ہے اگرچہ عورت اس پانی سے طہارت کرے بخلاف عکس کہ مکروہ ہے کما تقدم۔
(۱۵۹) بعض دوائیں مغسول استعمال کی جاتی ہیں جیسے یا قوت وشادنج وحجرار منی وگلِ ارمنی ولک وتوتیا وشنجرف ومرد اسنج وغیرہا کہ خوب باریک پیس کر پانی میں ملاتے ہیں جو غبارسا ہو کر پانی میں مل جائے یا جس میں سنگریزہ رہے پھینک دیا جائے اب یہ آبِ غبار آمیز ڈھانک کر رکھ چھوڑیں یہاں تک کہ وہ غبارتہ نشین ہو کر پانی سے جُدا ہوجائے اُس وقت پانی نتھار کر دوا استعمال میں لائیں یہ پانی بھی قابلِ وضو ہے اگر بے وضو ہاتھ نہ لگا ہو۔
(۱۶۰) حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مُوئے مبارک یا جُبہئ مقدسہ یا نعل شریف یا کاسہئ مطہرہ تبرک کیلئے جس پانی میں دھویا قابلِ وضو ہے اگرچہ اس میں قصدِ قربت بھی ہوا۔ ہاں(۱) پاؤں پر نہ ڈالا جائے کہ خلافِ ادب ہے اگر منہ پر جاری کیا منہ کا وضو ہوگیا اُن کا تو نام پاک لینے سے دل کا وضو ہو جاتا ہے صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ وبارک وسلم وعلٰی ابنہ الکریم الغوث الاعظم واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ الحمداللہ ان پاک کرنے والے پانیوں کی ابتدا زمزم شریف بلکہ اُس آبِ اقدس سے ہُوئی جو انگشتانِ مبارک حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بکمال رحمت جوش زن ہوا اور انتہا اس پانی پر ہوئی جو حضور کے آثارِ شریفہ کو دھو کر برکاتِ عالیہ کا منبع ومخزن ہُوا والحمدللّٰہ رب العٰلمین وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا ومولانا واٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین اٰمین۔
قسم دوم جن سے وضو صحیح نہیں۔
(۱۶۱) آبِ نجس ۔ (۱۶۲) مستعمل کہ ہمارے رسالہ الطرس المعدل میں جس کا بیان مفصّل۔
(۱۶۳ تا ۱۶۵) گلاب کیوڑا بید مشک،
ہدایہ وخانیہ میں ہے:لابماء الورد ۱؎ اھ ومثلہ فی خزانۃ المفتین عن شرح مجمع البحرین وعد فی السعدیہ مع ماء الوردماء الھند باوماء الخلاف واشباھھا ۲؎۔
نہ گلاب کے پانی سے اھ اور اسی کی مثل خزانۃ المفتین میں شرح مجمع البحرین سے ہے اور سعدیہ میں گلاب کے پانی کے ساتھ عرق ہندبا، عرق خلاف وغیرہ کو بھی شمار کیا۔ (ت)
طہارت حکمیہ گلاب اور دوسرے پھولوں کے پانی سے جائز نہیں ہے۔ (ت)
(۳؎ غنیہ المستملی فصل فی بیان احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۹)
(۱۶۶) عرق گاؤ زبان وعرق بادیان وعرق عنب الثعلب وغیرہا جتنے عرق کشید کئے جاتے ہیں کسی سے وضو جائز نہیں
وتقدمت فی ۱۱۱ عبارۃ البحر فی الماء الذییؤخذ بالتقطیر من لسان الثور ۱؎ ولفظ الدرر والمستخرج من النبات بالتقطیر ۲؎
(بحر کی عبارت اس پانی کی بابت جو عمل تقطیر سے گاؤ زبان سے نکالا جائے اور درر میں ہے کہ جڑی بُوٹیوں کا پانی جو تقطیر سے نکالا جائے ۱۱۱ میں گزر چکی ہے۔ ت)
(۱؎ بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۹)
(۲؎ الدرر الحکام للمولی خسرو بحث الماء الکاملیہ بیروت ۱/۲۳)
(۱۶۷ و ۱۶۸) آب کا سنی آب مکوہ اگرچہ مروق ہوں کہ اجزائے کثیفہ جدا ہو کہ زیادہ رقیق ولطیف ہوجاتے ہیں ومرکلام سعدی افندی۔
(۱۶۹) وہ پانی کہ زعفران سے نکالا جائے وتقدم کلام الغنیہ فی ۱۲۵ (اور غنیہ کا کلام ۱۲۵ میں گزرا۔ ت)
(۱۷۰ تا ۱۷۹) خربوزہ، تربوز، ککڑی، کھیرے، سیب، بہی، انار، کدو وغیرہا میووں پھلوں کا عرق کہ اُن سے نکلتا یا نچوڑ کر نکالا جاتا ہے، یوں ہی گنّے کا رس اور بالخصوص وہ پانی کہ کچے ناریل کے اندر ہوتا ہے جو پگھل کر پانی نہ ہوا بلکہ ابتداء پانی ہی تھا۔
(۱۸۰) اُس سے بھی زیادہ قابلِ تنبیہ وہ پانی ہے کہ سُنا گیا خطِ استوأ کے قریب بعض وسیع ریگستانوں میں جہاں دُور دُور تک پانی نہیں ملتا ریتے کے نیچے ایک تربوز نکلتا ہے جس میں اتنا پانی ہوتا ہے کہ سوار اور اس کے گھوڑے کو سیراب کردے رحمت نے بے آب جنگل میں حیاتِ انسان کا یہ سامان فرمایا ہو تو کیا دُور ہے مگر وہ پانی اگرچہ نتھرے خالص پانی کی طرح ہو اور اس تربوز میں اس کے سوا کچھ نہ ہو جب بھی قابلِ وضو نہیں کہ ثمر کا پانی ہے مائے مطلق کے تحت میں نہیں آسکتا۔ رہا وضو اس کیلئے بحمداللہ وہ رحمتِ عامہ موجود ہے جو صدیقہ بنت الصدیق محبوبہئ محبوبِ رب العٰلمین جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہما وسلم کے صدقہ میں ہر مسلمان کے لئے ہر جگہ موجود ہے کہ
تیمموا صعیدا طیبا جعلت لی الارض مسجد اوطھورا ۳؎ اقول وھنالک(۱) یظھر ان الاعتصار لامفھوم لہ وان احتج بہ بعض الکبراء علی جواز الوضوء بقاطر الکرم کما سیاتی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
پاک مٹی سے تمیم کرو میرے لئے زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔ میں کہتا ہوں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتصار کا کوئی مفہوم مخالف نہیں اگرچہ بعض اکابر نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ انگور سے ٹپکنے والے پانی سے وضو جائز ہے، کما سیاتی واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ جامع للبخاری کتاب التمیم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۸)
خانیہ وہندیہ میں ہے:لایجوز التوضوء بماء البطیخ والقثاء والقثد ۱؎ اھ وفی خزانۃ المفتین عن شرح مجمع البحرین مکان القثد وماء الخیار
وضوء جائز نہیں ہے خربوز، ککڑی اور کھیرے کے پانی سے اھ اور خزانۃ المفتین میں شرح مجمع البحرین سے قثد (کھیرے) کے بجائے ماء الخیار (ککڑی کا پانی) ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ فصل فیما لایجوزبہ التوضوء نورانی کتب خانہ کراچی ۱/۲۱)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فیما لایجوزبہ التوضوء نولکشور لکھنؤ ۱/۹)
منیہ وغنیہ میں ہے:(لاتجوز بماء الثمار) مثل التفاح وشبھہ ۳؎ وذکر فی الجوھرۃ ماء الدباء ۴؎ ویاتی۔
طہارت پھلوں کے پانی سے جائز نہیں، جیسے سیب اور اس کے مشابہ اھ اور جوہرہ میں ذکر کیا کدو کا پانی، اور یہ آئیگا۔ (ت)
(۵؎ فتاوٰی قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضو نولکشور لکھنؤ ۱/۹)
یونہی وہ پانی کہ کسی درخت کی شاخیں یا پتّے کوٹ کر نکالا جائے۔ خزانۃ المفتین میں شرح مجمع البحرین سے ہے:
لایجوز الوضوء بماء القضبان ۶؎۔
قضبان (کٹی ہوئی شاخوں) کے پانی سے وضو جائز نہیں۔ (ت)
(۶؎ خزانۃ المفتین)
(۱۸۲) شراب ریباس
(۱۸۳ تا ۱۸۵) شربتِ انار شیریں، شربتِ انارترش، شربتِ انگور وغیرہا جتنے شربت قوام میں بنائے جاتے ہیں ہدایہ میں ہے:
لایجوز بالاشربۃ ۷؎
(شربتوں سے وضو جائز نہیں۔ ت)
(۷؎ ہدایہ الماء الذی یجوزبہ الوضو عربیہ کراچی ۱/۱۸)
عنایہ میں ہے:کشرب الرمان والحماض ۱؎
(جیسے انار اور حماض (ایک قسم کی گھاس) کا پانی۔ ت)
(۱؎ عنایہ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ عربیہ کراچی ۱/۱۸)
شلبیہ علی التبیین میں مستصفٰی سے ہے:الاشربۃ المتخذۃ من الشجر کشراب الریباس ومن الثمر کالرمان والعنب ۲؎ اھ ووقع فی الدرر بعد ماقال لابما اعتصر من شجر اوثمر ولا بماء زال طبعہ بالطبخ کشراب الریباس مانصہ وھذہ العبارۃ احسن مما قیل کالاشربۃ فانہ علی عمومہ مشکل ۳؎ اھ۔
درختوں سے حاصل کے ہوئے عرق جیسے ریباس (چقندر کی طرح ایک سبزی)کا عرق،اور پھلوں کا رس جیسے کہ انگور اور انار کا رس۔ اور درر میں لابما اعتصر من شجر اوثمر الخ کے بعد ہے کہ نہ اُس پانی سے جس کی طبیعت پکانے کی وجہ سے بدل گئی ہو جیسے ریباس کا عرق،ان کی عبارت یہ ہے اور یہ عبارت اِس قول سے بہتر ہے کہ کالاشربۃ،کیونکہ اس کو عموم پر رکھنا مشکل ہے اھ (ت)
(۲؎ شلبیہ مع التبیین کتاب الطہارت الامیریہ مصر ۱/۱۹)
(۳؎ درر الاحکام کتاب الطہا رۃ دارالسعادۃ مصر ۱/۲۳)
اقول: ھو کما تری نص(۱) الھدایہواقرہ الشراح ومثلہ فی مختصرالقدوری والوافی والوقایہ والاصلاح والملتقی والبدائع والخانیہ والخلاصۃ وشرح مجمع البحرین وخزانۃ المفتین والغنیہ والھندیہ وغیرھامما لایکادیحصی سبحٰن(۲) اللّٰہ مالی اعد الکتب وھو نص صاحب المذھب ففی الجامع الصغیرمحمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم لایتوضو بشیئ من الاشربۃ غیرنبیذ التمر ۴؎ اھ ولا ادری ای اشکال فی عمومہ ولم یتکلم(۱) علیہ ناظروہ الشرنبلالی وعبدالحلیم والحسن العجیمی واتی الخادمی(۱) بمالایغنی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں وہ جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں ہدایہ کا نص ہے اورشراح نے اس کو برقرار رکھا ہے اور اس کی مثل مختصر القدوری میں ہے نیز وافی، وقایہ، اصلاح، ملتقی، بدائع، خانیہ، خلاصہ،شرح مجمع البحرین، خزانۃ المفتین، غنیہ اور ہندیہ وغیرہ لاتعداد کتابوں میں ہے سبحان اللہ،میں کتابیں کیوں گنواؤں؟ یہ تو صاحب مذہب کی تصریح ہے، چنانچہ جامع صغیر میں روایت ہے، محمد روایت کرتے ہیں یعقوب سے ابو حنیفہ سے مروی ہے کہ سوائے نبیذ تمر کے کسی عرق سے وضو نہ کیا جائے اھ اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے عموم میں کیا اشکال ہے، اور اس کے دیکھنے والوں نے اس پر کلام نہیں کیاجن میں شر نبلالی، عبدالحلیم اور حسن عجیمی شامل ہیں اور خادمی نے بہت سی باتیں کی ہیں جو بے نیاز نہیں کرتیں واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۴؎ جامع الصغیر فیما لایجوزبہ التوضو یوسفی لکھنؤ ص۸)
(۱) اذقال انہ علی عمومہ مشکل اذالا شربۃ فی الاصل اسم لکل مایشرب فشامل لنحو ماء التمر وغیرہ والمقصود ھھنا الاختصاص بشراب الریباس کما فھم من الایضاح فافھم اھ
انہوں نے فرمایا یہ اپنے عموم پر مشکل ہے کیونکہ ''اشربۃ''ہر اس چیز کا نام ہے جو پی جاتی ہے تو یہ کھجور وغیرہ کے پانی کو شامل ہوگااور یہاں مقصود ریباس کے عرق کی تخصیص ہے جیسا کہ ایضاح سے مفہوم ہے، فافہم اھ۔
اقول: ترکھم(۲)التکلم احسن من ھذا والمقصوداعطاء حکم عام وتمثیلہ بجزئی لاتخصیص الکلام بالجزئی والاشربۃ فی العرف ھی ھذہ المتخذۃ من الثمار والاشجار والا فالماء ایضا شراب ھذا مغتسل باردوشراب ولا شک ان الحکم یعمھا فان قلت ھو رحمہ اللّٰہ تعالٰی یمیل الی جواز التوضی بنبیذ التمرلقولہ فی سؤر الحمار (یتوضو بہ ویتیم ان عدم غیرہ بخلاف نبیذ التمر)حیث یتوضو بہ عند ا بی حنیفۃ وان قال ابو یوسف بالتیمم فقط ومحمد جمع بینھما اھ
میں کہتا ہوں ان کاکلام نہ کرنا اس سے بہتر ہے اور مقصود عام حکم لگاناہے اور مثال اس کی ایک جزئی سے دی گئی ہے کلام کو جزئی سے خاص کرنا مقصود نہیں، اور اشربہ عرف میں پھلوں اور درختوں سے حاصل شدہ عرقیات ہی کو کہتے ہیں، ورنہ تو پانی بھی شراب ہے، اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے ھذا مغتسل بارد وشراب،اور کوئی شک نہیں کہ حکم ان سب کو عام ہے، اگر تم کہو کہ وہ رحمہ اللہ نبیذتمر سے وضو کے جواز کی طرف مائل ہیں کیونکہ انہوں نے گدھے کے جوٹھے کے بیان میں فرمایا (اس سے وضو بھی کرے اور تیمم بھی اگر اور پانی نہ ہو،بخلاف نبیذتمر کے)کیونکہ اس سے ابوحنیفہ کے نزدیک وضو کیا جاسکتا ہے اگرچہ ابویوسف صرف تیمم کے قائل ہیں، اور امام محمد وضو اور تیمم دونوں کا قول کرتے ہیں۔ اھ (ت)
اقول: انما یستشکل مالایظھر وجہ صحتہ ولیس لمن یختار جانبا من قولین متساویین ان یستشکل علی الاٰخر فضلا عمن یختار قیلا ضعیفا مھجور الجمھور واللّٰہ تعالٰی اعلم بمراد عبادہ ثم رأیت السیر ابا السعود نقل عن العلامۃ نوح افندی وجہ الاشکال ماقداشرت الیہ بقولی الماء ایضا شراب ولم یعجبنی ان اجعل مثلہ تفسیرا لکلام الدرر فقال وجہ الاشکال شمول الاشربۃ لغیر المتخذۃ من الشجر والثمر اذا المطلق من الماء شراب قال وانما قال احسن لامکان توجیہ العبارۃ بان یقال ارادا لاشربۃ المتخذۃ منھما اھ وانت تعلم ان(۱) مثل ھذا لایستاھل الذکر فضلا عن حمل کلام مثل مولی خسرو علیہ ثم تعبیر(۲) التوجیہ بالامکان واللّٰہ المستعان ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں اشکال صرف اس وقت ہوگا جس کی وجہ صحت ظاہر نہ ہو اور وجود وبرابر اقوال میں سے کسی ایک قول کو اختیار کرتا ہے اس کیلئے دوسرے پر کوئی اشکال نہیں،چہ جائیکہ وہ شخص جو ضعیف مخالف جمہور کو لیتاہے واللہ تعالٰی اعلم بمراد عبادہ پھر میں نے دیکھاکہ علامہ ابو السعود نے نوح آفندی سے وجہ اشکال وہی نقل کی جس کی طرف میں نے اپنے قول سے اشارہ کیاہے کہ پانی کو بھی شراب کہتے ہیں اور مجھے اچھا معلوم ہوا کہ میں اسی کی مثل درر کا کلام کروں وہ فرماتے ہیں وجہ اشکال یہ ہے کہ ''اشربہ'' کا لفظ درخت اور پھلوں کے عرقیات کے علاوہ کو بھی شامل ہے کیونکہ مطلق پانی بھی شراب ہے،جو انہوں نے کہا ہے وہ زیادہ اچھا ہے کیونکہ عبارت کی توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ ''اشربہ'' سے وہ مراد ہیں جو ان دونوں سے بنائے جائیں اھ اور آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کی تاویل قابلِ ذکر بھی نہیں چہ جائیکہ مولی خسرو کے کلام کو اس پر محمول کیا جائے، پھر توجیہ کو امکان سے تعبیر کرنا، واللہ المستعان ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۱۸۶ و ۱۸۷) ہر قسم کا سرکہ اور مقطر
(۱۸۸) آب کامہ جسے عربی میں کامخ بفتح میم ومرّی بتشدید رأ ویائے نسبت کہتے ہیں شوربے کی طرح ایک رقیق نانخورش ہے کہ دہی اور سرکے وغیرہ اجزاء سے بنتی سے اصفہان میں اُس کا زیادہ رواج ہے۔
خانیہ وخزانۃ المفتین وشرح مجمع البحرین میں ہے:لایجوز الوضوء بالخل والمری ۱؎ اھ وقد ذکر الخل فی الکثیر۔
سرکہ اور نانخورش (شوربا) سے وضو جائز نہیں اھ سرکہ کا ذکر بہت سی کتابوں میں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فیما یجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱/۹)
(۱۸۹) نمک کا پانی کہ نمک بہ کر ہوتا ہے اس پر اجماع ہے۔
(۱۹۰) نمک کا پانی کہ نمک بن جاتا ہے اس میں اختلاف ہے اور اکثر کا رجحان عدمِ جواز کی طرف ہے کہ وہ طبیعت آب کے خلاف ہے پانی سردی سے جمتا ہے اور وہ گرمی میں جمتا جاڑے میں پگھلتا ہے۔