Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
153 - 176
اقول: غیران اقوی اوصاف اللبن لونہ ثم طعمہ ثم ریحہ ولا یتغیر بہ فی الماء وصف لاحق الا وقد سبقہ سابقہ فاذا تغیر شیئ منھا فقد تغیر اللون واذا لم یتغیر اللون لم یتغیر شیئ منھا فاتفقت الاقوال علی جواز الوضوء بماء خالطہ لبن لم یتغیر لونہ وبہ ظھر ان تردیر(۱) الامام الزیلعی مستغنی عنہ فان تغیر الطعم مستلزم تغیر اللون فکان ینبغی الاقتصار علی اللون کما فعل المتقدمون وقد نقلہ الزیلعی عن الاسبیجابی کما علمت واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں دراصل دُودھ کے اوصاف میں قوی تر اس کا رنگ ہے پھر مزہ اور پھر بُو ہے اور اس سے پانی کا جو وصفِ لاحق بھی متغیر ہوتا ہے اس سے قبل کوئی سابقہ ضرور ہوتا ہے، تو جب ان اوصاف میں کوئی تغیر ہوتا ہے تو رنگ ضرور بدلتا ہے اور جب رنگ نہ بدلے تو کوئی وصف نہیں بدلتا ہے، تو تمام اقوال اس پر متفق ہیں کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں دودھ ملا ہو اور اس کا رنگ نہ بدلا ہو، اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ امام زیلعی کا ''اَو'' کہنا ضرور کا نہیں کیونکہ مزہ کا بدل جانا رنگ کے بدل جانے کو مستلزم ہے تو رنگ پر اکتفاء کرنا چاہئے تھا جیسا کہ متقدمین نے کیا ہے، اس کو زیلعی نے اسبیجابی سے نقل کیا، جیسا کہ آپ نے جان لیا واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)

تذییل: اقول (۱۳۵) انڈے جس پانی میں نیم برشت کے قابلِ وضو ہے اگر انڈے پاک تھے۔
 (۱۳۶) آہن تاب، سیم تاب، زرتاب یعنی جس پانی میں لوہا یا چاندی یا سونا تپاکر بھجایا لبقاء الاسم والطبع اقول اگرچہ اس سے پانی کی بعض رطوبات کم ہوں گی اس میں ان فلزات کی قوت آئے گی من وجہ ایک دوا وعلاج ہوگا مگر وہ کوئی شے غیر نہ ہوجائیگا پانی ہی تھا اور پانی ہی رہے گا یہ عمل پانی ہی کی اصلاح کو ہے نہ کہ اُس سے کوئی اور چیز بنانے کو۔

(۱۳۷) باوضو شخص یا نابالغ نے اگرچہ بے وضو ہو اعضاء ٹھنڈے یا میل دُور کرنے کو جس پانی سے وضو یا غسل بے نیت قربت کیا۔

(۱۳۸) معلوم تھا کہ عضو تین بار دھو چکا ہے اور پانی ہنوز خشک بھی نہ ہوا تھا چوتھی بار بلاوجہ ڈالا یہ پانی قابل وضو رہے گا یہاں تک کہ یہ پانی کسی برتن میں لے لیا تو اس سے وضو میں کوئی عضو دھو سکتے ہیں یا اگرچہ چوتھی بار ہاتھ پر اس طرح ڈالا کہ پاؤں پر گر کر بہہ گیا اُتنا پاؤں پاک ہوگیا۔

(۱۳۹) جسے حاجتِ غسل نہیں اُس نے اعضائے وضو کے سوا مثلاً پیٹھ یا ران دھوئی اگرچہ اپنے زعم میں قربت کی نیت کی۔

(۱۴۰) باوضو یا نابالغ نے اگرچہ بے وضو ہو کھانا کھانے کو یا کھانے کے بعد ویسے ہی ہاتھ منہ صاف کرنے کو ہاتھ دھوئے کُلی کی اور ادائے سنّت کی نیت نہ کی۔

(۱۴۱) باوضو یا نابالغ نے صرف کسی کو وضو سکھانے کی نیت سے وضو کیا۔
(۱۴۲) مسواک کرنے کے بعد اُسے دھو کر رکھنا سنّت ہے
 کمابینا فی بارق النور
 (جیسا کہ "بارق النور" میں بیان کیا گیا۔ ت) یہ پانی(۱) اگرچہ اس سے ادائے سنّت ہوگا قابلِ وضو رہے گا
کما حققنا فی الطرس المعدل ان الشرط استعمالہ فی بدن الانسان
(جیسا کہ ہم نے "الطرس المعدل" میں ثابت کیا ہے کہ پانی کے مستعمل ہونے کیلئے پانی کا بدنِ انسان پر استعمال ہونا شرط ہے۔ ت) مگر مکروہ ہوگا کہ لعابِ دہن کو دھوئے گا
کما تقدم عن الخانیہ،
 (۱۴۳) مسواک کرنے سے پہلے بھی اسے دھونا سنّت ہے یہ پانی مکروہ بھی نہ ہوگا اگر مسواک نئی ہے یا پہلے دُھل چکی ہے۔



(۱۴۴) آداب(۳) وضو سے ہے کہ آفتابہ اگر دستہ دار ہے غسل اعضاء کے وقت دستہ پر ہاتھ رکھے اس کے سر پر نہیں اور دستہ کو تین پانیوں سے دھولے۔
فتح القدیر پھر ردالمحتار وغیرہما میں ہے: منھا ای من اداب الوضوء ان یغسل عروۃ الابریق ثلثا ووضع یدہ حالۃ الغسل علی عروتہ لاعلی رأسہ ۱؎ اھ ومثلہ فی الحلیہ بغیر ثلثا۔
ان سے یعنی آدابِ وضو سے یہ ہے کہ لوٹے کے دستے کو تین مرتبہ دھویا جائے اور غسل کے وقت ہاتھ دستے پر ہی رکھا جائے نہ کہ سر پر اور ایسا ہی حلیہ میں ہے مگر ثلٰثا کا لفظ نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ    مصطفی البابی مصر   ۱/۹۲)
(۱۴۵) کوئی پاک کپڑا دھویا اگرچہ ثواب کے لئے جیسے ماں باپ کے میلے کپڑے۔

(۱۴۶) کھانے کے برتن جن میں کھانا پکایا یا اتارا تھا دھوئے اگرچہ ان میں سالن وغیرہ کے لگاؤ سے پانی کے اوصاف بدل گئے جب تک رقت باقی رہے اگرچہ اس دھونے سے سنت تنظیف کی نیت ہو۔ 

(۱۴۷) یوں ہی جس پانی سے سِل یا پتّھر دھویا اگرچہ مسالے کے اثر سے اوصاف میں تغیر آیا اور پانی گاڑھا نہ ہوا۔ 

(۱۴۸) برادہ صاف کرنے کو برف دھویا اور برادہ نے پانی کی رقت پر اثر نہ کیا۔

(۱۴۹) چپک صاف کرنے کو آم یا کسی قسم کے پھل دھوئے۔

(۱۵۰) تختی دھوئی اور سیاہی سے پانی گاڑھا نہ ہوا۔

(۱۵۱) پکّا فرش گردوغبار سے پاک کرنے کو دھویا اگرچہ مسجد کا بہ نیت قربت۔

(۱۵۲) ناسمجھ بچّے نے وضو کیا۔

(۱۵۳) نابالغ کو نہلایا۔

(۱۵۴) گھوڑے وغیرہ کسی جانور کو نہلایا اگرچہ ان دونوں سے نیت ثواب کی ہو جبکہ ان تینوں کے بدن پر کوئی نجست نہ ہو یہ سب پانی قابلِ وضو ہیں۔

(۱۵۵) دفع نظر کے(۱) لئے نظر لگانے والے کے بعض اعضاء دھو کر چشم زدہ کے سر پر ڈالنے کا حکم ہے جس کا مفصل بیان ہماری
 '' کتاب منتہی الآمال فی الاوفاق والاعمال''
میں ہے وہ اگر باوضو تھا یہ پانی قابلِ وضو رہنا چاہئے اگرچہ اس نے یہ
امتثال امر وَاذا استغسلتم فاغسلوا
(اگر تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے تو دھو ڈالو۔ ت) نیت قربت کی ہو
تأمل وراجع ماقررنا من شرائط الاستعمال فی رسالتنا الطرس المعدل
(غور کرو اور ہم نے اپنے رسالہ الطرس المعدل میں پانی کے مستعمل ہونے کی جو شرائط بیان کی ہیں ان کی طرف رجوع کرو۔ ت)
Flag Counter