Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
152 - 176
 (۱۳۰) سپید انگور کا سرکہ اگراُس کا مزہ اور بُو پانی پر کچھ غالب نہ آئے اُس سے وضو بالاتفاق جائز ہے،
اقول لانہ ذووصفین وریحہ اقوی فان تغیر ریح الماء دون طعمہ لم یجز علی قضیہ الضابطۃ خلافا للحکم المنقول المار اٰنفا عن البدائع فلم یحصل الوفاق فی جانب الجواز الا اذالم یتغیر شیئ۔
میں کہتا ہوں اس لئے کہ اس میں دو وصف ہیں، اور اس کی بُو قوی تر ہے تو اگر پانی کی بُو بدل گئی مزہ نہ بدلا تو ضابطہ کی رُو سے وضو جائز نہ ہوگا لیکن بدائع کے حوالے سے جو حکم ابھی گزراہے یہ اُس کے برخلاف ہے توجوازکی جانب میں اتفاق حاصل نہ ہوا،یہ صرف اس صورت میں ہوگاجبکہ کوئی وصف نہ بدلے۔(ت)

(۱۳۱) اور سرکے کہ رنگت بھی رکھتے ہیں اگرپانی میں اتنے ملیں کہ اُن کاکوئی وصف پانی پر غالب نہ آئے یاصرف بُو غالب آئے اُس سے بالاتفاق وضو جائز ہے۔
اقول: وذلک لانھاذوات الثلاث ومعلوم ان ریح الخل اقوی شیئ فلا یقع ان یتغیرطعم الماء وحدہ اولونہ فقط اوھمامعالاریحہ بل امالایتغیر(۱)شیئ او(۲)یتغیرالکل او(۳)الریح وحدہ او(۴) مع اللون او(۵)مع الطعم والعبرۃ فی الضابطۃ للغلبۃ بوصفین والمنقول الغلبۃ باللون وحدہ کمامر عن حلیہ عن الزیلعی عن الاسبیجابی وعن النجم الزاھدی عن زاد الفقھاء وتقدم عن الامام ملک العلماء فیتفق المنقول والضابطۃ فی الصورۃ الاولی والثالثۃ علی الجواز وفی الثانیہ والرابعۃ علی المنع وفی الخامسۃ تتفرد الضابطۃ بالمنع۔
میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تین وصف والے ہیں اوریہ معلوم ہے کہ سر کہ کی بُو قوی تر شیئ ہے تو یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ صرف پانی کا مزہ بدلے یا رنگ بدلے یادونوں بدل جائیں اور بُو نہ بدلے،بلکہ یا تو کچھ نہیں بدلے گا یا سب کچھ بدل جائے گایاصرف بُو بدلے گی یا رنگ کے ساتھ یا مزہ کے ساتھ اور ضابطہ میں اعتبار غلبہ کو ہے دو وصفوں کے ساتھ،اور جو منقول ہے وہ صرف رنگ کا غلبہ ہے جیسا کہ حلیہ سے زیلعی سے اسبیجابی سے اور نجم زاہدی سے زاد الفقہا سے گزرا،اور امام ملک العلماء سے بھی یہی منقول ہواہے اس لئے نقل اور ضابطہ میں اتفاق ہوگیا، پہلی صورت اور تیسری میں اتفاق جواز پر ہے اور دوسری اورچوتھی میں عدمِ جواز پر اور پانچویں صورت میں ضابطہ کی رُو سے عدمِ جواز ہے۔ (ت)

(۱۳۲) اقول: اگر کوئی ذی لون سرکہ ایساہو کہ اُس کامزہ اس کے سب اوصاف سے اقوی ہو کہ اس کا قلیل سب سے پہلے پانی کے مزے کو بدلے اُس سے زاید ملے تو بُویا رنگ میں تغیر آئے اس صورت میں اگر پانی کا کوئی وصف نہ بدلے یا صرف مزہ متغیر ہو تو اس سے وضو بالاتفاق جائز ہے
لعدم غلبۃ اللون فی المنقول ولا تغیروصفین فی الضابطۃ
 (کیونکہ رنگ کا غلبہ نہیں ہے منقول میں اور دو وصفوں کا تغیر نہیں ہے ضابطہ میں۔ ت)

(۱۳۳) اقول اور اگر بالفرض اس کی رنگت سب سے قوی تر اور پہلے اثر کرنے والی ہو تو اس کے ملنے سے وضو بالاتفاق اُسی وقت جائز ہوگاکہ اس کے کسی وصف میں تغیر نہ آئے
لان ای وصف منہ تغیر تغیرلونہ وبہ العبرۃ فی المنقول
 (کیونکہ اس کا جو وصف بھی بدلے گا اس کا رنگ بھی بدل جائے گا اور منقول میں اسی کا اعتبار ہے۔ ت)

(۱۳۴) دُودھ سے اگر پانی کا رنگ نہ بدلادُودھ کا رنگ اس پر غالب نہ ہوگیااس سے وضو بالاتفاق روا ہے۔

اقول: یہ ہے وہ حکم متفق علیہ کہ فقیر نے کلمات کثیرہ مختلفہ سے حاصل کیاوذلک لان الاقوال جاء ت ھھنا علی خمسۃ وجوہ (یہاں پانچ اقوال ہیں)

(ا) یجوز مطلقا،        (ا) مطلق جواز ہے،
اقول: ای مالم یغلب علی الماء اجزاء فانہ معلوم الاستثناء اجماعا۔
میں کہتا ہوں اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک پانی پر اس کے اجزاء کا غلبہ نہ ہو،کیونکہ یہ اجماعی طور پر معلوم الاستثناء ہے۔
 (ب) یجوز ان غیر احد اوصافہ وستعرف ان العلماء اختلفوا فی اخذ احد ھذا فی مرتبۃ لابشرط شیئ فیشمل مااذاغیر غیر واحد ولو الکل وحینئذ یرجع الی القول الاول اوفی مرتبۃ بشرط لاشیئ فیتقید بما اذا اقتصر التغیر علی وصف واحد ولولونا۔
 (ب) جائز ہے اگر اس کے اوصاف میں سے کسی ایک کو بدلا ہو، اور یہ عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ علماء نے اس کو لابشرط شیئ کے مرتبہ میں قبول کرنے سے اختلاف کیاہے تو یہ اس صورت پر بھی صادق آئے گا جب پانی کا ایک سے زاید وصف بدل گیاہو خواہ سب اوصاف ہی بدل گئے ہوں اوراس وقت پہلے قول کی طرف رجوع کرنا ہوگا یا یہ بشرط لاشیئ کے مرتبہ میں ہو تو یہ صرف اسی صورت میں منحصر رہیگا جبکہ تغیر ایک ہی وصف میں ہو خواہ رنگ ہی بدلا ہو۔
 (ج) یجوز ان لم یغیر اللون۔
 (ج)جائز ہے اگر رنگ کو نہ بدلا ہو ۔
 (ع) ان لم یغیر اللون ولا الطعم۔
 (ع) اگر نہ رنگ بدلا ہو اور نہ مزہ۔
 (ھ) ان لم یغیرھما معا ففی عمدۃالقاری شرح صحیح البخاری للامام البدرمحمود التوضو بماء خالطہ لبن یجوزعندناخلافا للشافعی ۱؎ اھ وفی متن الھدایہ تجوزالطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر فغیراحداوصافہ کالماء الذی اختلط بہ اللبن ۲؎ اھ واقرہ فی العنایہ وغیرھاوسمعت نصوص الحلیہ عمن ذکرواوالبدائع ان العبرۃ باللون وقال فی التبیین المخالط ان کان مخالفاللماء فی وصف واحداووصفین تعتبر الغلبۃ من ذلک الوجہ کاللبن مثلا یخالفہ فی اللون والطعم فان کان لون اللبن اوطعمہ ھوالغالب فیہ لم یجز الوضوء بہ والاجاز ۳؎ اھ
 (ھ)اگر رنگ اور مزہ دونوں کو اکٹھا نہ بدلاہو، امام بدر محمودکی عمدۃ القاری شرح بخاری میں ہے کہ ہمارے نزدیک اُس پانی سے وضو جائز ہے جس میں دودھ مل گیا ہو اس میں شافعی کا اختلاف ہے اھ اور متن ہدایہ میں ہے اُس پانی سے طہارت جائز ہے جس میں کوئی پاک چیز مل گئی ہو اور اُس نے پانی کے کسی ایک وصف کو بدل دیا ہو جیسے وہ پانی جس میں دودھ مل گیا ہو اھ اور اس کو عنایہ وغیرہ میں برقرار رکھا، حلیہ اور بدائع کی تصریحات گزر چکی ہیں کہ اعتبار رنگ کا ہے،اور تبیین میں ہے کہ ملنے والی چیز اگر پانی سے ایک یا دو اوصاف میں مختلف ہو تو اسی وجہ سے غلبہ کااعتبار ہوگا، مثلاً دُودھ پانی سے رنگ اور مزہ میں مختلف ہے تو اگر دودھ کا رنگ یامزہ اس میں غالب ہو تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا، ورنہ جائز ہوگا اھ (ت)
 (۱؎ عمدۃ القاری    باب لایجوز الوضوء بالنبیذ        ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر    ۳/۱۷۹)

(۲؎ ہدایہ        باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوز    مطبع عربیہ کراچی    ۱/۱۸)

نوٹ: اللبن کی جگہ پر کتاب مذکور میں الزعفران ہے۔

(۳؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارت        الامیریہ مصر        ۱/۲۰)
وھکذا عبربہ تبعالہ فی الحلیہ والبحر وغیرھما بلفظۃ اوللتردیدواتی بہ فی الغنیہ قاطعا لوھم خطأالکتابۃ فقال وان خالف الماء فی وصفین کاللبن یخالفہ فی اللون والطعم فالمعتبر ظھور غلبۃ احد الوصفین ۴؎ بل افصح بہ کذلک الزیلعی فی اٰخر الکلام لکن المحقق(۵) فی الفتح مع نقلہ عن التبیین عبربالواوفقال اوفی بعضھا فبغلبۃ مابہ الخلاف کاللبن یخالف فی الطعم واللون فان غلب لونہ وطعمہ منع والاجاز ۱؎ وکذلک فی الدرر واعترضہ الشرنبلالی فقال یجب ان یقال لونہ اوطعمہ باولابالواو کما قال الزیلعی المقتحم لھذا الضابط ۲؎ اھ واجاب العلامۃ عبدالحلیم بانہ فی اللبن صفتان یغایر بھما الماء المطلق احدھما اقوی من الاخری لماان تغیر اللون یحصل فیہ بالقلیل فکان الغلبۃ ان توجد الاخری وذا کالبدیھی ومن ذلک لم یقل اوطعمہ باوکمافی عبارۃ الزیلعی ردا علیہ ۳؎ اھ
اور اسی طرح انہوں نے اس کی تعبیر کی ان کی اتباع کرتے ہوئے حلیہ اور بحر وغیرہ میں اوکے کلمہ کے ساتھ جو تردید کے لئے ہوتاہے اور غنیہ میں اس کو اس انداز سے ذکر کیا کہ کتابت کی غلطی کا وہم نہ رہے چنانچہ فرمایا اور اگر وہ چیز پانی سے دو وصفوں میں مخالف ہو جیسے دودھ کہ پانی سے رنگ اور مزہ میں مختلف ہوتا ہے تو اعتبار ایک وصف کے غلبہ کے ظہور کا ہوگا،بلکہ اسی طرح اس کی وضاحت زیلعی نے کلام کے آخر میں کر دی، لیکن محقق نے فتح القدیر میں تبیین سے نقل کرتے ہوئے واؤ سے تعبیر کیا اور کہا یا بعض میں اختلاف ہو تواس صورت میں اس چیزکے غلبے کااعتبار ہوگا جس کی وجہ سے اختلاف ہے جیسے دودھ کہ پانی سے مزہ اور رنگ میں مخالف ہوتاہے تو اگر اس کا رنگ اور مزہ غالب ہوجائے تو اس سے طہارت نہیں ہوسکتی ہے ورنہ جائز ہے،اس طرح درر میں ہے،اس پر شرنبلالی نے اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ لونہ اوطعمہ کہنا چاہئے اَو کے ساتھ،واؤ کا استعمال نہ کرنا چاہئے، جیسا کہ زیلعی نے کہا جو اس ضابطہ کے تکلف میں پڑنے والے ہیں، علامہ عبدالحلیم نے جواب دیا کہ دودھ میں دو صفات ہیں جن کی وجہ سے وہ مطلق پانی سے ممتازہوتا ہے،ایک صفت دوسری سے قوی تر ہے،کیونکہ اس میں رنگ کا تغیر تھوڑی سی مقدار سے ہی حاصل ہوجاتاہے تو غلبہ یہ ہوگا کہ دوسری صفت پائی جائے اوریہ بدیہی کی طرح ہے اور اس لئے ''اوطعمہ''نہ کہا ''اَو'' کے ساتھ، جیسے کہ زیلعی میں ہے تاکہ اس پر رَد ہوجائے اھ۔ (ت)
 (۴؎غنیۃ المستملی     فصل فی بیان احکام الماء     مطبع سہیل اکیڈمی لاہور     ۹۱)

(۱؎ فتح القدیر         باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مالایجوز بہ     نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۵)

(۲؎ حاشیہ علی الدرر للشرنبلالی    ابحاث الماء            المطبعۃ الکاملیہ بیروت    ۱/۲۳)

(۳؎ حاشیہ علی الدرر للمولی عبدالحلیم            بحث الماء        ۱/۱۸)
اقول: اولا(۱) ان ارادالقلیل بالنسبۃ الی الماء فنعم ولکن لانظرھھناالی الاجزاء باجماع اھل الضابطۃ التی صاحب الدرر ھھنابصددبیانھاوانماالعبرۃ بھافیمایوافق الماء فی الاوصاف وقد(۲) مشی علیہ الدرر ھھنافجعلہ حکم مالایخالف الماء فی صفۃ وجعل اللبن قسیمہ لاسھیمہ وان ارادالقلیل فی نفسہ فھو ھھناالمغلوب المستھلک الذی لایظھرلہ اثر بین واللبن اذااحال الماء الی لونہ کیف یعد قلیلا۔
میں کہتا ہوں اول اگر تو وہ اسکو بہ نسبت پانی کے قلیل کہتے ہیں،تودرست ہے، لیکن اہل ضابطہ کے اجماع سے یہاں اجزاء پر نظر نہیں کی جاتی ہے،اس ضابطہ سے مراد وہ ضابطہ ہے جس کو صاحبِ درریہاں بیان کر رہے ہیں ان اجزاء کا اعتبار اُن اوصاف میں ہے جو پانی کے موافق ہوں اوصاف میں،اور درر نے یہاں ان کو بیان کیا ہے، تو انہوں نے اس کو اس چیز کا حکم قرار دیاجو پانی کے مخالف نہ ہو کسی صفت میں اور دودھ کو اس کا قسیم قرار دیا نہ کہ اس کا سہیم،اور اگر فی نفسہ کم کا ارادہ کیا تو وہ یہاں نہ ہونے کے برابر ہے جس کاکوئی واضح اثرظاہر نہیں ہوتا ہے جس کا کوئی واضح اثر ظاہر نہیں ہوتا ہے،اور جب پانی دودھ کا رنگ اختیار کرے تو دودھ کو کس طرح کم کہا جاسکتا ہے؟(ت)
وثانیا ھذا ھو(۱) قضیہ القیاس فی الضابط لان ماخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ اعتبر فیہ الغلبۃ بوصفین لان للاکثر حکم الکل وما خالف فی وصف واحد اعتبر فیہ الغلبۃ بہ بقی ماخالف فی وصفین فان غلب بھما معا فلا کلام وان غلب باحدھما کان الغلبۃ بالنصب والنصف احق ان یلحق بالکل من ان یطرح بالکلیہ ھذا ولکن الحق عندی فی اللبن علی الضابط المذکور ان تعتبر فیہ الغلبۃ بوصفین اثنین لابوصف واحد لان(۲) اللبن مما یخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ جمیعا ولخفاء رائحتہ غالبا ولواغلی لظھرت ذھب الوھم الی انہ لایخالف الا فی وصفین وقد قال العلامۃ الرملی فی حاشیہ البحر ثم الشامی فی المنحۃ وردالمحتار المشاھد فی اللبن مخالفتہ للماء فی الرائحۃ ایضا ۱؎ اھ
اور دوم یہ ہے کہ یہ ضابطہ میں قیاس کا تقاضا ہے، کیونکہ جو چیز پانی کے اوصافِ ثلثہ میں پانی سے مختلف ہے اس میں معتبر دو صفوں کا غلبہ ہے، کیونکہ اکثر کیلئے کل کا حکم ہے اور جو چیز پانی سے ایک وصف میں مختلف ہو اس میں ایک وصف کا غلبہ معتبر ہوگا، اب صرف وہ چیز رہ گئی جو دو صفوں میں پانی کے مخالف ہو اگر دونوں وصفوں میں پانی کے مخالف ہو اگر دونوں وصفوں میں اکٹھا غلبہ ہوجائے تب تو بات واضح ہے اور ایک میں غلبہ ہو تو غلبہ آدھے سے ہوگا اور نصف اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کو کل سے ملایا جائے نہ یہ کہ اس کو بالکلیہ ساقط کیا جائے، اس کو یاد رکھئے۔ لیکن میرے نزدیک حق، اس ضابطہ کے مطابق یہ ہے کہ اس میں دو وصفوں کے غلبہ کا اعتبار کیا جائے نہ کہ ایک وصف کا، کیونکہ دُودھ پانی سے تینوں وصفوں میں مخالف ہوتا ہے، چونکہ اس کی بُو بہت ہلکی ہوتی ہے ابالنے پر ظاہر ہوتی ہے اس لئے یہ وہم ہوتا ہے کہ وہ صرف دو وصفوں میں مخالف ہوتا ہے، علامہ رملی نے بحر کے حاشیہ میں فرمایا، شامی نے منحۃ میں اور ردالمحتار میں فرمایا کہ دُودھ پانی سے بُو میں بھی مخالف ہے اھ (ت)
 (۱؎ منحۃ الخالق علی البحر    کتاب الطہارۃ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
Flag Counter