Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
151 - 176
الثالث یجوز(عـہ) مالم یصلح للصبغ والنقش فی الفتح والحلیہ صرح فی التجنیس بان من التفریع علی اعتبار الغلبۃ بالاجزاء قول الجرجانی اذاطرح الزاج اوالعفص فی الماء جاز الوضوء بہ انکان لاینقش اذاکتب فان نقش لایجوز والماء ھو المغلوب ۱؎اھ ومثلہ فی الھندیہ عن البحر عن التجنیس من قولہ اذاطرح الی قولہ لایجوز وفی القنیہ ثم معراج الدرایہ ثم البحر ثم الدر ثم فتح اللّٰہ المعین الزعفران اذاوقع فی الماء ان امکن الصبغ فیہ فلیس بماء مطلق ۲؎ اھ
تیسرا مسلک :اس سے وضو جائز ہے جو رنگنے اور نقش کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، یہ فتح اور حلیہ میں ہے، تجنیس میں ہے کہ تفریع باعتبار غلبہ اجزاء کے، جرجانی کا قول ہے جب زاج یا عفص پانی میں ڈالا جائے تو اس سے وضو جائز ہے،یہ اس وقت ہے کہ جب اس کے ذریعہ لکھنے سے نقش نہ آتاہو اگر نقش آئے تو جائز نہیں،جبکہ پانی مغلوب ہو اھ،اور اسی کی مثل ہندیہ میں بحر سے تجنیس سے ہے،ان کے قول اذاطرح سے لایجوز تک اور قنیہ، معراج، بحر، در پھر فتح اللہ المعین میں ہے کہ اگر زعفران پانی میں پڑ جائے تو اگر اس سے رنگنا ممکن ہو تو وہ مطلق پانی نہیں ہے اھ
اقول: فیہ(۱) اوّلا ان ماصلح منہ للصبغ لم یتبدل ذاتا فی الحقیقۃ انما تغیر وصف لہ فھوماء حقیقۃ نعم لم یبق ماء مطلقا الا ان یرید الحقیقۃ العرفیہ المفھومۃ عند الاطلاق۔
میں کہتا ہوں اوّلاً اگر پانی رنگنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو پانی ذات کے اعتبار سے حقیقۃ نہیں بدلا، صرف اس کا وصف بدلا ہے، تو وہ حقیقۃً پانی ہے صرف مطلق پانی نہیں رہا،ہاں اگر حقیقۃ عرفیہ کاارادہ کیا جائے جو اطلاق کے وقت سمجھی جاتی ہے تو اور بات ہے۔
وثانیا(۱) سیغصل عنہ الثخین بانہ لیس ماء مطلقا ولا مقیدافقدافادان ھذا ماء مقید فکیف لایکون ماء حقیقۃ فان المطلق والمقید صنفان من الماء ۔
ثانیا گاڑھا ہونے سے وہ نہ مطلق پانی رہا اور نہ مقید، تو انہوں نے بتایا کہ یہ مقید پانی ہے، اس صورت میں وہ حقیقۃً پانی کیوں نہ ہوگا کیونکہ مطلق اور مقید دونوں ہی پانی کی اقسام ہیں۔
وثالثا(۲) الثخین وان لم یبق ماء اصلاعلی ماافادہ فی الفتح فلامانع من اطلاق الماء مجازاباعتبار ماکان۔
ثالثاً گاڑھا اگرچہ فتح کے بقول پانی نہ رہا تو باعتبار ماکان مجازاً اس پر پانی کے اطلاق میں کوئی مانع نہیں۔
و رابعا(۳)الحکم المنقول فی ماء الزردج ماقدمنا فی ۸۱ من ان العبرۃ بالرقۃ ولم ارماوقع ھھنا لغیرہ ویظھرلی ان لامحل لہ لانہ لیس مما یصبغ بہ کما تقدم ثمہ وکونہ مما یلون الثوب ان اصابہ لایجعلہ نوعااٰخرغیرالماء مادام رقیقااذالانواع عندنا بالاغراض الا تری ان التمروالزبیب اذاالقیافی الماء یغیران لونہ وطعمہ قبل ان یصیرانبیذاویجوز الوضوء بہ بالاجماع کمامر فی ۱۱۶ مع انھما لواصاباثوبا ابیض لوناہ وذلک لان المقصودھھنا النبیذدون الصبغ فلا یزول الاسم الا بحصول المقصود علیہ الرحمۃ۔ اربع(۱، ۲، ۳، ۴) معروضات علی المولی بحرالعلوم عبدالعلی الکنوی۔
رابعا وہ حکم جو زردج کے پانی کی بابت منقول ہے جو ہم نے ۸۱ میں نقل کیا کہ اعتبار رقّت کا ہے اور میں نے دوسروں کا بیان نہیں دیکھا اور مجھے لگتا ہے کہ اس کا یہاں محل نہیں،کیونکہ اس سے رنگا نہیں جاتا ہے جیسا کہ وہاں گزرا اور اس کے کپڑے کو رنگنے سے اگر کپڑے کو لگ جائے اس کا ایک مستقل نوع بنانا لازم نہیں آتا جب تک وہ رقیق ہے دوسری نوع نہیں بنے گا کیونکہ ہمارے نزدیک انواع اغراض سے وجود میں آتی ہیں،مثلاً کھجور اور منقٰی جب پانی میں ڈالے جائیں تو وہ اس کے رنگ اور مزے کو بدل دیتے ہیں،اور ابھی وہ نبیذ نہیں بنا ہوتا ہے،اور اس سے وضو بالاجماع جائز ہوتا ہے جیسا کہ ۱۱۶ میں گزراحالانکہ اگر یہ دونوں چیزیں سفید کپڑے کو لگ جائیں تو اس کا رنگ بدل دیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مقصود نبیذ ہے نہ کہ رنگ، تو اس کا نام اس وقت تک نہ بدلے گا جب تک مقصود حاصل نہ ہو۔یہ چارمعروضات بحرالعلوم پر ہیں۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر        باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالا یجوزبہ    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۵)

(۲؎ دُرمختار        کتاب الطہارت        مجتبائی دہلی        ۱/۳۵)
الرابع یجوزمالم یغلب لونھالون الماء فی الشلبیہ عن یحیی عن الامام القاضی الاسبیجابی الماء ان اختلط بہ طاھرفان غیرلونہ فالعبرۃلللون فان کان الغالب لون الماء جازالوضوء بہ والا فلاوذلک مثل اللبن والخل والزعفران یختلط بالماء ۳؎ اھ ومثلہ فی خزانۃ المفتین والبرجندی۔
چوتھا مسلک: وضو جائز ہے جب تک اس کا رنگ پانی کے رنگ پر غالب نہ ہو، شلبیہ میں یحیٰی سے امام قاضی اسبیجابی سے منقول ہے کہ پانی میں اگر کوئی پاک چیز مل جائے اور اس کے رنگ کو بدل دے تو اعتبار رنگ کا ہوگا اگر پانی کا رنگ غالب ہو تو وضو جائز ہے ورنہ نہیں، مثلاً دودھ، سرکہ اور زعفران پانی میں مل جائے اھ اسی کی مثل خزانۃ المفتین اور برجندی میں ہے۔ (ت)
 (۳؎ شلبی علی التبیین الحقائق    کتاب الطہارت        الامیریہ ببولاق مصر    ۱/۲۰)
اقول: قدمنا۱۱۶ اجماع اصحابنارضی اللّٰہ تعالٰی عنھم علی جوازالوضوء بماء القی فیہ تمیرات فحلاولم یصرنبیذاومعلوم قطعاان اللون اسبق تغیرافیہ من الطعم فاستقرالاجماع علی ان تغیر اللون و الطعم بجامد لایضر مالم یزل الاسم فیجب حمل ھذاالرابع وکذاالثانی علی الثالث ثم قد انعقد الاجماع والاطباق٭من جمیع الخداق٭بغیرخلف وشقاق٭ان زول الاسم یسلب الاطلاق٭ کیف وانما عین الشرع للوضوء الماء٭ وھذا اذا زال الاسم لیس بماء٭ فھذا الشرط ملحوظ ابدابلا امتراء٭ وانکان یطوی ذکرہ٭للعلم بالعلم بہ اذشاع امرہ٭ فیجب حمل(۱)الاول ایضاعلی الثالث فیزول الشقاق٭ ویحصل الوفاق٭ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں ہم نے ۱۱۶ میں اپنے اصحاب کا اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں کھجوریں ڈالی گئی ہوں تو نبیذ بننے سے پہلے پہلے اس میں مٹھاس آجائے اور یہ قطعی معلوم ہے کہ رنگ مزہ کے متغیر ہونے سے پہلے بدل جاتا ہے تو اجماع اس پر قائم ہے کہ رنگ اورمزے کاکسی جامد سے بدلنا اس وقت تک مضر نہیں جب تک کہ نام نہ بدل جائے تو اس چوتھے اور دوسرے کاتیسرے پر حمل کرنا لازم ہے ۔پھر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ جب نام زائل ہوجائے تو اطلاق باقی نہیں رہتا کیونکہ شریعت نے وضو کیلئے پانی کو متعین کر رکھا ہے اور جب نام زائل ہوگیا تو پانی نہ رہا یہ شرط اگرچہ مذکور نہ ہو معتبر رہے گی، تو پہلے کو بھی تیسرے پر حمل کرنا لازم ہے، اس طر ح یہ مسئلہ متفقہ ہوجائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱) ولکن(۱) العجب من العلامۃ الخادمی اذرد الثالث بالاول حیث قال عند قول الغررالماریجوزوان غیر اوصافہ جامدکزعفران فی الاصح مانصہ قیل عن البحران امکن الصبغ بہ لم یجز کنبیذ التمر لکن الظاھر انہ علی الروایہ المشار الی نفیھابقولہ فی الاصح اذھذا القول اشارۃ الی نفی ماعن الفقیہ احمد بن ابرھیم انہ لوظھرلون المخالط فی الکف لایجوز اھ فقدعلمت انہ لامساس لہ بنفی الثالث بل یجب ردہ الی ھذا نعم نفی قول الفقیہ صحیح وجیہ لان ظھور لون الاوراق فی الکف فی ماء الحوض لایزیل عنہ اسم الماء بخلاف الزعفران اذاجعلہ صالحاللصبغ ثم من(۲)العجب کلام الفقیہ انما کان فی الاوراق وبدلہ الفاضل الناقل بالمخالط فعم الزعفران واللّٰہ المستعان ثم العجب(۱)کل العجب ان الفاضل نفسہ زاد بعد قول الغرر ان بقی رقتہ لفظۃ واسمہ ایضا اھ فقدکان یعلم ان الرقۃ لاتنفع اذازال الاسم فکیف یجعل القول الثالث مبنیاعلی الروایہ المنفیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
لیکن علامہ خادمی پر تعجب ہے کہ انہوں نے پہلے سے تیسرے کا رد کیا ہے۔ جہاں انہوں نے غرر کے گزشتہ قول ''وان غیر اوصافہ جامد الخ'' کے تحت فرمایا کہ بحر سے منقول ہے اگر وہ رنگنے کے قابل ہو تو جائز نہیں، جیسے نبیذ تمر سے، لیکن ظاہر میں روایت مشار پر اس کی نفی ہے اس کے قول فی الاصح سے،کیونکہ یہ قول اشارہ ہے اس کی نفی پر جو فقیہ احمد بن ابراہیم سے منقول ہے کہ اگر ملنے والی چیز کا رنگ ہتھیلی میں ظاہر ہو تو اس پانی سے وضو جائز نہیں اھ آپ جانتے ہیں کہ تیسرے کی نفی سے اس کا کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی طرف اس کا رَد واجب ہے۔ ہاں فقیہ کے قول کی نفی درست ہے،کیونکہ حوض سے پانی لینے میں ہتھیلی پر پتّوں کے رنگ کے ظہور سے پانی کا نام زائل نہیں ہوتا۔ زعفران کا حکم اس کے برخلاف ہے جبکہ وہ پانی کو رنگنے کے قابل کردے۔پھر تعجب ہے کہ فقیہ کاکلام تو پتّوں سے متعلق تھا اور فاضل ناقل نے اسے مخالط سے بدل دیاہے تو اس نے زعفران کو شامل کرلیا ہے واللہ المستعان، پھر بڑا تعجب ہے کہ خود فاضل نے غرر کے قول ''وان بقی رقتہ'' کے بعد ایک لفظ ''واسمہ ایضا اھ'' کا اضافہ کیا ہے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ پانی کے نام کے زوال کے بعد رقت کا کوئی فائدہ نہیں تو قولِ ثالث کو روایت منفیہ پر مبنی کس طرح کیا جائے گا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

(۱۲۳) اقول: یونہی رنگت کی پُڑیاں کہ اب چلی ہیں اورہماری تحقیق میں ان کی طہارت پر فتوٰی ہے جب پانی میں اتنی خفیف ملیں کہ رنگنے کے قابل نہ ہوجائے اگرچہ رنگت بدل جائے۔



(۱۲۴) یونہی روشنائی جبکہ اس کے ملنے سے پانی لکھنے کے لائق نہ ہوجائے اقول یعنی اُس سے حرف کا نقش نہ بنے جو بعد خشکی پڑھنے میں آئے اگرچہ پھیکا ہو۔
صنف دوم بہتی چیزیں۔
 (۱۲۵ و ۱۲۶) جس پانی میں زعفران حل کیا ہواپانی یاشہاب اتنا کم پڑے کہ ان پانیوں کی رنگت اُس سادہ پانی پر غالب نہ آئے اُس سے وضو بالاتفاق جائز ہے۔
قال الامام ملک العلماء فی البدائع الماء المطلق اذاخالطہ شیئ من المائعات الطاھرۃ کاللبن والخل ونقیع الزبیب ونحو ذلک ینظر انکان یخالف لونہ لون الماء کاللبن وماء العصفر والزعفران تعتبر الغلبۃ فی اللون ۱؎ اھ وفی الحلیہ نقل فخر الدین الزیلعی عن الاسبیجابی ونجم الدین (عـہ) الزاھدی عن زادالفقھاء قالواانکان المخالط شیالونہ یخالف لون الماء مثل اللبن والخل وماء الزعفران انکانت الغلبۃ للون الماء یجوز التوضی بہ وانکان مغلوبالایجوز ۲؎ اھ
ملک العلماء نے بدائع میں فرمایا ''مطلق پانی میں جب کوئی سیال پاک چیز مل جائے جیسے دودھ، سرکہ، منقٰی کا عرق وغیرہ تو یہ دیکھا جائیگا کہ اس کا رنگ پانی کے رنگ سے مختلف ہے یا نہیں، مثلاً دودھ،عُصفریا زعفران کا پانی،اگر ایساہے تو پانی میں رنگت کے غلبہ کااعتبارہوگااھ اورحلیہ میں ہے فخرالدین زیلعی نے اسبیجابی سے اور نجم الدین زاہدی نے زاد الفقہاء سے نقل کیا،ان حضرات نے فرمایا کہ اگر ملنے والی اشیاء کا رنگ پانی کے رنگ سے مختلف ہو جیسے دودھ، سرکہ اور زعفران کا پانی، اور ایسی صورت میں غلبہ پانی کے رنگ کو ہو تو وضو جائز ہے اور اگر پانی کا رنگ مغلوب ہو تو وضو جائز نہیں۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    مطلب الماء المطلق    سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵    )

(۲؎ حلیہ)
 (عـہ) بالرفع عطفا علی فخرالدین ۱۲ منہ غفرلہ (م)رفع کے ساتھ کیونکہ اس کا فخرالدین پر عطف ہے (ت)
اقول:  ولا شک ان ھذا الماء یخالف الماء المطلق فی الاوصاف الثلثۃ فعلی ضابطۃ الامام الزیلعی یعتبر تغیر وصفین فکان یحتمل ان تقتضی الضابطۃ خلاف ھذاالحکم المنقول فیمااذا غلب علی المطلق طعمہ وریحہ دون لونہ لکنہ غیر معقول لان اللون اقوی اوصافہ واسرع اثرا فان تغیر شیئ من اوصاف الماء تغبرلونہ قبلہ وان لم یتغیر شیئ فلم یحصل فی جانب الجواز خلاف۔
میں کہتا ہوں اس میں شک نہیں کہ یہ پانی مطلق پانی سے تینوں اوصاف میں مختلف ہوگا تو امام زیلعی کے ضابطہ کے مطابق اس میں دو۲ و صفوں کے تغیر کا اعتبار ہوگا،اس میں یہ احتمال تھا کہ اس ضابطہ کی رُو سے مذکور حکم کے برخلاف حکم اس صورت میں ہوتاجبکہ مطلق پانی پر مزہ اور بُو کا غلبہ ہواہو نہ کہ رنگ کا۔ مگر یہ بات معقول نہیں ہے کیونکہ رنگ پانی کے اوصاف میں قوی تر اور زُود اثر ہے تو اگر پانی کے اوصاف میں سے کوئی وصف بدلتا تو سب سے پہلے تو رنگ ہی بدلتا،اور رنگ نہیں بدلا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی وصف نہیں بدلا، تو جواز کی صورت میں کوئی اختلاف نہ رہا۔(ت)

(۱۲۷) یوں ہی پُڑیا حل کیا ہوا پانی پانی میں ملنے سے اس کی رنگت غالب نہ آئے تو وضو روا ہے۔
اقول لانہ انکان ذاریح فکماء الزعفران والعصفر اولا فذو وصفین ولا یتغیرالطعم مالم یتغیر اللون فلا یحصل الخلاف۔
میں کہتا ہوں اس لئے اگر وہ چیز خوشبودار ہو تو جیسے زعفران اور عُصفر کا پانی ہے یا نہ ہو تو دو وصف والی ہوگی،اور مزہ اس وقت نہ بدلے گا جب تک رنگ نہ بدلے تو اختلاف نہ ہوا۔(ت)

(۱۲۸) آبِ تربوز جسے تربوز کا شربت کہتے ہیں جس میٹھے پانی میں اتناملے کہ اس کا مزہ پانی پر غالب نہ ہوجائے اس سے بالاتفاق وضو ہوسکتا ہے۔تبیین الحقائق وفتح القدیر وحلیہ وغنیہ ودرر وبحر وغیرہا میں ہے:
ماء البطیخ تعتبرالغلبۃ فیہ بالطعم ۱؎ اھ اقول ویظھر لی تقییدہ بالماء العذب کما فعلت فان الماء الملح ربماتبلغ ملوحتہ بحیث لوخلط بہ ماء الحبحب اکثر من نصفہ لم یغلب علی طعمہ بل کانت حلاوۃ ھذا ھی المغلوبۃ فاعتبار الطعم ھھنا تضییق یؤدی الی توسیع خارج عن القوانین بمرۃ فلیتنبہ۔
آبِ خربوزہ میں مزہ کے غلبہ کا اعتبار ہوگااھ اقول اور اس کو میٹھے پانی سے مقید کرنا ضروری ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے کیونکہ کھارے پانی کی نمکینی بعض اوقات اس درجہ زیادہ ہوتی ہے کہ اگر اس میں تربوز کا پانی آدھے سے بھی زیادہ ملا دیا جائے تو اس کا مزہ نہیں بدلتا ہے،بلکہ اس کی مٹھاس مغلوب ہوجاتی ہے، تو یہاں مزہ کا اعتبار کرنا بڑی تنگی ہے،اس سے معاملہ بہت پھیل جائے گاجو شرعی قوانین کے بالکل مخالف ہے فلیتنبہ۔(ت)
 (۱؎ بحرالرائق        کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۰)
اقول: وھو وانکان ذاالاوصاف الثلثۃ۔کما سیاتی لکن طعمہ اقوی فاذالم یتغیر لم یتغیر شیئ فلا یحصل الخلاف فی جانب الجواز واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں وہ پانی اگر تین اوصاف والا ہو (جیسا کہ آئے گا) لیکن اس کا مزہ قوی تر ہو، تو جب مزہ نہ بدلا توکوئی وصف نہیں بدلے گا تو جواز کی جانب میں کوئی خلاف نہ ہوگا،واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)

(۱۲۹) یوں ہی سپید انگور کاشیرہ اگر شیریں پانی میں ملے مزہ کااعتبارہے اگر اُس کامزہ غالب نہ ہوا قابلِ وضو ہے،
بدائع میں ہے: انکان لایخالف الماء فی اللون ویخالفہ فی الطعم کعصیر العنب الابیض وخلہ تعتبر الغلبۃ فی الطعم ۲؎ اھ اقول وقیدتہ بالعذب لما علمت وحصول الوفاق لما سمعت۔
اگر وہ پانی کے رنگ میں مخالف نہ ہو مگر مزہ میں مخالف ہو جیسے شیرہ انگور سفید اور سفید انگور کا سرکہ تو مزہ میں غلبہ کا اعتبار ہوگا اھ میں کہتا ہوں میں نے میٹھے کی قید اس لئے لگائی کہ آپ جان چکے ہیں اور اتفاق کا حاصل ہوجانا بھی آپ کو معلوم ہے۔(ت)
 (۲؎ بدائع الصنائع    مطلب الماء المقید    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)
Flag Counter