Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
150 - 176
صنف اوّل خشک چیزیں۔
(۱۱۶) پانی میں چھوہارے ڈالے اور ابھی تھوڑی دیر گزری کہ نبیذ نہ ہوگیا اگرچہ خفیف سی شیرینی اس میں آگئی اس سے بالاتفاق وضو جائز ہے کتاب المفید والمزید پھر عینی شرح صحیح بخاری وتبیین وحلیہ عـہ وہندیہ وغیرہا میں ہے:
الماء الذی القی فیہ تمیرات فصار حلوا ولم یزل عنہ اسم الماء وھو رقیق یجوز بہ الوضوء بلاخلاف بین اصحابنا ۱؎ اھ
وہ پانی جو کھجوروں کے ڈالے جانے کی وجہ سے میٹھا ہوگیا مگر اس کو پانی ہی کہا جاتا ہو اور اس کی رقّت بھی زائل نہ ہوئی تو اُس سے وضو کے جواز میں ہمارے اصحاب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اھ (ت)
عـہ عزاہ للحلیہ فی الھندیہ ولم ارہ فیھا لافی التیمم ولا فی المیاہ فلعلہ ساقط من نسختی واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)

ہندیہ میں حلیہ کی طرف نسبت کی ہے اور مجھے اس میں یہ بات نہیں ملی نہ باب التیمم میں نہ باب المیاہ میں شاید یہ میرے نسخہ سے ساقط ہو واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    فیما لایجوزبہ التوضو     پشاور    ۱/۲۲)
اقول: امامافی البدائع لابد من معرفۃ نبیذ التمر الذی فیہ الخلاف وھو ان یلقی شیئ من التمر فی الماء فتخرج حلاوتہ الی الماء وھکذا ذکر ابن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی تفسیر نبیذ التمر الذی توضأ بہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لیلۃ الجن فقال تمیرات القیتھا فی الماء ۱؎ اھ فیحمل علی ما حلا و خرج عن الاطلاق کیف وفی صدر الحدیث عند ابن ابی شیبۃ ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال لہ ھل معک من وضوء قال قلت لاقال فما فی اداوتک قلت نبیذ تمر قال تمرۃ حلوۃ وماء طیب ۲؎ فلولا انہ خرج من الاطلاق لما قال لا۔
میں کہتا ہوں بدائع میں ہے کہ وہ نبیذ تمر جس میں اختلاف ہے اس کی معرفۃ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کچھ کھجو ریں پانی میں ڈال دی جائیں تو ان کی مٹھاس پانی میں آجائے ،ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نبیذ تمر کی یہی تفسیر منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سے لیلۃ الجن میں وضو فرمایا تھا، آپ نے فرمایا میں نے کچھ کھجوریں پانی میں ڈال دی تھیں اھ تو اس کو اس پانی پر محمول کیا جائے جس میں مٹھاس پیدا ہوگئی ہو اور مطلق پانی سے نکل گیا ہو، جیسا اس حدیث کی ابتداء میں بروایت ابن شیبہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیاکیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے توشہ دان میں کیا ہے؟ انہوں نے کہا نبیذ تمر ہے۔آپ نے فرمایا یہ تو میٹھی کھجوریں اور پاک پانی ہے، تو اگر وہ پانی مطلق ہوتا تو آپ جواب میں نہ نہ فرماتے۔ (ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    الماء المقید        سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۷)

(۲؎ مصنف ابن ابی شیبۃ    وضو بالنبیذ        ادارۃ القرآن کراچی    ۱/۲۶)
اقول: وبھذا یضعف(۱) مااجاب بہ ابنا حجر فی شرحی البخاری والمشکوۃ انہ محمول علی ماء القیت فیہ تمرات یابسۃ لم تغیرلہ وصفا قال العسقلانی وانماکانوا یصنعون ذلک لان غالب میاھھم لم تکن حلوۃ ۳؎ اھ واستشعر المکی ان ھذا لایسمی نبیذا فقال وتسمیہ ابن مسعود لہ نبیذامن مجاز الاول زادا والمراد بہ الوضع اللغوی وھو ماینبذ فیہ شیئ وان لم یغیرہ ۴؎ اھ
میں کہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ دو۲ شرحوں (شرح بخاری وشرح مشکوٰۃ) میں دو ابن حجر نے جو جواب دیا ہے وہ ضعیف ہے وہ جواب یہ ہے کہ ..... اس پانی سے مراد وہ پانی ہے جس میں خشک کھجوریں ڈال دی گئی ہوں جس نے پانی کا وصف نہ بدلا ہو،عسقلانی نے فرمایا اہلِ عرب ایسا اس لئے کرتے تھے کہ عام طور پر اُن کا پانی میٹھا نہیں ہوتا تھا اھ اور مکی نے فرمایا کہ اس کو نبیذ نہیں کہا جاتا ہے، اور فرمایا ابن مسعود نے اس کو مجازاً نبیذ کہا تھا اول نے مزید فرمایا کہ یا اس سے مراد اس کے لغوی وضعی معنی ہیں، یعنی وہ پانی جس میں کوئی چیز ڈال دی جائے خواہ وہ اس پانی کو متغیر نہ کرے اھ۔ (ت)
 (۳؎ فتح الباری        لایجوز الوضوء بالنبیذ    بیروت        ۱/۳۰۵)

(۴؎ شرح مشکوٰۃ لملّا علی قاری باب احکام المیاہ    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۲/۶۰)
اقول: وکل(۱) ھذا کما تری خروج عن الظاھرغیران ملک العلماء قال بعدماقدمناعنہ لان من عادۃ العرب انھاتطرح التمر فی الماء الملح لیحلو ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں یہ تمام تاویلات ظاہر کے برخلاف ہیں، تاہم ملک العلماء نے اس تمام گفتگو کے بعد جو ہم نے اوپر ذکر کی،فرمایا:عرب کی عادت تھی کہ وہ کھاری پانی میں کھجوریں ڈالتے تھے تاکہ پانی میٹھا ہوجائے۔(ت)
 (۱؎ بدائع الصنائع    الماء المقید    سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۷)
اقول: فھذا(۲)میل الی ماقالاہ ولا اراہ یستقیم اذلوکان کذا لبقی علی مائتیہ وکان مطلقا فجاز بہ الوضوء مطلقا وقد قال الشیخ الامام فی اٰخر الکلام الجواز فی نبیذ التمر ثبت معدولابہ عن القیاس لان القیاس یابی الجوازالا بالماء المطلق وھذا لیس بماء مطلق بدلیل انہ لایجوز التوضو بہ مع القدرۃ علی الماء المطلق الاانا عرفناالجواز بالنص ۲؎ اھ ولذا احتجناالی الجواب عن الحدیث بانہ منسوخ باٰیۃ التیمم ونو زع ولذامال الاتقانی الی قول محمد(۳) انہ یجمع بینھما لیقع الطھر بالیقین۔ اقول وھو حسن جدا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں یہ جواب بھی اُن دو حضرات کے قول کی طرف میلان ہے،مگر میرے نزدیک یہ جواب درست نہیں،کیونکہ اگر یہی بات ہوتی تو پانی کا نام باقی رہتا اور مطلق رہتااور اس سے مطلقا وضو جائز ہوتا۔ شیخ نے آخر میں فرمایا نبیذ تمر سے وضو کا جواز قیاس کے برخلاف ثابت ہے،کیونکہ قیاس تو یہ چاہتا ہے کہ وضو صرف مطلق پانی سے ہی جائز ہو،اور یہ مطلق پانی نہیں ہے،اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ماء مطلق پر قدرت ہوتے ہوئے اُس سے وضو جائز نہیں، لیکن اس کاجواز ازروئے نص ثابت ہے اھ اس لئے ہمیں ضرورت ہوئی کہ ہم حدیث کا جواب دیں،اور جواب یہ ہے کہ یہ آیت تیمم سے منسوخ ہے، اور اس لئے اتقانی امام محمد کے قول کی طرف مائل ہوئے کہ وضو اور تیمم دونوں کو جمع کیا جائے تاکہ طہارت بالیقین حاصل ہوجائے۔ (ت) میں کہتا ہوں یہ جواب بہت اچھا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎ بدائع الصنائع    الماء المقید    سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۷)
 (۱۱۷) اقول: یہاں سے ظاہر ہوا کہ اگر پانی میں شکّر یا بتاشے اتنے کم پڑے کہ شربت کی حد تک نہ پہنچا اگرچہ ایک ہلکی سی مٹھاس آگئی تو اُس سے وضو روا ہے۔ 

(۱۱۸) اقول: یوں ہی دوا پانی میں بھگوئی جب تک پانی میں اُس کا اثر نہ آجائے کہ اب ۱ سے دوا کہیں پانی نہ کہیں اُس وقت تک اُس سے وضو جائز ہے اگرچہ پانی کے اوصاف بدل جائیں وکفی شاھدا علیہ مسألۃ الاوراق فی الحیاض (اس پر دلیل حوضوں میں پتّوں کا مسئلہ کافی ہے۔ ت)

(۱۱۹) کسم

(۱۲۰) کیسر

(۱۲۱) کسیس

(۱۲۲) مازو

یہ چیزیں اگر پانی میں اتنی کم حل ہُوئیں کہ پانی رنگنے یالکھنے حرف کا نقش بننے کے قابل نہ ہوگیا تو اُس سے بالاتفاق وضو جائز ہے۔
وذلک ان العبارات جاء ت فیھاعلی اربعۃ مسالک الاوّل یجوز مطلقامالم تغلب علی الماء بالاجزاء قال فی الھدایہ قال الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایجوز التوضی بماء الزعفران واشباھہ ممالیس من جنس الارض لانہ ماء مقید الا تری انہ یقال ماء الزعفران بخلاف اجزاء الارض لان الماء لایخلوعنھا عادۃ ولناان اسم الماء باق علی الاطلاق الا تری انہ لم یتجدد لہ اسم علیحدۃ واضافتہ الی الزعفران کاضافتہ الی البئر والعین ولان الخلط القلیل لامعتبر بہ لعدم امکان الاحترازعنہ کما فی اجزاء الارض فیعتبر الغالب والغلبۃ بالاجزاء لابتغیر اللون ھو الصحیح ۱؎ اھ
پہلا مسلک: وضو مطلقا جائز ہے تاوقتیکہ اُس کے اجزاء پانی پر غالب نہ ہوجائیں، ہدایہ میں ہے امام شافعی نے فرمایازعفران اور اسی کی مثل دوسری اشیاء کے پانی سے وضو جائز نہیں یعنی وہ اشیاء جو زمین کی جنس سے نہیں،کیونکہ یہ مقید پانی ہے۔اس لئے کہتے ہیں زعفران کا پانی، اور زمین کے اجزاء کا معاملہ اس کے برعکس ہے، کیونکہ پانی عام طور پر ان اجزاء سے خالی نہیں ہوتا ہے اور ہماری دلیل یہ ہے کہ پانی کا نام علی الاطلاق باقی ہے کیونکہ اس کا کوئی نیا نام نہیں ہے،اور اس کی اضافت زعفران کی طرف ایسی ہے جیسے پانی کی اضافت کُنوئیں اور چشمے کی طرف ہوتی ہے اور تھوڑی ملاوٹ کا کوئی اعتبار نہیں کہ اُس سے بچنا ممکن نہیں، جیسا کہ زمین کے اجزاء میں ہوتا ہے، تو غالب کا اعتبار ہوگا اور غلبہ باعتبار اجزاء ہوتا ہے نہ کہ رنگ کے بدلنے سے،یہی صحیح ہے اھ
 (۱؎ ہدایہ    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالا یجوزبہ        مطبع عربیہ کراچی    ۱/۱۸)
وفی الانقرویہ یجوزالتوضی بماء الزعفران عندناوعند الشافعی لایجوز ۱؎ اھ وفی الظھیریہ ثم البحر وفی الخانیہ اذا طرح الزاج فی الماء حتی اسود (زاد فی الخانیہ لکن لم تذھب رقتہ) جاز بہ الوضو ۲؎ اھ ومثل الخانیہ فی المنیہ عن الملتقط وزاد وکذا العفص اھ قال فی الغنیہ عـہ جازمع تغیر لونہ وطعمہ وریحہ ۳؎ اھ
 (خانیہ میں یہ اضافہ بھی یہ ہے مگر اس کی رقت زائل نہ ہوئی) تو اس سے وضو جائز ہے اھ ۔اور فتاوٰی انقرویہ میں ہے کہ ہمارے نزدیک زعفران کے پانی سے وضو جائز ہے اور امام شافعی کے نزدیک جائز نہیں اھ،ظہیریہ، بحر اور خانیہ میں ہے کہ جب زردج پانی میں ڈالا گیا خانیہ میں یہ اضافہ بھی ہے مگر اسکی  رقت زائل نہ ہو ئی ) وضو جائز ہے اھ  اور خانیہ کی طرح منیہ میں ملتقط سے منقول ہے اس میں عفص کا اضافہ بھی ہے اھ غنیہ میں ہے اس کے مزے بُو اور رنگ کے بدل جانے کے باوجود وضو جائز ہے اھ
عـہ وفی صغیرہ القلیل من الزعفران یغیر الاوصاف الثلثۃ مع کونہ رقیقا فیجوز الوضوء والغسل بہ ۱۲ منہ(م)

اور اس کی شرح صغیر میں ہے کہ تھوڑی زعفران پانی کے تینوں اوصاف کو بدل دے مگر پانی رقیق ہو تو اس سے وضو اور غسل جائز ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ رسائل الارکان بالمعنی        فصل فی المیاہ    مطبع علوی        ص۲۴)

(۲؎ بحرالرائق            کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۹)

(۳؂غنیہ المستملی        احکام المیاہ        سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۰)
وفی الخانیہ لابماء ورد وزعفران اذاذھبت رقتہ وصار ثخیناوان بقیت رقتہ ولطافتہ جاز ۴؎ اھ
اور خانیہ میں ہے نہ کہ گلاب اور زعفران کے پانی سے جبکہ اس کی رقّت ختم ہوجائے اور گاڑھا ہوجائے، اور اگر اس کی رقّت ولطافت باقی رہے تو اُس سے وضو جائز ہے اھ
 (۴؎ فتاوٰی خانیہ المعروف قاضی خان    فصل فیما لایجوزبہ التوضی    نولکشور لکھنؤ    ۱/۱۹)
وفی جواھر الاخلاطی اذاخالط شیئ من الطاھرات ولم یطبخ کالزعفران والزردج یجوز التوضی بہ ۵؎ اھ ای وقید بقاء الرقۃ معلوم لاحاجۃ الی ابانتہ وفی مسکین علی الکنز لایجوز بما غلب علیہ غیر الماء مثل الزعفران اجزاء وھواحتراز عن الغلبۃ لونا وھو قول محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی ۱؎ اھ
 (۵؎ جواہر الاخلاطی)

(۱؎ فتح المعین        کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۶۳)
جواہر اخلاطی میں ہے کہ جب کوئی پاک شیئ پانی میں مل جائے اور اس کوپکایا نہ گیا ہو جیسے زعفران اور زردج، تو اس سے وضو جائز ہے اور رقت کے بقاء کی قید سب کو معلوم ہے لہٰذا اظہار کی طرف کوئی محتاجی نہیں اورمسکین علی الکنز میں ہے کہ جب پانی پر کسی دوسری شے کا غلبہ ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہیں جیسے زعفران جبکہ یہ غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہو،اور اجزاء کی قید سے لون (رنگ) اس سے خارج ہوگیا اور یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے اھ
وفی وجیز الکردری ماء الزردج والصابون والعصفر والسیل لورقیقایسیل علی العضو یجوز التوضی بہ ۲؎ اھ بل فی الغرر یجوز وان غیر اوصافہ جامد کزعفران وورق فی الاصح ۳؎
اور وجیز کردری میں ہے کہ زردج، صابون، عصفر اور سیلاب کا پانی اگر رقیق ہو اور یہ پانی عضو پر بہہ سکتا ہو تو اس سے وضو جائز ہے اھ بلکہ غرر میں ہے کہ اگرچہ کوئی جامد چیز اس کے اوصاف کو بدل دے تو بھی وضو جائز ہے جیسے زعفران اور پتّے،اصح قول کے مطابق۔
 (۲؎ فتاوٰی بزازیہ    علی الہندیہ        نوع المستعمل والمقید والمطلق    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲/۱۰)

(۳؎ الغرر متن الدرر    کتاب الطہارۃ    مطبعۃ کاملیہ        بیروت    ۱/۲۱)
وفی نورالایضاح لایضر تغیراوصافہ کلھابجامع کزعفران ۴؎ اھ فھذہ نصوص متظافرۃ اماما فی الخانیہ التوضو بماء الزعفران وزردج العصفر یجوز انکان رقیقاوالماء غالب فان غلبتہ الحمرۃ وصار متماسکالایجوز ۵؎ اھ۔
اورنور الایضاح میں ہے کہ کسی جامد چیز کا پانی کے اوصاف کو متغیر کردینا مضر نہیں، جیسے زعفران اھ تو یہ نصوص ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں، اور جو خانیہ میں ہے کہ زعفران، زردج، عصفر کے پانی سے وضو جائز ہے بشرطیکہ رقیق ہو اور پانی کا غلبہ ہو پس اگر اس پر سرخی غالب ہوجائے اور گاڑھا ہوجائے تو وضو جائز نہیں اھ (ت)
 (۴؎ نور الایضاح    کتاب الطہارت    مطبعۃ علمیہ لاہور        ص۳)

(۵؎ فتاوٰی قاضی خان    فیما لایجوزبہ التوضی    مطبعۃ نولکشور لکھنؤ        ۱/۹)
فاقول: اولہ صریح فی اعتبارالرقۃ وفی اٰخرہ وان ذکرالحمرۃ فقد تدارکہ بقولہ وصار متماسکا فلم یکتف بغلبۃ اللون مالم یثخن ثم اکدہ بان قال متصلا بہ اما عند ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی تعتبر الغلبۃ من حیث الاجزاء لامن حیث اللون ھو الصحیح ۱؎ اھ ومثل ھذا مافی الخلاصۃ رجل توضأ بماء الزردج اوالعصفر اوالصابون انکان رقیقایستبین الماء منہ یجوزوان غلبت علیہ الحمرۃ وصار نشاستج لایجوز ۲؎ ھ فصرح بالبناء علی الثخونۃ وبقی ذکرالحمرۃ فی الکتابین کالمستدرک عـہ۔
میں کہتا ہوں اس کی ابتداء رقت کے اعتبار میں صریح ہے اور اس کے آخر میں اگرچہ سرخی کا ذکر ہے لیکن اس کا تدارک اس لفظ سے کر دیاکہ وہ گاڑھا ہوجائے، تو جب تک گاڑھا نہ ہو رنگ کے غلبہ کا اعتبار نہیں پھر اس کی تائید میں متصلاً فرمایا کہ ابو یوسف کے نزدیک اجزاء کے اعتبار سے غلبہ معتبر ہے رنگ کے اعتبار سے نہیں،یہی صحیح ہے اھ اور اسی کی مثل خلاصہ میں ہے کہ کسی شخص نے زردج، عصفریاصابن کے پانی سے وضو کیا،اگر وہ رقیق ہو جس سے پانی واضح ہوتا ہو تو وضو جائز ہے اور اگر اس پر سُرخی غالب ہوگئی ہو اور نشاستہ بن گیا ہو تو وضو جائز نہیں اھ تو اس میں اس کی تصریح ہے کہ دارومدار گاڑھے پن پر ہے اوردونوں کتابوں میں سرخی کا ذکر مستدرک کی طرح ہے۔ (ت)
عـہ ستأتی فائدۃ لہ اٰخرالضابطۃ السادسۃ من الفصل الثالث ولذا قال کالمستدرک ای فی النظر الظاھر ۱۲ منہ غفرلہ (م)

تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ کے آخر میں اس کے لئے ایک فائدہ بیان کیاہے اس لئے فرمایا کالمستدرک یعنی نظر ظاہر میں ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فیما لایجوزبہ التوضی    مطبع نولکشور لکھنؤ    ۱/۹)

(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    بیان الماء المقید        مطبع نولکشور لکھنؤ ۱/۸)
الثانی لایجوزمطلقافی شرح الطحاوی ثم خزانۃ المفتین المقید مثل ماء الاشجاروالثمار وماء الزعفران ۳؎ اھ وفی المنیہ لاتجوز بالماء المقید کماء الزعفران ۴؎ اھ قال فی الحلیہ محمول علی مااذا کان الزعفران غالبا ۵؎ اھ
دُوسرا مسلک:مطلقاً جائز نہیں، شرح طحاوی اور خزانۃ المفتین میں ہے مقید جس طرح درخت،اور پھلوں کاپانی اور زعفران کاپانی اھ اور منیہ میں ہے کہ مقید پانی سے وضو جائز نہیں جیسے زعفران کاپانی اھ حلیہ میں کہا کہ یہ اُس صورت پر محمول ہے جبکہ زعفران غالب ہو اھ۔(ت)
 (۳؎ خزانۃ المفتین)

(۴؎ منیہ المصلی    فصل فی المیاہ    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۶۳)

(۵؎ حلیہ)
اقول:  ھذا مبھم یحتمل الغلبۃ بالاجزاء وباللون وافصح فی الغنیہ فقال المرادماخثربہ وخرج عن الرقۃ اومایستخرج منہ رطباکما یستخرج من الورد ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں یہ مبہم ہے اس میں اجزاء کے اعتبار سے بھی غلبہ کااحتمال ہے اور رنگ کے اعتبار سے بھی ہے،اور غنیہ میں وضاحت ہے، فرمایااس سے مراد وہ پانی ہے جو گاڑھا ہوگیاہو اور رقّت ختم ہوگئی ہو، یا وہ ہے جو اس سے تر نکلتا ہو جیسا کہ گلاب سے نکلتا ہے اھ (ت)
 (۱؎ غنیہ المستملی     فصل احکام المیاہ    مطبع سہیل اکیڈمی لاہور        ص۸۹ )
اقول: فعلی الثانی یخرج من البین وعلی الاول یرجع الی الاول وھوالذی نص علیہ فی المنیہ نفسھامن بعداذقال تجوزالطھارۃ بالماء الذی اختلط بہ الزعفران بشرط ان تکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء ولم یزل عنہ اسم الماء ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں تو دوسری صورت میں یہ اختلافی صورت سے الگ ہوجائیگا،اور پہلی صورت میں پہلی کی طرف رجوع کرے گا یہ وہ ہے جس پر منیہ میں صراحت ہے،انہوں نے کہا کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں زعفران ملائی گئی ہو بشرطیکہ اجزاء کے اعتبارسے پانی کو غلبہ ہو،اور پانی کا اطلاق اس پر ہوتا ہو۔ (ت)
 (۲؎ منیہ المصلی    فصل فی المیاہ        مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۶۳)
 (عـہ) فی الارکان الاربعۃ للمولی بحرالعلوم اللکنوی لایجوزالتوضی بماء الزعفران والعصفر والزردج اذا کان بحیث یلون البدن اوالثوب لانہ ذھب اسم الماء ح حقیقۃ وامااذاصار بلیدافلیس ماء مطلقاولا ماء مقیدافلا یطلق علیہ الماء لاحقیقۃ ولا مجازا اھ

بحرالعلوم کی ارکان اربعہ میں ہے زعفران، عصفر اور زردج کے پانی کے ساتھ وضو جائز نہیں جبکہ وہ بدن یا کپڑے کو رنگ دے کیونکہ اب حقیقۃً پانی کانام اس سے ختم ہوگیا اور جب وہ گاڑھا ہوجائے تو نہ مطلق پانی ہے اور نہ مقید پانی ہے اور اس پر نہ تو پانی کا حقیقۃً اطلاق ہوتا ہے اور نہ مجازاً اھ
Flag Counter