Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
149 - 176
فتاوٰی شیخ الاسلام غزی میں ہے:ماء الصابون لو رقیقایسیل علی العضو یجوز الوضوء بہ وکذا لو اغلی بالاشنان وان ثخن لاکما فی البزازیہ ۲؎۔
صابون کا رقیق پانی جو اعضاء پر بہے اس سے وضو جائز ہے ، اسی طرح اگر پانی میں اُشنان ڈال کر جوش دیا گیا تو وضو جائز ہے اگر وہ گاڑھی ہوجائے تو وضو جائز نہیں کما فی البزازیہ۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی غزی )
خانیہ میں بعد عبارت مذکورہ آنفا ہے:وکذا لوطبخ بالماء مایقصد بہ المبالغۃ فی التنظیف کالسدر والحرض وان تغیر لونہ ولکن لم تذھب رقتہ یجوز وان صار ثخینا مثل السویق لا ۳؎۔
اور اسی طرح اگر پانی میں ایسی چیز کو جوش دیا گیا جس سے نظافت میں مبالغہ مقصود ہو، جیسے بیری (کے پتّے) اور حرض، خواہ اس کا رنگ بدل جائے لیکن اس کی رقت ختم نہ ہو تو اس سے وضو جائز ہے اور اگر ستوؤں کی طرح گاڑھی ہوجائے تو جائز نہیں۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی قاضی خان    فیما لایجوز بہ التوضی    نولکشور لکھنؤ        ۱/ ۹)
منیہ وغنیہ میں ہے:(ذکر فی المحیط لوتوضاء بماء اغلی باشنان اوباٰس جاز الوضوء بہ مالم یغلب علیہ) بان اخرجہ عن رقتہ ۴؎۔
(محیط میں ذکر کیا کہ اگر کسی نے ایسے پانی سے وضو کیا جس کو اُشنان یا آس (ایک درخت جو ریحان کے نام سے مشہور ہے) میں جوش دیا گیا تو اس سے وضو جائز ہے بشرطیکہ وہ پانی پر غالب نہ ہو کہ اس کو اس کی رقّت سے نکال دے۔ (ت)
 (۴؎ غنیہ المستملی    احکام المیاہ        سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۱)
حلیہ میں ہے: فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری نقلاعن ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی اذا طبخ الاٰس اوالبا بونج فی الماء فان غلب علی الماء حتی یقال ماء البابونج والاٰس لایجوز التوضی بہ انتھی وعزی الی الاجناس بمانصہ قال محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الماء الذی یطبخ فیہ الریحان اوالاشنان اذالم یتغیر لونہ حتی یحمربالاشنان اویسودبالریحان وکان الغالب علیہ الماء فلاباس بالوضوء بہ فمحمد یراعی لون الماء وابو یوسف غلبۃ الاجزاء ثم فی التتمۃ والذخیرۃ والحاصل من مذھب ابی یوسف ان کل ماء خلط بشیئ یناسب الماء فیما یقصد من استعمال الماء وھو التطھیرفالتوضی بہ جائزبشرط ان لایغلب ذلک المخلوط علی الماء حتی لاتزول بہ الصفۃ الاصلیہ وھی الرقۃ وذلک مثل الصابون اوالاشنان وانکان ذلک المخلوط لایناسب الماء فیما یقصد من استعمال الماء ففی بعض الروایات اشترط لمنع جواز التوضی غلبۃ ذلک الشیئ الماء وفی بعض الروایات لم یشترط ومحمد اعتبر فی جنس ھذہ المسألۃ غلبۃ المخلوط الماء لمنع جواز التوضی ولکن فی بعضھا اشار الی الغلبۃ من حیث اللون وفی بعضھا اشار الی الغلبۃ من حیث الاجزاء بحیث تسلب صفۃ الرقۃ من الماء ویبدلھا بضدھاوھی الثخونۃ انتھی ۱؎۔
ذخیرہ اور تتمہ فتاوٰی صغری میں ابو یوسف سے منقول ہے جب آس یا بابونہ کو پانی میں ابالا جائے اور وہ پانی پر غالب آجائے یہاں تک کہ بابونہ یا آس (ایک درخت جو ریحان کے نام سے مشہور ہے) کا پانی کہلانے لگے تو اس سے وضو جائز نہیں انتہٰی، اور اجناس کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ امام محمد نے اُس پانی کی بابت فرمایا جس میں ریحان (پھول) یا اُشنان کو جوش دیا گیا ہو اور اس کا رنگ تبدیل نہ ہوا ہو، یعنی نہ تو اُشنان کی وجہ سے سرخ ہواہو اور نہ ریحان کی وجہ سے سیاہ ہوا ہو، اور اس پر پانی ہی کا غلبہ ہو تو اس سے وضو کرنے میں حرج نہیں، تو امام محمد پانی کے رنگ کا اعتبار کرتے ہیں اور ابویوسف غلبہ اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں، پھر تتمہ اور ذخیرہ میں ہے کہ ابو یوسف کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو پانی سے مناسبت رکھتی ہو اور پانی کے استعمال سے جو مقصود ہے اس کے مطابق ہو اگر وہ پانی میں مل جائے تو وہ مطہر ہے اس سے وضو جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ یہ مخلوط شَے پانی پر غالب نہ ہو تاکہ پانی کی صفت اصلیہ یعنی رقّت زائل نہ ہو۔اس کی مثال صابون اور اُشنان ہے اور اگر یہ مخلوط پانی سے مناسبت نہ رکھتی ہو اور پانی کے استعمال سے جو مقصود ہے اس سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو بعض روایات کے مطابق اس سے وضو کا عدمِ جواز اس شرط کے ساتھ مشروط ہوگاکہ یہ شیئ پانی پر غالب آجائے اور بعض روایات میں کوئی شرط نہیں،اور امام محمد اس طرح کے مسئلہ میں پانی پر مخلوط شیئ کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہوئے اس سے وضو جائز قرار نہیں دیتے لیکن بعض روایات میں اس طرف اشارہ ہے کہ غلبہ سے مراد رنگ میں غلبہ ہے اور بعض میں اشارہ غلبہ من حیث الاجزاء مراد ہے کہ پانی کی صفت رقّت سلب ہوجائے اور اس کے بدلے میں گاڑھا پن اس میں پیدا ہوجائے انتہٰی۔ (ت)
 (۱؎ حلیہ)
نیز حلیہ میں ایک کلام بدائع نقل کرکے فرمایا: ذکرفیھاوفی التحفۃ ومحیط رضی الدین وفتاوٰی قاضی خان وغیرھااذا کان المخالط مما یطبخ الماء بہ اویخلط الزیادۃ التطھیرلایمنع التوضی بہ ولو تغیر لون الماء وطعمہ وذلک کالصابون والاشنان والسدر الا اذا صار غلیظابحیث لایجری علی العضو فانہ حینئذ لایجوز لانہ زال عنہ اسم الماء ۲؎ اھ۔
اس میں اور تحفہ اور محیط رضی الدین اور فتاوی قاضیخان وغیرہ میں ذکر کیا کہ پانی میں مخلوط شیئ اگر اس قسم کی ہے کہ اس کو پانی میں پکانے یا خلط کرنے سے مقصود تطہیر میں زیادتی ہوتی ہے تو اس سے وضو جائز ہے اگرچہ پانی کا رنگ اور مزہ تبدیل ہوگیاہو، جیسے صابن، اشنان اور بیری (کے پتّے)، ہاں اگر پانی اتنا گاڑھا ہوگیا کہ اس کا سیلان ختم ہوگیا اور وہ عضو پر بہنے کے لائق بھی نہ رہا، تو اس صورت میں اس سے وضو جائز نہیں، کیونکہ اب اس سے پانی کا نام ہی سلب ہوگیا ہے اھ۔ (ت)
 (۲؎ حلیہ)
اقول: واضفت الخطمی اخذا مما قالوہ فی الجنائز یغسل(۱) رأسہ ولحیتہ بالخطمی ان وجد والا فبالصابون ونحوہ ۳؎ تنویروفی التبیین اغتسل صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وغسل رأسہ بالخطمی وھو جنب واکتفی بہ ولم یصب علیہ الماء ۴؎۔
میں کہتا ہوں میں نے مذکورہ اشیاء میں خطمی کا اضافہ کیا ہے، یہ فقہاء کے اُن اقوال کی روشنی میں ہے جو انہوں نے جنائز میں ذکر کئے ہیں فرماتے ہیں میت کے سراور داڑھی کو خطمی سے دھویا جائے اگر میسر ہو، ورنہ صابن وغیرہ سے دھوئیں اور یہ تنویر میں ہے،اورتبیین میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا اور جنابت کی حالت میں اپنے سر کو خطمی سے دھویا اور اسی پر اکتفاء کیا اور اسی پر مزید پانی نہ بہایا۔ (ت)
 (۳؎ درمختار        صلوٰۃ الجنائز        مجتبائی دہلی    ۱/۱۲۰)

(۴؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارت    بولاق مصر   ۱/۲۱)
 (۱۰۸ و ۱۰۹) اقول: دوا یا غذا پانی میں پکانے کو ڈالی اور آنچ کی مگر وہ شے ابھی کچی ہے اور پانی گاڑھا نہ ہوگیا تو اس سے وضو جائز ہے،
لانہ لم یوجد الطبخ ولا زوال الطبع فلا الاسم قال ش عن القاموس(۱) الطبخ ھو الانضاج استواء(۱) اھ ۱؎ وقال فی الغنیہ القاعدۃ فی المخالطۃ بالطبخ ان ینضج المطبوخ فی الماء ۲؎۔
کیونکہ اس میں نہ تو پکانا پایاگیاہے اور نہ ہی طبیعۃ ماء زائل ہوئی تو اسم بھی زائل نہ ہوا، ''ش'' نے قاموس سے نقل کرتے ہوئے فرمایا طبخ کے معنی استواء پکانے کے ہیں اھ اور غنیہ میں فرمایا مخالطۃ بالطبخ میں قاعدہ یہ ہے کہ مطبوخ پانی میں پک جائے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مصطفی البابی مصر            ۱ / ۱۴۵)

(۲؎ غنیہ المستملی    احکام المیاہ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۱)
 (۱) سیاتی مافیہ فی الفصل الثالث بیان الطبخ۱۲ منہ غفرلہ۔
 (م)اس میں ایک اعتراض ہے جو فصل ثالث میں طبخ کے بیان میں آئے گا۔ (ت)

(۱۱۰) اقول یونہی چائے دم کرنے کو گرم پانی میں ڈالی یا جوش ہی میں شریک کی اور جلد نکال لی کہ اثر نہ کرنے پائی اس قابل نہ ہوا کہ اُسے چائے کہہ سکیں اگرچہ ہلکی سے ہلکی، تو اُس سے بھی وضو میں حرج نہیں لبقاء الاسم والطبع وایضا عدم الانضاج والطبخ (کیونکہ پانی کا نام اور طبیعت باقی ہے اور پکنا پکانا بھی نہیں پایا گیا۔ (ت) یہاں پانی کی رنگت پر نظر ہوگی اور صورت سابقہ میں اُس کی رقّت اور شے جوشاندہ کی حالت پر۔

(۱۱۱ تا ۱۱۴) عرق گاؤ زبان یا اُترے ہوئے گلاب کیوڑا بیدمشک جن میں خوشبو نہ رہی اور اتنے ہلکے ہیں کہ کوئی مزہ بھی محسوس نہیں ہوتا پانی میں کسی قدر مل جائیں جب تک پانی سے مقدار میں کم ہوں گی مثلاً لبالب گھڑے میں وہی گھڑا گلے تک بھرا تو اُس سے وضو ہوسکتا ہے۔ بحرالرائق میں ہے:
ان کان مائعا موافقا للماء فی الاوصاف الثلثۃ کالماء الذی یؤخذ بالتقطیر من لسان الثور وماء الورد الذی انقطعت(۲) رائحتہ اذا اختلط بالمطلق فالعبرۃ للاجزاء فان کان الماء المطلق اکثر جاز الوضوء بالکل وان کان مغلوبالایجوز وان استویا لم یذکر فی ظاھر الروایہ وفی البدائع قالواحکمہ حکم الماء المغلوب احتیاطا ۱؎ اھ وعبارۃ الدرر والمستخرج من النبات بالتقطیر تعتبر فیہ الغلبۃ بالاجزاء ۲؎ اھ
اگر کوئی مائع پانی کے ساتھ اوصاف ثلٰثہ میں مطابقت رکھتا ہے اور رقیق ہے جیسے وہ پانی جو عمل تقطیر کے ذریعہ گاؤ زبان سے حاصل کیا جائے اور گلاب کا پانی جس کی خوشبُو جاتی رہی ہو جب وہ مطلق پانی کے ساتھ ملایا جائے تو اعتبار اجزاء کا ہوگا تو اگر مطلق پانی زیادہ ہو تو سب سے وضو جائز ہے اور اگر مغلوب ہو تو جائز نہیں اور اگر دونوں برابر ہوں تو ظاہر روایت میں اس کا حکم مذکور نہیں اور بدائع میں ہے کہ فقہاء  نے فرمایا کہ اس کا حکم بھی احتیاطاً وہی ہے جو مغلوب پانی کا ہے اھ اور درر میں ہے کہ جڑی بُوٹیوں کا پانی جو تقطیر سے نکالا جائے اس میں اجزاء کے غلبہ کا اعتبار ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق        کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۶۹)(۲؎ درر علی الغرر    فرض الغسل        کاملیہ بیروت        ۱/۲۳)
 (۲) و زدت انقطاع الطعم لما ستعلم ان شاء اللّٰہ تعالی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
 اور میں نے انقطاعِ طعم کا اضافہ کیا ہے اس کی وجہ ان شاء اللہ تعالٰی آپ جان لیں گے۔ (ت)
اقول: واطلاقہ(۱) ینافی ضابطتہ التی تبع فیھا الامام الزیلعی فان من المستقطر مایخالف الماء فی وصف اووصفین اوالثلثۃ کما لایخفی۔
میں کہتا ہوں ان کا اس کو مطلق رکھنا ان کے اس ضابطہ کے منافی ہے جس میں انہوں نے امام زیلعی کی متابعت کی ہے، کیونکہ عمل تقطیر سے جو پانی حاصل ہوتا ہے وہ عام پانی سے ایک وصف یا دو یا تین میں مختلف ہوتا ہے کما لایخفی۔ (ت)
 (۱۱۵) یونہی ہر عرق کہ پانی سے رنگ ومزہ وبُو کسی میں ممتاز نہ ہو جیسے عطاروں کے یہاں کے اکثر عرق۔

ثم اقول کمی بیشی میں اعتبار مقدار کاہے اور ان میں بہت چیزیں پانی سے ہلکی ہوتی ہیں تو اگر وزن میں کمی لی جائے بارہا مقدار میں بیشی ہوجائے گی لہٰذا ہم نے لبالب گھڑے اور گلے تک بھرے سے تمثیل دی۔
وبہ ظھر(۲) مافی عبارۃ المنحۃ حیث فسر العبرۃ للاجزاء بقولہ ای القدر والوزن ۳؎ اھ وفی عبارۃ ابی السعود اذقال الغلبۃ من حیث الوزن ۴؎ وقد نص محمد(۳) ان الماء کیلی واجمع ائمتنا انہ لیس وزنیا وقال العینی ثم ابن الشلبی لوکان الماء رطلین والمستعمل رطلا فحکمہ حکم المطلق وبالعکس کالمقید ۱؎ اھ ولکن العجب(۱)من العلامۃ الشرنبلالی قال فی نور الایضاح وشرحہ الغلبۃ فی مائع لاوصف لہ یخالف الماء تکون بالوزن فان اختلط رطلان من المستعمل اوماء الورد الذی انقطعت رائحتہ برطل من الماء المطلق لایجوز بہ الوضوء وبعکسہ جاز اھ فذکر الوزن وعاد الی الکیل ۲؎۔
اور اسی سے وہ ظاہر ہوا جو منحہ کی عبارت میں ہے،جہاں انہوں نے اجزاء کی تعبیر مقدار اور وزن سے کی ہے، اور جو ابو السعود کی عبارت میں ہے اس لئے کہ غلبہ وزن کے اعتبار سے ہے اور امام محمد نے تصریح کی ہے کہ پانی کیلی چیز ہے اور ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ پانی وزنی چیز نہیں،اور عینی نیز ابن الشلبی نے فرمایاکہ اگر پانی دو رطل ہے اور مستعمل ایک رطل ہے تو اس کا حکم مطلق پانی کا ہے اور اگر بالعکس ہو تو اس کا حکم مقید کا سا ہے اھ لیکن علامہ شرنبلالی پر تعجب ہے انہوں نے نورالایضاح اور اس کی شرح میں فرمایا کہ سیال چیز جس کا کوئی وصف ایسا نہ ہو جو پانی کے مخالف ہو، تو غلبہ وزن کے اعتبار سے ہوگا تو اگر دو رطل مستعمل پانی یا گلاب کا پانی جس کی خوشبو ختم ہوچکی ہو ایک رطل مطلق پانی میں ملے گا تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو وضو جائز ہے اھ تو ذکر وزن کا کیا اور لوٹ کر کیل کی طرف آئے۔ (ت)
 (۳؎ منحۃ الخالق علی البحر    الطہارت        سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۹)

(۴؎ فتح المعین    الطہارت        سعید کمپنی کراچی              ۱/۶۴)

(۱؎ الشلبی علی التبیین  الطہارت     بو لاق      مصر                 ۱/ ۲۰)

(۲؎ مراقی الفلاح       الطہارت    ـ بو لاق      مصر     ص۱۷)
نوع آخر اس نوع میں وہ اشیاء مذکورہوں گی جن کی بعض صورتوں میں حکم منقول عـہ کتب کچھ ہے اورضابطہ امام زیلعی جس کا بیان بعونہٖ تعالٰی فصل چہارم میں آتا ہے اس کا مقتضٰی کچھ۔ ان اشیاء کی جس صورت میں حکم منقول مقتضائے ضابطہ جواز پر متفق ہیں وہ اس قسم اول میں مذکور ہوگی اور جس میں عدم جواز پر متفق ہیں وہ قسم دوم میں اور جہاں دونوں مختلف ہیں وہ صورتیں قسم سوم کیلئے ہیں۔ یہ اشیاء دو صنف ہیں:
عـہ تنبیہ ضروری: واضح ہو کہ مائے مقید میں ہمارے ائمہ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہم سے منقول صرف دو قول ہیں:

اول قولِ امام ابو یوسف جنہوں نے تبدلِ اوصاف آب کا اعتبار ہی نہ فرمایا صرف غلبہ اجزاء اُن معانی پر کہ فصل ثالث میں بیان ہوں گے معتبر رکھا اور یہی صحیح ومعتمد ومختار جمہور ہے۔

دوم قولِ امام محمد جس میں تبدل اوصاف پر بھی لحاظ فرمایایہاں ہم کو ضابطہ امام زیلعی رحمہ اللہ تعالٰی پر کلام کرنامنظور ہے انہوں نے بھی لحاظِ اوصاف کیاہے تو قول امام ابی یوسف کا خلاف تو ابتدا ہی سے ہُوا قولِ امام محمد پر جو احکام کتب میں منقول ہیں اُن سے ضابطہ زیلعیہ کا موازنہ کرناہے کہ اتنی جگہ اس کے موافق پڑااور ان ان مواضع میں اس کے بھی خلاف رہا تو اقوالِ ائمہ مذہب سے یکسر خارج ہُواان مباحث میں اتفاق اختلاف سے یہی مراد ہے کہ مذہب امام محمد پر احکام منقولہ اور مقتضائے زیلعیہ کا توافق یا تخالف ورنہ اصل مذہب صحیح معتمد کہ مذہب امام ابو یوسف ہے وہ تو صور عدم جواز میں ان کے اتفاق سے بھی بعض جگہ خلاف پڑے گا جسے ہم آخر میں ذکر کریں گے ان شاء اللہ تعالٰی نیز ان نقول کے لانے میں بڑا فائدہ مذہب امام محمد پر اطلاع ہے کہ وہ بھی بجائے خود ایک باقوت قول ہے تو بنظرِ احتیاط اُس کا لحاظ مناسب وباللہ التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ وحفظہ ربہ عزوجل (م)
Flag Counter