Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
148 - 176
(۹۲) پانی میں کولتارپڑ گیاجس سے اس میں سخت بدبُو آگئی مگر گاڑھا نہ ہوگیا اس سے وضو جائز ہے۔
فتاوٰی زینیہ میں ہے:سئل عن الماء المتغیر ریحہ بالقطران ھل یجوز الوضوء منہ ام لااجاب نعم یجوز ۱؎ اھ والقطران بالفتح وبالکسرکظربان عصارۃ الابھل والارز ۲؎ قاموس والارز ثمرالصنوبرقالہ ابو حنیفۃ ۳؎ تاج العروس ومثلہ فی بلادنا ماذکرت۔[
سوال کیا گیا کہ وہ پانی جس کی بُو کولتار کی وجہ سے متغیر ہوگئی ہو،کیا اس سے وضو جائز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں ، اور قطران بالفتح اور بالکسر ظربان کی طرح ابھل اور ارز کا نچوڑ ہے قاموس، اور ارز صنوبر کے درخت کا پھل ہوتا ہے ،یہ ابو حنیفہ کا قول ہے تاج العروس۔ اس قسم کا ہمارے ملک میں ہوتا ہے جیسامیں نے ذکر کیا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی زینیہ علی حاشیہ فتاوٰی غیاثیہ    کتاب الطہارۃ    مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۳)

(۲؎ قاموس المحیط        باب الراء فصل القاف    مصر        ۲/۱۳۲)

(۳؎ لسان العرب         بیروت                ۵/۳۰۶)
اقول : مگر بوجہ(۲) خبث رائحہ مکروہ ہونا چاہئے خصوصاً اگر اس کی بدبُو نماز میں باقی رہی کہ باعث کراہت تحریمی ہوگی۔

(۹۳) پانی میں روٹی بھگوئی اس کے تو اجزاء جلد منتشر ہوجاتے ہیں مگر جب تک پانی کو ستّو کی طرح گاڑھانہ کردیں رقیق وسیال رہے قابلِ وضو ہے اگرچہ رنگ، مزہ، بُو سب بدل جائیں

، خانیہ میں ہے:
لوبل الخبز بالماء وبقی رقیقا جازبہ الوضوء ۴؎۔
اگر روٹی کو پانی میں بھگویا اور وہ پانی پتلا رہا تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
 (۴؎ قاضی خان         فیما لایجوزبہ التوضی    نولکشور لکھنؤ  ۱/۹)
 (۹۴) یونہی جس میں آم بھگوئے۔

(۹۵) اقول اسی طرح گوشت کا دھوون اگرچہ پانی میں ایک گونہ سُرخی آجائے کہ صحیح(۲) مذہب میں گوشت کا خون بھی پاک ہے نہ کہ وہ سُرخی کہ بعض جگہ اُس کی سطح پر ہوتی اور پانی میں دُھل جاتی ہے۔
ردالمحتار میں بزازیہ سے ہے:الدم الخارج من اللحم المھزول عند القطع ان منہ فطاھر وکذادم مطلق اللحم ۱؎۔
دبلے  گوشت سے نکلنے والا خون کاٹتے وقت، اگر اس سے نکلے تو پاک ہے اور اسی طرح مطلق گوشت کے خُون کا حکم ہے۔ (ت)
 (۱؎ بزازیہ مع الہندیہ    السابع فی النجس    پشاور    ۴/۲۱)
 (۹۶) صابون

(۹۷)اُشنان کہ ایک گھاس ہے اُسے حُرض بھی کہتے ہیں۔

(۹۸) ریحان جسے آس بھی کہتے ہیں۔

(۹۹) بابونہ

(۱۰۰) خطمی

(۱۰۱) بیری کے پتّے کہ یہ چیزیں میل کاٹنے اور زیادتِ نظافت کو آب غسل میں شامل کی جاتی ہیں اس سے غسل و وضو جائز ہے اگرچہ اوصاف میں تغیر آجائے جب تک رقّت باقی رہے مختصر امام ابو الحسن میں ہے:
یجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر فغیر احد اوصافہ کماء المد والماء الذی اختلط بہ اللبن اوالزعفران اوالصابون اوالاشُنان ۲؎۔
اُس پانی سے طہارت جائز ہے جس میں کوئی پاک چیز مل کر اُس کے کسی وصف کو بدل دے جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی جس میں دودھ، زعفران، صابون یا اُشنان ملی ہو۔ (ت)
 (۲؎ قدوری  الطہارت  مجیدی کانپور    ص۶)
اس پر جوہرہ نیرہ میں ہے:فان غیر وصفین فعلی اشارۃ الشیخ لایجوز الوضوء ولکن الصحیح انہ یجوز کذا فی المستصفی ۳؎۔
تو اگر وہ اس کے دو اوصاف کو بدل دے تو شیخ کے اشارہ کے مطابق اس سے وضو جائز نہیں، لیکن صحیح یہ ہے کہ جائز ہے کذا فی المستصفٰی۔ (ت)
 (۳؎ جوہرۃ نیرۃ            الطہارت  امدادیہ ملتان    ۱/۱۴)
حلیہ میں ہے: التقیید باحد الاوصاف الثلثۃ فیہ نظر فقد نقل الشیخ حافظ الدین فی المستصفی عن شیخہ العلامۃ الکردری ان الروایہ الصحیحۃ خلافہ ۱؎۔
تین میں سے ایک وصف کے ساتھ مقید کرنے میں نظر ہے،کیونکہ شیخ حافظ الدین نے مستصفٰی میں اپنے شیخ علّامہ کردری سے نقل کیا ہے کہ صحیح روایت اس کے برخلاف ہے۔ (ت)
 (۱؎حلیہ)
مجتبٰی شرح قدوری میں ہے: قول المصنف فغیراحد اوصافہ لایفیدالتقیید بہ حتی لوتغیرت الاوصاف الثلثۃ بالاشنان اوالصابون اوالزعفران ولم یسلب اسم الماء عنہ ولا معناہ فانہ یجوز التوضو بہ ۲؎۔
مصنف کا قول ''فغیراحد اوصافہ'' اس کے ساتھ تقیید مفید نہیں ہے یہاں تک کہ اگر تینوں اوصاف اُشنان، صابون یا زعفران سے بدل گئے اور اُس سے نہ تو پانی کا نام سلب ہوا اور نہ معنی سلب ہُوئے تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ البنایہ شرح ہدایہ    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء        ملک سنٹر فیصل آباد    ۱/۱۸۹)
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے:ماء صابون وحرض ان بقیت رقتہ ولطافتہ جازالتوضوء بہ ۳؎۔
صابون اور حرض (اُشنان جس سے کھانے کے بعد ہاتھ دھوتے ہیں) کے پانی کی رِقّت ولطافت اگر باقی رہی تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی قاضی خان    فیما لایجوزبہ التوضی        نولکشور لکھنؤ        ۱/۹)
(۱۰۲ تا ۱۰۷) یہی چھ چیزیں اگر پانی میں ڈال کر جوش دی جائیں جب بھی وضو جائز ہے جب تک رقت باقی ہے، 

ہدایہ میں ہے :
 ان تغیر بالطبخ بعد ماخلط بہ غیرہ لایجوز التوضی بہ الا اذاطبخ فیہ مایقصد بہ المبالغۃ فی النظافۃکالاشنان ونحوہ لان المیت قد یغسل بالماء الذی اغلی بالسدربذلک وردت السنۃ الا ان یغلب ذلک علی الماء فیصیر کالسویق المخلوط لزوال اسم الماء عنہ  ۱؎۔
اگر پانی دوسری چیز کی ملاوٹ کے بعد پکانے سے متغیر ہوگیا تو اس سے وضو جائز نہیں ،ہاں اگر اس میں ایسی چیز ڈال کر پکائی گئی جس سے نظافت میں زیادتی مطلوب ہو جیسے اُشنان وغیرہ کیونکہ مُردہ کو کبھی بیری (کے پتّے) ڈال کر اُبلے ہُوئے پانی سے غُسل دیا جاتا ہے،اور یہ حدیث میں بھی مذکور ہے،ہاں اگر اس قسم کی چیزیں پانی پر غالب آجائیں اور وہ پانی ستوؤں کی طرح ہوجائے تو وضو جائز نہیں کہ اب اس پر پانی کا اطلاق نہ ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ الہدایہ        کتاب الطہارۃ    مکتبہ عربیہ کراچی    ۱/۱۸)
Flag Counter