Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
147 - 176
وفی الاصلاح والایضاح لابماء زال طبعہ وھو الرقۃ والسیلان بغلبۃ غیرہ اجزاء کماء الباقلا ۲؎ اھ۔ نعم الظاھر ممامر عن الذخیرۃ والتتمۃ عن المیدانی وتبعہ صدر الشریعۃ من قیاس ماتلون بوقوع الاوراق علی ماء الباقلی ان المراد مانقع فیہ فغیرہ وصفا لاذاتا وھو خلاف المعتمد۔
اور اصلاح اور ایضاح میں ہے کہ نہ اُس پانی سے کہ جس کی طبیعت زائل ہوگئی ہو یعنی رقّت اور سیلان، اور یہ دوسری اشیاء کے اجزاء کے غلبہ کی وجہ سے ہوا ہو جیسے باقلی (لوبیا) کا پانی اھ۔ ہاں ذخیرہ اور تتمہ کی گزشتہ عبارت جو میدانی سے منقول ہے اور جس کی متابعت صدرالشریعۃ نے کی ہے، جس پانی میں پتّے گرے ہوں اور اس کا رنگ بدل گیا ہو اس کو باقلی کے پانی پر قیاس کیا، اور کہا کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جس میں کسی چیز کو صاف کیا گیا ہو، جس سے پانی کا وصف بدل گیا ہو نہ کہ ذات بدلی ہو، اور یہ معتمد کے خلاف ہے۔
 (۲؎ اصلاح والایضاح)
ففی الخانیۃ یجوز التوضؤ بما القی فیہ حمص اوباقلاء لیبتل وتغیر لونہ وطعمہ ولکن لم تذھب رقتہ ۱؎ اھ۔
خانیہ میں ہے کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں چنے ڈال دئے گئے ہوں یا باقلی(لوبیا) ڈال دیا ہو تاکہ تر ہوجائے اور اس سے اس کا رنگ اور مزا بدل گیا ہو لیکن اس کی رقت ختم نہ ہوئی ہو اھ۔
 (۱؎ قاضی خان    فیما لایجوزبہ التوضی        نولکشور لکھنؤ        ۱ /۹)
وفی الفتح فی الینابیع لونقع الحمص والباقلاء وتغیر لونہ وطعمہ وریحہ یجوز التوضی بہ ۲؎ اھ۔ ومثلہ عنھا فی فتاوی الغزی ومثلہ فی المنیۃ وعزاہ فی الحلیۃ للملتقط وتجنیس الملتقط والظھیریۃ۔
اور فتح میں ہے ینابیع میں ہے کہ اگر چنوں اور باقلی کو پانی میں صاف کیا جس سے پانی کا رنگ، مزا اور بُو بدل گئی تو اُس سے وضو جائز ہے اور اسی کی مثل اس سے فتاوٰی غزی میں ہے اور اسی کی مثل منیہ میں ہے اور حلیہ میں اس کو ملتقط اور تجنیس ملتقط اور ظہیریہ کی طرف منسوب کیا۔ (ت)
 (۲؎ فتح القدیر    فیما لایجوزبہ التوضی        سکھر            ۱ /۶۵)
فائدہ: اقول یہاں سے ظاہر ہوا کہ گھوڑے کے دانے سے جو پانی تو بڑے میں بچ رہے قابلِ وضو ہے جبکہ رقیق سائل ہو اور اسے بے وضو ہاتھ نہ لگا ہو کہ مذہب(۱) صحیح میں گھوڑے کا جھوٹا قابلِ وضو ہے۔
درمختار میں ہے:وسؤر ماکول لحم ومنہ الفرس فی الاصح طاھر طھور بلاکراھۃ ۳؎۔
وہ جانور جن کا گوشت حلال ہے ان کا جھوٹا پاک ہے اور اس سے بلاکراہت طہارت حاصل ہوتی ہے اور گھوڑا بھی انہی میں سے ہے اصح قول کے مطابق۔ (ت)
 (۳؎ درمختار        فصل فی البئر        مجتبائی دہلی            ۱/ ۴۰)
 (۹۰) یہ ہوا اور 

(۹۱) گائے بھینس(۲) بکری وغیرہ حلال جانوروں کا جھُوٹا جبکہ اُس وقت اُن کے منہ کی نجاست نہ معلوم ہو اگرچہ نر ہو اور بعض(۳) نے کہا نر کا جھوٹا ناپاک ہے کہ اُس کی عادت ہوتی ہے کہ جب مادہ پیشاب کرے اپنا منہ وہاں لگا کر سُونگھتا ہے نیز زمین پر اگر اس کا پیشاب پڑا پائے تو اُسے مگر صحیح طہارت ہے۔
درمختار میں ہے : سؤر حمار اھلی ولو ذکرا فی الاصح مشکوک فی طھوریتہ لاطھارتہ ۱؎ ۔
پالتو گدھے کے جھُوٹے کی طہوریت مشکوک ہے طہارت مشکوک نہیں اصح قول کے مطابق۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    فصل فی البئر    مجتبائی دہلی        ۱ /۴۰)
ردالمحتار میں ہے : قولہ فی الاصح قالہ قاضیخان ومقابلہ القول بنجاستہ لانہ ینجس فمہ بشم البول قال فی البدائع وھو غیر سدید لانہ امر موھوم لایغلب وجودہ فلا یؤثر فی ازالۃ الثابت بحر ۲؎ اھ
اس کا قول ''فی الاصح'' یہ قاضی خان کا قول ہے اور اس کے مقابل اس کی نجاست کا قول ہے اس لئے کہ اس کا منہ پیشاب کو سُونگھنے کی وجہ سے نجس ہوجاتا ہے، بدائع میں فرمایا یہ درست نہیں کیونکہ یہ بات محض وہم ہے، عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ہے تو جو ثابت ہے اس کے ازالہ میں موثر نہ ہوگا بحر اھ۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    فصل فی البئر         مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۶۵)
اقول: ان کان(۱) المناط الندرۃ یظھر تنجیس سؤر التیس فان شمہ بول العنز انکان نادرا فانہ یتکرر منہ کل یوم مرارا انہ یدلی ذکرہ والمذی والبول نابعان فیمصہ بل الوجہ عندی واللہ تعالٰی اعلم ان الجفاف(۲) سبب الطھارۃ فی ابدان الحیوانات کما فی الارض وقد حققناہ بتوفیق اللّٰہ تعالٰی فی باب الانجاس من فتاوٰنا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں اگر مناط (علت) نادر ہونا ہے تو بکرے کے جھُوٹے کا نجس ہونا بھی ظاہر ہوگا، کیونکہ وہ بکری کے پیشاب کو تو کم ہی سُونگھتا ہے مگر یہ عمل دن میں کئی بار اس سے سرزد ہوتا ہے کہ وہ اپنا ذکر لٹکاتا ہے اور مذی اور پیشاب دونوں اس سے نکلتے ہیں، تو وہ بکرا اس ذکر کو چوستا ہے بلکہ اس کی وجہ میرے نزدیک (واللہ اعلم) یہ ہے کہ خشک ہونا حیوانات کے بدن میں سبب طہارت ہے جیسا کہ زمین کا حال ہے اور ہم نے بتوفیق اللہ اس کی تحقیق اپنے فتاوٰی کے باب الانجاس میں کی ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)

اقول: ہاں(۳) اگر دیکھیں کہ بیل وغیرہ نے مادہ کا پیشاب سُونگھا یا بکرے نے اپنا آلہ تناسل نکال کر چُوسا اور اُس وقت مذی اور بول نکل رہے تھے اور قبل اس کے کہ اس کا منہ پاک ہوجائے پانی میں ڈال دیا تو اب بیشک پانی ناپاک ہوجائےگا،اوراگرچاربرتنوں(۱) میں منہ ڈالا تو پہلے تین ناپاک ہیں چوتھا پاک وقابلِ وضو۔اسے نمبر۲۲ کے ساتھ لکھناتھامگر ارادہ الٰہیہ یونہی واقع ہوا ولہ الحمد علی ماصنع،وعلی مااعطی وعلی مامنع،وصلی اللہ تعالی وبارک وسلم علی الشفیع المشفع، واٰلہ وصحبہ وابنہ وجزبہ اجمع۔
Flag Counter