Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
146 - 176
 (۸۶) پانی(۱) میں مینڈک یا کوئی آبی جانور یا وہ غیر آبی جس میں خون سائل نہ ہو جیسے زنبور، کژدم، مکّھی وغیرہا مرجائے اُس سے وضو جائز ہے اگرچہ ریزہ ریزہ ہوکر اس کے اجزاء پانی میں ایسے مل جائیں کہ جُدا نہ ہوسکیں بشرطیکہ پانی اپنی رقّت پر رہے، ہاں اس حالت میں اس کا پینا یا شوربا کرنا حرام ہوگا جبکہ وہ جانور حرام ہو، اور اگر ٹیری یا غیرطانی مچھلی ہے تو یہ بھی جائز۔ درمختار میں ہے :
لوتفتت فیہ نحوضفدع جاز الوضوء بہ لاشربہ لحرمۃلحمہ ۴؎  قال ش عن البحر لانہ صارت اجزاؤہ فی الماء فیکرہ الشرب تحریما ۵؎ اھ
اور اگر پانی میں مینڈک کی قسم کی کوئی چیز پھُول پھٹ جائے تو اُس سے وضو جائز ہے پینا جائز نہیں کہ اس کا گوشت حرام ہے، ش نے بحر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا اس لئے کہ اس کے اجزاء پانی میں شامل ہوگئے تو اس کا پینا مکروہ تحریمی ہوگا۔ (ت)
 (۴؎ درمختار     باب المیاہ     مجتبائی دہلی        ۱/ ۳۵)

(۵؎ درمختار     باب المیاہ     مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۳۶)
اقول:کل مالادم (۱) فیہ حرام غیر الجراد والسمک الغیر الطافی واذا اختلطت اجزاؤہ بالماء فازدادھا فی شربہ متیقن فای وجہ للنزول من الحرمۃ الی کراھۃ التحریم وراجعت البحر فوجدت نصہ ھکذا روی عن محمد رحمہ اللّٰہ اذا تفتت الضفدع فی الماء کرھت شربہ لاللنجاسۃ بل لحرمۃ لحمہ وقدصارت اجزاؤہ فی الماء وھذا تصریح بان کراھۃ شربہ تحریمیۃ وبہ صرح فی التجنیس ۱؎ فقال یحرم شربہ۔
میں کہتا ہوں ہر وہ جانور جس میں خون نہ ہو وہ حرام ہے سوائے ٹڈی اور اُس مچھلی کے جو مُردہ حالت میں سطحِ سمندر پر تیرتی ہوئی نہ پائی گئی ہو، اور جب اس کے اجزا پانی میں مل جائیں تو ان کا پیتے وقت پانی میں شامل ہونا یقینی امر ہے تو پھر حرمت سے گھٹ کر کراہت تحریم کا حکم کیوں لگایا گیا؟ میں نے بحر کو دیکھا تو اس میں یہ تھا ''امام محمد سے مروی ہے جب مینڈک پانی میں پھُول پھَٹ جائے تو میں اس پانی کے پینے کی کراہت کا قول کروں گا اس کی نجاست کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے گوشت کی حرمت کی وجہ سے اور اس حرام گوشت کے اجزاء پانی میں بھی شامل ہوگئے ہیں، یہ اس امر کی صراحت ہے کہ ا س کے پینے کی کراہت تحریمی ہے اور اسی کی تصریح تجنیس میں ہے، فرمایا کہ اس کا پینا حرام ہے۔ (ت)
اقول:الکراھۃ(۲) عرف القدماء اعم من الحرمۃ یقولون اکرہ کذا والمعنی احرمہ راجع کتابی فصل القضاء فی رسم الافتاء فمعنی قول البحران الکراھۃ فی کلام الامام للتحریم الاتری (۳) الی قولہ وبہ صرح فی التجنیس وانما صرح بانہ حرام۔
میں کہتا ہوں کراہت کا لفظ متقد مین کے عرف میں حُرمت کو بھی عام ہے وہ فرماتے ہیں میں اس کو مکروہ سمجھتا ہوں اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میں اس کو حرام سمجھتا ہوں۔ دیکھئے میری کتاب ''فصل القضاء فی رسم الافتاء'' تو بحر کی مراد یہ ہے کہ امام کے کلام میں کراہت سے مراد تحریم ہے، چنانچہ انہوں نے فرمایا وبہ صرح فی التجنیس اور اس میں ان کی تصریح یہ ہے کہ حرام ہے۔ (ت)
 (۸۷) چاول کھچڑی دال دھو کر ڈالے جاتے ہیں ان کے دھونے سے جو پانی بچا قابلِ وضو ہے جبکہ بے وضو ہاتھ سے نہ دھوئے ہوں اگرچہ اس کے رنگ میں ضرور تغیر آجاتا ہے بلکہ اگرچہ مزہ بُو بھی بدل جائیں۔
 (۱؎ بحرالرائق    موت مالادم لہ    سعید کمپنی کراچی    ۱ /۸۹)
اقول: وھذا عندی وفاقا حتی ممن یجعل ماء الحمص والباقلاء المنقوعین فیہ مقید الان بمجرد الغسل لایسری الیہ مایسری بالنقع والتغیر الذی یحدث بہ لیس للحب بل لما علیہ من نحو الغبار واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں یہ میرے نزدیک متفقہ طور پر ہے، یہاں تک کہ جو حضرات چنوں اور باقلی (لوبیا)کے صاف کئے ہوئے پانی کو مقید قرار دیتے ہیں وہ بھی اسی کے قائل ہیں، کیونکہ صرف دھونے سے پانی میں وہ اثر پیدا نہیں ہوتا ہے جو صاف کرنے سے ہوتا ہے، اور جو تغیر پانی میں پیدا ہوتا ہے وہ دانہ کے باعث نہیں ہے بلکہ اس کے اوپر غبار کی وجہ سے ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۸۸) جس پانی میں چنے بھگوئے کتنی ہی دیر بھیگے رہیں تحقیق یہ ہے کہ اُس سے وضو جائز ہے مگر یہ کہ ناج کے اجزا اُس میں مل کر اُسے گاڑھا کردیں کہ اپنی رقت وسیلان پر باقی نہ رہے۔

(۸۹) یوں ہی جس میں باقلاعــہ بھگوئیں یونہی ہرناج۔
عــہ: یہ بھی ایک معروف غلہ ہے اگرچہ یہاں اس کا رواج نہیں اس کی پھلیاں پکاتے ہیں سالن کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ (م)
مختصر امام ابو الحسن قدوری میں تھا:لا (ای یجوز الوضوء) بماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء کماء الباقلا والمرق ۱؎۔
نہیں (یعنی وضو جائز نہیں) اُس پانی سے جس پر اُس کے غیر کا غلبہ ہوگیا ہو، اور اس وجہ سے پانی کو اس کی طبیعت سے خارج کردیا ہو، جیسے باقلی کا پانی اور شوربہ۔ (ت)
 (۱؎ قدوری کتاب الطہارت مطبع مجیدی کان پور، ص۶)
اس پر ہدایہ میں فرمایا: المراد بماء الباقلاء وغیرہ ماتغیر باطبخ فان تغیر بدون الطبخ یجوز التوضی بہ ۲؎ اھ۔ واقرہ علیہ فی الفتح والعنایۃ وتبعہ فی الجوھرۃ فقال قولہ وماء الباقلاء المراد المطبوخ بحیث اذا برد ثخن وان لم یطبخ فھو من قبیل وتجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر ۳؎ اھ
باقلاء کے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو پکائے جانے کی وجہ سے متغیر ہوگیا ہو اور اگر بلا پکائے متغیر ہوگیا ہو تو اُس سے وضو جائز ہوگا اھ۔ اور اس کو اس پر برقرار رکھا فتح اور عنایہ میں اور جوہرہ میں اس کی متابعت کی اور فرمایا: ان کا قول ''اور باقلی کا پانی'' اس سے مراد پکا ہُوا پانی ہے جو ٹھنڈا کئے جانے پر گاڑھا ہو جاتا ہے، اور اگر اس کو پکایا نہ گیا ہو تو یہ اس پا نی کی طرح ہے جس میں کوئی پاک چیز مل گئی ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ الہدایۃ     کتاب الطہارت      مکتبہ عربیہ کراچی        ۱/ ۱۸)

(۳؎ جوہرۃ نیرۃ       کتاب الطہارت         امدادیہ ملتان        ۱/ ۱۴)
اقول: رحم اللّٰہ الشیخ الامام ورحمنا بہ کلام عــہ ابی الحسن فیما اذا اخرجہ عن طبع الماء بان اختلطت فیہ اجزاؤہ فثخن ولم یبق رقیقا وحینئذ لایجوز التوضی بہ وان لم یطبخ وقد قال فی الوقایۃ لابماء زال طبعہ بغلبۃ غیرہ اجزاء اوبالطبخ کماء الباقلی والمرق فقال الامام الشارح المراد بہ ان یخرجہ عن طبع الماء وھو الرقۃ والسیلان وماء الباقلی نظیر ماغلب علیہ غیرہ اجزاء والمرق نظیر ماغلب علیہ بالطبخ ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اللہ تعالٰی شیخ الامام پر اور ہم پر رحم فرمائے، ابو الحسن کی گفتگو اس صورت سے متعلق ہے جب کہ پانی کو اس کی طبیعت سے نکال دے مثلاً یہ کہ اس میں اس کے اجزاء مل جائیں اور وہ گاڑھا ہوجائے اور اس کی رقّت باقی نہ رہے تو ایسی صُورت میں اس سے وضوء جائز نہ ہوگا خواہ پکایا نہ گیا ہو، اور وقایہ میں فرمایا ''نہ کہ اُس پانی سے جو دُوسری شئے کے غلبہ کی وجہ سے اپنی طبیعت سے خارج ہوگیا ہو یا پکائے جانے کی وجہ سے طبیعت ماء سے خارج ہوگیا ہو، جیسے باقلی (لوبیا) کا پانی یا شوربہ۔ امام شارح نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو پانی کی طبیعت رقت اور سیلان ہے اور باقلی (لوبیا) کا پانی اُس پانی کی نظیر ہے جس پر دوسرے اجزاء غالب آگئے ہوں، اور شوربہ اُس پانی کی مثال ہے جس کو پکایا گیا ہو تو اس پر دوسری شیئ غالب آجائے اھ۔
عــہ: الحمدللّٰہ فتح المولی سبحنہ وتعالٰی بما یصحح الکلام ویوضع المرام ویزیل الاوھام کما یاتیک فی سادس ضوابط الفصل الثالث ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۱۲ منہ غفرلہ وحفظہ ربہ 

اللہ تعالٰی کے لئے حمد ہے اللہ پاک نے وہ کھول دیا ہے جس کے ذریعے کلام صحیح ہوتا ہے، مقصود واضح ہوتا ہے اور وہم ختم ہوتے ہیں جیسا کہ فصلِ ثالث کے چھٹے ضابطہ میں آئے گا۔ (ت)
 (۱؎ شرح وقایۃ        کتاب الطہارت    رشیدیہ دہلی    ۱/ ۸۵        )
Flag Counter