اقول: فکان(۱) ماذا فقد ذکرتم ان لیس کل تغیر فی الصفات الثلاث جمیعا یوجب جعل الماء مقیدا ولا تقید ھھنا الازوال الرقۃ والامام المیدانی انما بنی الجواب علی ظھور لون الاوراق فی الکف وبھذاالقدر جعلہ مقیدا وبہ صرح صدرالشریعۃ ومعلوم انہ لایستلزم الثخانۃ فانی ینفع التاویل، وعلی اللّٰہ ثم علی رسولہ التعویل، جل جلالہ وعلیہ الصلاۃ والسلام بالتعجیل۔
میں کہتا ہوں اس سے کیا ثابت ہوا؟ آپ نے خود بھی ذکر کیا ہے کہ اوصاف ثلٰثہ کا ہر تغیر پانی کو مقید نہیں بنادیتا ہے، اور یہاں کوئی تقید زوالِ رقّت کے سوا نہیں ہے اور میدانی کے جواب کی بنیاد یہ ہے کہ پتّوں کا رنگ چُلّو میں ظاہر ہوجائے، اور اس مقدار سے انہوں نے پانی کو مقید بنادیا، اور اسی کی تصریح صدر الشریعۃ نے کی ہے اور یہ معلوم ہے کہ اس سے اس کا گاڑھا ہونا لازم نہیں، تو تاویل کا کچھ فائدہ نہیں.... (ت)
(۸۰ و ۸۱) شنجرف یا کسم زردی کاٹنے کے لئے پانی میں بھگودیتے ہیں جب زردی کٹ آئی پانی پھینک دیتے ہیں یہ پانی اگرچہ اس کی رنگت وغیرہ بدل گئی قابلِ وضو ہے جبکہ گاڑھا نہ ہوگیا ہو،
خانیہ میں ہے:التوضئ بزردج العصفر یجوز ان کان رقیقا والماء غالب ۱؎ اھ۔
پیلے رنگ کے زردج کے پانی سے وضو جائز ہے اگر پتلا ہو اور پانی غالب ہو اھ (ت)
(۱؎ قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضئ نولکشور لکھنؤ ۱ /۹)
اقول: والحاصل واحد فکانہ اضیف الیہ بالعطف علیہ تعلیلالہ۔
میں کہتا ہوں حاصل ایک ہی ہے، تو غالباً یہ چیز بطور عطف اس کے ساتھ اس کی تعلیل کیلئے ملائی گئی ہے۔ (ت)
بزازیہ میں ہے : ماء الزردج والصابون والعصفر لو رقیقا یسیل علی العضو یجوز ۲؎۔
زردج، صابون اور عُصفر کا پانی اگر اتنا پتلا ہو کہ عضو پر بہہ سکے تو اُس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ الماء المقید وغیرہ پشاور ۴ /۱۰)
ہدایہ میں ہے : وھو الصحیح کذا اختارہ الناطفی والامام السرخسی رحمھما اللّٰہ تعالٰی ۳؎۔
اور یہی صحیح ہے، اسی کو ناطفی اور امام سرخسی رحمہما اللہ نے پسند کیا ہے۔ (ت)
مغربِ میں ہے : ماء الزردج ھو ماء یخرج من العصفر المنقوع فیطرح ولا یصبغ بہ ۴؎۔
زردج کا پانی وہ ہے جو نچوڑے ہوئے عصفر سے نکلتا ہے پھر اس کو پھینک دیتے ہیں اور یہ رنگنے کے کام نہیں آتا ہے۔ (ت)
(۴؎ جوہرۃ نیرۃ کتاب الطہارۃ امدادیہ ملتان ۱ /۱۴)
اسی طرح جوہرہ وغنیہ وحلیہ وعنایہ میں ہے۔
اقول:انما الزردج معرب زردہ وھی الصفرۃ التی تخرج من العصفر فی الماء المنقوع فیہ فیسمی ذلک الماء ماء الزردج لاان ماء یخرج من العصفر یسمی ماء الزردج ھذا ھو الوجہ عندی فی اللفظ وتبعوا فیہ المطرزی وکانہ لم یتقنہ لخلو کتب اللغۃ عنہ حتی القاموس المدعی الاحاطۃ وتاج العروس المستدرک علیہ بکثیر ولا الکلمۃ من لسان العرب واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں ''زردج'' زردہ کا معرّب ہے، یہ وہ زردی ہے جو عُصفر سے نکل کر اس پانی میں آجاتی ہے جس میں اسے ڈبویا گیا ہو اس کو ماءِ زردج کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ خود عصفر سے جو پانی نکلتا ہے اس کو ماءِ زردج کہا جاتا ہو، میرے نزدیک اس لفظ کا صحیح مفہوم یہی ہے، جبکہ دوسرے حضرات نے اس میں مطرزی کی پیروی کی ہے، غالباً مطرزی اس کو اچھی طرح نہیں سمجھتا، کیونکہ لغت کی کتب میں یہ موجود نہیں، یہاں تک کہ قاموس جس کا دعوی ہے کہ اس نے تمام کلمات کا احاطہ کیا ہے اس سے خالی ہے، اور پھر تاج العروس جس میں اس سے بھی زیادہ کلمات کا احاطہ ہے اس میں بھی یہ موجود نہیں، اور نہ ہی یہ کلمہ لسان العرب میں ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۸۲ و ۸۳) جس پانی میں گچ یا چُونا مل جائے لقولہ لم یزل عنہ اسم الماء وبقی معناہ ایضا
(کیونکہ نام بھی سلب نہیں ہوا اور معنی بھی باقی ہے۔ ت)
(۸۴) چُونے کا پانی، گٹی بجھنے کے بعد تہہ نشین ہوتی اور اوپر نتھرا پانی رہ جاتا ہے جس میں قدرے سپیدی متفرق طور پر رہتی ہے اسے چُونے کا پانی کہتے ہیں قابلِ وضو ہے
اذلم یزل اسم الماء ولاطبعہ
(کیونکہ نام بھی سلب نہیں ہوا اور طبیعت بھی زائل نہیں ہوئی۔ ت)
(۸۵) ریشم کو پکانے کیلئے کپیوں کو پانی میں جوش دیتے ہیں اور اُن میں ریشم کے کیڑے ہوتے ہیں اُس پانی سے وضو جائز ہے کیڑے تر ہوں یا خشک جب تک اس کثرت سے نہ ہوں کہ اُن کے اجزا پانی پر غالب آجائیں۔
جواہر الفتاوٰی باب ثانی فتاوٰی امام جمال الدین بزدوی میں ہے:
الفیلق اذاطرح فی الماء الذی اغلی بالنارلسدا الابریسم وفی الفیلق دودمیتۃ یابسۃ اوغیریابسۃ بقیت فی الماء یکون طاھرا لانہ لیس لہ دم سائل وان غلب اجزاؤھا علی الاماء یمنع التوضی بہ کما لوغلب شیئ اٰخر ۱؎۔
کپیوں کو جب آگ پر جوش دئے ہوئے پانی میں ڈالا جائے تاکہ ابریشم کا تار حاصل کیا جاسکے،اور ان کپیوں میں مُردہ کیڑے بھی موجود ہوں، خواہ خشک حالت میں یا غیر خشک حالت میں تو یہ پانی جس میں یہ کپیاں ڈالی گئی ہوں پاک رہے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کیڑوں میں سیال خون نہیں ہوتا ہے، اور اگر ان کیڑوں کے اجزاء پانی پر غالب ہوجائیں تو دوسری اشیاء کی طرح اس سے وضو جائز نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ جواہر الفتاوی)
درمختار میں ہے: فی الوھبانیۃ دود القز وماؤہ وبذرہ وخرؤہ طاھر کدودۃ متولدۃ من نجاسۃ ۲؎۔
وہبانیہ میں فرمایا ریشم کا کیڑا، اس کا پانی، اس کا انڈا اور اس کی بیٹ اُسی طرح پاک ہے جس طرح نجاست سے پیدا ہونے والے دوسرے کیڑوں کا حکم ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵)
ردالمحتار میں شرح وہبانیہ للعلّامہ عبدالبر سے ہے :یحتمل ان المراد مایوجد فیما ھلک منہ قبل ادراکہ وھو شبیہ باللبن اوالذی یغلی فیہ عند حلہ حریرا ۳؎۔
ہوسکتا ہے کہ پانی سے مراد وہ پانی ہو جو ان کیڑوں میں پایا جاتا ہے جو کپیوں کے پکنے سے پہلے ہی ہلاک ہوجاتے ہیں، یہ پانی دودھ کے مشابہ ہوتا ہے یا وہ پانی ہوسکتا ہے جس میں انکو ریشم نکالتے وقت اُبالا جائے۔ (ت)