سراج الوہاج وعلمگیریہ وجوہرہ نیرہ وفتاوی غزی میں ہے : فان تغیرت اوصافہ الثلثۃ بوقوع اوراق الاشجار فیہ وقت الخریف فانہ یجوزبہ الوضوء عند عامۃ اصحابنا رحمہم اللّٰہ تعالٰی ۳؎۔
اگر اس کے تینوں اوصاف موسم خزاں کے پتوں کے گرنے کی وجہ سے تبدیل ہوگئے، تو ہمارے اصحاب کے نزدیک اس سے وضو جائز ہے رحمہم اللہ تعالٰی۔ (ت)
(۳؎ ہندیۃ فیما لایجوز بہ الوضوء پشاور ۱/ ۲۱)
مجتبٰی، شرح قدوری پھر فتاوٰی غزی میں ہے :لوغیر الاوصاف الثلثۃ بالاوراق ولم یسلب اسم الماء عنہ ولا معناہ فانہ یجوز التوضئ بہ ۴؎۔
اگر پانی کے تینوں اوصاف پتّوں کے گرنے کی وجہ سے متغیر ہوگئے اور اس سے پانی کا نام سلب نہ ہوا اور نہ اس کے معنی سلب ہُوئے تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
(۴؎ فتاوٰی غزی)
نہایہ امام سغناقی پھر عنایہ وحلیہ وغنیہ وبحر ونہر ومسکین وردالمحتار کتبِ کثیرہ میں ہے:المنقول عن الاساتذۃ انہ یجوز حتی لو ان اوراق الاشجار وقت الخریف تقع فی الحیاض فیتغیر ماؤھا من حیث اللون والطعم والرائحۃ ثم انھم یتوضؤون منھا غیر نکیر ۱؎۔
اساتذہ سے یہ منقول ہے کہ جائز ہے، یہاں تک موسم خزاں میں درختوں کے پتّے حوضوں میں گرنے کی وجہ سے پانی کا رنگ، مزہ، بُو بدل جاتا ہے پھر بھی وہ ایسے پانی سے وضو کرلیتے تھے، اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا۔
(۱؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۳۷ )
ردالمحتار میں زیر قول مذکور وان غیر کل اوصافہ فی الاصح فرمایا:مقابلہ ماقیل انہ ان ظھر لون الاوراق فی الکف لایتوضأ بہ لکن یشرب والتقیید بالکف اشارۃ الی کثرۃ التغیر لان الماء قد یری فی محلہ متغیرا لونہ لکن لورفع منہ شخص فی کفہ لایراہ متغیرا تأمل ۲؎ اھ۔
اس کے مقابل یہ قول ہے کہ اگر پتّوں کا رنگ چُلو کے پانی میں ظاہر ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہیں، لیکن یہ پانی پیا جاسکتا ہے، اور ہتھیلی کی قید لگانا یہ ظاہر کرنے کیلئے ہے کہ تغیر بہت زیادہ واقع ہوا ہے، کیونکہ پانی اپنے محل میں کبھی متغیر نظر آتا ہے لیکن اگر اُسے چُلّو میں اٹھایا جائے تو متغیر نظر نہیں آتا ہے تأمل اھ۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۱۳۷ )
اقول:لاادری لم امر بالتأمل وھو امر صحیح مشاھد ھذا وزعم یوسف چلپی فی ذخیرۃ العقبی الاصح ماذکرہ الشارح یرید صدرالشریعۃ لانہ بغلبۃ لون الاوراق صار مقیدا ۳؎ اھ۔
میں کہتا ہوں کہ معلوم نہیں، انہوں نے تأمل کا حکم کیوں دیا، یہ ایک صحیح بات ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں، اور یوسف چلپی نے ذخیرہ العقبٰی میں فرمایا کہ اصح وہ ہے جس کو شارح نے ذکر کیا، ان کی مراد صدر الشریعۃ ہیں، کیونکہ وہ پتّوں کے رنگ کے غلبہ کی وجہ سے مقید پانی ہوگیا ہے۔ (ت)
اقول:ھو(۱) رحمہ اللّٰہ تعالٰی لیس(۲) من اھل الترجیح ولم یسندہ لمعتمد فلا یعارض ماعلیہ الجمھور ونصوا انہ الاصح ونص الامام النسفی فی المستصفی عن شیخہ شمس الائمۃ الکردری انھا الروایۃ الصحیحۃ کما سیاتی فی ۹۷ اما ما(۱) استدل بہ فمصادرۃ علی المطلوب وکفی ردا(۲) علیہ قول المحقق فی الفتح تقع الاوراق فی الحیاض زمن الخریف فیمرالرفیقان ویقول احدھما للاٰخر ھنا ماء تعال نشرب نتوضأ فیطلقہ مع تغیر اوصافہ بانتقاعھا فظھر لنا من اللسان ان المخالط المغلوب لایسلب الاطلاق ۱؎ اھ۔وقال المحقق فی الحلیۃ لعل مانقل من وضوء الاساتذہ من الماء المذکور کان فیہ ادنی تغیر فی صفاتہ الثلثۃ عــہ بحیث لم یزل عنہ اسم الماء المطلق اذلیس کل تغیر فی مجموع الصفات الثلاث یوجب جعل ذلک الماء مقیدا بل ھذا ھو الظاھر من حالھم اذلا یظن بھم الوضوء بالماء المقید ۲؎ اھ ۔
(۱؎ فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱/ ۶۴ ) (۲؎ حلیہ)
میں کہتا ہوں وہ (رحمہ اللہ) اصحاب ترجیح سے نہیں ہیں اور انہوں نے کسی قابل اعتماد شخصیت کی طرف نسبت بھی نہیں کی، تو یہ جمہور کے قول سے متعارض نہ ہوگا، جمہور نے تصریح کی ہے کہ یہی اصحّ ہے، اور امام نسفی نے مستصفٰی میں اپنے شیخ شمس الائمہ کردری سے نقل کیا کہ یہی صحیح روایت ہے، جیسا کہ عنقریب ۹۷ میں آئےگا اور جس سے انہوں نے استدلال کیا ہے تو وہ مصادرہ علی المطلوب ہے اور محقق نے اس کی تردید فتح میں کردری ہے کہ موسم خزاں میں پتّے حوضوں میں گِرتے ہیں اب وہاں سے دو دوست گزرتے ہیں ایک دُوسرے سے کہتا ہے کہ آؤ یہاں پانی موجود ہے اسے پیتے ہیں اور اس سے وضو کرتے ہیں تو وہ اس پر پانی کا اطلاق کرتا ہے حالانکہ اُس کے اوصاف متغیر ہوچکے ہیں تو معلوم ہوا کہ عام محاورہ میں اس سے پانی کا نام سلب نہیں ہوتا ہے اھ۔ محقق نے حلیہ میں فرمایا اساتذہ کا جو اس پانی سے وضوکرلینا مذکور ہے تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اس پانی کے اوصاف میں زیادہ تغیر واقع نہ ہوا ہوگا اتنا کہ اُس سے مطلق پانی کا نام ہی مسلوب ہوجائے کیونکہ اوصافِ ثلٰثہ کا ہر تغیر پانی کو مقیدنہیں بناتا ہے بلکہ اُن کے حال سے یہی ظاہر ہے، کیونکہ یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ مقید پانی سے وضو کر لیا کرتے تھے۔ (ت)
عــہ کذا ھو فی نسختی الحلیۃ باثبات التاء فی الثلٰثۃ ۱۲ منہ غفرلہمیرے پاس موجود حلیہ کے نسخہ میں اسی طرح ثلٰثۃ میں تاء کو ثابت رکھا گیا ہے۔ (ت)
اقول: ان(۳) اراد ان کثرۃ تغیر الاوصاف بوقوع الاوراق یجعل الماء مقیدا مع بقاء رقتہ فغیر مسلم ولا واقع فبوقوع الاوراق مع بقاء الرقۃ لایزول اسم الماء ابدا وان تغیرت الاوصاف مھما تغیرت وان اراد بالتغیر الکثیر زوال الرقۃ فلا حاجۃ الی الترجی بل ھو المراد قطعا قال فی العنایۃ بعد نقل النھایۃ وکذا اشار فی شرح الطحاوی الیہ لکن شرطہ انیکون باقیا علی رقتہ اما اذا غلب علیہ غیرہ وصاربہ ثخینا فلایجوز ۱؎ اھ۔ ثم قال فی الحلیۃ کما ان الظاھر ان محل جواب المیدانی المذکور مابلغ بہ بماوقع فیہ من الاوراق الی حد التقیید فان تغیر لون الماء بکثرۃ الاوراق الواقعۃ فیہ یوجب تغییر الطعم بل والرائحۃ ایضا انکانت الاوراق ذات رائحۃ ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اگر ان کی مراد یہ ہے کہ پانی کے اوصاف میں پتّوں کے وقوع سے زیادہ تغیر پیدا ہونے سے پانی مقید ہوجاتا ہے باوجودیکہ اُس کی رقت باقی رہتی ہے، تو یہ بات نہ تو مسلّم ہے اور نہ ایسا واقع ہے، کیونکہ پتّوں کے گرنے سے جبکہ رقت باقی ہو ہمیشہ پانی کانام تبدیل نہیں ہوتا ہے اگرچہ اوصاف تبدیل ہوتے رہیں، اور اگر ان کی مراد کثرتِ تغیر سے یہ ہے کہ رقّت زائل ہوجائے، تو ترجی (لفظ لعل) کی حاجت نہیں، بلکہ قطعیت کے ساتھ یہی کہنا ہوگا، عنایۃ میں نہایۃ کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا۔ طحطاوی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے، لیکن یہ شرط یہ ہے کہ اس کی رقّت باقی ہو، اور اگر پانی پر کوئی دوسری چیز غالب ہوگئی اور اُس کی وجہ سے وہ گاڑھا ہوگیا تو اُس سے وضو جائز نہیں اھ۔ پھر حلیہ میں فرمایا جیسا کہ یہ ظاہر ہے کہ میدانی کا مذکور جواب پتّوں کی اُس مقدار سے متعلق ہے جس کی وجہ سے پانی مقید ہوجائے، کیونکہ پتّوں کی کثرت کے باعث جب پانی کا رنگ تبدیل ہوتا ہے تو ساتھ ہی مزہ بلکہ بُو بھی تبدیل ہوجاتی ہے بشرطیکہ پتّوں میں کوئی خاص بُو موجود ہو۔ (ت)
(۱؎ عنایۃ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱/ ۶۳ ) ( ۲؎ حلیہ)