| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
فاقول:(۲) اولا مابین صریح منطوق المتن فتعبیرہ بالحمل ثم تضعیفہ(۳) بیمکن لامحل لھما وثانیا لامحل(۴) لھذا الحمل فی کلام صدر الشریعۃ وما یاتی من کلام المیدانی فلا محید عن الاختلاف ومن المسامحۃ(۵) تعبیرہ باختلاف الروایتین فان قول(۶) المشائخ لایقال لہ روایۃ۔
تو میں کہتا ہوں اوّلاً جو انہوں نے بیان کیا ہے وہ متن کی صریح عبارت ہے تو اس کو حمل سے تعبیر کرنا پھر اس کو تضعیف یمکن کے لفظ سے، ان دونوں باتوں کا یہ محل نہیں۔ دوم، اِس حمل کا صدرالشریعۃ کے کلام میں کوئی محل نہیں، اور اسی طرح میدانی کے کلام میں بھی اس کی کوئی گنجائش نہیں، تو اختلاف سے تو کوئی مَفَر نہیں، اور اس کو اختلاف روایتین سے تعبیر کرنا اس میں مسامحۃ ہے کہ قولِ مشایخ کو روایت نہیں کہا جاتا ہے۔ (ت)
منیہ میں ہے : اذا تغیر لون الماء اوریحہ اوطعمہ بطول المکث اوبسقوط الاوراق تجوز بہ الطھارۃ الا اذا غلب لون الاوراق فیصیر مقیدا ۱؎۔
جب پانی کا رنگ، بُو یا مزہ تبدیل ہوجائے زیادہ ٹہرا رہنے کی وجہ سے، یا اس میں پتّوں کے گرنے کی وجہ سے، تو اس سے طہارت جائز ہے ہاں اگر پتّوں کا رنگ غالب ہوگیا تو اب یہ پانی مقید ہوگیا۔ (ت)
(۱؎ منیۃ المصلی مکتبہ قادریہ لاہور ص۶۴ )
جحلیہ میں ہے:اخذہ مما فی الذخیرۃ الفتاوی الصغری سئل الفقیہ احمد بن ابراھیم المیدانی عن الماء الذی تغیر لونہ لکثرۃ الاوراق الواقعۃ فیہ حتی یظھر لون الاوراق فی الکف اذارفع الماء منہ ھل یجوز التوضی بہ قال لاولکن یجوز شربہ وغسل الاشیاء بہ اما شربہ وغسل الاشیاء فلانہ طاھر واما عدم جواز التوضی بہ فلانہ لما غلب علیہ لون الاوراق صار مقیدا کماء الباقلاء وغیرہ لکن نص فی تحفۃ الفقھاء علی انہ عند الضرورۃ یجوز التوضی بماء تغیر بامتزاج غیرہ من حیث اللون والطعم بان وقع الاوراق والثمار فی الحیاض حتی تغیر لانہ تتعذر صیانۃ الحیاض عنھا ۲؎۔
اس کو ذخیرہ اور فتاوٰی صغرٰی کے تتمہ سے لیا ہے، فقیہ احمد بن ابراہیم المیدانی سے اُس پانی کی بابت دریافت کیا گیا جس کا رنگ پتّوں کی کثرت کی وجہ سے متغیر ہوگیا ہو یہاں تک کہ جب پانی کو ہاتھ میں اٹھایا جائے تو اس میں پتّوں کا رنگ ظاہر ہوتا ہو، آیا اِس پانی سے وضو جائز ہے؟ تو فرمایا ''نہیں'' لیکن اس کو پی سکتے ہیں اور اس سے دوسری اشیا کو دھو سکتے ہیں، اس کا پینا اور دوسری اشیا کا دھونا اس لئے جائز ہے کہ یہ پانی پاک ہے اور وضو اس لئے جائز نہیں کہ اس پر پتّوں کا رنگ غالب ہوچکا ہے اور یہ مقید پانی ہوگیا ہے جیسے باقِلی (لوبیا) وغیرہ کا پانی۔ مگر تحفۃ الفقہاء میں صراحت ہے کہ ایسے پانی سے جس میں کسی چیز کے مل جانے کی وجہ سے رنگ اور مزہ تبدیل ہوگیا ہو، ضرورت کے وقت وضو جائز ہے جیسے حوضوں میں پھل اور پتّے گرتے رہتے ہیں اور پانی متغیر ہوجاتا ہے کہ ان چیزوں سے حوضوں کا بچانا متعذر ہے اھ (ت)
(۲؎ حلیہ )
اقول: فاذن یکون ھذا قولا ثالثا انہ انما یجوز الوضوء بہ عند الضرورۃ والا لا وتبعہ فی مجمع الانھر ولیس(۱) ھکذا وانما نص البدائع شرح التحفۃ وھو عین نصھا ولوتغیر الماء المطلق بالطین اوبالتراب اوبالجص او بالنورۃ اوبوقوع الاوراق اوالثمار فیہ اوبطول المکث یجوز التوضئ بہ لانہ لم یزل عنہ اسم الماء وبقی معناہ ایضا مع مافیہ من الضرورۃ الظاھرۃ لتعذرصون الماء عن ذلک ۱؎ اھ۔ فلم یقیدہ بالضرورۃ ولم یقصر وجہہ علیھا بل عللہ بانہ ماء مطلق باق علی اطلاقہ وایدہ بانہ ساقط الحکم للضرورۃ وفرق بین(۲) بین بناء الحکم علی الضرورۃ بحیث یتقید بھا وبین اسقاط حکم رأسا لضرورۃ لازمۃ وھذا من ذاک الاتری(۳) انہ نظمہ مع المخلوط بالتراب ونحوہ فی سلک واحد وھل یسوغ لاحد ان یقول انما یجوز الوضوء بماء کدر اذا لم یجد غیرہ والا لم یصح ثم لانظیر(۴) لھذا فی المذھب ان یجوز الوضوء بماء عند الضرورۃ لافی السعۃ امانبیذ التمر فانما الحکم فیہ علی خلاف المعتمد المفتی بہ لاجل ورود النص فعدل بہ عن سنن القیاس عند عدم الماء المطلق کما نصوا علیہ وسیاتی ولامساغ لھذا ھھنا وباللّٰہ التوفیق۔
میں کہتا ہوں اس صورت میں یہ تیسرا قول ہوگا یعنی یہ کہ بوقت ضرورت اس سے وضو جائز ہے ورنہ نہیں، اور مجمع الانہر میں اس کی متابعت کی، اور بات ایسی نہیں ہے اور بدائع شرح تحفہ کا نص بعینہ یہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ''اگر مطلق پانی کیچڑ، مٹی، گچ یا نورہ سے بدل گیا یا اس میں پتّے اور پھل گرے اور بدل گیا یا زیادہ عرصہ تک کھڑا رہنے کی وجہ سے بدل گیا تو اس سے وضو جائز ہے کیونکہ اس سے پانی کا نام زائل نہیں ہوا، اور اس کے معنی بھی باقی ہیں، اور بظاہر اس میں ضرورت بھی ہے کیونکہ پانی کو ان اشیاء سے بچانا متعذر ہے اھ۔ تو اس کو ضرورت سے مقید نہیں کیا اور اس کی وجہ اس مقصور نہ کی بلکہ اس کی تعلیل اس طرح کی کہ وہ مطلق پانی ہے اور اپنے اطلاق پر باقی ہے اور اس کی تائید میں فرمایا کہ اس کا حکم بوجہ ضرورت ساقط ہوگیا، اور اس میں کہ حکم ضرورت کی وجہ سے لگایا جائے اور وہ ضرورت سے متقید ہوجائے اور اس میں کہ حکم ضرورت لازمہ کی وجہ سے بالکل ساقط کیا جائے، بڑا فرق ہے، اور یہ اُسی قبیل سے ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ انہوں نے اس کو مخلوط بالتراب اور اس کی مثل کے ساتھ ملایا ہے، اور ان دونوں کو ایک ہی قرار دیا ہے، اور کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ گدلے پانی کے ساتھ وضؤ جائز ہے بشرطیکہ دُوسرا موجود نہ ہو ورنہ نہیں؟ پھر اس پر مذاہب میں اس کی کوئی نظیر موجود نہیں کہ کسی پانی سے ضرورت کے وقت تو وضو جائز ہو اور بلا ضرورت جائز نہ ہو، اور جہاں تک نبیذ تمر کا معاملہ ہے سو اس میں جو حکم ہے وہ معتمد مفتی بہ کے خلاف ہے، کیونکہ نص وارد ہے لہٰذا وہاں قیاس سے عدول کیا گیا ہے جبکہ مطلق پانی نہ ہو، جیسا کہ فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے، اور یہ عنقریب آئے گا، اور یہ چیز یہاں نہیں چل سکتی ہے،
(۱؎ بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۵)
ثم اورد علیہ فی الحلیۃ نفسھا بما حاصلہ ان لامعنی للتفرقۃ بین السعۃ والضرورۃ فان الشرع لم ینقل المکلف عن الماء المطلق عند عدم القدرۃ علیہ الیہ الماء المقید فی حالۃ دون حالۃ بل نقلہ عند العجز عنہ الی التیمم فی سائر الحالات اعنی سواء کان یجد مع ذلک الماء المقید اولم یجدہ ایضا فان کان ھذا ماء مطلقا جاز الوضوء مطلقا والا لم یجز مطلقا ۱؎ اھ۔بمحصلہ اقول: ھذا ایراد علی مافھمہ رحمہ اللہ تعالٰی من کلام التحفۃ لاعلیہ کما علمت وللّٰہ الحمد۔
پھر انہوں نے خود حلیہ میں اعتراض کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ گنجائش اور ضرورت کی صورتوں میں فرق کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ شریعت نے مکلف کو مطلق پانی سے قدرت نہ ہونے کی صورت میں مقید پانی کی طرف منتقل نہیں کیا ہے کسی خاص حالت میں، بلکہ ایسی صورت میں اس کو تیمم کرنے کا حکم دیا ہے تمام حالات میں، خواہ اس کو مقید پانی مل رہا ہو یا نہ مل رہا ہو، تو اگر یہ مطلق پانی ہے تو وضو مطلقاً جائز ہے ورنہ مطلقاً وضو جائز نہیں اھ۔ میں کہتا ہوں یہ اعتراض اُس مفہوم پر ہے جو انہوں نے تحفہ سے سجھا خود تحفہ پر نہیں ہے جیسا کہ آپ نے جان لیا وللہ الحمد۔ (ت)
(۱؎ بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۵)
(۷۸) پھلوں کے گرنے (۷۹) تالاب میں سنگھاڑے کی بیل سڑجانے سے پانی کے سب اوصاف بدل جائیں جب بھی حرج نہیں جب تک رقیق وسیال رہے۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
(یجوز ماء خالطہ طاھر جامد) مطلقا (کفاکھۃ و ورق شجر) وان غیر کل اوصافہ (فی الاصح ان بقیت رقتہ) ای واسمہ ۲؎ اھ۔
(وضو ایسے پانی سے جائز ہے جس میں کوئی جامد پاک چیز مل گئی ہو) مطلقاً (جیسے خشک میوہ اور درخت کے پتّے) خواہ اس کے تمام اوصاف کو بدل دیا ہو (اصح یہی ہے بشرطیکہ اس کی رقت باقی رہی ہو) یعنی اس کا نام بھی اھ۔
(۲؎ الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵)
اقول: احتاج الی زیادۃ واسمہ لکلامہ فی کل طاھر جامدومنہ مایزیل الاسم مع بقاء الرقۃ کما یاتی فی الزعفران ونحوہ فلا یجوز الوضوء بہ مع بقاء رقتہ ونحن فی غنی من ھذا القید ھنا فانہ ھنا لایتبدل الاسم مادامت الرقۃ فلذالم نعرج علیہ۔
میں کہتا ہوں ہر طاہر جامد کے ساتھ نام کے باقی رہنے کی قید ضروری ہے، اسی میں وہ بھی ہے جس کا نام تو ختم ہوگیا مگر رقت باقی رہی ہو جیسا کہ زعفران وغیرہ میں آئے گا تو رقت کے باقی رہتے ہوئے بھی وضو جائز نہ ہوگا، اور ہمیں یہ قید لگانے کی ضرورت نہیں کہ یہاں نام اس وقت تک تبدیل ہوتا ہی نہیں جب تک کہ رقت باقی رہتی ہے، اسی لئے ہم نے یہ قید نہیں لگائی۔ (ت)