(۷۲) وہ پانی کہ کا ہی کی کثرت سے جس کی بُو وغیرہ میں تغیر آگیا، جوہرۃ نیرۃ میں ہے:
لوتغیر الماء بالطحلب کان حکمہ حکم الماء المطلق ۱؎۔
اگر پانی کا ہی (پانی میں سبز دھاریاں ہوتی ہیں) سے متغیر ہوجائے تو اس کیلئے مطلق پانی کا حکم ہے۔ (ت)
(۱؎ جوہرۃ نیرۃ طہارت امدادیہ ملتان ۱ /۱۴)
(۷۳) کچی کنیاں کا پانی جس میں بھرا سڑکر بدبو آجاتی بلکہ رنگ ومزہ سب متغیر ہوجاتا ہے۔
(۷۴) وہ تالاب جس میں سن گلائی گئی اور اس کے سبب اس کے تینوں وصف بدل گئے۔ فتاوٰی شیخ الاسلام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ غزی تمرتاشی میں ہے :
سئل عن الوضوء والاغتسال بماء تغیر لونہ وطعمہ وریحہ بحبلہ المعلق علیہ لاخراج الماء منہ فھل یجوز ام لا اجاب یجوز عند جمہور اصحابنا ۲؎ اھ ملتقطا۔
اُن سے اُس پانی سے وضو اور غسل کی بابت دریافت کیا گیا جس کا رنگ، مزا اور خوشبو اُس رسّی کے باعث بدل گئے جس پر کہ اس رسّی کو لٹکایا گیا تھا، تاکہ اُس سے پانی نکالا جائے، تو کیا جائز ہے یا نہیں؟ تو جواب دیا کہ ہمارے جمہور اصحاب کے نزدیک جائز ہے اھ ملتقطا۔ (ت)
(۲؎ فتاوی غزی تمرتاشی )
(۷۵) کُوندے میں آٹے کا لگاؤ ہو اُس میں پانی رکھنے سے مزے وغیرہ میں تغیر آجاتا ہے اس پانی سے وضو روا ہے۔ فتح القدیر میں ہے:
قداغتسل صلی اللّٰہ تعالی علیہ واٰلہٖ وسلم یوم الفتح من قصعۃ فیھا اثر العجین رواہ النسائی والماء بذلک یتغیر ولم یعتبر للمغلوبیۃ ۳؎۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایسے پیالے میں وضو فرمایا جس میں گوندھے ہوئے آٹے کا اثر تھا اس کو نسائی نے روایت کیا، اس سے پانی میں تغیر آتا ہے اور مغلوبیت کی وجہ سے اس کا اعتبار نہ فرمایا۔ (ت)
(۳؎ فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱/ ۶۴)
(۷۶) حوض کے کنارے درخت ہیں موسمِ خزاں میں پتّے کثرت سے گِرے کہ حوض کا پانی دیکھنے میں سبز معلوم ہوتا ہے مگر ہاتھ میں لینے سے صاف نظر آتا ہے اُس سے وضو بالاتفاق جائز ہے۔
(۷۷) پتّے اتنے گرے کہ واقعی پانی سبز ہوگیا چُلّو میں بھی سبز معلوم ہوتا ہے صحیح مذہب میں اب بھی قابلِ وضو ہے جب تک گاڑھا ہو کر اپنی رقت سے نہ اُترجائے۔
اقول: ہاں مگر(۱) اس حالت میں اُس سے احتراز بہتر ہے کہ ایک جماعتِ علما اُس سے وضو صحیح نہ ہونے کی قائل ہے۔ امام صدر الشریعہ نے شرح وقایہ میں فرمایا:
اما الماء الذی تغیر بکثرۃ الاوراق الواقعۃ فیہ حتی اذارفع فی الکف یظھر فیہ لون الاوراق فلا یجوز بہ الوضوء لانہ کماء الباقلی ۱؎۔
وہ پانی جو پتّوں کے زیادہ گرنے کی وجہ سے بدل گیا، اتنا کہ ہاتھ میں اٹھایا جائے تو پتّوں کا رنگ آئے تو اُس سے وضو جائز نہیں جیسے کہ باقِلی (لوبیا) کے پانی سے وضو جائز نہیں۔ (ت)
(۱؎ شرح وقایۃ، مایجوزبہ الوضوء، المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ /۸۶)
فتاوٰی غزی میں ہے : وبعضھم ذھب الی عدم الجواز بالماء الذی غیرتہ کثرۃ الاوراق بحیث یظھر لونھا فی کف عند رفعہ کما جزم بہ فی الکنز وغیرہ ۲؎ اھ
اور بعض فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ اُس پانی سے وضو جائز نہیں جس کو پتّوں کی کثرت نے بدل دیا ہو تو ہاتھ میں اٹھانے سے اس میں پتّوں کا رنگ نظر آتا ہو، جیسے کنز وغیرہ میں اس پر جزم کیا ہے اھ (ت)
(۲؎ فتاوٰی غزی)
اقول: انما(۲) نص الکنز لابمآء تغیر بکثرۃ الاوراق ۳؎ اھ ولیس فیہ ذکر ظھور اللون بالرفع فی الکف وانما ضمیر تغیر للماء والماء عبارۃ عن العین وتغیر عینہ بذھاب رقتہ لاجرم ان قال فی البحر محمول علی مااذا زال عنہ اسم الماء بان صار ثخینا ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں کنز کا نص تو یہ ہے کہ نہ اُس پانی سے جو پتّوں کی کثرت سے متغیر ہوگیا ہو اھ۔ اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ ہاتھ میں اٹھانے سے پتوں کا رنگ اس میں ظاہر ہوتا ہو، اور تغیر کی ضمیر پانی کی طرف لوٹتی ہے، اور پانی ایک عین ہے اور اُس کے عین کا تغیر اس وقت ہوگا جب اس کی رقت ختم ہوجائے،اس لئے بحر میں فرمایا یہ اس پر محمول ہے جبکہ اس پر پانی کا اطلاق ختم ہوگیا ہو، مثلاً یہ کہ وہ گاڑھا ہوگیا اھ۔
ورحم اللّٰہ العلامۃ الحلبی اذ اوضح المرام وازاح الاوھام بقولہ فی متنہ الملتقی لابماء خرج عن طبعہ بکثرۃ الاوراق ۲؎ اھ قال فی مجمع الانھر طبعہ ھو الرقۃ والسیلان ۳؎ اھ
اللہ تعالٰی حلبی پر رحم فرمائے کہ انہوں نے شبہات کو دُور فرما کر وضاحت مقصود کردی، وہ ملتقی کے متن میں فرماتے ہیں ''نہ اس پانی سے جو پتوں کی کثرت کی وجہ سے پانی کی طبیعت سے خارج ہوگیا ہو اھ''۔ مجمع الانہر میں فرمایا پانی کی طبیعت رقت اور سیلان ہے اھ۔ (ت)
(۲؎ الملتقی الابحر شرح مجمع الانہر الطہارۃ بالماء المطلق عامرہ مصر ۱/ ۲۸ )
(۳؎ الملتقی الابحر شرح مجمع الانہر الطہارۃ بالماء المطلق عامرہ مصر ۱ /۲۸ )
اقول : ولم(۱) یکن بعدہ محل لان یعللہ بتغیر اوصافہ جمیعا ویقول وان جوزہ الاساتذۃ امامانقل عن الفرائد عن اخی چلپی انہ لایمکن الحمل الا علی اختلاف الروایتین ثم قال لکن یمکن الحمل علی مابین انفا ۴؎ اھ
میں کہتا ہوں اس کے بعد اس کا موقع نہ تھا کہ اس کی علت یہ بیان کریں کہ اس کے تمام اوصاف بدل جائیں اور یہ فرمائیں کہ ''اگرچہ اس کو اساتذہ نے جائز قرار دیا ہے'' اور اخی چلپی سے فرائد سے جو منقول ہے کہ ''اس کو صرف اختلاف روایتین پر ہی محمول کیا جاسکتا ہے'' پھر فرمایا اس کا حمل اس پر ممکن ہے جس کو انہوں نے ابھی بیان کیا ہے اھ۔ (ت)