Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
140 - 176
ثم اقول: یہ طریقہ اثم سے بچنے کو ہے اور اگر بغیر اس کے کوئی شخص نادانستہ یا دیدہ ودانستہ براہِ جہالت خواہ بے پرواہی احکامِ شریعت اُس میں سے اُتنا پانی یا اُس سے زاید بھر کر لے گیا تو اگرچہ وہ گنہگار ہو باقی پانی جائز الاستعمال ہوگیا کہ اُتنا نکل جانے سے حوض وچاہ میں اُس کی بقا پر یقین نہ رہا
کما قال محمد لایجوز قتلھم فلوقتل البعض حل قتل الباقی ۱؎
(جیسا کہ امام محمد فرماتے ہیں ان کا قتل جائز نہیں اگر بعض قتل ہوجائیں تو باقی کا قتل جائز ہوگا۔ ت)
 ( ۱؎ غنیۃ المستملی        فروع من النجاسۃ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۲۰۴)
تنبیہ اقول: یہیں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جریان(۱) نہ ضرور نہ کافی اگر صبی(۲) کا پانی اتنا قلیل تھا کہ چھلکنے میں نکل سکتا ہے تو جریان کی حاجت نہیں۔ اور اگر اتنا کثیر تھا کہ جتنے خروج پر جریان صادق آتا ہے اس میںنہ نکلے گا تو یہ جریان کافی نہیں جب تک اُس قدر نکل نہ جائے۔
اقول: وبہ(۳) فارق النجاسۃ لان زوال وصفھا وحصول ضدھا بالجریان لمعنی فیہ وھوانہ لایقبل النجاسۃ بحکم النص وما قام بہ طھر بعضہ بعضا ولایلزم منہ حل الانتفاع بملک الصبی فلا بد من خروج قدر المصبوب، ھذا ماظھرلی وقد انکشفت بہ الغمۃ علی احسن وجہ مطلوب، والحمدللّٰہ سبحنہ کاشف الکروب، والصلٰوۃ والسلام علی اکرم محبوب، وعلی اٰلہ وصحبہ ھداۃ القلوب، اٰمین۔
میں کہتا ہوں اور اسی وجہ سے نجاست سے دور ہوگیا، کیونکہ نجاست کے وصف کا زائل ہونا اور جاری ہونے کی وجہ سے اسکی ضد کا حاصل ہونا ایک معنی سے ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ وصف یعنی جریان نجاست کو قبول نہیں کرتا ہے، کیونکہ نص میں یہی ہے، اور جو اس کے ساتھ قائم ہے اس کے بعض نے بعض کو پاک کردیا ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ بچہ کی ملک سے نفع حاصل کرنا جائز ہو، تو جتنا بہا ہے اُس کی مقدار میں نکلنا ضروری ہے، یہ بحث وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوئی، اور اس سے عمدہ طور پر پریشانیاں دُور ہوگئیں۔ اللہ تعالٰی کیلئے حمد ہے جو مصیبتوں کو دُور کرنے والا ہے اور اس کے محبوب ترین اور اس کی آل وصحابہ پر صلٰوۃ وسلام۔ آمین (ت)
الحمدللہ نمبر ۳۲ سے یہاں تک نابالغ کے پانی کا بیان جس تفصیل وتحقیق سے ہوا کتابوں میں اُس چند سطروں سے زائد نہ ملے گا۔ ممکن ہے کہ اسے رسالہ مستقلہ کیجئے اور عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی(۱۳۳۴ھ) نام رکھئے، وللہ الحمد۔ رسالہ ضمنیہ عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی تمام ہوا۔

(۶۶) جس(۴) پانی میں مائے مستعمل کے واضح قطرے گرے خصوصاً جبکہ اس کی دھار پہنچی جب تک مطہر پانی سے کم رہے ہاں بوجہ خلاف بچنا مناسب تر ہے جبکہ وہ چھینٹیں وضو وغسل کرتے ہیں نہ پڑی ہوں۔
وذلک انہ روی الافساد مطلقا وان قل الاماترشش فی الاناء عند التطھر فھو عفودفعا للحرج ولا عبرۃ لمن اطلق وقد نص فی البدائع انہ فاسد ۱؎ ۔
یہ اس لئے کہ مستعمل پانی کے بارے میں ایک روایت ہے کہ مستعمل مطلقاً خواہ قلیل ہو، پانی کو فاسد کردیتا ہے مگر طہارت کے وقت جو چھینٹے پانی والے برتن میں پڑیں وہ معاف ہیں تاکہ حرج لازم نہ آئے، ان چھینٹوں کے بارے میں اطلاق کا اعتبار نہیں ہوگا حالانکہ بدائع میں اس کو فاسد کہا ہے ۔
 (۱؎ بدائع الصنائع        طہارۃ حقیقیۃ        سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۸)
وروی الافساد بالکثیر ثم الکثرۃ باستبانۃ مواقع القطر فی الماء الطھورام ان یسیل فیہ سیلانا قولان ففی الجامع الصغیر للامام قاضی خان انتضاح الغسالۃ فی الماء اذا قل لایفسد الماء یروی ذلک عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما ولان فیہ ضرورۃ فیعفی القلیل وتکلموا فی القلیل عن محمد وما کان مثل رؤس الابر فھو قلیل وعن الکرخی ان کان یستبین مواقع القطر فی الماء فکثیر وان کان لایستبین کالطل فقلیل ۲؎ اھ نقلہ فی زھر الروض وفی الخلاصۃ جنب اغتسل فانتضح من غسلہ شیء فی انائہ لم یفسد علیہ الماء اما اذا کان یسیل فیہ سیلانا افسدہ وکذا حوض الحمام علی ھذا وعلی قول محمد لایفسدہ مالم یغلب علیہ یعنی لایخرجہ من الطھوریۃ ۳؎ اھ
اور ایک روایت میں کثیر کو فاسد کرنے والا کہا گیا، پھر کثیر کی تعریف میں دو قول ہیں، یا تو پاک پانی میں وہ نمایاں طور پر معلوم ہو یا مستعمل پاک پانی میں بہہ کر داخل ہو، پھر امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر میں ہے کہ دھوون اگر کم مقدار میں پانی میں گرا تو پانی کو فاسد نہیں کرے گا یہی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نیز ضرورت کی بنا پر قلیل معاف ہوگا۔ اب انہوں نے قلیل کے بارے میں بحث کی ہے۔ امام محمد سے مروی ہے کہ اگر مستعمل پانی کے چھینٹے سوئی کے سوراخ کے برابر ہوں تو قلیل ہے اور امام کرخی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر پانی میں گرنے کی جگہ نمایاں معلوم ہو تو کثیر ہے ورنہ قلیل ہے جیسے شبنم کے قطرے، اس مضمون کو زہرالروض میں نقل کیا ہے، اور خلاصہ میں ہے کہ اگر اجنبی شخص سے غسل کرتے وقت اپنے برتن میں چھینٹے پڑ گئے تو اس سے پانی نجس نہ ہوگا۔ اگر غسالہ بہہ کر برتن میں پڑا تو پھر برتن کا پانی ناپاک ہوجائےگا۔ حمام کے حوض کا بھی یہ حکم ہے۔ اور امام محمد کے قول کے مطابق اس صورت میں ناپاک نہ ہوگا تاوقتیکہ مغلوب نہ ہوجائییعنی اس کو طہوریت سے نہیں نکالے گا اھ
 (۲؎ جامع صغیر للقاضی خان)

(۳؎ خلاصۃ الفتاوی مع الہندیۃ    الماء المستعمل    نولکشور لکھنؤ    ۱ /۸)
ثم عللہ بعضھم بان الماء مفروض راکدا قلیلا فلا ینتقل الماء المستعمل الواقع فیہ من موقعہ الیہ اشار فی وجیز الکردری اذیقول التوضئ من سردا بہ لایجوز لانہ یتکر الاستعمال ۱؎ اھ
پھر بعض نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو پانی فرض کیا گیا ہے وہ ٹھہرا ہوا قلیل ہے تو مستعمل پانی جو اس میں گرا ہے اپنے گرنے کی جگہ سے اس کی طرف منتقل نہ ہوگا۔ امام کُردری کی وجیز میں اسی صورت کی طرف اشارہ کیا ہے، جب انہوں نے یہ کہا کہ چھوٹے حوض میں وضو کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ پانی دوبارہ استعمال میں آتا ہے اھ۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیۃ    نوع فی الحیاض    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۷)
اقول: ویلزمھم التجویز اذا حرک الماء عند کل غرفۃ او اغترف کل مرۃ من غیر موقع الغسالۃ واٰخرون بان الماء المستعمل من جنس المطلق فلا یستھلک فیہ فیؤثر فی کلہ لقلتہ بخلاف اللبن اوبول الشاۃ علی قول محمد بطھارتہ ھکذا اختلفوا والصحیح المعتمد فی المذھب الاعتبار بالغلبۃ فلا یخرج عن الطھوریۃ مادام اکثر من المستعمل ھو الذی اعتمدہ الامۃ وصححہ الائمۃ۔
میں کہتا ہوں ان کویہ قول کرنا لازم ہوگا کہ اگر ہر چُلو پر پانی کو حرکت دے یا ہر دفع غسالہ کی بجائے دوسری جگہ سے چُلو لے تو وضو جائز ہونا چاہئے۔ بعض نے کہا کہ مستعمل پانی مطلق پانی کا ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس میں فنا نہیں ہوگا اور اس کے کل میں اثر کرے گا کیونکہ وہ کم ہے بخلاف دودھ یا بکری کے پیشاب کے بقول امام محمد، کیونکہ وہ اس کی طہارت کے قائل ہیں اس طرح مستعمل پانی کے بارے میں یہ اختلاف ہے لیکن صحیح اور مذہب قابل اعتماد یہ ہے کہ اس میں غلبہ کا اعتبار ہے لہٰذا جب تک مطلق پانی غالب اور زیادہ ہے تو مستعمل پانی کے ملنے سے ناپاک نہ ہوگا اور قابلِ طہارت رہے گا، یہی اُمت کا معمول اور ائمہ کرام کا صحیح کردہ مسلک ہے۔ (ت)

یہ ۶۶ وہ پانی تھے جن میں شیئ غیر کا اصلاً خلط نہ تھا یا تھا تو آب غیر کا نہ غیر آب کا۔ اب وہ پانی ہیں جن میں غیر آب کا خلط ہے۔

(۶۷ و ۶۸) وہ پانی(۱) جس میں آبِ دہن یا آبِ بینی یعنی تھوک یا کھنکار یا ناک کی ریزش پڑ جائے اس سے وضوء جائز مگر مکروہ ہے۔ فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے :
الماء اذا اختلط بالمخاط اوبالبزاق جازبہ التوضئ ویکرہ ۲؎۔
اگر پانی میں تھوک یا ناک کا پانی گرے تو اس سے وضو جائز ہے مگر مکروہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فیما لایجوزبہ التوضئ    نولکشور لکھنؤ    ۱/ ۹)
Flag Counter