Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
139 - 176
غرض مسئلہ مشکل ہے اور اس میں ضرور حرج ہے اور حرج مدفوع بالنص ہے۔

وانا اقول: وباللہ التوفیق پانی کی مِلک صبی ہوا نجس نہیں کہ اُس کے گرنے سے اور پانی ناپاک ہوجائے حرمت اس وجہ سے ہے کہ مباح ومحظور مختلط ہوگئے ہیں یہاں تک کہ اگر ممکن ہو کہ مباح استعمال کیا جائے اور اس میں کوئی حصہ محظور کا نہ آنے پائے تو بلاشبہ جواز ہوگا اور ہم نے رحب الساحہ جواب سوال سوم میں بیان کیا ہے کہ مشایخ عراق کے نزدیک حوض کبیر میں نجاست غیر مرئیہ کے موقع وقوع سے وضو جائز نہیں کہ پانی ٹھہرا ہوا ہے منتقل نہ ہوگی اور مشایخ بلخ وبخارا اور ماوراء النہر کے نزدیک سب جگہ سے جائز کہ پانی بالطبع سیال ہے ہواؤں وغیرہا کی تحریک سے اُسے ایک جگہ نہ رہنے دے گا تو جہاں کہیں وضو کیا جائے وہاں نجاست ہونے کا یقین نہیں اگرچہ خاص موقع وقوع سے ہو تو پانی کہ بالیقین طاہر تھا شک سے نجس نہ ہوگا اب یہاں اگر قول عراقیاں لیا جائے جب تو خاص اُسی جگہ کا پانی ممنوع الاستعمال ہوگا جہاں نابالغ کی مِلک کا پانی گرا ہے باقی اپنی اباحت پر باقی ہے
لما علمت انہ لاتعدیۃ فیہ فکان کغیر مرئیۃ فی حوض کبیر
 (جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اس میں تجاوز نہیں یہ ایسا ہی ہے جیسا حوضِ کبیر میں نجاست غیر مرئیہ ہو) (ت) اور اگر قول جمہور لیا جائے اور وہی صحیح ہے تو بوجہ احتمال انتقال اختلاط مِلکِ صبی کا یقین کسی موضع معین میں نہیں بلکہ موضع مجہول ومبہم میں ہے اور ایسے(۲) یقین پر جب اُس شے کے بقا وزوال میں شک طاری ہو یقین زائل اور حکم اصل حاصل ہوتا ہے جیسے دائین(۳) چلانے میں بیل ضرور پیشاب کرتے اور اناج کا ایک حصہ یقیناً ناپاک ہوتا ہے مگر متعین نہ رہاتو بعد تقسیم یا اُس سے کُچھ ہبہ یا صدقہ کرنے سے سب پاک ہوجائےگا کہ ہر ایک کہے گا ممکن کہ ناپاک دانے دوسرے حصے میں رہے یا گئے ہوں، یوں ہی(۱) چادر پر ناپاکی  کی یقین ہے اور جگہ معلوم نہیں یا یاد نہ رہی اور تحری کسی طرف نہیں پڑی کہیں سے پاک کر لی جائے پاک ہوجائے گی کہ اب اس متیقن مبہم کی بقا میں شک ہوگیا اور سب(۲) سے زائد وہ مسئلہ ہے کہ محررِ مذہب امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سیر کبیر میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ایک قلعہ فتح کیا اتنا معلوم ہے کہ اس میں ایک ذمی ہے مگر اُسے پہچانتے نہیں اُن کفار کا قتل حرام ہے ہاں اگر اُن میں سے بعض نکل جائیں یا کوئی قتل کردے تو اب باقیوں کا قتل جائز ہوگیا کہ وہ یقین مجہول اس شک سے زائل ہوگیا۔
وقد حققہ العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ فافاد واجاد٭ علیہ رحمۃ الجواد٭ فراجعہ فانہ من اھم مایستفاد٭ ویکفینا منہ ھنا قولہ تنجس طرف من الثوب فنسیہ فغسل طرفا منہ بتحر او بلا تحر طھر لان بغسل بعضہ مع ان الاصل طھارۃ الثوب وقع الشک فی قیام النجاسۃ لاحتمال کون المغسول محلھا فلا یقضی بالنجاسۃ بالشک کذا اوردہ الاسبیجابی فی شرح الجامع الکبیر قال وسمعت الشیخ الامام تاج الدین احمد بن عبدالعزیز بقولہ ویقیسہ علی مسألۃ فی السیر الکبیر ھی اذا فتحنا حصنا وفیھم ذمی لایعرف لایجوز قتلھم لقیام المانع بیقین فلوقتل البعض اواخرج حل قتل الباقی للشک فی قیام المحرم کذا ۱؎ ھنا۔
اس کی تحقیق ابراہیم حلبی نے غنیہ میں بہت اعلٰی اور مفید طریق پر کی ہے جس کو دیکھنا ہو وہاں ملاحظہ کرے، یہاں اس کی صرف یہ عبارت نقل کرنا کافی ہوگی ''اگر کپڑے کا ایک کنارہ ناپاک ہوگیا مگر بھُول گیا کہ کون سا کنارہ ہے تو تحرّی کرکے یا بلاتحرّی ایک کنارہ دھولیا تو کپڑا پاک ہوجائے گا'' کیونکہ کپڑے میں اصل طہارت ہے اور جب ایک کنارہ دھولیا تو اب نجاست کے ہونے میں شک ہوگیا، کیونکہ جو حصہ دھویا گیا ہے اس میں امکان ہے کہ وہی ہو جو نجس تھا، تو شک کی بنیاد پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جائےگا، اسبیجابی نے شرح جامع کبیر میں ایسا ہی لکھا ہے، فرمایا کہ میں نے اپنے شیخ تاج الدین احمد بن عبدالعزیز کو فرماتے ہوئے سناوہ اس کو سَیر کبیر کے اس مسئلہ پر قیاس کرتے تھے کہ اگر ہم نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس میں ایک ذمی ہے مگر معلوم نہیں کہ کون ہے، تو اس قلعہ کے لوگوں کا قتل جائز نہیں، کیونکہ یقین کرنے کا مانع موجود ہے، اور اگر بعض کو قتل کردیا گیا یا نکال دیا گیا تو باقی کو قتل کرنا جائز ہے کیونکہ مُحَرِّم کی موجودگی میں شک ہے۔ (ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی        فروع من النجاسۃ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۲۰۴)
جب یہ قاعدہ نفیسہ معلوم ہولیا یہاں بھی اُس کا اجرا کریں جتنا(۱) پانی اُس نابالغ نے ڈالا ہے اسی قدر یا اُس سے زائد اُس حوض یا کنویں سے عہ۱  نکال کر اُس نابالغ عہ۲ کو دے دیں یہ دینا یقینا جائز ہوگا کہ اگر اِس میں مِلک صبی ہے تو صبی ہی کے پاس جات ہے بخلاف بہا دینے یا ڈول کھینچ کر پھینک دینے کے کہ وہ مِلک صبی کا ضائع کرنا ہے اور یہ جائز نہیں اب کہ اُس قدر یا زائد پانی اُس صبی کو پہنچ گیا اُس کے ڈالے ہوئے پانی کا باقی رہنا مشکوک ہوگیا تو وہ یقین کہ موضع مجہول کیلئے تھا زائل ہوگیا اور حوض وچاہ کا باقی پانی جائز الاستعمال ہوگیا۔
عہ۱ :  اگر کہیے مائے مباح سے جو لے گا مالک ہوگا تو یہ پانی کہ کوئی شخص کنویں یا مباح حوض سے بھر کر نابالغ کو دے گا اپنی ملک دے گا اور ایک شے پر دو مِلکیں جمع نہیں ہوسکتیں تو یہ پانی مِلک صبی نہ تھا پھر اس کے نکلنے سے مِلک صبی کا نکل جانا کیونکر محتمل ہوا۔
اقول:  جبکہ اس پانی میں مِلک صبی مخلوط ہے تو اب مائے مباح نہیں مائے محظور ہے بھرنے والا اس کا مالک نہ ہوگا جو بھرا محتمل ہے کہ وہی مائے مملوک صبی ہو یا مائے مباح کا حصہ اول پر بھرنے والا اُس کا مالک نہیں ہوسکتا ہے اور دوم ہے تو ہوگا اور مِلک شک واحتمال سے ثابت نہیں ہوسکتی لہٰذا وہ احتمال قائم رہا کہ یہ وہی پانی ہے جو ملک صبی تھا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عہ۲: اقول: بلکہ اگر خود نابالغ نے دوبارہ اُتنا یا اُس سے زائد پانی اُس میں سے بھر لیا تو اب بھی رفع مانع ہوجانا چاہئے کہ اگرچہ نابالغ کیلئے پانی ممنوع نہیں جیسا کہ تنبیہ پنجم میں گزرا اور وہ جو دوبارہ بھرے گا ضرور اس کا مالک ہوگا مگر یہ اُس احتمال کا مانع نہیں کہ اس بار وہی پانی آیا جو اس نے پہلے ڈال دیا تھا اور یہی احتمال رفع منع کو بس ہے واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ثم اقول :اس پر واضح دلیل مثلیات(۲) مشترکہ مثلاً گیہوں وغیرہ میں وارث کبیر کا اپنا حصہ وارث نابالغ کے حصے سے جدا کرلینے کا جواز ہے اور اس کی یہ تقسیم جائز ومقبول رہے گی اگر نابالغ کا حصہ اُس کیلئے سلامت رہے تلف نہ ہوجائے جامع الفصولین میں فتاوٰی اور جامع الصغار میں ذخیرہ سے ہے :
کیلی او  وزنی بین حاضر وغائب اوبین بالغ وصبی اخذ الحاضر اوالبالغ نصیبہ فانما تنفذ قسمتہ بلاخصم لوسلم نصیب الغائب والصبی حتی لوھلک مابقی قبل ان یصل الی الغائب اوالصبی ھلک علیھما ۳؎۔
کوئی مکیل یا موزوں شے حاضر وغائب کے درمیان یا بالغ اور بچّہ کے درمیان مشترک ہے تو حاضر یا بالغ نے اپنا حصّہ لے لیا اور اس کی تقسیم بلا خصم نافذ ہوجائے گی بشرطیکہ غائب اور بچہ کا حصہ باقی رہا اور اگر غائب اور بچہ تک پہنچنے سے قبل ہی وہ حصہ ہلاک ہوگیا تو ان کا حصہ ہی ہلاک ہوگا۔ (ت)
 (۳؎ جامع الصغار مع جامع الفصولین    مسائل القسمۃ    اسلامی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۲۴۰)
ظاہر ہے کہ یہاں بھی مِلک صبی ایسی ہی مختلط تھی کہ جُدا کرنا ممکن نہ تھا اور بالغ کو اس میں تصرف ناروا تھا بقدر حصہ صبی اُس میں سے الگ کردینا حصہ صبی کا جدا ہوجانا اور بالغ کے لئے جواز تصرف کا سبب ہوا۔
اقول: ولاشک(۱) ان الماء مثلی بمعنی ان اجزاء ہ لاتتفاوت وبہ جزم کثیرون کما فی الخیریۃ من احیاء الموات فی الولوالجیۃ وکثیر من الکتب لوصب ماء رجل کان فی الحب یقال لہ املأ الماء فان صاحب الحب مالک للماء وھو من ذوات الامثال فیضمن مثلہ ۱؎ اھ وان کان قیمیا لانہ لایکال ولایوزن کما فی الخیریۃ من البیوع عن جامع الفصولین عن فوائد صاحب المحیط وفتاوٰی رشید الدین الماء قیمی عند ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما وفیہ عن مختلفات القاضی ابی القاسم العامری عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ الماء لایکال ولا یوزن قال الطحاوی معناہ لایباع بعضہ ببعض وعن محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی الماء مکیل ۲؎ اھ وبالجملۃ لاشک انہ یقبل الافراز کالحب بل ابلغ فربما تتفاوت قلیلا حبات طعام واحد بخلاف قطرات ماء واحد۔
اقول: اور اس میں شک نہیں کہ پانی مثلی ہے یعنی اس لئے کہ اُس کے اجزاء میں تفاوت نہیں، اور بہت سے مشائخ نے اسی پر جزم کیا ہے، جیسا کہ خیریہ (احیاء الموات) اور ولوالجیہ میں ہے اور بہت سی کتب میں ہے، اگر کسی شخص نے مٹکے کا پانی گرا دیا تو اس سے کہا جائے گا کہ مٹکا بھرے کیونکہ مٹکے کا مالک پانی کا بھی مالک تھا، اور پانی مثلی اشیاء میں سے ہے تو وہ اس کے مثل کا ضامن ہوگا اھ اگرچہ وہ قیمت والی چیز ہے، اس لئے کہ وہ نہ مکیل ہے اور نہ ہی موزون ہے جیسا کہ خیریہ کی بیوع میں جامع الفصولین سے، فوائد صاحب المحیط سے اور فتاوٰی رشید الدین میں ہے کہ پانی ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک قیمت والی چیز ہے اور اس میں مختلفات ابی القاسم العامری سے ابو یوسف سے ابو حنیفہ سے ہے کہ پانی نہ کیلی ہے نہ وزنی ہے۔ طحاوی نے فرمایا اس کا مفہوم یہ ہے کہ پانی کا بعض، بعض سے بیچا نہیں جاتا ہے اور محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ پانی کیلی ہے اھ خلاصہ یہ کہ پانی کو الگ کیا جاسکتا ہے جیسے مٹکے میں، بلکہ زیادہ ہے کیونکہ بسا اوقات کھانے کی ایک ہی چیز کے دانوں میں فرق ہوتا ہے لیکن پانی کے قطرات میں نہیں ہوتا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریۃ     فصل فی الشرب    بیروت    ۲/ ۱۸۶)

(۲؎ فتاوٰی خیریۃ       کتاب البیوع     بیروت    ۱/ ۲۲۸)
Flag Counter