اقول: تعبیرھم(۲) بالحوض ظاھر(۳) فی رکودہ فان الجاری یسمی نھرا لاحوضا والاطلاق(۴) یشمل الصغیر والکبیر وھو الوجہ فان الماء الجاری یذھب ذلک الماء یقینا فیزول السبب ولا کذلک الراکد ۔
میں کہتا ہوں فقہاء کا حوض سے تعبیر کرنا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ اُن کی مراد ٹھہرا ہوا پانی ہے کیونکہ جاری پانی کو نہر کہا جاتا ہے حوض نہیں کہتے ہیں اور اطلاق چھوٹے بڑے دونوں کو شامل ہے اور یہی معقول وجہ ہے کیونکہ جاری پانی اِس پانی کو جو پھینکا گیا ہے بہا لے جائےگا، تو سببِ حُرمت زائل ہوجائےگا اور ٹھہرے ہوئے پانی کی یہ صورت نہیں۔ (ت)
شانزدہم: قال وینبغی ان یعتبر غلبۃ الظن بانہ لم یبق مما اریق فیہ شیئ منہ بسبب الجریان اوالنزح و الا یلزم ھجر الحوض وعدم الانتفاع بہ اصلا ۳؎ اھ۔
سولھواں: فرمایا غلبہ ظن کا اعتبار بھی کیا جانا چاہئے یعنی یہ کہ پانی کے جاری رہنے یا اُس میں سے پانی کے نکالے جانے کے باعث جو پانی کہ اس میں ڈالا گیا تھا اُس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہا، ورنہ تو پھر حوض کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خیر باد کہنا پڑےگا۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۱۲)
اقول:لاینبغی(۱) الشک فی الجواز بعد النزح لما سیاتی انما الشأن فی جواز النزح وکیف(۲) یحل مع ان فیہ اضاعۃ ملک الصبی ان صب فی الارض اولانتفاع بہ ان سقی بہ نحو زرع اوبستان وکذلک الاجراء وان ابیح ذلک الاٰن فلم لایباح الشرب والاستعمال من رأس اذلیس فیہ فوق ھذا باس نعم ان(۳) جری بمطر اوسیل فذک حل من دون اثم۔
میں کہتا ہوں ، جب اس حوض کا پانی نکل جائے تو پھر جواز میں کوئی شک نہیں لیکن قابلِ غور امر یہ ہے کہ آیا اُس تمام پانی کا نکال دینا جائز ہے؟ اس میں اشکال یہ ہے کہ نکال کر اگریوں ہی بہا دیا جائے تو بچہ کا مال ضائع ہوجائےگا اور کسی باغ یا کھیت وغیرہ کو لگا دیا جائے تو اُس سے نفع حاصل کرنا لازم آئےگا، اسی طرح جاری کرکے بہا دینا بھی درست نہیں اور اگر اس سے یہ تمام کام کرنا جائز ہیں تو شروع ہی سے اس کا پینا اور اس کو استعمال کرنا کیوں جائز نہیں، اُس میں اس سے زیادہ کیا حرج تھا؟ ہاں یہ صورت ہوسکتی ہے کہ بارش یا سیلاب کی وجہ سے حوض کا پانی بہہ نکلا تو وہ بلاحرج حلال ہوجائےگا۔ (ت)
ہفدہم: قال ویمکن ان یعتبر بالنجاسۃ فیحل الشرب من نحو البئر بالنزح ومن غیرھا بالجریان بحیث لوکان نجاسۃ لحکم بطھارتھا فلیتامل ۱؎ اھ۔
سترھواں: فرمایا یہ ممکن ہے کہ نجاست کا اعتبار کیا جائے، تو کنویں سے پانی نکال کر پینا جائز ہوگا، اور کنویں کے علاوہ دوسری چیزوں سے اُس پانی کے جاری ہونے کی وجہ سے پینا جائز ہوجائےگا، گویا اگر اس میں نجاست بھی ہوتی تو اس کی طہارت کا حکم دیا جاتا، فلیتامل اھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۱۲)
میں کہتا ہوں، اس پر جو اعتراض ہے وہ معلوم ہوچکا ہے، اور کل پانی کا نجاست کی صورت میں نکالنا برخلاف قیاس ہے تو اس پر آگے قیاس کس طرح ہوسکتا ہے؟ اور غالباً انہوں نے ان ابحاث کی طرف فلیتأمل سے اشارہ کیا ہے (ت)
ہیجدہم: سب(۶) سے زیادہ اہم اس کا علاج ہے کہ یہ پانی قابل استعمال کیونکر ہو سید طحطاوی نے تو اتنا فرمایا کہ اس میں حرج عظیم ہے سید شامی نے جو علاج بتائے دفع اثم کو کافی نہیں ہوتا،
واشار سیدی العارف باللّٰہ عبدالغنی النابلسی قدس سرہ، فی الحدیقۃ الی ان تفریجہ باذن الولی حیث قال فی النوع العشرین من اٰفات اللسان بعد مانقل المسألۃ عن الاشباہ وعللھا بما قدمنا مانصہ وظاھرہ الا ان یاذن الولی قال ونظیرہ عدم حل الشرب من کیزان الصبیان الاباذن الولی وکذلک فی اکل مامعھم اذا اعطوہ لاحد ۱؎ اھ۔
عارف باللہ سید عبدالغنی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس کا حل یہ ہے کہ اگر ولی اجازت دے تو جائز ہے یہ بات انہوں نے آفات اللسان کی بیسویں نوع میں اس مسئلہ کو اشباہ سے نقل کرنے اور اس کو علّت بیان کرنے کے بعد کہی ہے جس کی عبارت ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ ''مگر یہ کہ ولی اجازت دے دے'' اور اس کی مثال یہ ہے کہ بچوں کے کوزوں سے پانی پینا ولی کی اجازت ہی سے جائز ہے، اور اسی طرح دوسری کھانے والی اشیاء کا حال ہے بچّے جب وہ کسی کو دیں۔ (ت)
(۱؎ حدیقہ ندیہ النواع العشرون من افات اللسان نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۶۹)
اقول:رحم اللّٰہ سیدی ورحمنا بہ انما(۱) الولایۃ نظریۃ ولیس للولی اتلاف مالہ ولا ان یاذن بہ غیرہ کیف(۲) وقد تقرر ان التصرفات ثلاثۃ نفع محض کقبول ھبۃ فیستبدبہ الصبی العاقل ودائر بین النفع والضرر کالبیع والشراء فیحتاج الی اذن الولی وضرر محض کالطلاق والعتاق والھبۃ فلاوجہ لصحتہ ولا باذن الولی وھذا من الثالث و وجہ ھذا السھو منہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی قول الماتن فی الطریقۃ المحمدیۃ حیث ذکر السؤال المنھی عنہ
میں کہتا ہوں اللہ عبدالغنی پر رحم کرے اور ہم پر بھی ولی کی ولایت صرف نظری (بچہ کی بھلائی کیلئے) ہے ولی بچہ کا مال تلف نہیں کرسکتا ہے اور نہ دوسروں کو دے سکتا ہے، یہ بات طے شدہ ہے کہ تصرفات تین قسم کے ہیں نفع محض جیسے بچّہ کا ہبہ کا قبول کرنا، عاقل بچہ بذاتِ خود ہبہ قبول کرسکتا ہے اور ایک وہ جس میں نفع کا بھی احتمال ہے اور نقصان کا بھی۔ جیسے خریدوفروخت اس میں ولی کی اجازت ضروری ہوگی اور سراسر نقصان والی بات، جیسے طلاق، آزاد کرنا اور ہبہ کرنا، تو اس کی صحت کی کوئی صورت نہیں، ولی کی اجازت سے بھی نہیں، اور یہ تیسری قسم ہی میں شامل ہے، اُن کو یہ سہو اس لئے لاحق ہوا کہ ماتن نے طریقہ محمدیہ میں منہی عنہ کے سوال کا ذکر کیا ہے۔
ثم قال(۳) (حرمۃ السؤال لاتقتصر علی المال بل تعم الاستخدام خصوصا اذا کان صبیا اومملوکا للغیر۔ اماصبی(۴) نفسہ فیجوز) للاب والام والجد والجدۃ (استخدامہ ان کان) المستخدم (فقیرا) لاقدرۃ لہ علی شراء خادم اواستئجارہ (اواراد تھزیبہ وتأدیبہ ۱؎ بخلاف عــہ۱ استخدام مملوکہ واجیرہ وزوجتہ(۱) فی مصالح البیت وتلمیذہ) فی تعلیم قراٰن اوعلم اوصنعۃ (باذنہ) یعنی برضاہ (ان کان بالغا اوباذن ولیہ ان کان صبیا) فان الصبی محجور علیہ من التصرف فی مالہ فی منافع نفسہ الا باذن الولی ۲؎ اھ۔ ملتقطا، مزیدا من شرحۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فالاذن(۲) الذی ذکرہ الماتن فی استخدامہ عداہ الی مالہ وشتان ماھما فان فی الاول نفعہ من تأدیبہ وتھذیبہ مع ضرر استعمالہ فکان من القسم الثانی فجاز باذن الولی بخلاف الثالث والذی(۳) افاد من حل الشرب من کوز الصبی واکل مامعہ باذن الولی۔(ت)
پھر یہ لفظ کہے ہیں ''حرمۃ السؤال لاتقتصر علی المال الخ سوال جو بے ضرورت شرعیہ حرام ہے یہ صرف مال مانگنے پر ہی موقوف نہیں بلکہ اجنبی سے کسی خدمت کا کہنا بھی حرام سوال میں داخل ہے خصوصاً دوسرے کے نابالغ بچے یا غلام سے۔ اگر کسی کا اپنا بچہ ہے تو باپ، ماں، دادا اوردادی کیلئے (اس سے خدمت لینا جائز ہے، اگر) خدمت لینے والا (فقیر ہو) خادم نہ خرید سکا ہو یا کسی کو ملازم نہ رکھ سکتا ہو (یا بچہ کی تہذیب وتربیت کا ارادہ ہو مگر اس شرط میں غلام، مزدور، بیوی سے گھر کا کام کاج کرانا شامل نہیں کہ ان سے بغیر احتیاج کے گھر کا کام لینا جائز ہے اور شاگرد سے خدمت لینا درست ہے مثلاً طالبعلم سے قرآن سکھانے یا کوئی علم سکھانے یا کسی حرفت کے سکھانے کا کام لیا جائے (اس کی مرضی سے، اگر وہ بالغ ہے، ورنہ اس کے ولی کی رضا سے اگر وہ بچّہ ہے) کیونکہ بچہ اپنی منفعت کیلئے بھی اپنے مال میں ولی کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ہے اھ ملتقطاً ہے اور شرح سے اضافہ ہے تو وہ اجازت جس کا ذکر ماتن نے کیا ہے اس کے استخدام ہیں، تو شارح نے اس کو مال تک بڑھا دیا ہے اور دونوں میں بہت فرق ہے، کیونکہ پہلی صورت میں اس کا نفع ہے کہ اس کی تادیب وتہذیب ہے جبکہ اُس سے کام کرانے میں ضرر بھی ہے، تو یہ دوسری قسم میں داخل ہوا، اس لئے ولی کی اجازت سے جائز ہوگا، جبکہ تیسرا ایسا نہیں ہے، اور جس کا انہوں نے فائدہ دیا ہے وہ بچہ کے کُوزہ سے پانی پینے کا جواز ہے یا جو چیز بچّہ کے پاس ہے اس کے کھانے کا جواز ہے ولی کی اجازت سے۔ (ت)
(۱؎ حدیقہ ندیہ النوع العشرون من افات اللسان نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۲۶۷)
(۲؎ حدیقہ ندیہ النوع العشرون من افات اللسان نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۲۶۸)
عــہ۱ :ناظراً الی قولہ اذا کان صبیا اومملوکا للغیر ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) اس کے قول اذا کان صبیا او مملوکا للغیر کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ (ت)
فاقول: محلہ(۱) اذا کان الماء والطعام للولی اعطاھما الصغیر علی وجہ الاباحۃ دون الھبۃ فحینئذ یکون للولی ان یاذن لمن شاء فبقائھما علی ملکہ بخلاف مااذا کان الشی مملوکاً للصغیر فلا معنی اذًا لاذن الولی باستھلاکہ من دون عوض وقد تقدمت مسألۃ الذخیرۃ والمنیۃ ومعراج الدرایۃ فی ماء جاء بہ الصبی من الوادی لایجوز لابویہ الشرب منہ الا فقیرین ۱؎۔
تو میں کہتا ہوں اگر پانی اور کھانا ولی کا ہے اور بطورِ اباحت (نہ بطور ہبہ) اس نے بچہ کو دے رکھا ہے تو ایسی صورت میں ولی کسی کو بھی اجازت دے سکتا ہے، کیونکہ یہ دو چیزیں اب بھی ولی کی ملکیت میں باقی ہیں یہ اُس صورت سے مختلف ہے جبکہ یہ اشیاء بچہ کی ملکیت میں ہوں تو ایسی صورت میں ولی کی اجازت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ولی کی اجازت سے صغیر کے مال کو بغیر عوض ضائع کرنا لازم آئےگا اور یہ جائز نہیں اور ذخیرہ، منیہ اور معراج الدرایہ کا مسئلہ گزر چکا ہے کہ بچّہ وادی سے جو پانی لائے اس کو والدین کے لئے پینا جائز نہیں سوائے اس صورت کے کہ وہ فقیر ہوں۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بالمعنی باب الشرب البابی مصر ۵/ ۳۱۲)