سوم: صبی کی خصوصیت نہیں معتوہ بھی اسی کے حکم میں ہے کما تقدم۔
چہارم: جس طرح کلامِ علما ء میں پینے کا ذکر مثال ہے مراد کسی قسم کا استعمال ہے اسی طرح کچھ یہی شرط نہیں کہ حوض یا کنویں سے پانی لے کر ہی ان میں ڈالے یا جس حوض یا چاہ سے لیا اس میں واپس دے یا وہ نابالغ ہی اپنے ہاتھ سے ڈالے بلکہ مقصود اُسی قدر ہے کہ مال مباح میں نابالغ کی مِلک کا اس طرح مل جانا کہ جُدا نہ ہوسکے تو اگر صبی(۱) کی مِلک کا پانی اُس کے گھر سے لا کر کسی شخص اگرچہ خواہ اُس کے ولی نے کسی کنویں یا مباح حوض میں ڈال دیا اس کا استعمال تابقائے آب مذکور ناجائز ہوگیا۔
پنجم: ظاہر ہے کہ یہ عدم جواز اوروں کے حق میں بوجہ اختلاط ملکِ صبی ہے خود صبی استعمال کرسکتا ہے کہ وہ نہیں مگر اسکی ملک یا مباح۔
ششم: اُس کے(۲) ماں باپ بھی بشرطِ حاجت بالاتفاق اور بلاحاجت روایت امام محمد پر استعمال کرسکتے ہیں تو لایحل لاحد (کسی کیلئے جائز نہیں۔ ت) عام مخصوص ہے۔
ہفتم: اگر وہ کنواں یا حوض ترک کردیں اور صبی بلوغ کو پہنچے اور اُس وقت اس پانی کو مباح کردے تو اب کوئی مانع نہیں۔
ہشتم: اگر وہ صبی انتقال کرجائے اس کے سب ورثہ عاقل بالغ ہوں تو اب ان کی اجازت پر دقّت نہ رہے گی اور اگر ایک ہی وارث ہے تو اسے خود حلال خالص ہے کسی کی اجازت کی بھی حاجت نہیں۔
نہم: اگر وہ پانی کہ صبی کی ملک سے اُس میں مخلوط ہوا باقی نہ رہے تو اب سب کو مباح ہوجائےگا کہ مانع زائل ہوگیا۔
دہم: مسئلہ(۳) سابقہ یعنی نابالغ کے بھرے ہوئے پانی میں جو ایک صورتِ جواز اُس سے اگر ماذون ہو ورنہ اُس کے دل سے خرید لینے کی تھی یہاں جاری نہیں ہوسکتی کہ مِلکِ صبی کا پانی جب اُس آبِ مباح میں مل گیا قابلِ بیع نہ رہا کہ مقدور التسلیم نہیں۔
یاز دہم: آبِ مباح کی ضرورت بھی اُس حالت میں ہے کہ بچّہ کا اُس میں سے بھر کر اُس میں ڈال دینا لیں کہ مباح پر ملک یوں ہی ہوگی ورنہ(۴) مِلک نابالغ کا پانی اگر کسی کے مملوک پانی میں مل جائے گا تو اُس کا استعمال بھی حرام ہوجائےگا حتی کہ اُس مالک آب کو۔
دواز دہم: ایک یا دونوں طرف کچھ پانی کی خصوصیت نہیں بلکہ کسی کے(۵) مملوک پانی میں بچے کی مِلک کا عرق یا دودھ یا کسی کے مملوک عرق یا دُودھ میں بچّے کی ملک کا پانی یا چاول میں چاول گیہوں میں گیہوں مل جائیں جب بھی یہی حکم ہے کہ اس میں تصرف خود مالک کو بھی حرام ہوگیا تو مسئلہ کی تصویر(۱) یوں ہونی چاہئے کہ اگر کسی شے مباح یا مملوک میں کسی غیر مکلف کی مِلک اس طرح خلط ہوجائے کہ تمیز ناممکن ہو اگرچہ یونہی کہ مثلاً مباح غیر مملوک پانی سے صبی یا معتوہ حر غیر اجیر نے بھرا اور اگر وہ کنواں ہے تو اُس سے بھر کر باہر نکال لیا اور اگر اجیر ہے تو نہ وقت معین نہ وہ مباح معین نہ یہ مستاجر کیلئے لینے کا مقر نہ اُس کے ظرف میں لیا پھر ان صورتوں میں اُس کا کوئی حصّہ اُس میں کسی نے ڈال دیا یا پڑ گیا تو جب تک اُس غیر مکلّف کی مِلک اُس مباح یا مملوک میں باقی ہے اور وہ غیر مکلف ہے اور مِلک اُس سے منتقل نہ ہوگئی اُس وقت اُس غیر مکلّف یا بحال حاجت خواہ ایک روایت پر پانی میں مطلقاً اُس کے ماں باپ کے سوا کسی کواُس میں تصرف حلال نہیں۔