Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
137 - 176
سوم: صبی کی خصوصیت نہیں معتوہ بھی اسی کے حکم میں ہے کما تقدم۔

چہارم: جس طرح کلامِ علما ء میں پینے کا ذکر مثال ہے مراد کسی قسم کا استعمال ہے اسی طرح کچھ یہی شرط نہیں کہ حوض یا کنویں سے پانی لے کر ہی ان میں ڈالے یا جس حوض یا چاہ سے لیا اس میں واپس دے یا وہ نابالغ ہی اپنے ہاتھ سے ڈالے بلکہ مقصود اُسی قدر ہے کہ مال مباح میں نابالغ کی مِلک کا اس طرح مل جانا کہ جُدا نہ ہوسکے تو اگر صبی(۱) کی مِلک کا پانی اُس کے گھر سے لا کر کسی شخص اگرچہ خواہ اُس کے ولی نے کسی کنویں یا مباح حوض میں ڈال دیا اس کا استعمال تابقائے آب مذکور ناجائز ہوگیا۔

پنجم: ظاہر ہے کہ یہ عدم جواز اوروں کے حق میں بوجہ اختلاط ملکِ صبی ہے خود صبی استعمال کرسکتا ہے کہ وہ نہیں مگر اسکی ملک یا مباح۔ 

ششم: اُس کے(۲) ماں باپ بھی بشرطِ حاجت بالاتفاق اور بلاحاجت روایت امام محمد پر استعمال کرسکتے ہیں تو لایحل لاحد (کسی کیلئے جائز نہیں۔ ت) عام مخصوص ہے۔

ہفتم: اگر وہ کنواں یا حوض ترک کردیں اور صبی بلوغ کو پہنچے اور اُس وقت اس پانی کو مباح کردے تو اب کوئی مانع نہیں۔

ہشتم: اگر وہ صبی انتقال کرجائے اس کے سب ورثہ عاقل بالغ ہوں تو اب ان کی اجازت پر دقّت نہ رہے گی اور اگر ایک ہی وارث ہے تو اسے خود حلال خالص ہے کسی کی اجازت کی بھی حاجت نہیں۔

نہم: اگر وہ پانی کہ صبی کی ملک سے اُس میں مخلوط ہوا باقی نہ رہے تو اب سب کو مباح ہوجائےگا کہ مانع زائل ہوگیا۔

دہم: مسئلہ(۳) سابقہ یعنی نابالغ کے بھرے ہوئے پانی میں جو ایک صورتِ جواز اُس سے اگر ماذون ہو ورنہ اُس کے دل سے خرید لینے کی تھی یہاں جاری نہیں ہوسکتی کہ مِلکِ صبی کا پانی جب اُس آبِ مباح میں مل گیا قابلِ بیع نہ رہا کہ مقدور التسلیم نہیں۔

یاز دہم: آبِ مباح کی ضرورت بھی اُس حالت میں ہے کہ بچّہ کا اُس میں سے بھر کر اُس میں ڈال دینا لیں کہ مباح پر ملک یوں ہی ہوگی ورنہ(۴) مِلک نابالغ کا پانی اگر کسی کے مملوک پانی میں مل جائے گا تو اُس کا استعمال بھی حرام ہوجائےگا حتی کہ اُس مالک آب کو۔

دواز دہم: ایک یا دونوں طرف کچھ پانی کی خصوصیت نہیں بلکہ کسی کے(۵) مملوک پانی میں بچے کی مِلک کا عرق یا دودھ یا کسی کے مملوک عرق یا دُودھ میں بچّے کی ملک کا پانی یا چاول میں چاول گیہوں میں گیہوں مل جائیں جب بھی یہی حکم ہے کہ اس میں تصرف خود مالک کو بھی حرام ہوگیا تو مسئلہ کی تصویر(۱) یوں ہونی چاہئے کہ اگر کسی شے مباح یا مملوک میں کسی غیر مکلف کی مِلک اس طرح خلط ہوجائے کہ تمیز ناممکن ہو اگرچہ یونہی کہ مثلاً مباح غیر مملوک پانی سے صبی یا معتوہ حر غیر اجیر نے بھرا اور اگر وہ کنواں ہے تو اُس سے بھر کر باہر نکال لیا اور اگر اجیر ہے تو نہ وقت معین نہ وہ مباح معین نہ یہ مستاجر کیلئے لینے کا مقر نہ اُس کے ظرف میں لیا پھر ان صورتوں میں اُس کا کوئی حصّہ اُس میں کسی نے ڈال دیا یا پڑ گیا تو جب تک اُس غیر مکلّف کی مِلک اُس مباح یا مملوک میں باقی ہے اور وہ غیر مکلف ہے اور مِلک اُس سے منتقل نہ ہوگئی اُس وقت اُس غیر مکلّف یا بحال حاجت خواہ ایک روایت پر پانی میں مطلقاً اُس کے ماں باپ کے سوا کسی کواُس میں تصرف حلال نہیں۔
سیز دہم:حدیث العبد والامۃ ردہ ش بان العبد لایملک وان ملک فیکون لمالکہ لانہ مالک اکسابہ ۱؎ اھ۔
سیزدہم: غلام اور باندی کے مسئلہ کو ''ش'' نے یہ کہہ کر رد کیا ہے کہ غلام پانی کا مالک نہیں بنے گا اور اگر مالک ہوگا بھی تو وہ پانی اُس کے مالک کی ملکیت میں آجائے گا کیونکہ اس کی تمام کمائی کا مالک اُس کا مالک ہی ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    فصل فی الشرب    مصطفی البابی مصر    ۵/ ۳۱۲)
اقول:ماکانوا(۲)  لیذھلوا عن مثل ھذا وانما القصد ابانۃ الفرق بین الحر العاقل البالغ وبین الصبی والمعتوہ والرقیق فان الاول اذا ملأ ملک فاذا صب اباح وھؤلاء لایملکون الاباحۃ فلا یحل بصبھم ولیس المراد تأبید التحریم بل الٰی ان تلحق الاجازۃ ممن ھی لہ ففی الصبی اوالمعتوہ حتی یبلغ اویعقل فیجیز وفی الرقیق(۳) حتی یجیز المالک المکلف الحاضر حالا اوماٰلا اویبلغ الغائب اویبلغ الصبی اویفیق المعتوہ فیجیزوا۔
میں کہتا ہوں فقہاء سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ اتنی معمولی سی بات اُن کے ذہن میں نہ آئی ہو، دراصل ان کا مقصود آزاد عاقل بالغ اور بچہ، بیوقوف اور غلام کے درمیان فرق کو ظاہر کرنا ہے، کیونکہ آزاد شخص جب پانی بھرے گا تو مالک ہوجائےگا اور جب بہائے گا تو مباح کردے گا، اور یہ لوگ اباحت کا حق نہیں رکھتے ہیں، لہٰذا پانی ان کے انڈیل دینے سے مباح نہ ہوگا اور مراد یہ نہیں کہ حرمت ہمیشہ رہے گی، بلکہ یہ اس وقت تک ہے جب تک کہ اس کا مالک اجازت نہ دے دے ، چنانچہ بچہ اور بیوقوف کی صورت میں بلوغ یا عقل کی درستی کے بعد اجازت دینے سے اس کا پینا حلال ہوجائےگا اور غلام کی صورت میں اس کے آقا کی اجازت سے جو مکلف حاضر ہوفی الحال یا فی المآل، یا غائب پہنچ جائے یا بچہ بالغ ہوجائے یا بیوقوف عاقل ہوجائے، اور وہ اجازت دے دیں۔ (ت)
چار دہم: عدش من اشکالاتہ انہ لویبین متی یحل الشرب منہ ۱؎ اھ۔ واشرت(۱) الی جوابہ بقولی مابقی فیہ ذلک الماء لان المنع لاجلہ فاذا ذھب ذھب۔
چہار دہم: "ش"نے اس پر یہ اشکال محسوس کیا ہے کہ انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ اس کا پینا کب حلال ہوگا اھ۔ میں نے اس کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تک اس میں یہ پانی باقی ہے کیونکہ حرمت اسی کی وجہ سے ہے جب یہ ختم ہوجائےگا تو حرمت بھی ختم ہوجائے گی۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    فصل فی الشرب    مصطفی البابی مصر    ۵/ ۳۱۲)
پانزدہم: قال وھی ثم فرق بین الحوض الجاری اومافی حکمہ وبین غیرہ ۲؎ اھ۔
پندرھواں، کیا حوض جاری اور جو اس کے حکم میں ہے اس میں اور دوسرے پانیوں میں اس سلسلہ میں فرق ہے؟ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار    فصل فی الشرب    مصطفی البابی مصر    ۵/ ۳۱۲)
Flag Counter