| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
تنبیہ ۴ : معتوہ(۲) بوہرا جس کی عقل ٹھیک نہ ہو تدبیر مختل ہو کبھی عاقلوں کی سی بات کرے کبھی پاگلوں کی مگر مجنون کی طرح لوگوں کو محض بے وجہ مارتا گالیاں دیتا اینٹیں پھینکتا نہ ہو وہ تمام احکام میں صبی عاقل کی مثل ہے تو یہ سب احکام بھی اُس میں یوں ہی جاری ہوں گے۔ اقول: مگر غنی ماں(۳) باپ کا اُس کے بھرے ہوئے سے انتفاع امام محمد سے دربارہئ صبی مروی اور اُس کا مبنی عرف وعادت اور معتوہ میں اس کی عادت ثابت نہیں اور منع میں بوجہ ندرتِ عتہ لزوم حرج نہیں تو یہاں ظاہراً قول اول ہی مختار ہونا چاہئے واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ فائدہ: یہاں تک وہ پانی تھے جن میں اُن کا غیر نہ مِلا آگے خلط غیر کی صورتیں ہیں۔ (۴۹ تا ۶۵) کتب کثیرہ معتمدہ میں تصریح ہے کہ اگر نابالغ(۴) نے حوض میں سے ایک کوزہ بھرا اور اس میں سے کُچھ پانی پھر اُس حوض میں ڈال دیا اب اُس کا استعمال کرنا کسی کو حلال نہ رہا۔
فی ش(۱) عن ط(۲) عن الحموی(۳) عن الدرایۃ(۴) عن الذخیرۃ(۵) والمنیۃ(۶) وفی غمزالعیون(۷) عن شرح المجمع(۸) لابن الملک عن الذخیرۃ وفی الاشباہ(۹) من احکام الصبیان وفی الحدیقۃ الندیۃ(۱۰) عن الاشباہ فی النوع العشرین من افات اللسان وفی غیرھا من الکتب الحسان عبد اوصبی اوامۃ ملأ الکوز من ماء الحوض واراق بعضہ فیہ لایحل لاحدان یشر من ذلک الحوض لان الماء الذی فی الکوز یصیر ملکا للاٰخر فاذا اختلط بالماء المباح ولا یمکن التمییز لایحل شربہ ۱؎۔
ش میں ط سے حموی سے درایہ سے ذخیرہ سے اور منیہ سے ہے اور غمز العیون میں شرح مجمع سے (یہ ابن ملک کی کتاب ہے) ذخیرہ سے ہے، اور اشباہ میں (احکام الصبیان میں) اور حدیقہ ندیہ میں اشباہ (آفات اللسان کی بیسویں نوع میں) اور دوسری کتب میں ہے کسی غلام بچّے یا باندی نے حوض کے پانی س لوٹا بھرا پھر اس میں سے کچھ اُسی کے اندر انڈیل دیا تو اب کسی کے لئے جائز نہیں کہ اِس حوض سے پانی پئے کیونکہ حوض کا پانی لینے والے کی ملک ہوجاتا ہے تو جب یہ ملک مباح سے مل گیا اور اس میں تمییز ممکن نہیں تو اس کا پینا حلال نہ ہوگا عہ ۲۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵/۲)
عہ۲:حکم کی شدت نے اس مسئلہ کو مشکل بنا دیا ہے کیونکہ عوام وخواص کے ابتلاء کی وجہ سے یہ حکم بموجب حرج اور تنگی ہے جبکہ ابتلاء عوام داعی یسر و آسانی ہے اللہ تعالٰی بے حساب رحمتیں نازل فرمائے فقہاءِ کرام پر جنہوں نے اللہ تعالٰی کی مخلوق پر شفقت فرمائی اور ایسے پیچیدہ اور مشکل مسائل کو حل فرمایا جس سے عوام الناس کیلئے آسانی اور سہولت کی راہ ہموار ہوئی چنانچہ امام احمد رضا بریلوی (مصنف)نے اس مسئلہ کی شدّت کو محسوس فرمایا اور انہوں نے فقہاء احناف کے اقوال کی روشنی میں اس کا حل صفحہ ۵۳۷ پر خود بیان فرمایا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے مسئلہ مذکورہ اگرچہ جنابت وطہارت کا نہیں بلکہ اسکا تعلق حظرو اباحت سے ہے، تاہم پاک پانی میں نجس پانی کے اختلاط کے مسئلہ میں فقہاءِ احناف کے بیان کردہ قواعد کی روشنی میں اس کو حل کیا جاسکتا ہے عراقی فقہاء نے پاک پانی میں نجس پانی گرنے سے متعلق فرمایا کہ بڑے حوض کے کثیر پانی میں جس جگہ نجس پانی گرا ہو اس جگہ کو چھوڑ کر باقی حوض سے وضو جائز ہے کیونکہ باقی جگہوں تک نجاست کا پہنچنا مشکوک ہے لہٰذا شک کی بنا پر باقی پانی کی طہارت زائل نہ ہوگی جبکہ جمہور فقہاء نے ایسی صورت میں تمام حوض حتّی کہ جس جگہ نجاست گری ہے اس جگہ پر بھی وضو کو جائز فرمایا کیونکہ پانی طبعی طور پر سیال ہے اور ہواؤں وغیرہ کی تحریک کی وجہ سے پانی ایک جگہ ساکن نہیں رہتا لہٰذا حوض کے باقی حصّوں میں نجاست پہنچنے نہ پہنچنے کے احتمال کی وجہ سے باقی بلکہ تمام پانی کو بالیقین نجس نہیں کہہ سکتے لہٰذا نجاست کا یقین زائل ہوجانے پر پانی کا اصل حکم یعنی طہارت باقی رہے گا اس طرح حوض کے ہر حصہ کے پانی کو پاک قرار دیا جائیگا، عراقی یا جمہور فقہاء کرام کے ضابطہ پر نابالغ بچّے کی ملکیت پانی کو قیاس کرتے ہوئے مذکورہ مشکل مسئلہ کا حل واضح ہوجاتا ہے، عراقی ضابطہ کے پیش نظر جہاں نابالغ بچّے کا پانی گرا اُس جگہ کو چھوڑ کر باقی تمام پانی کا استعمال مباح ہوگا جبکہ جمہور فقہاء کے ضابطہ کے تحت نابالغ کے پانی گرنے کی جگہ سمیت تمام پانی مباح ہوگا مصنّف کی اصل عبارت میں تفصیل موجود ہے۔ عبدالستار سعیدی
علامہ طحطاوی وعلامہ شامی نے اسے نقل کرکے فرمایا اس حکم میں حرج عظیم ہے۔ اقول: یہاں بہت استثنا وتنبیہات ہیں: اول: مراد (۱) آب مباح غیر مملوک ہے تو حکم نہ ہر حوض کو شامل نہ حوض سے خاص بلکہ کنوؤں کو بالعموم حاوی ہے کہ کُنواں اگرچہ مملوک ہو اس کا پانی مملوک نہیں کما تقدم تحقیقہ (جیسا کہ اس کی تحقیق گزر چکی ہے۔ت) اور وہ حوض جس کا پانی مملوک ہے اُس کا مالک اگر عاقل بالغ ہے تو بچّہ ہزار باراس میں سے پانی بھر کر اس میں پلٹ دے کچھ حرج نہ آئے گا کہ مال جس کا(۲) تناول اس کے مالک نے مباح کیا ہو بعد اخذ تصرف بھی ملکِ مالک سے خارج نہیں ہوتا یہاں تک کہ دعوت کا کھانا کھاتے وقت بھی میزبان ہی کی مِلک پر کھایا جاتاہے تو بچہ اس پانی کا مالک ہی نہ ہوگا اصل پانی کی ملک پر رہے گااور ڈال دینے سے اُسی کی ملک میں جائےگا۔ دوم: ہماری تحقیقاتِ بالا سے واضح ہوا کہ ہر مباح بھی مطلقاً آخذ کی ملک نہیں ہوجاتا تو پانی کو مباح ومملوک کو شامل لے کر وہی سترہ۱۷ صورتیں یہاں بھی پیدا ہوں گی جو نابالغ کے بھرے ہوئے پانی میں گزریں نو۹ صورتوں میں وہ پانی اُس بھرنے والے کی مِلک نہ ہوگا بلکہ ا صل مالکِ آب یا مستاجر یا مولٰی کی مِلک ہوگا وہ اگر عاقل یا بالغ نہیں تو البتہ یہی دقّت عود کرے گی ورنہ اُس عاقل بالغ کی اجازت پر توقف رہے گا۔