| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول:وعرفھم الحادث علی خلاف الشرع لایعبؤبہ فانہ لم یکن فیمن مضی من اھل الخیر ومر الامام الکسائی رحمہ اللّٰہ تعالٰی علی سکۃ عطشان فاستسقی من بعض بیوتھا ثم تذکر انہ اقرأ بعض اھلھا فمرولم یشرب۔
اقول: اور ان کی نئی اصطلاح جو شریعت کے برخلاف ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں یہ اصطلاح سلف صالحین کے زمانہ میں نہ تھی۔ ایک مرتبہ امام کسائی کا گزر ایک گلی سے ہوا آپ پیاسے تھے تو ایک گھر سے پانی طلب کیا، پھر انہیں یاد آیا کہ انہوں نے اس گھر کے کچھ لوگوں کو پڑھایا ہے، چنانچہ آپ نے پانی واپس کردیا اور پیاسے ہی وہاں سے گزر گئے۔ (ت) تنبیہ۲:کنویں کا پانی جب تک کنویں سے باہر نہ نکال لیا جائے کسی کی مِلک نہیں ہوتا
فان سببہ الملک الاحراز ولا احراز الابعد التنحیۃ عن رأس البئرعــر۱
(سبب مِلک احراز ہے اور احراز پانی کو کنویں کی منڈیر سے الگ کرنے کے بعد ہوتا ہے۔ ت) تو استاد(۱) جسے بچّے سے خدمت لینے کا اختیار ہے یہ کرسکتا ہے کہ پانی بچّے سے بھروائے یہاں تک کہ ڈول کنویں کے لب تک آئے اُس کے بعد خود اسے نکال لے کہ یہ پانی بچّے کی مِلک نہ ہوگا بلکہ خود اُس کی۔
عــ۱ اس کی تحقیق نمبر ۲۶ میں گزری ۱۲ (م)
فی الھندیۃ عن القنیۃ والساقین من البئر لایملک بنفس ملأ الدلو حتی ینحیہ عن رأس البئر ۱؎ اھ۔
ہندیہ میں قنیہ سے منقول ہے کہ جو شخص کنویں سے پانی بھرتا ہے وہ محض ڈول کے بھرنے سے پانی کا مالک نہیں ہوجائےگا، اُس وقت مالک ہوگا جب اُس پانی کو کنویں کی منڈیر سے الگ کرکے رکھ دے اھ ۔
(۱؎فتاوٰی ہندیۃ الباب من کتاب الشرب نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۹۲)
وفی ردالمحتار لواحرزہ فی جرۃ اوجب اوحوض مسجد من نحاس اوصفر اوجص وانقطع جریان الماء فانہ یملکہ وانما عبربالاحراز لا الاخذ اشارۃ الی انہ لوملأ الدلو من البئر ولم یبعدہ عن رأسھا لم یملک عند الشیخین رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما اذ الاحراز جعل الشیئ فی موضع حصین ۲؎ اھ۔
اور ردالمحتار میں ہے اگر کسی نے ٹھلیا، مٹکے یا مسجد کے حوض میں پانی جمع کیا، یہ حوض تانے، پیتل یا گچ کا ہو، اور اس طرح پانی کا بہنا بند ہوگیا ہو تو وہ اس کا مالک ہوجائےگا، انہوں نے اس کو اِحراز سے تعبیر کیا، اخذ سے نہیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر ڈول کنویں سے بھرا مگر وہاں سے ہٹایا نہیں تو شیخین کے نزدیک وہ اس کا مالک نہ ہوگا کیونکہ ''اِحراز'' کے معنی کسی چیز کو محفوظ جگہ پر رکھنے کے ہیں اھ۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۱۱)
اقول: فاذالم یملکہ کان باقیا علی اباحتہ فالذی نحاہ ھو الذی احرز المباح فیملکہ اھ۔
میں کہتا ہوں جب یہ شخص اس طرح اس کا مالک نہ ہوا تو پانی اپنی اباحت پر ہی باقی رہا، تو جس نے اس کو کنویں سے ایک طرف ہٹا کے رکھا اس نے اس اس کو محفوظ کیا تو وہی اس کا مالک ہوا۔ (ت)
تنبیہ ۳: بہشتیوں (۱) کے بچّے اکثر کنویں پر پانی بھرتے ہیں لوگوں کی عادت ہے کہ ان سے وضو یا پینے کو لے لیتے ہیں یہ حرام ہے اور عوام کو اس میں ابتلائے عام ہے ولا حول ولا قوۃ ا لّا باللہ العلی العظیم۔ اقول: مگر یہاں(۲) ایک دقیقہ ہے یہ بچّے داموں پر پانی بھرتے ہیں اور کہیں مشکیں مقرر ہوتی ہیں کہیں گھر کے برتن معین یہ شخص جس نے نابالغ بہشتی سے پانی لیا اگر وہ(۱) اس کے یہاں نہیں بھرتا تو اسے مطلقاً جائز نہیں اور اگر بھرتا ہے مگر یہ(۲) مشک جسے وہ بھررہا تھا اور اُس کے ڈول سے پانی اس نے لیا دوسرے کے یہاں لے جائے گا تو ناجائز ہے اور اگر (۳) اسی کے یہاں لے جانے کو ہے مگر قرار داد برتنوں کا بھرنا ہے اور وہ پورے بھر دئے جائیں گے تو ناجائز ہے کہ یہ پانی اُس سے زائد ہے یوں(۴) ہی اگر مشکوں کا قرار داد ہے اور یہ مشک بھی اُس سے پُوری لی تو ناجائز ہے ہاں(۵) اگر یہ مشک اتنی خالی لی تو ایسا ہوا کہ اتنا پانی گھر پر نہ پہنچوایا یہیں لے لیا یا (۶)برتنوں کا قرارداد ہے اور اتنا خالی رکھنے کو کہہ دیا یا(۷) جس دوسرے کے یہاں یہ مشک لے جاتا ہے اُس سے اس قدر پانی کی اجازت لے لی اور اُس نے مشک یا برتن اتنے خالی رکھوائے تو جائز ہونا چاہئے کہ اگرچہ پانی(۱) ابھی سقا ہی کی مِلک تھا جب برتنوں میں ڈالے گا اُس وقت اس کی بیع ہوگی اور جس کے یہاں بھرا گیا اُس کی مِلک ہوگا یہ اس لئے کہ بہشتی اجیر مشترک ہیں نہ اُن کا وقت معین ہوتا ہے نہ اتنا پانی قابل تعین ہے اور اپنے ڈول سے بھرتے ہیں اور جب تک مشک کہیں ڈال نہ دیں پانی اپنا ہی جانتے ہیں اُس میں جو چاہیں تصرف کرتے ہیں لہٰذا اُس وقت تک پانی انہی کا ہوتا ہے مگر مقصود اس مول لینے والا کا قبضہ ہے اور اس کی اجازت سے جو تصرف ہو وہ اسی کا قبضہ ہے اگر دس مشکیں اس کے یہاں ٹھہری ہوئی ہیں اور وہ کہے کہ اُن میں سے دو کا چھڑکاؤ یہیں سڑک پر کر دو ضرور بیع صحیح ہوجائیگی اسی طرح اگر اس میں سے ایک لوٹا یا جس قدر چاہا زید کو دلوایا، ھذا ماظھرلی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ (ت)