Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
134 - 176
اقول:وقدم(۱) قاضی خان قول ابی یوسف واخر فی الھدایۃ دلیلہ فافادا ترجیحہ وقال فی البحر تحت قول الکنز ان کان بغیر عینہ فالشراء للوکیل الا ان ینوی للموکل اویشتریہ بمالہ مانصہ ظاھر مافی الکتاب ترجیح قول محمد من انہ عند عدم النیۃ یکون للوکیل لانہ جعلہ للوکیل الا فی مسألتین ۲؎ اھ۔ ای النیۃ للموکل واضافۃ العقد الی مالہ اذھو المراد من الشراء بمالہ کما فی الھدایۃ فاذالم یضف ولم ینو کان للعاقد کما ھومذہب محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔
میں کہتا ہوں قاضی خان نے ابو یوسف کا قول مقدم کیا ہے اور ہدایہ میں اس کی دلیل کو موخر کیا ہے جس سے اس کی ترجیح معلوم ہوتی ہے، اور بحر نے کنز کے اس قول کے تحت فرمایا کہ اگر غیر معین چیز کے خریدنے کا وکیل بنایا تو شراء وکیل کیلئے ہے، مگر یہ کہ موکل کی نیت کرلے یا اس کو اپنے مال سے خریدے۔ ان کی عبارت یہ ہے کتاب میں جو ہے اس سے بظاہر محمد کے قول کی ترجیح معلوم ہوتی ہے، یعنی یہ کہ نیت نہ ہونے کی صورت میں وہ شراء وکیل کیلئے ہوگی ، کیونکہ انہوں نے شراء وکیل کیلئے ہی کی ہے سوائے دو مسئلوں کے اھ ۔یعنی یہ کہ نیت موکل کیلئے ہو اور اضافت اُس کے مال کی طرف ہو، اس لئے کہ اس کے مال سے خریدنے کا یہی مطلب ہے، جیسا کہ ہدایہ میں ہے، توجب اضافت نہ کی اور نیت بھی نہ کی تو عاقد کیلئے ہوگی جیسا کہ محمد رحمہ اللہ تعالی کا مذہب ہے۔ (ت)
 (۲؎ بحرالرائق        وکا لۃ بالبیع والشراء    سعید کمپنی کراچی    ۷ /۱۶۰)
اقول:لکن(۱) الامام ابا یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی انما حکم النقد لانہ دلیل النیۃ قال فی الھدایۃ عند ابی یوسف یحکم النقد لان مع تصادقھما یحتمل النیۃ للاٰمر وفیما قلناہ حمل حالہ علی الصلاح کما فی حالۃ التکاذب ۱؎ قال فی العنایۃ (یحتمل) انہ کان نوی للاٰمر ونسیہ (وفیما قلنا) یعنی تحکیم النقد (حمل حالہ علی الصلاح) لانہ اذا کان النقد من مال الموکل والشراء لہ کان غصبا (کما فی حالۃ التکاذب ۲؎) اھ۔ فعلم ان تحکیم النقد داخل فی اعتبار النیۃ ولایستغرب مثلہ فی ایجاز الکنز۔
میں کہتا ہوں، لیکن امام ابویوسف نے نقد کو حکم بنایا کیونکہ وہ نیت کی دلیل ہے۔ ہدایہ میں فرمایا ابویوسف کے نزدیک نقد کو حکم بنایا جائیگا، کیونکہ اگر وہ دونوں اتفاق کرلیں تو احتمال ہے کہ نیت حکم دینے والے کی ہو، اور جو ہم نے کہا ہے اس میں اُس کے حال کو صلاح پر محمول کیا گیا ہے، جیسے کہ دونوں ایک دوسرے کو جھٹلانے کی صورت میں ہے، عنایہ میں فرمایا (احتمال ہے) کہ اُس نے حکم دینے والے کیلئے نیت کی ہو اور پھر بھُول گیا ہو (اور جو ہم نے کہا اُس میں) اس سے مراد نقد کو حکم بنانا ہے (اس کے حال کو صلاح پر محمول کرنا ہے) کیونکہ جب ادائیگی موکل کے مال سے ہو اور خریدنا اس کے لئے ہو تو یہ غصب ہوگا (جیسے کہ ایک دوسرے کو جھٹلانے کی صورت میں ہے) اھ۔ تو معلوم ہوا کہ نقد کو حکم بنایا نیت کے اعتبار میں داخل ہے اور کنز کے ایجاز میں ایسی بات عجیب نہیں ہے۔ (ت)
بالجملہ قول سوم خلاف اصول ومخالف منقول ہے اور قول اول میں حرج بشدت اور دوم کہ نص محررالمذہب سے ماثور مؤید بعرف وکتاب وسنت لہٰذا فقیر اُسی کے اختیار میں اپنے رب عزوجل سے استخارہ کرتا ہے وباللہ التوفیق تو ثابت ہوا کہ احکام مذکورہ صور استیلاء میں نسبت ابوت وبنوت سے کوئی تغیر نہیں آتا جب یہ اصل بعونہ تعالٰی ممہد ہولی واضح ہوا کہ نابالغ(۲) کا بھرا ہوا پانی ایک نہیں بہت سے پانی ہیں جن کا سلسلہ شمار یوں ہے۔

(۳۲) وہ پانی کہ نابالغ نے آب مملوک مباح سے لیا۔
(۱؎ الہدایۃ        وکا لۃ بالبیع والشراء    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۲/ ۱۸۳)

(۲؎ عنایۃ مع الفتح القدیر    وکا لۃ بالبیع والشراء    نوریہ رضویہ سکھر    ۷/ ۴۶)
 (۳۳) وہ کہ مملوک غیر مباح سے بے اجازت لیا۔

(۳۴) وہ کہ اس سے باجازت لیا مگر مالک نے اسے ہبہ نہ کیا صرف بطورِ اباحت دیا۔

(۳۵) نابالغ خدمتگار نے آقا کے لئے نوکری کے وقت میں بھرا۔

(۳۶) خاص پانی ہی بھرنے پر اُس کا اجیر بتعین وقت تھا اُسی وقت میں بھرا۔

(۳۷) مستاجر نے پانی خاص معین کردیا تھا مثلاً اس حوض یا تالاب کا کل پانی۔

اقول: اور یہ تعین نہ ہوگا کہ اس حوض یا کنویں سے دس مشکیں کہ دس مشک باقی سے جدا نہیں جس کی تعیین ہوسکے۔

(۳۸) اس نے باذن ولی یہ مزدوری کی اور کہتا ہے کہ یہ پانی مستاجر کیلئے بھرا۔

(۳۹) اسی صورت میں اگرچہ زبان سے نہ کہا مگر اُس کے برتن میں بھرا۔

(۴۰) نابالغ کسی کا مملوک ہے ان نو صورتوں میں وہ نابالغ اُس پانی کا مالک ہی نہ ہوا پہلی تین صورتوں میں مالکِ آب کا ہے پھر ۳۵ سے ۳۹ تک پانچ صورتوں میں مستاجر کا۔ اخیر میں اگر باذنِ مولٰی کسی کے لئے اجارہ پر بھرا اور وہی صورتیں ملکِ مستاجرکی پائی گئیں تو پانی مستاجر کاورنہ بہرحال اس کے مولٰی کا یہاں تک کہ خاص اپنے لئے جو بھرا ہو وہ بھی مولٰی ہی کی مِلک ہوگا۔ یہ پانی جس جس کی مِلک ہو اُسے تو جائز ہی ہیں اُس کی اجازت سے ہر شخص کو جائز ہیں جبکہ وہ عاقل بالغ مختار اجازت ہو بلکہ بحال(۱) انبساط اجازت لینے کی بھی حاجت نہیں مثلاً کسی کے نابالغ نوکر اجیر یا غلام نے پانی بھرا اس کے بھائی یا دوست جو اس کے ایسے مال میں تصرف کرتے اور وہ پسند رکھتا ہے اُس سے بے پُوچھے بھی نابالغ مذکور کا بھرا ہوا پانی اُس سے لے کر اپنے صرف میں لاسکتے بلکہ غلام سے مطلقاً اور اُس کے نوکر سے وقت نوکری میں بھرواسکتے ہیں کہ بہرحال اُس دوست کی مِلک میں تصرف ہے نہ نابالغ کی۔

(۴۱) نابالغ(۲) حُر کو مالکِ آب نے پانی تملیکاً دیا۔

(۴۲ حُر غیر اجیر نے آب مباح غیر مملوک سے اپنے لئے بھرا۔

(۴۳) دوسرے کیلئے بطور خود۔

(۴۴) اُس کی فرمائش سے بلا معاوضہ۔

(۵۴) اجیر کے آقا کے کہنے سے بھرا اگر اس کے یہاں کسی اور خاص کام کیلئے نوکر تھا جس میں پانی بھرنا داخل تھا۔

(۴۶) داخل تھا جیسے خدمت گاری مگر نوکری کے وقتِ مقرر سے باہر بھروایا۔

(۴۷) خاص پانی ہی بھرنے پر اسے اجیر کیا نہ وقت مقررہ ہوا نہ پانی معین نہ یہ مقرر کہ اُس کے لئے بھرا نہ اُس 

کا برتن تھا جس میں بھرا۔

(۴۸) وقت مقرر ہوا اور اُس سے باہر یہ کام لیا ان آٹھ صورتوں میں وہ پانی اُس نابالغ کی مِلک ہے اور اُس میں غیر والدین کو تصرف مطلقاً حرام حقیقی بھائی اُس پانی سے نہ پی سکتا ہے نہ وضو کرسکتا ہے ہاں طہارت ہوجائے گی اور ناجائز تصرف کا گناہ اور اُتنے پانی کا اس پر تاوان رہے گا مگر یہ کہ اس کے ولی سے یا بچّہ ماذون(۱) ہو جس کے ولی نے اسے خرید فروخت کا اذن دیا ہے تو خود اس سے پُورے داموں خریدلے ورنہ(۲) مفت یا غبن فاحش کے ساتھ نابالغ کی مِلک دوسرے کو نہ خود وہ دے سکتا ہے نہ اُس کا ولی۔ رہے والدین وہ بحالت حاجت مطلقاً اور بے حاجت حسبِ روایت امام محمد اُن کو جائز ہے کہ اُس سے بھروائیں اور اپنے صرف میں لائیں باقی صورتوں میں اُن کو بھی رواہ نہیں مگر وہی بعد شرا۔

تنبیہ ۱:یہاں(۳) سے اُستاد سبق لیں معلموں کی عادت ہے کہ بچّے جو اُن کے پاس پڑھنے یا کام سیکھنے آتے ہیں اُن سے خدمت لیتے ہیں یہ بات باپ دادا یا وصی کی اجازت سے جائز ہے جہاں تک معروف ہے اور اس سے بچّے کے ضرر کا اندیشہ نہیں مگر نہ اُن سے پانی بھروا کر استعمال کرسکتے ہیں نہ اُن کا بھرا ہوا پانی لے سکتے ہیں۔
Flag Counter