Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
133 - 176
صحیح مسلم شریف میں عبداللہ بن عباس سے ہے :
قال کنت العب مع الصبیان فجاء رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فتواریت خلف باب فجاء فحطأنی حطأۃ عہ وقال اذھب ادع لی معویۃ ۱؎۔
فرمایا میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں ایک دروازہ کے پیچھے چھُپ گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے اور میرے دونوں کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے (پیار سے) تھپکی دی اور کہا کہ معٰویہ کو بلا لاؤ۔ (ت)
عــہ: حطأنی بحاء ثم طاء مھملتین وبعدھما ھمزۃ وھو الضرب بالید مبسوطۃ بین الکتفین اھ حدیقہ ندیہ۔

حطاء نی حاء پھر طاء دونوں بغیر نکتہ کے اور ان کے بعد ہمزہ ہے، معنٰی ہے دو کندھوں کے درمیان ہاتھ سے تھپکی دینا اھ حدیقہ  ندیہ۔ (ت)
(۱؎ صحیح للمسلم    باب من لعنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم... الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۲۵)
امام (۱) نووی شرح میں فرماتے ہیں: فیہ جواز ارسال صبی غیرہ ممن یدل علیہ فی مثل ھذا ولا یقال ھذا تصرف فی منفعۃ الصبی لان ھذا قدر یسیر ورد الشرع بالمسامحۃ فیہ للحاجۃ واطرد بہ العرف وعمل المسلمین ۲؎۔
اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے کے بچہ کو اس جیسے کام کیلئے بھی بھیجا جا سکتا ہے اور اس کا مطلب یہ نہ ہوگا کہ بچہ کی منفعت میں تصرف کیا کیونکہ یہ معمولی چیز ہے اور شریعت نے ضرورتاً اس قسم کی چیزوں کی اجازت دی ہے اور عام طور پر مسلمانوں کا اس پر عمل ہے۔ (ت)
(۲؎ شرح للنووی    باب من لعنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم... الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۲۵)
عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ، نے حدیقہ ندیہ میں اسے مقرر رکھا۔

سوم میں امر ابوین کو اجارہ پر قیاس کیا۔

اقول اولا:یہ صحت تو کیل کو چاہتا ہے اور اعیان(۲) مباحہ میں تو کیل خلاف نصوص ہے وعللوہ بوجوہ (اور انہوں نے اس کی کئی علتیں بیان کی ہیں)
الاول:ان صحۃ التوکیل تعتمد صحۃ امر الموکل بما وکل بہ وصحۃ الامر تعتمد الولایۃ ولا ولایۃ للموکل علی المباح ونقض بالتوکیل بالشراء فان الموکل لاولایۃ لہ علی المشری۔
اول: توکیل کی صحت کا دارومدار اس پر ہے کہ جو کام موکل نے وکیل کو سپرد کیا ہے وہ درست ہے اور اس کام کی صحت کا مدار ولایت پر ہے اور مُباح کام پر موکل کو کوئی ولایت نہیں ہے اور اس پر توکیل بالشراء سے اعتراض وارد ہے، کیونکہ موکل کو خریدی جانے والی چیز پر کوئی ولایت حاصل نہیں ہے۔
والثانی ان التوکیل احداث ولایۃ للوکیل ولا یصح ھنا لانہ یملک اخذ المباح بدون تملیکہ ونقض بالتوکیل بشراء شیئ لابعینہ فان الوکیل یملکہ قبل التوکیل وبعدہ واجاب فی العنایۃ ان معناہ یملکہ بدون امرالموکل بلا عقد وصورۃ النقض لیست کذلک فانہ لایملکہ الا بالشراء ۱؎ اھ۔
دوم: توکیل کے معنی وکیل کیلئے ولایت کا ایجاد کرنا ہے اور وہ یہاں درست نہیں ہے کیونکہ وہ اس کی تملیک کے بغیر ہی مباح کو لے سکتا ہے اور اس پر یہ نقض ہے کہ کسی کو غیر معین چیز کے خریدنے کا وکیل بنایا، کیونکہ وکیل تو توکیل سے پہلے اور اس کے بعد بھی اس کا مالک ہے۔ اورعنایہ میں اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا مالک ہے موکل کے حکم کے بغیر، اور بغیر عقد کے۔ اور نقض کی صورت یہ نہیں ہے، کیونکہ وہ خریدے بغیر اس کا مالک نہیں ہے اھ۔ (ت)
(۱؎ عنایۃ مع الفتح القدیر    الشرکۃ الفاسدۃ    نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۴۰۹)
اقول: رحمک(۱) اللّٰہ تعالٰی لیس المراد ملک العین بل ولایۃ ذلک الفعل کالاخذ ثمہ والشراء ھھنا وھو لایملکہ بالعقد بل العقد ناشیئ عن ملکہ ثم رأیت سعدی افندی اومأ الیہ اذقال فیہ تأمل فان الموکل بہ ھو الشراء فالوکیل یملکہ فلا یندفع النقض ۲؎ اھ۔ والصواب فی الجواب انہ لم یکن لہ من قبل ولایۃ ان یشغل ذمۃ الموکل بالثمن وردہ المحقق فی الفتح بان حاصل ھذا ان التوکیل بما یوجب حقا علی الموکل یتوقف علی اثباتہ الولایۃ علیہ فی ذلک والکلام فی التوکیل بخلافہ ۳؎ اھ ای باخذ المباح فانہ لایثبت فیہ حق علی الموکل۔
میں کہتا ہوں اس سے مراد ملکِ عین نہیں ہے بلکہ اُس کام کے کرنے کا اختیار ہے جیسے وہاں لینا اور یہاں خریدنا، اور وہ عقد کی وجہ سے اس کا مالک نہیں، بلکہ عقد تو خود اس کی مِلک سے پیدا ہوتا ہے پھر میں نے دیکھا کہ سعدی افندی نے اسکی طرف اشارہ کیا ہے وہ فرماتے ہیں اس میں تامل ہے، کیونکہ جس چیز کا وکیل بنایا ہے وہ ''شرا'' ہے تو وکیل اس کا مالک ہے، تو نقض مرتفع نہ ہوگا اھ۔ تو اس کا صحیح جواب یہ ہوگا کہ موکل کو پہلے یہ ولایت حاصل نہ تھی کہ وہ موکل کے ذمہ کو ثمن کے ساتھ مشغول رکھے، اور محقق نے اس کا فتح میں رد کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ ایسی چیز کی توکیل جو موکل پر حق ثابت کرے اس امر پر موقوف ہے کہ وہ اس پر ولایت کو ثابت کرے اور گفتگو توکیل میں اس کے برخلاف ہے اھ۔ یعنی مباح کے لینے میں، کیونکہ اس میں موکل پر حق ثابت نہیں ہوتا۔ (ت)
(۲؎ حاشیۃ چلپی       الشرکۃ الفاسدۃ    نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۴۰۹)

(۳؎ فتح القدیر       الشرکۃ الفاسدۃ    نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۴۱۰)
اقول:ھذا(۱) اعتراف بالمقصود فان التوکیل مطلقا اثبات ولایۃ للوکیل لم تکن من قبل ولایوجد ھھنا فلایصح التوکیل بہ بخلاف الشراء ولیس ان احداث الولایۃ مطلوب خصوصا فی التوکیل بما یوجب حقا علی الموکل حتی یقال لیس التوکیل باخذ المباح من ھذا الباب فلا یحتاج الی احداث الولایۃ۔
میں کہتا ہوں یہ مقصود کا اعتراف ہے کیونکہ توکیل مطلقا وکیل کے لئے ولایت کا اثبات ہے، ایسی ولایت جو اس کو پہلے حاصل نہ تھی، اور وہ یہاں پائی نہیں جاتی ہے، تو اس کی توکیل صحیح نہ ہوگی، اور شراء میں یہ چیز نہیں ہے، اور ولایت کا ایجاد و احداث مطلوب نہیں ہے خاص طور پر اس توکیل میں، جو موکل پر کسی حق کو واجب کرتی ہو، اگر ایسا ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ مباح کے لینے پر وکیل بنانا اس باب سے نہیں ہے، تو اس میں ولایت کی ایجاد کی حاجت نہیں ہے۔ (ت)
والثالث ان المقصود بالتوکیل نقل فعل الوکیل الی الموکل ولا یتحقق ھھنا فان الشرع جعل سبب ملک المباح سبق الید الیہ والسابقۃ ید الوکیل فیثبت الملک لہ ولا ینتقل الی الموکل الا بسبب جدید اشار الیہ المحقق۔
سوم: توکیل سے مقصود یہ ہے کہ وکیل کے فعل کو موکل کی طرف نقل کیا جائے اور یہ چیز یہاں متحقق نہیں کیونکہ شریعت نے مباح کی ملکیت کا سبب قبضہ میں پہل کو قرار دیا ہے، اور یہاں وکیل نے قبضہ میں پہل کی ہے، تو مِلک اس کیلئے ثابت ہوگی اور موکل کی طرف اسی وقت منتقل ہوگی جبکہ اس کا سبب جدید ہو، محقق نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ (ت)



ثانیا یہ قیاس صحیح ہو تو صرف ظرف پر حکم نہ رہے بلکہ والدین کی نیت سے لینا ہی اُن کے لئے مثبت مِلک ہو اگرچہ اُن کے ظرف میں نہ لے کہ مقیس علیہ اعنی اجارہ مذکورہ میں حکم یہی ہے اصل مدار(۲) نیت پر ہے جبکہ نہ اجیر کا یہ وقت بکا ہے نہ شیئ معین ہے تو وہ اپنے لئے بھی لے سکتا ہے اور اپنے مستاجر کیلئے بھی جس کیلئے لے گا اُسی کی مِلک ہوگی، ہاں اگر لیتے وقت کسی کی نیت نہ تھی یا وہ کہے میں نے اپنے لئے نیت کی تھی اور مستاجر کہے میرے لئے کی تھی تو اُس وقت ظرف پر فیصلہ رکھیں گے اُس کے ظرف میں لی تو اُس کیلئے ہے ورنہ اپنے لئے۔
واصل ذلک الوکیل بشراء شیئ لابعینہ الحکم فیہ(۳) للاضافۃ فان لم توجد فللنیۃ فان لم توجدا وتخالفا فیھا فللنقد ای ان اضاف العقد الی مال الموکل فالشراء للموکل وان زعم انہ اشتری لنفسہ اوالی مال نفسہ فلنفسہ اوالی مطلق مال فلایھما نوی کان لہ فان لم تحضرہ النیۃ عند الشراء اوقال نویت لی وقال الموکل اوبالعکس حکم النقد فی الثانی بالاجماع وفی الاول عند ابی یوسف خلافا لمحمد فانہ یجعل اذن للعاقد ۱؎ وقع فی ردالمحتار عکس ھذا وھو سھو۔
اور اس کی اصل یہ مسئلہ ہے کہ کسی شخص کو غیر معین شیئ کے خریدنے کا وکیل بنایا تو اس میں حکم اضافت کا ہے، اگر اضافت نہ پائی گئی تو نیت معتبر ہوگی، اگر نیت بھی نہ پائی گئی یا دونو ں میں اختلاف ہوا تو حکم نقد کا ہے، یعنی اگر عقد کو موکل کے مال کی طرف مضاف کیا تو خریدنا موکل کیلئے ہوا اگرچہ اس نے یہ گمان کیا کہ اُس نے اپنے لئے خریدا ہے، اور اگر اضافت خود اس کے مال کی طرف ہے تو خریدنا اس کیلئے ہوا، اور اگر مطلق مال کی طرف اضافت ہے تو دونوں میں سے جس کی نیت کی اس کیلئے ہوگا، اور اگر خریدنے کے وقت کوئی نیت ہی نہ تھی یا کہا کہ میں نے اپنے لیے نیت کی تھی اور موکل نے کہا کہ میرے لئے کی تھی یا بالعکس تو دوسرے میں بالاجماع نقد کو حَکَم بنایا جائیگا اور پہلے میں صرف ابو یوسف کے نزدیک ہوگا، امام محمد اس کو اس صورت میں عاقد کیلئے قرار دیتے ہیں، اور ردالمحتار میں اس کا برعکس کہا ہے اور یہ سہو ہے۔ (ت)
 (۱؎ عنایۃ مع فتح القدیر        وکا لۃ بالشراء        سکھر    ۷/ ۴۵)
Flag Counter