Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
132 - 176
اسی طرح جواہر(۱۱) اخلاطی وہندیہ(۱۲) میں ہے جامع(۱۳) الصغار کی عبارت اوپر گزری۔ اقول: مگر نظردقیق حاکم ہے کہ دونوں روایتیں اگرچہ امام محرر المذہب رحمہ اللہ تعالٰی سے ہیں لیکن اس روایت اور ان عبارات کو اس روایت سے علاقہ نہیں یہاں وہ شے مِلک صبی نہیں بلکہ دوسرے نے صبی کے نام ہدیہ بھیجی ہے اور عادت فاشیہ جاری ہے کہ کھانے پینے کی تھوڑی چیز بچّوں ہی کے نام کرکے بھیجتے ہیں اور مقصود ماں باپ کو دینا ہوتا ہے اور یہ تو قطعاً نہیں ہوتا کہ ماں باپ پر حرام سمجھتے ہوں اس عرف کا انتشار تام وعام دیکھ کر مطلق حکم فرمایا یا کہیں تفصیل وتوضیح فرمادی۔ فتاوٰی(۱) سمرقند پھر تاتاخانیہ(۲) پھر شامیہ(۳) نیز کتاب(۴) التجنیس والمزید پھر جامع(۵) الصغار میں ہے:
اذ اھدی الفواکہ الی الصبی الصغیر یحل للاب والام الاکل اذا ارید بذلک برالاب والامام لکن اھدی الی الصغیر استصغار اللھدیۃ ۲؎۔
جب چھوٹے بچے کو کسی نے میوہ جات ہدیہ کئے تو اس کے ماں باپ کو اس میں سے کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس ہدیہ کا مقصد ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک ہو اور بچہ کو محض اس لئے ہدیہ کیا گیا ہو کہ ہدیہ کو چھوٹا سمجھا گیا ہو۔ (ت)
 (۲؎ جامع الصغار مع الفصولین الکراہیۃ        اسلامی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۴۶)
ملتقط(۶) پھر اشباہ(۷) کی تعبیر اور احسن ہے جس سے اس عادت کا فاشیہ ہونا روشن ہے۔
حیث قالا اذا اھدی(۱) للصبی شیئ وعلم انہ لہ فلیس للوالدین الا کل منہ لغیر حاجۃ ۱؎ اھ۔
انہوں نے فرمایا کہ جب بچہ کو کوئی چیز ہدیہ کی گئی ہو اور معلوم ہو کہ وہ صرف بچے کیلئے ہے تو والدین اس میں سے بلا حاجت نہیں کھا سکتے اھ۔ (ت)
 (۱؎ الاشباہ والنظائر    احکام الصبیان    ادارۃ القرآن کراچی    ۲/ ۱۴۵)
اقول: بنی المنع علی علم انہ للصغیر فافاد الاباحۃ اذالم یعلم شیئ ردا الی العادۃ الفاشیۃ۔
میں کہتا ہوں والدین کیلئے اس کا استعمال جائز نہ ہونا اس شرط سے مشروط ہے کہ اُسے علم ہو کہ یہ بچّہ کا ہے تو اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ جب علم نہ ہو تو مباح ہے عرف کا لحاظ رکھتے ہوئے کہا گیا ہے۔ (ت)

امام ظہیرالدین نے اُن عبارات مطلقہ کی دلیل بیان فرما کر اس امر کا تصفیہ فرمادیا، ظہیریہ(۸) پھر عٰلمگیریہ(۹) میں ہے:
اھدی للصغیر الفواکہ یحل لوالدیہ اکلھا لان الاھداء الیھما وذکر الصبی لاستصغار الھدیۃ ۲؎ اھ۔
بچہ کو پھل ہدیہ کیے گئے تو اس کے والدین کو اُن کا کھانا جائز ہے کیونکہ ہدیہ دراصل والدین کو ہی تھا بچہ کے ہاتھ میں اس لئے دیا گیا کہ ہدیہ کو معمولی سمجھا گیا۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    الباب الثالث من الہبۃ    پشاور        ۴/ ۳۸۱)
اقول:ومن ھھنا ظھر ان ماتقدم عن جامع الصغار عن الظھیریۃ اذا اھدی الصغیر شیا من الماکولات ان لم یکن عن نقلہ بالمعنی لان المسألۃ فی سائر الکتب فیما وھب شیئ للصغیر وقد نقل عن الظھیریۃ نفسھا فی الغمز بلفظ اذا اھدی للصغیر شیئ کما سمعت فلیس مرادہ الا اھداؤہ مما اھدی الیہ لاان یبتدی الصبی فیھدی من ملکہ شیا

والدلیل علیہ قولہ وشبہ ذلک بضیافۃ المأذون فالمأذون لایضیف(۱) من مال نفسہ بل مولاہ ومولاہ انما اذن فی التجارۃ لکن العوائد قضت ان امثال الضیافات لابدمنھا فی التجارات فکان اذنہ فی التجارۃ اذنا فیھا کذلک الصبی لاھدی من مال نفسہ بل مال المہدی والمُھدی انما سمی الصبی لکن فشت العوائد ان امثال الھدایا لایمنع عنھا ابواہ فکان اھداؤہ الیہ اھداء الیھما۔
میں کہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ جو عبارت جامع صغیر سے ظہیریہ سے گزری کہ جب بچہ کھانے پینے کی کوئی چیز ہدیہ کرے، اگر یہ اس کی نقل بالمعنی نہیں ہے کیونکہ تمام کتب میں یہ مسئلہ اس طرح مذکور ہے کہ کوئی چیز بچہ کو ہبہ کی گئی اور خود ظہیریہ میں غمز سے ان الفاظ میں منقول ہے کہ جب بچہ کو کوئی چیز ہبہ کی گئی جیسا کہ تم نے سنا، تو ان کی مراد یہ ہے کہ بچّہ اس چیز سے ہدیہ کرے جو اس کو ہدیہ کی گئی ہو، یہ نہیں کہ بچہ ابتداء کرے اور اپنی مِلک سے کچھ ہدیہ کرے، اور اس کی دلیل ان کا یہ قول ہے کہ اور یہ مشابہ ماذون کو ضیافت کے ہے کہ ماذون اپنے مال سے ضیافت نہیں کرتا ہے بلکہ اپنے مولٰی کے مال سے کرتا ہے اور اس کے مولٰی نے اس کو تجارت کی اجازت دی ہے، لیکن عرف میں یہ عادت ہے کہ تجارت میں اس قسم کی ضافتیں ہوتی ہی رہتی ہیں، تو تجارت کی اجازت دینا ضیافت کی اجازت کے مترادف ہے، اسی طرح بچہ اپنے مال سے ہدیہ نہیں دیتا ہے بلکہ ہدیہ دینے والے کے مال سے ہی ہدیہ دیتا ہے اور ہدیہ دینے والے نے بچہ کا نام لیا مگر عام طور پر عادت یہ ہے کہ اس قسم کے ہدایا سے ماں باپ کو منع نہیں کیا جاتا ہے تو بچوں کو ہدیہ دینا ماں باپ کو ہدیہ دینا سمجھا جاتا ہے۔ (ت)
اقول : والوجہ فیہ ان المأکولات مما یتسارع الیھا الفساد فیکون اذنا من المھدی لھما فی التناول دلالۃ وذلک بان یقع الملک لھما بخلاف مایدخر فظھر اصابۃ البحر والدر فی قولھما افادان غیر المأکول لایباح لھما الا لحاجۃ ۱؎ واندفع(۲) ماوقع للعلامۃ ش حیث قال بعد نقل مامر عنہ عن التتارخانیۃ عن فتاوی سمرقند قلت:وبہ یحصل التوفیق ویظھر ذلک بالقرائن وعلیہ فلا فرق بین المأکول وغیرہ بل غیرہ اظھر ۲؎ اھ۔ ای فان ارادۃالولد بھبۃ المأکول اظھر واکثر فاذا ساغ الاکل ثمہ عند عدم دلیل یقتضی باختصاص الھدیۃ بالولد فھذا اولی وقد عرفت الجواب وباللّٰہ التوفیق۔
میں کہتا ہوں کھانے پینے کی چیزیں عام طور پر جلدی گل سڑ جاتی ہیں تو ہدیہ دینے والے کی طرف سے والدین کو اشارۃً کھانے کی اجازت سمجھی جائے گی، اور اس طرح مِلک والدین کے لئے ثابت ہوگی اور جو اشیاء جلد خراب ہونے والی نہیں ہیں ان کا یہ حکم نہیں ہے، تو بحر اور دُر کے قول کی صحت ظاہر ہوگئی، ان کا قول ہے کہ جو چیزیں کھانے پینے کی نہیں ان کا استعمال والدین کے لئے جائز نہیں، ہاں حاجت کے وقت جائز ہے، اور علامہ "ش" کا اعتراض ختم ہوا انہوں نے تو وہ عبارت نقل کی جو تتارخانیہ، فتاوی سمرقند سے گزری، پھر فرمایا میں کہتا ہوں اس سے موافقت ظاہر ہوگئی اور یہ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے، اور اس لحاظ سے اس میں ماکول اور غیر ماکول کا کوئی فرق نہیں بلکہ اس کا غیر اظہر ہے اھ۔یعنی ماکول کے ہبہ سے بچہ کا ارادہ اظہر ہے اور اکثر ہے تو جب وہاں کھانا جائز ہوا کسی ایسی دلیل کے نہ ہونے کے وقت جو ہدیہ کے بچہ کے ساتھ مختص ہونے کا تقاضا کرتی ہو تو یہ اولٰی ہے اور آپ کو اس کا جواب مل چکا ہے وباللہ التوفیق۔ (ت)
(۱؎ الدرالمختار    کتاب الہبۃ    مجتبائی دہلی        ۲/ ۱۶۰)

(۲؎ ردالمحتار     کتاب الہبۃ    مصطفی البابی مصر    ۴/ ۵۷۲)
بالجملہ یہ روایات غیر مِلک صبی میں ہیں اور یہاں کلام مِلِک صبی میں کہ مباح پانی بلاشبہ بھرنے والے کی مِلک ہوگا جبکہ بروجہ اجارہ نہ ہو اور صبی کی مِلک والدین کو بے احتیاج حلال نہیں مقتضائے نظر فقہی تو یہ ہے۔

اقول: وباللہ التوفیق مگر شک نہیں کہ عرف وعادت اس کے خلاف ہے اور وہ بھی دلائل شرعیہ سے ہے تو مناسب کہ اسے قلیل عفو قرار دیں جس پر قرآن وحدیث سے دلیل ہے قال اللہ عزوجل:
وَیسئَلُوْنَکَ عَنِ الْیتٰمٰی قُلْ اِصْلَاح لَّھُمْ خَیر وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ وَاللّٰہُ یعلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط ۱؎۔
اور وہ آپ سے یتیموں کی بابت پُوچھتے ہیں فرمادیجئے ان کی اصلاح بہتر ہے اور اگر تم ان کے ساتھ اپنا مال ملا کر کھاؤ وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ مفسد کو مصلح سے جانتا ہے۔ (ت)
  (۱؎ القرآن    ۲ /۲۲۰)
اس آیت میں احد التفسیرین پر یتیم کے ساتھ جواز مخالطت مال ہے اور ظاہر کہ بحال مخالطت کامل امتیاز قریب محال ہے ۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے:
وفی الزاھدی قال ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما المخالطۃ ان تأکل من ثمرہ ولبنہ وقصعتہ وھو یاکل من ثمرتک ولبنک وقصعتک والاٰیۃ(۱) تدل علی جواز المخالطۃ فی السفر والحضر یجعلون النفقۃ علی السواء ثم لایکرہ ان یاکل احدھما اکثر لانہ لما جازفی اموال الصغار فجوازہ فی اموال الکبار اولی ھذا لفظہ فاحفظہ فانہ نافع وحجۃ علی کثیر من المتعصبین فی زماننا ۱؎ اھ۔
اور زاہدی میں ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ مخالطت یہ ہے کہ تم اس کے پھل اس کا دودھ اور اس کے پیالہ میں کھاؤ اور وہ بھی اسی طرح تمہارے ساتھ تمہارے پھل کھائے اور تمہارا دودھ پئے اور تمہارے پیالے میں کھائے اور یہ آیت مخالطت کے جواز پر دلالت کرتی ہے خواہ سفر میں ہو یا حضر میں ہو جبکہ نفقہ کو برابر کا رکھیں، پھر اس میں کوئی کراہت نہیں کہ ان میں سے کوئی زائد کھالے کیونکہ یہ چیز جب بچوں کے مال میں جائز ہے توبڑوں کے اموال میں بطور اولٰی جائز ہے،یہ ان کے الفاظ ہیں ان کو بخوبی یاد رکھیں، یہ مفید بھی ہیں اور ہمارے عہد کے بہت سے متعصبین پر حجت بھی ہیں اھ۔ (ت)
 (۱؎ تفسیراتِ احمدیۃ        بیان اصلاح    کریمی کتب خانہ بمبئی        ص۱۰۳)
اقول:(۱) فاذن مافی جامع الصغار عن فتاوٰی رشید الدین من باب دعوی الاب والوصی لولم تکن الام محتاجۃ الی مالہ ولکن خلطت مالھا بمال الولد واشترت الطعام واکلت مع الصغر ان اکلت مازاد علی حصتھا لایجوز لانھا اکلت مال الیتیم ۲؎ اھ۔ معناہ الزیادۃ المتبینۃ(۲) ففی جامع الرموز عن الباب المذکور من الفتاوی المذبورۃ قبیل ھذا صبی یحصل المال ویدفع الی امہ والام تنفق علی الصبی وتأکل معہ قلیلا نحو لقمۃ اولقمتین من غیر زیادۃ لایکرہ ۳؎۔
میں کہتا ہوں، تو جامع الصغار میں فتاوٰی رشید الدین سے (دعوی الاب والوصی میں) جو منقول ہے اگر ماں بچہ کے مال کی محتاج نہ ہو، لیکن اس نے بچہ کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھانا خریدا اور بچّہ کے ساتھ کھایا تو اگر اپنے حصہ سے زیادہ کھایا تو جائز نہیں کیونکہ اس نے یتیم کا مال کھایا اھ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اتنی زیادتی جو بالکل واضح اور ظاہر ہو، اسی فتاوی کے مذکور باب سے جامع الرموز میں منقول ہے، اس سے کچھ ہی پہلے، کہ ایک بچہ ہے جو مال لاتا ہے اور مال کو دیتا رہتا ہے اور ماں اس پر خرچ کرتی رہتی ہے اور لقمہ دو لقمہ خود بھی اس کے ساتھ کھاتی رہتی ہے زیادہ نہیں، تو یہ مکروہ نہیں ہے۔ (ت)
 (۲؎ جامع الصغار        مسائل الکراہیۃ    اسلامی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۴۸)

(۳؎ جامع الصغار مع جامع الفصولین مسائل الکراہیۃ    اسلامی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۴۸)
Flag Counter