Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
131 - 176
اقول: فایرادہ(۳) ھذا الفرع فی ھذا المبحث ربما یوھم ان لواجتمع رجل وابنہ فی عیالہ فی تحصیل مباح کان کلہ للاب ویجعل الابن معینالہ ولیس(۴) کذلک فان الشرع المطھر جعل فی المباح سبب الملک الاستیلاء فمن استولی فھو المالک ولا ینتقل الملک الٰی غیرہ الابوجہ شرعی کھبۃ وبیع ولا ینسب اخذہ لغیرہ الابوجہ شرعی ککونہ عبدہ اواجیرہ علیہ اما الاعانۃ مجانا فھی الخدمۃ وقد علمت بطلان الاستخدام فی تلک الاعیان وکتب علی قولہ باعانۃ صاحبہ سواء کانت الاعانۃ بعمل کما اذا اعانہ فی الجمع والقلع اوالربط اوالحمل اوغیرہ اوباٰلۃ کما لودفع لہ بغلا او راویۃ لیستقی علیھا اوشبکۃ لیصید بھا حموی وقھستانی ط ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں ان کا اِس فرع کو اس بحث میں لانا یہ وہم پیدا کرتا ہے اگر بیٹا باپ کے عیال میں ہو اور باپ بیٹا کسی مباح چیز کے حاصل ہونے میں مل کر کام کریں تو حاصل شدہ چیز پوری کی پوری باپ کی ہوگی اور بیٹا اس کا مددگار قرار پائے گا، حالانکہ بات یہ نہیں ہے کیونکہ شریعت نے مباح اشیاء میںمِلک کا سبب استیلاء کو قرار دیا ہے تو جو بھی کسی مباح پر قابض ہوجائے وہی مالک ہے اور دوسرے کی طرف اب اس کی ملک شرعی طریقوں سے ہی منتقل ہوسکتی ہے جیسے ہبہ اور بیع وغیرہ اور اس کا لینا اس کے غیر کی طرف صرف شرعی سبب سے ہی منسوب ہوگا، مثلاً یہ کہ وہ اس کا غلام ہو، یا مزدور ہو، اور مفت کی اعانت تو یہ خدمت ہے، اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ مباح چیزوں میں خدمت لینا باطل ہے، اور ''باعانۃ صاحبہ'' پر لکھا کہ عام ازیں اعانت عملی ہو، جیسے کسی چیز کے جمع کرنے، اکھاڑنے، باندھنے، اٹھانے وغیرہ میں مدد کرے، یا آلہ کے ذریعے مدد ہو جیسے اس کو خچر دیا، پانی بھرنے کا بڑا ڈول دیا یا شکار کے لئے جال دیا، حموی وقہستانی ط اھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    شرکت فاسدۃ    البابی مصر    ۳/ ۳۸۳)
اقول : فلا یتوھمن(۱) منہ الاعانۃ فی قلع الحطب بان یقلع البعض ھذا والبعض ھذا لانہ ھو تحصیلھما بل(۲) المعنی انہ وضع یدہ مع یدہ فی القلع حتی ضعف تعلقہ فقلعہ المعان اوعمل ھذا اولا وترکہ قبل ان ینقلع ثم عمل ذاک فقلعہ یکون الاول معینا والملک للقالع کمن(۳) استقی من بئر فاذا دنا الدلو من رأسہ اخرجھا ونحاھا عن رأس البئر غیرہ فان الملک للثانی وکذلک اذا اثار احد صیدا وجاء بہ علی اخر فاخذہ کان للاٰخذ  وما احسن وابعد عن الایھام عبارۃ الھدایۃ حیث قال وان(۱) عمل احدھما واعانہ الاٰخر فی عملہ بان قلعہ احدھما وجمعہ الاٰخر اوقلعہ وجمعہ وحملہ الاٰخر فللمعین اجر المثل ۱؎۔
میں کہتا ہوں اس سے یہ وہم پیدا نہ ہو کہ لکڑیاں اکھاڑنے میں مدد دینا بھی اسی طرح ہے، مثلاً بعض لوگ اس طرف سے اور بعض اُس طرف سے لکڑیاں اکھاڑیں اس لئے یہ اُن دونوں کا حاصل کرنا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ایک ہی لکڑی پر ہاتھ رکھیں اور دونوں ایک ساتھ اس کو اکھاڑیں، یا یہ کہ پہلے ایک شخص نے ایک درخت پر زور آزمائی کی اور ہٹ گیا پھر دوسرے نے زور آزمائی کی اور اس کو اکھاڑ لیا، تو پہلا مددگار قرار پائے گا اور ملک اکھاڑنے والے کی ہوگی، جیسے کوئی شخص ڈول بھر کر کنویں سے پانی نکالے اور جب ڈول کنویں کے دہانے تک آجائے تو دوسرا شخص نکال کر رکھ دے۔ اس صورت میں مِلک دوسرے کی ہوگی، اسی طرح کسی نے شکار کو ہنکایا اور دوسرے شخص کے قریب آیا اور دوسرے شخص نے پکڑ لیا، تو جس نے پکڑا اسی کا ہوگا۔مگر ہدایہ کی عبارت ہر قسم کے وہم سے پاک صاف ہے اس میں ہے کہ اگر عمل ایک نہ کیا اور دوسرے نے اس عمل میں معاونت کی، مثلاً یہ کہ درخت ایک شخص نے اکھاڑے اور دوسرے نے جمع کئے یا اکھاڑے اور جمع کئے لیکن اٹھائے دوسرے نے، تو مددگار کو اجر مثل ملے گا۔ (ت)

(۱؎ الہدایۃ    فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ    جزثانی     المکتبۃ العربیہ کراچی    ۱/ ۶۱۴)
دوم کہ نص محرر المذہب سے مروی نظر ظاہر گمان کرے گی کہ بہت کتب معتمدہ مشہورہ نے اُس پر اعتماد کیا فتاوٰی(۱) اہل سمرقند پھر فتاوٰی(۲) خلاصہ میں اُس کے حوالہ سے ہے:
رجل وھب(۲) للصغیر شیاا من المأکول یباح للوالدین ان یاکلا منہ کذاروی عن محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی ۲؎۔
اگر کسی شخص نے بچے کو کھانے کی چیز ہبہ کی تو اس کے والدین کیلئے وہ چیز بھی کھانا جائز ہے محمد رحمہ اللہ سے یہی مروی ہے۔ (ت)
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الہبۃ    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ        ۴/ ۴۰۰)
وجیز کردری میں ہے : وھب للصغیر من المأکول شیا یباح للوالدین ان یاکلاہ ۳؎۔
اگر کسی شخص نے بچے کو کھانے کی چیز ہبہ کی تو اس کے والدین کو اس چیز کا کھانا صحیح ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ     کتاب الہبۃ    پشاور    ۶/ ۲۳۷)
فتاوٰی سراجیہ میں ہے :  اذا وھب الصبی شیئا من الماکول قال محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی مباح لوالدیہ ان یاکلا منہ وقال اکثر مشایخ بخارٰی لایحل ۱؎ اھ
اگر کسی نے بچہ کو کھانے کی کوئی چیز ہبہ کی تو محمد نے فرمایا اس کے والدین کیلئے اس میں سے کھانا مباح ہے۔اوربخارٰی کے اکثر مشائخ نے فرمایاوالدین کو کھانا حلال نہیں اھ (ت)
(۱؎ فتاوٰی سراجیۃ        مسائل متفرقۃ من ہبۃ        لکھنؤ        ص۹۶)
اقول: وتفرد(۱) بتعبیر قال محمد فان عبارۃ العامۃ روی عندہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں "قال محمد" کی عبارت تنہا انہو ں نے ہی استعمال کی ہے کیونکہ عام کتب کی عبارت یہ ہے کہ ان سے مروی ہے واللہ تعالٰی اعلم (ت)
فتاوٰی(۵) ظہیریہ پھر غمز(۶) العیون میں ہے : اذا اھدی للصغیر شیئ من المأکولات روی عن محمد انہ یباح لوالدیہ وشبہ ذلک بالضیافۃ واکثر مشایخ بخارٰی علی انہ لایباح بغیر حاجۃ ۲؎۔
جب بچہ کو کسی نے کھانے کی چیزیں ہدیہ میں دیں، تو محمد سے مروی ہے کہ اس کے والدین کو ان کا کھانا مباح ہے اور یہ ضیافت کی طرح ہے اور بخارٰی کے اکثر مشایخ کا کہنا ہے کہ بغیر حاجت جائز نہیں۔ (ت)
(۲؎ جامع الصغار مع الفصولین الکراہیۃ        اسلامی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۴۶)
بحرالرائق(۷) میں ہے : یباح للوالدین ان یاکلا من المأکول الموھوب للصغیر کذا فی الخلاصۃ فافاد ان غیر المأکول لایباح لھما الا عند الاحتیاج کما لایخفی ۳؎۔
والدین کو بچّہ کی موہوبہ چیز کا کھانا مباح ہے کذا فی الخلاصہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر ماکول کو استعمال میں لانا مباح نہیں، ہاں ضرورۃً جائز ہے کمالایخفی۔ (ت)
 (۳؎ بحرالرائق        کتاب الھبۃ        سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۲۸۸)
درمختار میں ہے : وفیھا ای فی السراجیۃ یباح لوالدیہ ان یاکلا ممن مأکول وھب لہ وقیل لاانتھی۔ فافاد ان غیر الماکول لایباح لھما الا لحاجۃ ۴؎ اھ
سراجیہ میں ہے بچہ کے والدین کو مباح ہے کہ بچہ کو ہدیہ کی گئی چیز سے کھائیں اور ایک قول ہے کہ جائز نہیں انتہی، اس سے معلوم ہوا کہ غیر ماکول سے بلاحاجۃ استفادہ جائز نہیں اھ (ت)
 (۴؎ الدرالمختار       کتاب الھبۃ          مجتبائی دہلی        ۲/ ۱۶۰)
اقول: وکانہ اخذہ من ان العمل بقول اصحاب الامام اذا لم یوجد عنہ قول ولا یوازیہ قول المشایخ وان کثروا کماذکرنا نصوصہ فی رسالتنا اجلی الا علام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام لاسیما وقد عبرہ بقال محمد والا فلیس فی السراجیۃ قیل کما اسمعناک نصھا۔
میں کہتا ہوں شاید انہوں نے یہ فتوٰی اس اصول سے اخذ کیا ہے کہ امام کے اصحاب کے قول پر اس وقت عمل ہوگا جب امام سے کوئی قول نہ پایا جائے اور امام کے قول کے ہمسر مشائخ کے اقوال نہیں ہوسکتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی زیادہ ہوں اس کے نصوص ہم نے اپنے رسالہ اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام میں ذکرکئے ہیں خاص طور پر انہوں نے اس کو ''قال محمد'' سے تعبیر کیا ہے ورنہ سراجیہ میں قلیل نہیں ہے جیسا کہ ہم نے اس کی نص ذکر کی ہے۔ (ت)

تاتارخانیہ(۹) پھر ردالمحتار(۱۰) میں ہے :
روی عن محمد نصا انہ یباح وفی الذخیرۃ واکثر مشائخ بخارٰی علی انہ لایباح ۱؎
محمد سے مروی ہے بطور نص کہ یہ مباح ہے اور ذخیرۃ میں ہے کہ اکثر مشائخ بخارٰی اس پر ہیں کہ مباح نہیں ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار        کتاب الہبۃ        مصطفی البابی مصر    ۴/ ۵۷۲)
Flag Counter