جامع احکام الصغار پھر حموی اشباہ اور تاتارخانیہ پھر ردالمحتار میں ہے:اذا(۲) احتاج الا ب الی مال ولدہ فان کانا فی المصر واحتاج لفقرہ اکل بغیر شیئ وانکانا فی المفازۃ واحتاج الیہ لانعدام الطعام معہ فلہ الاکل بالقیمۃ ۲؎۔
جب باپ کو بچّہ کے مال کی حاجت ہو اور وہ شہر میں ہو اور فقر کی وجہ سے بچہ کا مال کھانے کا محتاج ہو تو کھالے اور اس پر کوئی شے نہیں، اور اگر یہ صورت حال جنگل میں پیش آئے اور باپ کے پاس کھانا موجود نہ ہو اور اس کو کھانے کی ضرورت ہو تو وہ قیمت کے ساتھ کھا سکتا ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الہبۃ مصطفی البابی مصر ۴/ ۵۷۳)
جامع الفصولین فوائد امام ظہیر الدین سے ہے:لوکان الاب فی فلاۃولہ مال فاحتاج الی طعام ولدہ اکلہ بقیمۃ لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الاب احق بمال ولدہ اذا احتاج الیہ بالمعروف والمعروف ان یتناولہ بغیر شیئ لوفقیرا والا فبقیمتہ ۱؎۔
(۱؎ جامع الفصولین الفصل السابع والعشرون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۹)
اگر باپ جنگل میں ہو اور اس کے پاس مال ہو اور پھر اس کو اپنے بیٹے کا مال کھانے کی ضرورت لاحق ہو تو وہ اس کی قیمت دے کر کھا سکتا ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ باپ کو اپنے بیٹے کے مال کا معروف طریقہ کے مطابق زیادہ حق ہے اور معروف طریقہ یہی ہے کہ بلاقیمت استعمال کرے اگر فقیر ہو، ورنہ قیمت کے ساتھ استعمال کرے۔ (ت)
مگر اس اجازت سے احکام مذکورہ استیلا میں کوئی تغیر نہ ہوا کہ مِلک نابالغ ہی کی قرار پائی۔ ماں باپ کو قیمتاً یا مفت اُس میں تصرف کی اجازت کچھ اسی مال استیلاء سے خاص نہیں صبی کی ہر مِلک میں ہے۔
دوم فقیر والدین کی طرح غنی ماں باپ کو بھی بچہ سے ایسی خدمت لینے کا حق ہے اور وہ پانی روا کہ عرف ورواج مطلق ہے یہ امام محمد سے ایک روایت ہے ذخیرہ اور اس کے ساتھ کی کتابوں میں بعد عبارت مذکورہ ہے:
وعن محمد یحل لھما ولوغنیین للمعروف والعادۃ ۲؎۔
(محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان دونوں کے لئے حلال ہے اگرچہ دونوں غنی ہوں کیونکہ عرف اور عادت کا اعتبار ہے۔ ت)
(۲؎ ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۱۲)
اقول:اس تقدیر پر ظاہر یہ ہوتا کہ جو مباح صبی نے فرمائش والدین سے لیا اس کے مالک والدین ہی ٹھریں ورنہ بحالِ غنا ان کو تصرف ناروا ہوتا
قال تعالٰی مَنْ کَانَ غَنِیاًّ فَلْیستَعْفِفْ ۳؎
(اللہ تعالٰی کا فرمان ہے جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے۔ ت) تو یہ روایت صور نہ گانہ استیلاء سے صورت سوم کے حکم میں والدین کا استثناء کرتی مگر امام محمد ہی سے ایسی ہی نادرہ روایت آئی ہے کہ اگر بچہ کھانے پینے کی چیز اپنے ماں باپ کو ہدیۃ دے تو وہ والدین کے لئے مباح ہے تو یہ روایت بھی احکامِ مذکورہ پر کچھ اثر نہ ڈالے گی کہ مالک صبی ہی ٹھرا۔
(۳؎ القرآن ۴/ ۶)
جامع احکام الصغار میں ہے:فی ھبۃ فتاوی القاضی ظھیرالدین رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذا اھدی الصغیر شیا من المأکولات روی عن محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ یباح لوالدیہ وشبہ ذلک بضیافۃ المأذون واکثر مشایخ بخارٰی انہ لایباح ۱؎۔
قاضی ظہیر الدین کے فتاوٰی کی ہبہ کی بحث میں ہےکہ جب بچّہ کھانے کی کوئی چیز بطور ہدیہ دے تو امام محمد سے مروی ہے کہ اس کے والدین کو اس میں سے کھانا جائز ہے، اور انہوں نے اس کو ماذون کی ضیافت کے مشابہ قرار دیا اور بخارا کے اکثر مشائخ کہتے ہیں یہ مباح نہیں۔ (ت)
(۱؎ جامع احکام الصغار مع الفصولین اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۴۶)
اسی طرح شامی میں تاتارخانیہ وذخیرہ سے ہے اس روایت کی تحقیق بعونہ تعالٰی عنقریب آتی ہے اور یہ کہ وہ اس مقام سے بے علاقہ ہے مگر اقرب یہی ہے کہ یہ روایت والدین کیلئے اباحتِ تصرف کرتی ہے نہ کہ اثباتِ مِلک تو ضابطہ بحال ہے۔
سوم: اگر ماں باپ کے برتن میں لیا تو وہ مالک ہوں گے ورنہ صبی جیسے اجیر۔
اقول: یعنی جس کا نہ وقت معین کیا نہ کسی معین شے کیلئے اجیر نہ اُس نے مستاجر کیلئے اقرار کہ ان حالتوں میں ظرف پر لحاظ نہیں، جامع الصغار میں ہے:
فی بیوع فوائد صاحب المحیط الاب اوالام اذا امر ولدہ الصغیر لینقل الماء من الحوض الی منزل ابیہ ودفع الیہ الکوز فنقل قال بعضھم الماء الذی فی الکوز یصیر ملکا للصبی حتی لایحل للاب شربہ الا عند الحاجۃ لان الاستخدام فی الاعیان المباحۃ باطل وقال بعضھم ان کان الکوز ملکا للاب یصیر ملکا للاب ویصیر الابن محرز الماء لابیہ کالاجیر اذاحمل الماء بکوز المستأجر یکون محرز اللمستأجر کذا ھذا ۲؎۔
صاحبِ محیط کی فوائد کے باب البیوع میں ہے کہ ماں باپ نے چھوٹے بچے کو حوض سے اپنے گھر پانی لانے کو
کہا اور اس کو لوٹا بھی دیا چنانچہ وہ پانی لے آیا، تو ایسی صورت میں بعض علماء کے نزدیک لوٹے کا پانی بچّہ کی مِلک ہے یہاں تک کہ باپ بلا ضرورت اس میں سے پی بھی نہیں سکتا کیونکہ مباح اشیا کے حصول کیلئے اس سے خدمت لینا باطل ہے، اور بعض نے کہا کہ اگر لوٹا باپ کی ملک ہے تو پانی بھی باپ کی ملک ہوگا اور بیٹا مزدور کی طرح پانی کو اپنے باپ کے لئے جمع کرنے والا قرار پائے گا کیونکہ اجیر اگر مستاجر کے لوٹے میں پانی لائے تو وہ پانی مستاجر ہی کا ہوگا، یہی حال اس کا ہے۔ (ت)
(۲؎ جامع احکام الصغار مع الفصولین اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۴۷)
اول کو وہ سید علامہ طحطاوی وشامی نقل کرکے فرمایا اس میں حرج عظیم ہے اور واقعی حرج ہے اور حرج نص قرآنی سے مدفوع ہے،
وحاول ش ان یوھنہ بالدلیل فنازعہ بان للاب ان یستخدم ولدہ قال فی جامع الفصولین(۱) وللاب ان یعیر ولدہ الصغیر لیخدم استاذہ لتعلیم الحرفۃ وللاب(۲) او الجد اوالوصی استعمالہ بلاعوض بطریق التہذیب والریاضۃ ۱؎ اھ۔قال الا ان یقال لایلزم من ذلک عدم ملکہ لذلک الماء المباح وان امرہ بہ ابوہ واللّٰہ تعالٰی اعلم ۲؎ اھ۔
اور "ش" نے اس کو دلیل کے ذریعہ کمزوردکھانے کی کوشش کی اور فرمایا کہ باپ کو تو ویسے بھی حق ہے کہ بلامعاوضہ بیٹے سے کام لے۔ جامع الفصولین میں فرمایا کہ باپ اپنے چھوٹے بیٹے کو استاد کی خدمت کیلئے متعین کرسکتا ہے تاکہ استاد اس کو صنعت وحرفت سکھائے، اور باپ دادا اور وصی بچّے سے کام لے سکتے ہیں تاکہ ا س کو ادب وتہذیب سکھائیں اور اس کو کام کرنے کی عادت ہو اھ ۔فرمایا مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ پانی کا مالک نہیں ہوگا، خواہ اس نے اپنے باپ کے حکم سے پانی لیا ہو واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱ ردالمحتار فصل فی الشرب البابی مصر ۵/ ۳۱۲)
( ۲ردالمحتار فصل فی الشرب البابی مصر ۵/ ۳۱۲)
اقول: الجواب(۳) صحیح نظیف ماکان یستاھل التزییف بل کان(۴) واضحا من قبل فلم یکن للسؤال محل بل(۵) السؤال ساقط من رأسہ فھم لاینکرون جواز الاستخدام للاب لکن ذلک حیث یصح ویتحقق فان الشیئ انما یجوز بعد مایصح والباطل لاوجود لہ وقد علمت انہ فی الاعیان المباحۃ باطل وبہ انکشف ایھا مان واقعا فی کلامہ فی کتاب الشرکۃ حیث کان فی التنویر والدر(۶) لاتصح شرکۃ فی احتطاب واحتشاش واصطیاد واستقاء وسائر مباحات لتضمنھا اوکالۃ والتوکیل فی اخذ المباح لایصح وما حصلہ احدھما فلہ وما حصلاہ معافلھما نصفین ان لم یعلم مالکل وما حصلہ احدھما باعانۃ صاحبہ فلہ ولصاحبہ اجر مثلہ ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں، جواب بالکل درست ہے اس کو ضعیف قرار دینا درست نہ ہوگا، بلکہ پہلے سے واضح تھا، تو سوال کی گنجائش ہی نہ تھی، بلکہ سوال کی بنیاد ہی ساقط ہے، کیونکہ مشائخ اس امر کا انکار نہیں کرتے ہیں کہ باپ بیٹے سے خدمت لے سکتا ہے لیکن یہ صرف اُسی صورت میں ہے جبکہ متحقق ہو اور صحیح ہو، کیونکہ شے اسی وقت جائز ہوتی ہے جبکہ صحیح ہو اور باطل کا کوئی وجود نہیں ہوتا اور آپ جان چکے ہیں کہ یہ اعیان مباحہ میں باطل ہے، ان کی کتاب کی کتاب الشرکۃ میں دو وہم تھے وہ بھی اس گفتگو سے ختم ہوگئی، دُر اور تنویر میں ہے لکڑیاں اکٹھی کرنے ، گھاس جمع کرنے ، شکار کرنے اور پانی بھرنے میں شرکت جائز نہیں، اور یہی حال دوسری مباحات کا ہے کیونکہ یہ وکالت کو متضمن ہے اور مباح کے لینے میں تو کیل جائز نہیں، دو میں سے کسی ایک نے جو حاصل کیا وہ اسی کا ہوگا اور جو دونوں نے مل کر حاصل کیا ہو تو وہ آدھا آدھا ہے، اگر یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کتنا لیا تھا اور جو کچھ ایک نے اپنے ساتھی کی مدد سے لیا وہ اُسی ایک کا ہوگا اور ساتھی کو اجر مثل ملے گا اھ۔
(۱؎ الدرالمختار شرکت فاسدۃ مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۴)
فکتب رحمہ اللّٰہ تعالٰی علی قولہ وما حصلاہ فلھما یؤخذ من ھذا ماافتی بہ فی الخیریۃ لواجتمع(۱) اخوۃ یعملون فی ترکۃ ابیھم ونَمَا المَالُ فھو بینھم سویۃ ولو اختلفوا فی العمل والرای اھ۔ قال ثم ھذا فی غیر الابن مع ابیہ لما فی القنیۃ الاب(۲) وابنہ یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ ولم یکن لھما شیئ فالکسب کلہ للاب انکان الابن فی عیالہ لکونہ معینالہ ۲؎ اھ۔
تو انہوں نے اس کے قول وما حصلاہ فلھما پر لکھا ہے اس سے معلوم ہوا کہ خیریہ میں جو فتوی ہے وہ اسی سے ماخوذ ہے اگرچہ کچھ بھائی مل کر اپنے باپ کے ترکہ میں کام کریں، اور پھر کچھ مال حاصل ہوا تو وہ ان کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوگا خواہ عمل اور رائے میں اختلاف ہی کیوں نہ رہا ہو اھ۔ فرمایا یہ حکم اُس صورت میں نہیں ہے جبکہ بیٹا باپ کے ساتھ مصروف عمل ہو، کیونکہ قنیہ میں ہے اگر باپ بیٹا ایک ہی صنعت میں کام کرتے ہوں اور اُن کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہ ہو تو کل کمائی باپ کی شمار ہوگی بشرطیکہ بیٹا باپ کے عیال میں ہو، کیونکہ وہ اس کا مددگار ہے اھ۔ (ت)