فتاوٰی عٰلمگیریہ میں قنیہ سے ہے:قال نصیر(۱) سألت ابا سلیمٰن عمن استأجرہ لیحتطب لہ الی اللیل قال ان سمی یوما جاز والحطب للمستأجر ولوقال(۲) ھذا الحطب فالاجارۃ فاسدۃ والحطب للمستأجر وعلیہ اجر مثلہ ولوکان(۳) الحطب الذی عینہ ملک المستأجر جاز ۱؎۔
نصیر نے فرمایا میں نے ابو سلیمان سے پوچھا کہ ایک شخص کسی مزدور سے معاہدہ کرے کہ وہ رات تک اس کیلئے لکڑیاں جمع کرے، تو فرمایا کہ اگر ایک دن کا نام لیا تو جائز ہے اور لکڑیاں مستاجر کی ہوں گی، اور اگر اشارہ کر کے کہا کہ یہ لکڑیاں تو اجارہ فاسد ہے اور لکڑیاں مستاجر کی ہیں اور اس پر اجرِ مثل ہے، اگر وہ لکڑیاں مستاجر کی مِلک ہیں تو جائز ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر پشاور ۴/ ۴۵۱)
اقول والمراد اجر المثل بالغاما بلغ ان لم یسم معینا والا فالاقل منہ ومن المسمی کما ھو الاصل المعروف ولذا عولت علیہ وسیاتی التصریح بہ۔
میں کہتا ہوں مراد اجر مثل ہے خواہ جتنا بھی ہو اگر اس نے معین نہ کیا ہو ورنہ اجر مثل اور اجر معین سے جو کم ہو وہ دیا جائے گا، جیسا کہ کلیہ معروف ہے، اس لئے میں نے اس پر اعتماد کیا اور اس کی تصریح بھی آجائے گی (ت)
(اس کو اس لئے مزدوری پر لیا کہ وہ اس کے لئے شکار کرے یا لکڑیاں چنے تو اگر اس کا وقت مقرر کیا تو جائز ہے ورنہ نہیں) اور اگر وقت مقرر نہ کیا، اور لکڑیاں مقرر کر دیں تو یہ عقد فاسد ہے (ہاں اگر لکڑیاں متعین کردیں اور وہ لکڑیاں اسی کی مِلک ہیں تو جائز ہے) مجتبٰی اسی پر فتوٰی ہے ''صیرفیۃ اھ'' ۔
(۲؎ الدرالمختار اجارہ فاسدہ مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۰)
قال العلامۃ ش قولہ والالا ای والحطب للعامل ط قولہ فسد قال فی الھندیۃ ولو قال ھذا الحطب الٰی اٰخر مانقلنا قال قولہ وبہ یفتی صیر فیۃ قال فیھا ان ذکر الیوم فالعلف للاٰمر والا فللمامور وھذہ روایۃ الحاوی وبہ یفتی قال فی المنح وھذا یوافق ماقدمناہ عن المجتبٰی ومن ثم عولنا علیہ فی المختصر ۱؎ اھ۔
علامہ "ش" نے فرمایا ''اور اس کا قول والالا یعنی لکڑیاں عامل کی ہوں گی ط ان کا قول ''فسد'' ہندیہ میں ہے ولو قال ھذا الحطب الی اٰخر جو ہم نے نقل کیا ہے فرمایا ان کا قول وبہ یفتی صیرفیۃ اس میں ہے کہ اگر مستاجر نے دن کا ذکر کیا تو چارہ حکم دینے والے کے لئے ہوگا ورنہ اس کا ہوگا جس کو حکم دیا گیا، اور یہ حاوی کی روایت ہے اور اس پر فتوی ہے۔ منح میں ہے اور یہ اُس کے موافق ہے جو ہم مجتبٰی سے نقل کر آئے ہیں اور اس لئے ہم نے اس پر مختصر میں اعتماد کیا اھ ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار اجارہ فاسدہ البابی مصر ۵/ ۴۳)
اقول : ھھنا تنبیھان الاول کون الحطب للعامل اذالم یوقت علی مافی الصیرفیۃ وتبع اطلاقھا الفاضلان ط و ش محلہ مااذالم یعین الحطب ایضا والاکان للاٰمر کما قدمنا عن الھندیۃ عن القنیۃ عن نصیر عن ابی سلیمٰن وقد نقلاہ ایضا واقراہ وفی غمز العیون استأجرہ لیصید لہ اولیحتطب جاز ان وقت بان قال ھذا الیوم اوھذا الشھر ویجب المسمی لان ھذا اجیر وحد وشرط صحتہ بیان الوقت وقد وجد وان لم یوقت ولکن عین الصید والحطب فالاجارۃ فاسدۃ لجھالۃ الوقت فیجب اجر المثل وما حصل یکون للمستأجر کذا فی الولوالجیۃ ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں یہاں دو تنبیہات ہیں:
پہلی تنبیہ: لکڑیوں کا عامل کیلئے ہونا جبکہ اس نے وقت کا تعین نہ کیا ہو، جیسا کہ صیرفیہ میں ہے، اور دو۲ فاضلوں یعنی ط اور ش نے اس کے اطلاق کی متابعت کی ہے اس کا محل یہ ہے کہ جب لکڑیوں کا تعین بھی نہ کیا ہو ورنہ لکڑیاں آمر کی ہوں گی، جیسا کہ ہم نے ہندیہ اور قنیہ کے حوالہ سے نقل کیا، یہ روایت نصیر کی ابو سلیمان سے ہے، اور اُن دونوں نے اس کو نقل کیا اور برقرار رکھا، اور غمز العیون میں ہے کسی شخص نے مزدور کو اُجرت پر لیا کہ اُس کیلئے شکار کرے یا لکڑیاں جمع کرے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ اس نے اس وقت کا تعین کردیا ہو مثلاً یہ کہا ہو کہ اس دن یا اِس ماہ میں، اور جو طے کیا ہو وہ واجب ہوگا کیونکہ یہ اجیر محض ہے، اور اس کی صحت کی شرط وقت کا بیان ہے جو پائی گئی ہے اور اگر وقت کا تعین نہ کیا ہو لیکن شکار اور لکڑیوں کا تعین کیا ہو تو اجارہ فاسدہ ہے کہ وقت کی جہالت ہے، تو اس صورت میں اجرِ مثل واجب ہوگا، اور جو حاصل ہوگا وہ مستأجر کو ملے گا کذا فی الولوالجیہ اھ۔
(۲؎ غمز العیون مع الاشباہ کتاب الاجارۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۵۶)
اور خزانۃ المفتین میں ہے کہ کسی شخص نے ایک اجیر لیا کہ وہ رات تک اس کے لئے سلائی کرے اور ایک درہم لے، تو جائز ہے، یا رات تک شکار کرے یا لکڑیاں جمع کرے، اور یہ لکڑیاں اور شکار مستاجر کا ہوگا، اور اگر کہا کہ یہ شکار کرے یا یہ لکڑیاں اکٹھی کرے، تو اجارہ فاسد ہے، اور لکڑیاں اور شکار مستاجر کا ہوگا اور اس کے ذمہ اجیر کیلئے اجر مثل ہوگا، اور اگر کسی انسان سے لکڑیاں اکٹھی کرنے یا شکار میں مدد طلب کی تو شکار اور لکڑیاں عمل کرنے والے کی ہونگی اھ۔
(۱؎ خزانۃ المفتین )
وفی(۱) الھندیۃ عن محیط السرخسی عن محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی فیمن قال لغیرہ اقتل ھذا الذئب او ھذا الاسد ولک درہم و الذئب او الاسد صید فلہ اجر مثلہ لایجاوز بہ درھما والصید للمستأجر ۲؎ اھ۔
اور ہندیہ میں محیط السرخسی سے محمد رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی سے کہا کہ یہ بھیڑیا ہلاک کردو یا یہ شیر، اور تم کو ایک درہم ملے گا۔ تو بھیڑیا اور شیر شکار شمار ہوگا اور اُس کا اجر مثل ملے گا جو ایک درہم سے زائد نہ ہوگا، اور شکار مستاجر کا ہوگا اھ۔
(۲؎ ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴/ ۴۵۱)
وبالجملۃ النقول فیہ مستفیضۃ فما کان(۲) ینبغی اطلاق کون الحطب للعامل عند عدم التوقیت لشمولہ صورۃ تعیین الحطب وقد ذکرھا(۳) الشارح تفریعا علیہ بل اشار(۴) الیھا الماتن ایضا کما تری والثانی وقع فی الھندیۃ عن القنیۃ قبل مانقلناہ متصلا بہ مانصہ استأجر لیقطع لہ الیوم حاجا ففعل لاشیئ علیہ والحاج للأمور قال نصیر سألت ابا سلیمن ۳؎ ۔۔۔الخ۔وکتبت علیہ مانصہ۔
خلاصہ یہ کہ اس میں نقول مشہور ہیں تو وقت کی تعیین نہ ہونے کی صورت میں لکڑیوں کا مطلقاً عامل کیلئے قرار دینا درست نہیں، کیونکہ یہ لکڑیوں کے متعین کرنے کی صورت کو بھی شامل ہے، اور اس کو شارح نے اس کی تفریع کے طور پر ذکر کیا ہے، بلکہ جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں ماتن نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے
دوسری تنبیہ: ہندیہ نے قنیہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کسی نے کوئی مزدور اس کام کیلئے لیا کہ وہ آج اُس کیلئے گھاس کاٹے گا، اُس نے ایسا ہی کیا تو اس کیلئے کوئی اُجرت لازم نہیں، اور گھاس اُسی کی ہوجائے گی۔ نصیر نے کہا میں نے ابو سلیمٰن سے دریافت کیا الخ۔ (ت)
(۳؎ ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴/ ۴۵۱)
اقول:انظر ما(۱) وجہہ فانہ اجیر وحد وشرطہ بیان المدۃ وقد وجد کما فی الغمز وش وقد قال(۲) عن ابی سلیمٰن بعدہ ان مسمی یوما جازو ذکر بعدہ باسطر عن محیط السرخسی لو(۳) استأجر لیصید لہ اولیغزل لہ اوللخصومۃ اوتقاضی
الدین اوقبض الدین لایجوز فان فعل یجب اجر المثل ولو ذکر مدۃ یجوز فی جمیع ذلک ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محض اجیر ہے، اور اس کی شرط بیان مدۃ ہے جو پائی گئی کما فی الغمزو 'ش' اور اس کے بعد ابو سلیمان سے کہا کہ اگر ایک دن کا کہا تو جائز ہے اور چند سطور بعد محیط سرخسی سے نقل کیا کہ اگر کسی کو اجرت پر لیا تاکہ اس کے لئے شکار کرے یا سُوت کاتے یا اُس کی وکالت کرے یا قرض طلب کرے یا قرض وصول کرے تو جائز نہیں، تو اگر ایسا کیا تو اجر مثل واجب ہوگا اور اگر مدۃ کا ذکر کیا تو ان تمام صورتوں میں جائز ہے اھ۔
(۱؎ ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴/ ۴۵۱)
ویظھر لی فی تأویلہ ان لیس المراد بالیوم الوقت المعلوم الممتد الی غروب الشمس بل ھو فیہ بعمنی الظرفیۃ ای یقع القطع فی ھذا الیوم فھو للاستعجال مثل خطہ لی الیوم بدرھم فی الھدایۃ من(۴) استأجر رجلا لیخبزلہ ھذہ العشرہ المخاتیم من الدقیق الیوم بدرھم فھو فاسد عند ابی حنیفۃ وقال ابو یوسف ومحمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم جازلانہ یجعل المعقود علیہ عملا وذکر اللوقت للاستعجال تصحیحا للعقد ولہ ان المعقود علیہ مجہول لان ذکر الوقت یوجب کون المنفعۃ معقودا علیہا وذ کر العمل یوجب کونہ معقودا علیہ ولا ترجیح ونفع المستأجر فی الثانی ونفع الاجیر فی الاول فیفضی الی المنازعۃ وعن ابی(۱) حنیفۃ انہ یصح الاجارۃ اذا قال فی الیوم وقدسمی عملا لانہ للظرف فکان المعقود علیہ العمل بخلاف قولہ الیوم وقدمر مثلہ فی الطلاق ۱؎ اھ۔اوالامران القنیۃ ذکرت ھذا برمز ثم رمزت لاٰخر وذکرت ماعن نصیر فیکون ھذا قول بعض علی خلاف ماعلیہ الناس وعلی خلاف ماعلیہ الفتوی کما فی الصیرفیۃ ومن(۲) عادۃ الھندیۃ نقل عبارۃ القنیۃ بحذف الرموز فتصیر(۳) الاقوال کقول واحد کما نبھت علیہ فی بعض المواضع من ھو امشھا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اور اس کی تاویل مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ یوم سے مراد دن کا وہ معین وقت نہیں ہے جو غروبِ آفتاب تک دراز ہو، بلکہ اس میںظرفیت کے معنی ہیں یعنی گھاس کا کاٹنا اس دن میں واقع ہو، تو یہ جلدی کے اظہار کیلئے ہے، جیسے یہ کہا کہ آج ہی یہ چیز مجھے سی کردو، ایک روپے میں، ہدایہ میں ہے جس نے کسی شخص کو اُجرت پر لیا تاکہ آج ایک درہم میں یہ دس بوری آٹا پکادے تو یہ اجارہ ابو حنیفہ کے نزدیک فاسد ہے، اور صاحبین نے فرمایا جائز ہے، صاحبین معقود علیہ عمل کو قرار دیتے ہیں اور ذکرِ وقت کو عجلت کیلئے قرار دیتے ہیں تاکہ عقد صحیح ہو، امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ معقود علیہ مجہول ہے کیونکہ وقت کا ذکر منفعت کو معقود علیہا بناتا ہے، اور عمل کا ذکر اس کو معقود علیہ کرتا ہے،اور کسی کو کسی پر ترجیح نہیں ہے، مستاجر کا نفع دوسرے میں ہے اور اجیر کا پہلے میں ہے، تو اس میں جھگڑا پیدا ہوگا، اور ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ یہ اجارہ اس وقت صحیح ہوگا جبکہ ''دن میں'' کہا اور کسی عمل کا نام لیا، کیونکہ یہ ظرف ہے تو معقود علیہ عمل ہوا بخلاف اس کے قول ''الیوم'' کے اور اسی کی مثل طلاق کے باب میں گزرا اھ یا معاملہ اس طرح ہے کہ قنیہ نے اسکو ثم کے رمز سے ذکر کرکے دوسرے کی طرف اشارہ کیا، اور جو کچھ نصیر سے مروی ہے وہ نقل کیا، یہ بعض کا قول ہے اور بعض کے خلاف ہے، اور فتوٰی بھی اس کے خلاف پر ہے کما فی الصیرفیۃ اور ہندیہ کی عادت ہے کہ وہ قنیہ کی عبارت رموز کے بغیر ہی نقل کردیتے ہیں، تو چند اقوال ایک ہی قول کے مانند ہوجاتے ہیں، اس پر میں نے اس کے بعض حواشی پر تنبیہ کی ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ اجارہ فاسدہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۳۰۴)
صورت ہفتم خود ظاہر ہے کہ اُس کے اقرار سے ملک مستاجر ہے۔اقول:وذلک لان الاجیر عامل لغیرہ وقد اعترف انہ عمل علی وجہ الاجارۃ واخذہ لمن استأجرہ۔
میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ اجیر دوسرے کا عامل ہوتا ہے اور اس نے یہ اعتراف کیا ہے وہ وہ بطور اجیر کام کررہا ہے اور وہ چیز مستاجر کیلئے لے رہا ہے۔ (ت)
یوں ہی صورتِ ہشتم میں کہ ظرف مستاجر میں احراز دلیل ہے کہ مستاجر کیلئے ہے، جامع الصغار میں ہے:
الاجیر اذا حمل الماء بکوز المستأجر یکون محرزا للمستأجر ۱؎۔
اجیر جب مستاجر کے کُوزے میں پانی لائے تو وہ مستاجر کا ہوگا۔ (ت)
(۱؎ جامع الصغار مع جامع الفصولین مسائل الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۴۸)
رہی صورت نہم ظاہر ہے کہ اس میں مِلک اجیر ہے۔
اقول:اور اس پر تقریر دلیل یوں کہ یہ اجیر نہ بیان مدّت کے ساتھ اپنے منافع بیچ چکا ہے کہ اس وقت میں اُس کا کام خواہی نخواہی آمر کیلئے ہو نہ شیئ کی تعیین ہوئی کہ بوجہ قبول اُس کا پابند ہو تو وہ اپنی آزادی پر ہے کیا ضرور ہے کہ اس وقت جو اُس نے لیا بر بنائے جارہ بغرض مستاجر لیا ہو نہ وہ مقر ہے نہ ہشتم کی طرح کوئی دلیل ظاہر ہے لہٰذا مِلک اجیر ہی ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
اقول: ویترا أی لی ان مَثَل الاستیلاء، عند الفقہاء، کمثل الشراء، مھما وجد نفاذ انفذ فاذا(۱) وکلہ بشراء عبد، والموکل لم یعین العبد، ولا الوکیل اضاف الیہ العقد، ولا وقع من مالہ النقد، ولا اقرانہ شراہ لہ، فانہ یکون للشاری لالمن وکلہ، والمسألۃ فی الھدایۃ والدر، وعامۃ الاسفار الغر، فالتوقیت ھھنا کالاضافۃ ثمہ لانتقال فعلہ الی الاٰمر کمامرو الاحراز بظرفہ کالنقد من مالہ والا قرار الاقرار والتعیین التعیین واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اور مجھ پر یہ ظاہر ہوا ہے کہ استیلاء کی مثال فقہاء کے نزدیک شراء کی سی ہے جب نفاذ پایا جائیگا اس کو نافذ کر دیا جائیگا۔ اب کسی نے کسی شخص کو غلام خریدنے کیلئے کہا اور موکل نے غلام کی تعیین نہ کی اور نہ وکیل نے عقد کو اس کی طرف مضاف کیا اور نہ اس کے مال سے ادائیگی کی اور نہ یہ کہا کہ اُس نے اس کیلئے خریداہے، تو یہ غلام خریدنے والے کا ہوگا نہ کہ حکم دینے والے کا، یہ مسئلہ ہدایہ، در اور عام کتب میں مذکور ہے، تو یہاں توقیت کی حیثیت وہاں اضافت کی طرح ہے کیونکہ اس کا فعل آمر کی طرف منتقل ہوتا ہے، اور اُس کے ظرف کا حاصل کرلینا اس کے مال سے ادائیگی کی طرح ہے اور یہ اقرار اس اقرار کی طرح اور یہ تعیین اس تعیین کی طرح ہے، واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
بالجملہ یہ نو صورتیں ہیں جن میں سے چار میں وہ شے مباح لینے والے کی مِلک ہے اور پانچ میں دوسرے کی۔ یہ جبکہ لینے والا حُر ہو ورنہ مملوک کسی شے کا مالک نہیں ہوتا اس کا جو کچھ ہے اس کے مولی کا ہے
ھذا ماظھر لی نظرا فی کلماتھم وارجو ان یکون صوابا ان شاء اللّٰہ تعالٰی
(یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا ان کے کلمات کو دیکھتے ہوئے اور مجھے امید ہے کہ یہی صحیح ہوگا ان شاء اللہ تعالٰی۔ ت)
تنقیح دوم(۱) یہ اصول مطلق استیلائے مباح میں ہُوئے یہاں کہ گفتگو نابالغ میں ہے یہ بھی دیکھنا ضرور کہ اُس کے والدین اگر اُس سے کوئی شے مباح مثلاً کُنویں سے پانی یا جنگل سے پتّے منگائیں تو اُس نسبت بنوت کے سبب احکام مذکورہ استیلاء میں کوئی تفاوت آئے گا یا نہیں، اگر آئے گا تو کیا۔ اس میں علماء کے تین قول ہیں:
اوّل کہ زیادہ مشہور ہے یہ کہ والدین کو بھی مباحات میں استخدام کا اختیار نہیں صبی اگرچہ ان کے حکم سے اُنہیں کے لئے انہیں کے ظرف میں لے خود ہی مالک ہوگا اور والدین کو اُس میں تصرف حرام مگر بحالت محتاجی۔
اقول: یعنی بحالت فقر بلاقیمت اور بحالتِ احتیاج حاضر مثلاً سفر میں ہوں اور مال گھر میں بوعدہ قیمت تصرف کرسکتے ہیں ذخیرہ ومنیہ پھر معراج الدرایہ پھر حموی کنز پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے:
لوامر صبیا ابوہ اوامہ باتیان الماء من الوادی اوالحوض فی کوز فجاء بہ لایحعل لابویہ ان یشربا من ذلک الماء اذالم یکونا فقیرین لان الماء صار ملکہ ولایحل لھما الاکل ای والشرب من مالہ بغیر حاجۃ ۱؎۔
اگر کسی بچّہ کو اپنے باپ یا ماں نے وادی یا حوض سے لوٹے میں پانی لانے کو کہا پھر وہ پانی لے آئے تو اس کے ماں باپ کیلئے اس پانی کو پینا جائز نہیں بشرطیکہ وہ فقیر نہ ہوں، کیونکہ پانی اُس بچّہ کی مِلک ہوگیا اور اُن دونوں کیلئے اس کے مال سے بلاحاجت کھانا پینا جائز نہیں۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۱۲)