اسی طرح صورتِ سوم میں بھی کہ تحصیل(۱) مباح کیلئے دوسرے کو اپنا نائب ووکیل وخادم ومعین بنانا باطل ہے درمختار کتاب الشرکۃ فصل شرکت فاسدہ میں ہے:
التوکیل فی اخذ المباح لایصح ۲؎۔
مباح چیز کو لانے کیلئے کسی کو وکیل بنانا درست نہیں ہے۔ (ت)
(۲؎ الدرالمختار شرکۃ فاسدہ مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۴)
جامع الصغار فصل کراہیت میں ہے:الاستخدام فی الاعیان المباحۃ باطل ۳؎۔
اعیان مباحہ میں استخدام باطل ہے۔ (ت)
(۳؎ جامع احکام الصغار مع جامع الفصولین الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/۱۴۷)
فتح القدیر میں ہے:الشرع جعل سبب ملک المباح سبق الید الیہ فاذا وکلہ بہ فاستولی علیہ سبق ملکہ لہ ملک الموکل ۴؎۔
شریعت نے مباح اشیاء میں مِلک کا سبب سبقت ید کو بتایا ہے، تو جب کسی نے اس پر کسی کو وکیل بنایا اور اس نے اس پر استیلاء حاصل کرلیا موکل کی مِلک اس پر ثابت ہوجائیگی تو وکیل مالک ہوجائیگا۔ (ت)
(۴؎ فتح القدیر فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ سکھر ۵/ ۴۱۰)
ہندیہ اجارات باب ۱۶ میں قنیہ سے ہے:قال(۱) نصیر (ھو ابن یحیی) قلت (ای للامام ابی سلیمٰن الجوزجانی رحمھما اللّٰہ تعالٰی) فان استعان بانسان یحتطب ویصطاد لہ (ای من دون اجر) قال الحطب والصید للعامل وکذا ضربۃ القانص قال استاذنا (وھو البدیع استاذ الزاھدی) وینبغی ان یحفظ ھذا فقد ابتلی بہ العامۃ والخاصۃ یستعینون بالناس فی الاحتطاب والاحتشاش وقطع الشوک والحاج عہ واتخاذ المجمدۃ فیثبت الملک للاعوان فیھا ولا یعلم الکل بھا فینفقونھا قبل الاستیہاب بطریقہ اوالاذن فیجب علیھم مثلھا اوقیمتھا وھم لایشعرون لجھلھم وغفلتھم اعاذنااللّٰہ عن الجھل ووفقنا للعلم والعمل ۱؎ اھ
نصیر (ابن یحیٰی نے) کہا، میں نے کہا (یعنی امام ابو سلیمان الجوزجانی کو) اگر کسی شخص نے لکڑیاں جمع کرنے یا شکار کرنے کیلئے دوسرے شخص کی مدد حاصل کی (یعنی بلا اجر) فرمایا اس صورت میں لکڑیاں اور شکار اُسی کا ہے جس نے کیا ہو، اور اسی طرح شکاری کا ایک مرتبہ جال ڈال کر شکار نکالنا ، ہمارے استاذ نے فرمایا (یعنی بدیع استاذ الزاہدی) اور اسے یاد کرلینا چاہئے کیونکہ اس میں ہر عام وخاص مبتلا ہے، لوگ دوسروں سے لکڑیاں جمع کرانے، کانٹے اکٹھے کرانے اور گھاس جمع کرانے میں مدد لیتے ہیں، اسی طرح ایک قسم کا درخت منگواتے ہیں یا آسمانی برف جمع کراتے ہیں، توجو لوگ عملاً یہ کام کرتے ہیں ان پر انہی لوگوں کی مِلک ثابت ہوجائے گی، لوگ یہ مسئلہ نہیں جانتے، وہ ان لوگوں سے نہ تو اجازت لیتے ہیں، اور نہ ہی بطور ہبہ لیتے ہیں اور اِن اشیاء کو خرچ کر بیٹھتے ہیں، تو ان پر ان کا مثل واجب ہوگا یا قیمت لازم آئے گی، ان کو جہالت کی وجہ سے اس کا علم نہیں یا قیمت لازم آئے گی، ان کو جہالت کی وجہ سے اس کا علم نہیں اللہ ہمیں جہل سے محفوظ رکھے اور ہمیں علم وعمل کی توفیق دے (آمین) اھ (ت)
عہ: الحاج باھمال اولہ واعجام اٰخرہ جمع حاجۃ وھی الشوک وقبل نیت من الحمص وقال ابن سیدہ ضرب من الشوک وقیل شجر وقال ابو حنیفۃ الدینوری الحاج مماتدوم خضرتہ وتذھب عروقہ فی الارض بعیدا یتداوی بطبیخہ ولہ ورق دقاق طوال کانہ مساو للشوک فی الکثرۃ اھ۔ من تاج العروس ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اِلحاج، حاءِ مہملہ اورجیم کے ساتھ، جمع حاجہ کی ہے، کانٹوں کو کہتے ہیں، ایک قول کے مطابق ترش گھاس ہے۔ ابن سیدہ کے مطابق کانٹوں کی ایک قسم ہے۔ ایک قول کے مطابق درخت ہے۔ اور ابو حنیفہ الدینوری نے فرمایا یہ ایسا درخت ہے جو سدا بہار رہتا ہے اور اُس کی جڑیں زمین میں دور تک چلی جاتی ہیں اس کو ابال کر دوا کے کام میں لایا جاتا ہے، اس کے پتّے باریک اور لمبے ہوتے ہیں اور کانٹوں کی طرح زیادہ ہوتے ہیں اھ تاج العروس ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
میں کہتا ہوں اس کا قول ''لایعلم الکل بھا'' ایک سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کارندے اِن اشیاء کو اُس شخص کے پاس لے آئیں جس نے ان کو جمع کرنیکا حکم دیا ہے تو وہ اسکو دے دیں اور یہ حاصل کرلے تو گویا انکی طرف سے دینا شمار ہوگا اور اس کی طرف سے لینا ہوگا، اور یہ ہبہ کا ایجاب وقبول شمار ہوگا تو اس کا جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے کہ جب انہیں علم ہو کہ اعوان کیلئے ملک ثابت ہے تو یہ دینا لینا ہبہ کا ایجاب قبول ہوگا لیکن وہ سب کے سب اس سے غافل ہیں، اور وہ مدد کفایت مؤنت میں سمجھتے ہیں مثلاً کسی شخص نے ایک آدمی کو گھر میں بھیجا کہ وہاں سے کُرسی اٹھا لائے۔ (ت)
اقول: ھو کما قال لکن الاذن(۱) ثابت لاشک وھم انما ینوون الاخذ لہ ولا یؤدونہ الیہ الا لیتصرف فیہ ولا غصب منہ حتی یجب الضمان۔
میں کہتا ہوں وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ انہوں نے فرمایا لیکن اِذن بلاشبہ ثابت ہے اور ان کی نیت یہی ہوتی ہے کہ وہ اُس شخص کیلئے لیں، اور اس کو دیتے بھی اس لئے ہیں کہ وہ اُس میں تصرف کرے، وہ غصب تو نہیں کررہا ہے کہ ضمان واجب ہو۔ (ت)
فانقلت لایحسبون انفسھم ملاکہ وھو یاخذہ بجعل نفسہ کانہ ھو المستولی علیہ بدء فیتصرف فیہ علی انہ ملکہ فلم یتحقق الاذن لانھم لایدرون انہ لھم وبجعلھم یصیرلہ حتی یاذنوا لہ فی التصرف وانما یظن ویظنون انہ لمالک لہ ولا عبرۃ بالظن البین خطؤہ کمن حسب(۱) ان الشیئ الفلانی من ودائع زید عند ابیہ فاداہ الی وارثیہ فتصرفوا ثم تبین انہ لابیہ لالزید فان لہ ان یرجع علےھم بہ قائما اوبضمانہ ھالکا ۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ وہ لوگ اپنے آپ کو ان اشیاء کا مالک نہیں سمجھتے ہیں، اور وہ شخص ان چیزوں پر اس طرح قابض ہوتا ہے گویا وہ ان چیزوں کا پہلا مالک ہے، اور اس طرح تصرف کرتا ہے گویا وہ اِن چیزوں کا مالک ہو تو ایسی صورت میں اذن متحقق نہ ہوگا کیونکہ ان کو تو پتا ہی نہیں کہ یہ چیز ان کی ملکیت میں ہے اور اُس کی مِلک میں اُسی وقت ہوگی جب وہ اِذن دیں، اور اِس صورت میں اس کو گمان ہے کہ وہ مالک ہے اور ان کو بھی گمان ہے کہ وہی مالک ہے، اور جس گمان کا خطا ہونا ظاہر ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں، مثلاً کوئی شخص یہ گمان کر بیٹھے کہ فلاں چیز زید کی امانتوں میں سے اس کے باپ کے پاس ہے اور اس پر گمان پر وہ چیز زید کے وارثوں کو دے دیتا ہے اور وہ اس میں تصرف کرلیتے ہیں پھر بعد میں اس کو پتا چلتا ہے کہ وہ چیز تو اس کے باپ ہی کی ہے زید کی نہیں ہے، تو اگر وہ چیز موجود ہو تو وہ ان سے واپس لے سکتا ہے اور اگر ہلاک ہو گئی ہے تو اس کا ضمان لے سکتا ہے،
فی العقود الدریۃ من کتاب الشرکۃ من دفع شیاا لیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھلکہ القایض کما فی شرح النظم الوھبانی وغیرہ من المعتبرات ۱؎ اھ وفیھا وفی الخیریۃ من کتاب الوقف قد صرحوا بان من(۲) ظن ان علیہ دینا فبان خلافہ یرجع بما ادی ولو کان قداستھلکہ رجع ببدلہ ۲؎ اھ۔
''العقود الدریہ'' کے کتاب الشرکۃ میں ہے کہ جس نے کوئی ایسی چیز دی جو اُس پر واجب نہ تھی تو وہ اس کو واپس لے سکتا ہے، ہاں اگر بطور ہبہ دی ہو اور اس کے قبضہ میں ہلاک ہوگئی ہو تو واپس نہیں لے سکتا ہے، یہی چیز شرح نظم وہبانی وغیرہ معتبر کتب میں ہے اھ اور اس میں اور الخیریہ کے کتاب الوقف کے حوالہ سے ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ گمان کیا کہ اُس پر دین ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ غلط ہے، تو جو دیا ہے وہ واپس لے گا، اور اگر وہ ہلاک ہوگیا ہو تو اس کا بدل لے گا اھ (ت)
(۱؎ عقود الدریۃ کتاب الشرکۃ قندھار افغانستان ۱/ ۹۱)
(۲؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف بیروت ۱/ ۱۳۰)
اقول :ھذا فیما لوعلم انہ لیس للمدفوع الیہ لم یدفع الیہ اماھنا فانما یاتون بہ لہ ولوعلموا ان الملک یقع لہم لم یتخلفوا عن اعطائہ لہ فرضاھم بتصرفہ فیہ ثابت علی کل تقدیر ولھذا لم یکترث بہ الخاصۃ فضلا عن العامۃ کما اعترف بہ فلاوجہ لنسبتھم الی الجھل والغفلۃ واقامۃ النکیر،ھذا ماعندی والعلم بالحق عند اللطیف الخبیر۔
میں کہتا ہوں یہ اُس صورت میں ہے جبکہ اس کو یہ علم ہواہو کہ یہ مدفوع الیہ کے لئے نہ تھا تو اُس کو نہ دے گا، اور یہاں تو وہ اُسی کیلئے لاتے ہیں اور اگر ان کو یہ علم ہو کہ مِلک ان کیلئے واقع ہوگی تو اس کے دینے سے تخلف نہ کریں گے، تو اُن کا اُس کے تصرف پر راضی ہونا بہرتقدیر ثابت ہے اور اس لئے خاص لوگ بھی اس کی پرواہ نہیں کرتے چہ جائیکہ عام لوگ، جیسا کہ خود انہوں نے اعتراف کیا، تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کو جہل، غفلت کی طرف منسوب کیا جائے یا انہیں نکیر کی جائے ہذا ماعندی الخ (ت)
تنبیہ اقول: یہ بلا(۱) معاوضہ تین صورتوں کو شامل ہے: ایک یہ کہ وہ اس کا اجیرہی نہ ہو۔
دوسرے یہ کہ اس کا اجیر تو ہے مگر اس کام پر نہیں کسی اور خاص کام پر ہے تو یہ بلامعاوضہ ہی ہوا۔ تیسرے یہ کہ مطلق کام خدمت پر نوکر ہے جس میں یہ کام بھی داخل مگر نوکری کے غیر وقت میں اُس سے اس کام کیلئے کہا مثلاً دن کا نوکر ہے اُس سے رات کو پانی بھروایا کہ یہ وقت بھی بلامعاوضہ ہے ولہٰذا ہم نے اِن صورتوں کو تشقیق میں نہ لیا۔
صورت چہارم میں وہ مباح آقا کی مِلک ہوگا یعنی جب کہ اُس کی نوکری کے وقت میں یہ کام لیا ورنہ صورت سوم میں داخل ہے کمامر اِس صورت میں مِلک آقا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نوکری کے وقت میں نوکر کے منافع اُس کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں اور اُس کا اُس کے حکم سے قبضہ بعینہ اُس کا قبضہ ہے۔ ہدایہ میں ہے:
(الاجیر(۲) الخاص الذی یستحق الاجرۃ بتسلیم نفسہ فی المدۃ وان لم یعمل کمن استؤجر شھرا للخدمۃ اولرعی الغنم) وانما سمی اجیر وحدلانہ لایمکنہ ان یعمل لغیرہ لان منافعہ فی المدۃ صارت مستحقۃ لہ والاجر مقابل بالمنافع ولھذا یبقی الاجر مستحقا وان نقض العمل (لاضمان علی ماتف من عملہ) لان المنافع متی صارت مملوکۃ للمستأجر فاذا امرہ بالتصرف فی ملکہ صح ویصیر نائبا منا بہ فیصیر فعلہ منقولا الیہ کانہ فعلہ بنفسہ فلھذا لایضمنہ ۱؎۔
وہ خاص اجیر جو اجرت کا مستحق ہوتا ہے کہ ایک مدت کے لئے اپنے آپ کو سپرد کردے خواہ کام نہ کرے (مثلاً کسی شخص کو ایک ماہ کے لئے خدمت یا بکریاں چرانے کیلئے اجرت پر لیا) اس کو اجیر وحد اس لئے کہتے ہیں کہ وہ دوسرے کا کام نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس مدت میں اس کے منافع سب اس کیلئے مخصوص ہوگئے ہیں اور اجر منافع کے مقابل ہوتا ہے اس لئے اجیر مستحق رہتا ہے اگرچہ کام ختم ہوجائے (اس کے عمل سے اگر کوئی چیز تلف ہوجائے تو اس پر ضمان نہیں ہے) کیونکہ منافع جب مستاجر کی مِلک ہوگئے تو اب جب اُس نے اپنی مِلک میں تصرف کا حکم دیا تو صحیح ہوگیا، اور وہ اس کا قائم مقام ہوگا اور اس کا فعل اس کی طرف منقول ہوگا گویا یہ فعل اس نے خود کیا ہے، اس لئے وہ اس کا ضامن نہ ہوگا۔ (ت)
یوں ہی صورت پنجم میں اور اجیر اجر مقرر کا مستحق ہوگا کہ یہ اجارہ صحیحہ ہے اور صورت ششم میں بھی وہ شے مباح مِلک مستأجر ہوگی مگر اجیر مثل پائے گیا جو مسمی سے زاید نہ ہو کہ یہ اجارہ فاسدہ ہے۔
اقول: ویظھرلی ان الوجہ فیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم ان الاجارۃ اما علی العمل اعنی التصرف فی شیئ من النقل والحمل والقطع والقلع وغیر ذلک وھو فی الاجیر المشترک والمقصود فیہ حصول ذلک التصرف کیفما کان ولذا لم یتقید بعمل الاجیر نفسہ واما علی منافع الاجیر وھو فی الاجیر الخاص والاجارۃ فی المباحات لانعقل علی الوجہ الاول لانھا لاتختص بالمستأجر ونسبتھا الی الکل سواء فکیف یکون حصول تصرف فیھا موجبا للاجر علی المستأجر بل انما الاجر مقابل فیھا بمنافع الاجیر حیث یرید المستأجران یستعملہ فی حاجتہ فلا یکون الا اجیر وحد ولا تتقدر منافعہ الا بتعیین المدۃ فاذالم تذکر بقی المعقود علیہ مجھولا ففسدت ولذا لوکان الشیئ ملک المستأجر کأن یقول اقطع شجرتی ھذہ بدرھم جاز کما یاتی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں مجھے اس کی جو وجہ معلوم ہوتی ہے واللہ تعالٰی اعلم وہ یہ ہے کہ اجارہ یا تو عمل پر ہوگا یعنی کسی چیز میں تصرف کرنا، نقل وحمل، کاٹنے یا اکھاڑنے کے طور پر اور اس کو اجیر مشترک کہتے ہیں، اور مقصود اس میں اس تصرف کا حاصل ہونا ہے خواہ کسی طرح ہو لہٰذا اس میں یہ قید نہیں کہ اجیر خود ہی عمل کرے اور یا اجارہ اجیر کے منافع پر ہوگا یہ اجیر خاص میں ہوتا ہے، اور مباح چیزوں میں پہلی صورت میں اجارہ متصور نہیں، کیونکہ وہ مستاجر کے ساتھ مخصوص نہیں، اور سب کی طرف اس کی نسبت یکساں ہے، تو اس میں تصرف کا حصول مستاجر پر اجر کو کیونکر لازم کرے گا، بلکہ ان میں اجر اجیر کے منافع کے مقابل ہے کہ مستاجر چاہتا ہے کہ اس کو اپنی حاجت میں استعمال کرے، تو یہ اجیر وحد ہوگا، اور اس کے منافع کا اندازہ مدۃ کی تعیین وتحدید سے ہی ہوگا اور جب مدۃ کا ذکر نہیں کیا گیا تو معقود علیہ مجہول رہے گا اور اجارہ فاسد رہے گا، اور اسی لئے اگر کوئی چیز مستاجر کی مِلک ہو، مثلاً مستاجر یہ کہے کہ میرا یہ درخت ایک درہم میں اٹ دو تو جائز ہے جیسا کہ آئے گا، واللہ اعلم۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ باب ضمان الاجیر مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/ ۳۰۸)