Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
127 - 176
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

(رسالہ ضمنیہ) عطاء۳۴ النبی لافاضۃ ہ احکام ماء الصبی۱۳

(بچّے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا عطیہ)
(۳۲ تا ۴۸) نابالغ(۲) کا بھرا ہوا پانی یہ مسئلہ بہت طویل الذیل وکثیر الشقوق ہے کتابوں میں اس کی تفصیل تام درکنار بہت صورتوں کا ذکر بھی نہیں فقیر بتوفیق القدیر اُمید کرتا ہے کہ اُس میں کلام شافی وکافی ذکر کرے فاقول وباللہ التوفیق پانی تین قسم ہیں (۱) مباح غیر مملوک (۲) مملوک غیر مباح (۳) مباح مملوک 

اول دریاؤں نہروں کے پانی تالاب جھیلوں ڈبروں کے برساتی پانی مملوک کنویں کا پانی کہ وہ بھی جب تک بھرا نہ جائے کسی کی مِلک نہیں ہوتا جس کی تحقیق ابھی گزری مساجد وغیرہا کے حوضوں سقایوں کا پانی کہ مالِ وقف سے بھرا گیا اس کا بیان بھی گزرا یہ سب پانی مباح ہیں اور کسی کی مِلک نہیں۔

دوم برتنوں کا پانی کہ آدمی نے اپنے گھر کے خرچ کو بھرایا بھروا کر رکھا وہ خاص اس کی مِلک ہے۔بے اس کی اجازت کے کسی کو اس میں تصرف جائز نہیں۔



سوم سبیل یا سقایہ کا پانی کہ کسی نے خود بھرایا اپنے مال سے بھروایا بہرحال اس کی مِلک ہو اور اس نے لوگوں کیلئے اس کا استعمال مباح کردیا وہ بعد اباحت بھی اُسی کی مِلک رہتا ہے یہ پانی مملوک بھی ہے اور مباح بھی۔ ظاہر ہے کہ قسم اخیر کا پانی بالغ بھرے یا نابالغ کچھ تفاوت احکام نہ ہوگا کہ لینے والا اس کا مالک ہی نہیں ہوتا۔ یوں ہی قسم دوم میں جبکہ مالک نے اسے بطور اباحت دیا ہاں اگر مالک کیا تو اب فرق احکام آئے گا اور اگر بے اجازت مالک لیا یا دونوں قسم اخیر میں مالک بوجہ صغر یا جنون اجازت دینے کے قابل نہ تھا تو وہ آب مغصوب ہے۔ زیادہ تفصیل طلب اور یہاں مقصود بالبحث قسم اوّل ہے اس کیلئے تنقیح اول(۱) ان اصول پر نظر لازم جو اموال مباحہ جیسے آبِ مذکور یا جنگل کی خود روگھاس پیڑ پھل پھول وغیرہا پر حصول مِلک کیلئے ہیں کتب میں اس کے جزئیات میں متفرق طور پر مذکور ہوئے جن سے نظر حاضر ایک ضابطہ تک پہنچنے کی امید رکھتی ہے واللہ الہادی۔



فاقول: وبہ استعین یہ تو ظاہر ہے کہ مباح(۲) چیز احراز واستیلا سے مِلک ہوجاتی ہے اول بار جس کا ہاتھ اُس پر پہنچا اور اس نے اپنے قبضے میں کرلیا اُسی کی مِلک ہوجائیگی مگر یہ قبضہ کبھی دوسرے کی طرف منتقل ہوتا اور اُس کا قبضہ ٹھہرتا ہے اس کی تفصیل یہ(۳) ہے کہ مال مباح کا لینے والا دوحال سے خالی نہیں اُس(۱) شے کو اپنے لئے لے گا یا دُوسرے کیلئے، برتقدیر ثانی بطور خود یا اس سے کہے سے برتقدیر ثانی بلامعاوضہ(۳) یا باجرت برتقدیر ثانی اُس دوسرے کا اجیر(۴) مطلق ہے جیسے خدمتگار یا خاص اسی مباح کی تحصیل کیلئے اجیر کیا برتقدیر ثانی اجارہ(۵) وقت معین پرہوا مثلاً آ ج صبح سے دوپہر تک یا بلا تعین بر تقدیر ثانی وہ شے مباح(۶) متعین کردی تھی ۔ مثلاًیہ خاص درخت یا یہاں سے یہاں تک کہ یہ دس پیڑ یا اس قطعہ مخصوصہ کا سبزہ یا اس حوض کا سارا پانی یا یہ تعیین بھی نہ تھی برتقدیر ثانی اجیر(۷) قبول کرتا ہے کہ یہ شے میں نے مستاجر کیلئے لی یا نہیں برتقدیر ثانی اگر اس شے کا احراز مثلاً کسی ظرف میں ہوتا ہو تو وہ ظرف(۸) مستاجر کا تھا یا نہیں، یہ نو۹ صورتیں ہُوئیں۔ ان میں صورت اولٰی میں تو ظاہر ہے کہ وہ شے اُسی قبضہ کرنے والے کی مِلک ہوگی دوسرے کو اس سے علاقہ ہی نہیں، یوں ہی صورت دوم میںبھی کہ شرع مطہر نے سبب مِلک استیلا رکھا ہے وہ اس کا ہے دوسرے کیلئے محض نیت اس ملک کو منتقل نہ کر دے گی۔ فتح القدیر میں ہے:
لوقیل علیہ ھذا اذا استولی علیہ بقصدہ لنفسہ فاما اذا قصد ذلک لغیرہ فلم لایکون للغیر یجاب بان اطلاق نحو قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الناسشرکاء فی ثلاث لایفرق بین قصد وقصد ۱؎ اھ۔ وکتبت علیہ۔ اقول: الاحراز سبب الملک وقدتم لہ فملک ولا ینتقل لغیرہ بمجرد القصد کمن شری غیر مضاف الٰی زید ونیتہ انہ یشتریہ لزید لم یکن لزید۔
اگر اس پر کہا جائے کہ یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس پر استیلاء کیا اور قصد اپنے نفس کے لئے کیا، اور اگر کسی دوسرے کیلئے اس کا ارادہ کیا، تو یہ غیر کیلئے کیوں نہ ہوگا، اس کا یہ جواب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ''لوگ تین چیزوں میں شریک ہیں'' ایک قصد اور دوسرے قصد میں فرق نہیں کرتا ہے اھ اس پر میں نے لکھا ہے کہ میں کہتا ہوں حاصل کرلینا اسبابِ ملک میں سے ہے اور ملک اس کیلئے تام ہوچکی ہے اور وہ مالک ہوگیا اور یہ ملک دوسرے کی طرف محض قصد کی وجہ سے منتقل نہ ہوگی، جیسے کوئی شخص کوئی چیز خریدے اور اس کو زید کی طرف مضاف نہ کرے اور نیت یہ ہو کہ وہ زید کیلئے ہے، تو وہ زید کیلئے نہ ہوگی۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر    فصل فی شرکۃ فاسدہ        نوریہ رضویہ سکھر    ۵/ ۴۱۰)
Flag Counter