Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
126 - 176
(۳۱) سفر میں(۱) طہارت کو پانی پاس ہے مگر اس سے طہارت کرتا ہے تو اب یا بعد کو یہ یا اور کوئی مسلمان یا اُس جانور اگرچہ وہ کُتّا جس کا پالنا جائز ہے پیاسا رہ جائے گا یا آٹا گوندھنے یا اتنی نجاست پاک کرنے کو جس سے مانع نماز نہ رہے پانی نہ ملے گا تو ان صورتوں میں اُس پانی سے طہارت اگرچہ ہوجائے گی منع ہے بلکہ اپنے یا دُوسرے مسلمان کے ہلاک کا خوف غالب ہو تو سخت حرام ہے ان سب صور میں تیمم کرے اور پانی محفوظ رکھے ہاں(۲) جانوروں کی پیاس کیلئے اگر وضو یا غسل کا پانی کس برتن میں رکھ سکتا ہے تو طہارت فرض ہے اور تیمم باطل۔



اقول: یوں(۳) ہی اگر طہارت اس طرح ممکن ہو کہ پانی مستعمل نہ ہونے پائے جس کا طریقہ پرنالے وغیرہ میں وضو کرنے کا ہم نے رحب الساحہ میں بیان کیا تو اعذار مذکورہ سے کوئی عذر مبیح تیمم نہ ہوگا اور طہارت فرض ہوگی کمالا یخفی۔ بحرالرائق ودُرمختار میں ہے:
والنظم للدر (من عجز عن استعمال الماء لخوف عدو اوعطش) ولو لکلبہ اورفیق القافلۃ حالا اوماٰلا وکذا لعجین اوازالۃ نجس وقید ابن الکمال عطشدوابہ بتعذر حفظ الغسالۃ لعدم الاناء (تیمم ۱؎)۔
عبارت دُرکی ہے (جو شخص بوجہ خوفِ دشمن یا پیاس پانی کے استعمال سے عاجز ہو) خواہ اپنے کُتّے یا رفیق قافلہ کیلئے، اب یا آیندہ، اور اسی طرح آتا گوندھنے کیلئے یا نجاست دور کرنے کیلئے، اور ابن الکمال نے یہ قید لگائی کہ اس کے جانور پیاسے رہ جائیں گے کہ برتن نہ ہونے کی وجہ سے وہ دھوون کو محفوظ نہیں رکھ سکتا ہے (تو ایسی صورتوں میں وہ تیمم کرے)۔ (ت)
(۱؎ بزازیۃ الہندیۃ    التاسع فی المتفرقات من الکراہیۃ    پشاور    ۶/ ۳۷۲)
ردالمحتار میں ہے: قولہ ولو لکلبہ قیدہ فی البحر والنھر بکلب الماشیۃ والصید ومفادہ انہ لولم کذلک لایعطی ھذا الحکم والظاھر ان کلب الحراسۃ للمنزل مثلھما ط قولہ اورفیق القافلۃ سواء کان رفیقہ المخالط لہ اواٰخر من اھل القافلۃ بحرو عطش دابۃ رفیقہ کعطش دابتہ نوح قولہ حالا اوماٰلا ظرف لعطش اولہ ولرفیق علی التنازع کما قال ح ای الرفیق فی الحال اومن سیحدث لہ قال سیدی عبدالغنی فمن عندہ ماء کثیر فی طریق الحاج اوغیرہ وفی الرکب من یحتاج الیہ من الفقراء یجوز لہ التیمم بل ربما یقال اذا تحقق احتیاجھم یجب بذلہ الیہم لاحیاء مھجھم قولہ وکذا لعجین فلو احتاج الیہ لاتخاذ المرقۃ لایتمم لان حاجۃ الطبخ دون حاجۃ العطش بحر قولہ اوازالۃ نجس ای اکثر من قدرا لدرھم وفی الفیض لومعہ مایغسل بعض النجاسۃ لایلزمہ اھ۔ قلت وینبغی تقییدہ بما اذالم تبلغ اقل من قدرالدرھم فاذا کان فی طرفی ثوبہ نجاسۃ وکان اذاغسل احد الطرفین بقی مافی الطرف الاٰخر اقل من قدر الدرھم یلزمہ ۱؎ اھ
اس کا قول اور اگرچہ اپنے کُتے کیلئے، اس کتے کو بحر ونہر میں، اُس کُتّے سے مقید کیا گیا ہے جو مویشی کی حفاظت یا شکار کیلئے رکھا گیا ہو، اُس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایسا نہ ہو تو اس کا یہ حکم نہ ہوگا اور ظاہر یہ ہے کہ گھر کی حفاظت کیلئے جو کتا پالا جائے اس کا بھی یہی حکم ہے ط، اس کا قول یا رفیق قافلہ کیلئے عام ازیں کہ وہ اس کا اپنا شریک رفیق ہو یا دوسرا ہو اہل قافلہ سے (بحر) اور اس کے ساتھی کی سواری کے پیاسا رہ جانے کا خطرہ ایسا ہی ہے جیسا کہ خوداس کی اپنی سواری کے پیاسا رہ جانے کاخطرہ ہے (نوح) اس کا قول حالاً او ماٰلاً، عطش کا ظرف ہے یا اس کا اور رفیق کا برسبیل تنازع ہے جیسا کہ ''ح'' نے فرمایا یعنی رفیق فی الحال یامن سیحدث لہ، عبدالغنی نے فرمایا جس کے پاس حاجیوں وغیرہ کے راستے میں زائد پانی ہو، اور قافلہ میں کوئی فقیر پانی کا ضرورت مند ہو، تو اس کو تیمم جائز ہے، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اُس پانی کی ضرورت واقعی اہلِ قافلہ کو ہو تو ان کی زندگیاں بچانے کیلئے پانی صرف کرنا واجب ہے قولہ وکذا العجین، تو اگر کسی کو شوربہ بنانے کیلئے پانی کی ضرورت ہو تو تیمم جائز نہ ہوگا کیونکہ کھانا پکانے میں جو ضرورت ہے وہ پیاس سے کم ہے، بحر، قولہ اوازالۃ نجس، اس سے مراد نجاست ہے جو ایک درہم سے زاید ہو، اور فیض میں ہے، اگر اس شخص کے پاس اتنا پانی موجود ہو کہ کچھ نجاست کو دھو لے گا تو دھونا لازم نہیں اھ میں کہتا ہوں اس میں یہ قید لگانی چاہئے کہ یہ نجاست درہم سے کم نہ ہو، تو اگر اس کے کپڑے کے دونوں جانب نجاست ہو، اور ایک طرف دھونے سے دوسری طرف باقی رہتی ہو، مگر ایک درم سے کم رہتی ہے تو اس کا دھونا لازم ہے اھ۔ (ت)
(۱؎ الدرالمختار        باب التیمم         مجتبائی دہلی        ۱/ ۴۱)
اقول: ھھنا ابحاث الاول کلب حراسۃ المنزل مساو لکلب الماشیۃ بل اولی ولکلب الصیدان کان الحاجۃ الیہ للاکل فان المال شقیق النفس والافاولی وعلی کل ھو ثابت منھما بالفحوی فلیس ھذا(۱) محل الاستظھار ولذا عبرت بکلب یحل اقتناؤہ وفی الحدیث الصحیح الا کلب صید اوزرع اوماشیۃ ۲؎ الثانی قید رفیق(۲) القافلۃ وفاقی فربما تسایر قافلتان اواکثر ولا یعد من فی احدھما رفیق من فی الاخری والحکم لایختص بمن فی قافلتہ فان احیاء مھجۃ المسلم فریضۃ علی الاطلاق فلذا غیرتہ وبمسلم عبرتہ۔
میں کہتا ہوں یہاں کئی بحثیں ہیں:

پہلی بحث: گھر کی حفاظت کیلئے جو کتا پالا گیا وہ ریوڑ کی حفاظت کے کتے کے برابر بلکہ اُس سے اولٰی ہے، اسی طرح شکار کے کتے کی مانند ہے، جبکہ شکار کھانے کی ضرورت ہو کیونکہ مال جان کا ہم پلہ ہے ورنہ تو وہ اولٰی ہے، اور بہرصورت یہ چیز دونوں کے منطوق سے ثابت ہے، اور یہ محل استظہار نہیں اور اس لئے میں نے کہا ہے، وہ کتا جس کا پالنا جائز ہو، اور حدیث صحیح میں ہے مگر شکار، کھیتی یا جانوروں کا کتّا۔

دوسری بحث: ''رفیق قافلہ'' کی قید اتفاقی ہے کیونکہ عام طور پر دو یا دو سے زیادہ قافلے چلتے ہیں اور ایک قافلے کا آدمی دوسرے کا رفیق شمار نہییں ہوتا، اور یہ حکم اس کے ساتھ خاص نہیں جو اُس کے قافلہمیں ہو، کیونکہ مسلمان کی جان بچانا علی الاطلاق فرض ہے اس لئے اس کو بدل کر وبمسلم کردیا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب التیمم        البابی مصر        ۱/ ۱۷۳)

(۲؎ صحیح للمسلم    باب الامر یقتل الکلاب    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۲۱)
اقول: ویدخل(۱) فی الحکم الذمی فیما یظھر فان لھم مالنا وعلیھم ماعلینا نعم الحربی لاحرمۃ لروحہ بل امرنا بافنائہ فکیف یلزمنا السعی فی ابقائہ ولذا صرحوا(۲) ان لووجد فی بریۃ کلبا وحربیا یموتان عطشا ومعہ ماء یکفی لاحدھما یسقی الکب ویخلی الحربی یموت ومن الحربیین(۳) کل رجل یدعی الاسلام وینکر شیاا من ضروریات الدین لان المرتد حربی کما نصوا علیہ وھم مرتدون کما حققناہ فی المقالۃ المسفرۃ۱۲۹۹ھعن حکم البدعۃ المکفرۃ۔
میں کہتا ہوں، بظاہر اس میں ذمی بھی شامل ہے، کیونکہ جو حقوق ہمارے لئے ہیں وہی ذمیوں کیلئے بھی ہیں، اور جو فرائض ہم پر ہیں وہ ذمیوں پر بھی ہیں، ہاں حربی کی جان کی کوئی حرمت نہیں ہے، بلکہ ہمیں اُس کے فنا کردینے کا حکم ہے، تو ہم پر اس کی زندگی بچانے کی سعی کیونکر لازم ہوگی؟ اس لئے فقہاء نے یہ تصریح کی ہے کہ اگر کسی جنگل میں ایک کتا اور ایک حربی ملے اور دونوں پیاس سے مر رہے ہیں اور اس کے پاس صرف اتنا پانی ہو کہ ایک بچ سکتا ہو تو کتے کو پلا دے او رحربی کو مرنے کیلئے چھوڑ دے، اور جو شخص ضروریات دین میں سے کسی کا انکار کرتا ہو وہ حربی ہے، کیونکہ فقہاء کی تصریح کے مطابق مرتد حربی ہے، اور یہ سب حربی ہیں ہم نے اس کی تصریح المقالۃ المسفرۃ عن حکم البدعۃ المکفرۃ میں کردی ہے۔
الثالث التیمم لعطش رفیق سیحدث یجب تقییدہ بما اذا تیقن لحوقہ وانہ لاماء معہ والا فلا یجوز التیمم للتوھم الرابع تحقق(۴) الاحتیاج بمعنی ثبوتہ عینا لایتوقف علیہ وجوب البذل الا تری الی قولھم لخوف عطش وبعمنی ثبوتہ ذھنا ان ارید بہ الیقین فکذا فان(۵) الظن الغالب ملتحق بہ فی الفقہ اومایشملہ فلا محل للترقی اذعلیہ یدورالحکم والظن المجرد مثل الوھم الخامس حاجۃ(۶) الطبخ لیست دون حاجۃ العطش اذالم یتأت الاکل الا بالطبخ الاتری ان حاجۃ العجن ساوت حاجۃ العطش لان عامۃ الناس لایمکنھم التعیش باستفاف الدقیق فما العجن الا للخبز وما ھو الامن الطبخ فالاولی ان یقال ان حاجۃ المرقۃ دون حاجۃ العطش السادس قید(۱) الزیادۃ علی درھم مساحۃ اومثقال زنۃ فی النجاسۃ الغلیظۃ اما الخفیفۃ فمقدرۃ بالربع فلذا عبرت بالقدر المانع السابع مابحث السید ش فی تقلیل النجاسۃ حسن وجیہ فلذا عبرت بمالا یبقیھا مانعۃ۔
تیسری بحث: کسی دوست کی پیاس کیلئے تیمم کرنا جس کی ملاقات متوقع ہو، اس میں یہ قید لگانا ضروری ہے کہ اس دوست کے قافلے کے ساتھ ملنا یقینی ہو، اور اس کے پاس پانی نہ ہو، ورنہ محض وہم کی بنیاد پر تیمم جائز نہیں۔



چوتھی بحث: ضرورت کا یہ مفہوم لینا کہ وہ وقت محسوس طور پر موجود ہو، درست نہیں، اور نہ ہی اس پر پانی کا خرچ کرنا موقوف ہے، چنانچہ فقہاء کا قول ہے ''لخوف عطش'' اور اس کا ذہناً ثابت ہونا، اگر اس سے یقین مراد ہو تو ایسا ہی ہے، کیونکہ فقہ میں ظن غالب کا حکم وہی ہے جو یقین کا ہے یا جو یقین کو شامل ہو، تو ترقی کا کوئی محل نہیں، کیونکہ حکم کا دارومدار اسی پر ہے اور محض ظن تو وہم کے حکم میں ہے۔

پانچویں بحث: پکانے کی حاجت پیاس کی حاجت سے کم نہیں جبکہ وہ چیز بلا پکائے نہ کھائی جاسکتی ہو، مثلاً آٹا گوندھنا پیاس کے برابر ہے، کیونکہ عام لوگ آٹا پھانک کر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں، تو آٹا گوندھنا روٹی پکانے کیلئے ہے اور یہ بھی پکانے کا ایک حصہ ہے تو اولٰی یہ ہے کہ کہا جائے کہ شوربہ کی ضرورت پیاس کی ضرورت سے کم ہے۔



چھٹی بحث: ایک درہم سے زیادہ ہونے کی قید پیمائش میں اور ایک مثقال سے زیادہ کی قید وزن میں، نجاست غلیظہ میں ہے اور خفیفہ میں اس کی تقدیر چوتھائی سے ہے اسی لئے میں نے یہ تعبیر کی ہے کہ ''جس سے مانع نماز نہ رہے۔''



ساتویں بحث: سید 'ش' نے نجاست کی کمی میں جو بحث کی ہے وہ بہت اچھی ہے اس لئے میں نے اس کی تعبیر ''مالا یبقیھا مانعۃ'' سے کی ہے۔ (ت)
Flag Counter