| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول: ای یکون ذلک منویا عند الوقف بحکم العادۃ فلا یلزم خلاف الشرط ولیس المراد حدوث الاذن الاٰن کما یوھمہ تعبیر یاذن فان الوقف اذا تم خرج عن ملکہ فلا یعمل فیہ اذنہ کما ھو ظاھر لکن(۱) ھھنا تحقیق شریف للعبد الضعیف فی بحث صحۃ وقف الماء لابد من التنبہ لہ قال فی التنویر والدر (و) صح(۲) وقف کل (منقول) قصدا (فیہ تعامل) للناس (کفأس وقدوم) بل (ودراھم(۳) ودنانیر) ومکیل وموزون فیباع ویدفع ثمنہ مضاربۃ اوبضاعۃ فعلی ھذ لووقف(۴) کرا علی شرط ان یقرضہ لمن لابذر لہ لیزرعہ لنفسہ فاذا ادرک اخذ مقدارہ ثم اقرضہ لغیرہ وھکذا جاز خلاصۃ وفیھا(۵) وقف بقرۃ علی ان ماخرج من لبنھا اوسمنھا للفقراء ان اعتادوا ذلک رجوت ان یجوز (وقدر(۶) وجنازۃ) وثیابھا ومصحف وکتب لان التعامل یترک بہ القیاس ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں، یعنی یہ چیز عادۃً وقف کے وقت واقف کی نیت میں ہوتی ہے تو ایسی صورت میں شرط واقف کی خلاف ورزی لازم نہ آئے گی، یہ مراد نہیں کہ اب اجازت دی ہے، جیسا کہ ''یاذن'' کے لفظوں سے ظاہر ہے، کیونکہ وقف جب مکمل ہوجاتا ہے تو ملکِ واقف سے نکل جاتا ہے تو اس کی اجازت کا کوئی اثر نہ ہوگا، جیسا کہ ظاہر ہے میں نے پانی کے وقف کے سلسلہ میں ایک تحقیق کی ہے، اس کا جاننا ضروری ہے، تنویر اور دُر میں فرمایا (اور) صحیح ہے وقف ہر (منقول کا) قصدا جس میں لوگوں کا تعامل ہو (جیسے پھاؤڑا اور کلھاڑی) بلکہ (دراہم ودنانیر کا) اور ناپ تول والی چیز کا، تو اس کو بیچا جائے گا اور اس کی قیمت بطور مضاربت دی جائے گی یا بطور سامان۔ اس بنا پر اگر کسی شخص نے ایک بوری غلّہ اس شرط پر وقف کیا کہ یہ ایک شخص کو قرض دیا جائے جو اپنے لئے کاشت کرتا ہو، اور جب اس کی کھیتی پک جائے تو اُس سے یہ مقدار واپس لے لی جائے اور کسی دوسرے کو قرض دے دیا جائے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے تو یہ جائز ہے، خلاصہ اسی کتاب میں ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک گائے اس شرط پر وقف کی کہ اس کا دُودھ اور گھی فقراء کے استعمال میں لایا جائے، تو اگر یہ چیز ان کی عرف میں ہے تو امید ہے کہ جائز ہے (اور دیگ اور جنازہ کی چارپائی) اور جنازہ کی چادریں اور مصحف اور کتابیں، کیونکہ تعامل کے مقابلہ میں قیاس کو ترک کر دیا جاتا ہے اھ
(۱؎ الدرالمختار باب الوقف مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰)
قال ش قال الرملی لکن فی الحاقھا بمنقول فیہ تعامل نظراذھی مما لانتفع بھا مع بقاء عینھا وما استدل بہ فی المنح فی مسألۃ البقرۃ ممنوع بما قلنا اذینتفع بلبنھا وسمنھا مع بقاء عینھا اھ قلت ان الدراھم لاتتعین بالتعیین فھی وانکانت لاینتفع بھا مع بقاء عینھا لکن بدلھا قائم مقامھا لعدم تعینھا فکأنھا باقیۃ ثم قال عن الفتح عن الخلاصۃ عن الانصاری وکان من اصحاب زفر فیمن وقف الدراھم اوما یکال اویوزن ایجوز قال نعم قیل وکیف قال یدفع الدراھم مضاربۃ ثم یتصدق بھا فی الوجہ الذی وقف ۱؎ اھ ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ ۔
''ش'' نے کہا کہ رملی نے فرمایا اس کو منقول سے ملانے میں جس میں تعامل ہو اعتراض ہے کہ اس کے عین کے باقی رہتے ہوئے اس سے انتفاع نہیں ہوتا ہے اور گائے کا مسئلہ جس سے منح میں استدلال کیا ہے ناقابلِ تسلیم ہے، کیونکہ اس کے دودھ اور گھی سے گائے کو باقی رکھتے ہوئے نفع حاصل کیا جاتا ہے اھ میں کہتا ہوں دراہم متعین کردینے سے متعین نہیں ہوتے ہیں، تو ان کو باقی رکھتے ہوئے اگرچہ ان سے نفع حاصل کرنا ممکن نہیں، لیکن ان کا بدل ان کے قائم مقام ہے کیونکہ یہ خود متعین نہیں، تو گویا کہ یہ باقی ہیں۔ پھر فتح سے خلاصہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ انصاری جو اصحاب زفر سے تھے ان سے پُوچھا گیا کہ اگر کسی شخص نے دراہم یا کیلی یا وزنی چیز وقف کی تو کیا جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ اُن سے دریافت کیا گیا کہ اس کی شکل کیا ہوگی؟ تو انہوں نے فرمایا دراہم مضاربت پر کسی کو دے دے پھر اُن کو اُس مقصد پر خرچ کرتا رہے جس کیلئے ان کو صدقہ کیا گیا تھا اھ میں نے ان کی بیان کردہ نصپر لکھا ہے
(۱؎ ردالمحتار باب الوقف مصطفی البابی مصر ۳/ ۴۱۰)
اقول: ھذا التعلیل من العلامۃ الرملی لمنع وقف الدراھم وجواب المحشی بانھا لاتتعین فکانھا باقیۃ ببقاء بدلھا وما ذکر الامام الانصاری وتبعہ فی الخلاصۃ والفتح والدر وکثیر من الاسفار الغر من طریق الابقاء فی الدراھم والمکیل والموزون ومامر (ای فی ردالمحتار) من ان التأبید معنی شرط صحۃ الوقف بالاتفاق علی الصحیح وقد نص علیہ محققو المشایخ کل ذلک یقضی بان الماء المسبل لایکون وقفا لعدم امکان الانتفاع بہ الا باستھلاکہ فیکون من باب الاباحۃ دون الوقف نعم السقایۃ(۱) بناء تعورف وقفہ کالقنطرۃ فیصح ولا یقال ان فے السقایۃ الموقوفۃ یصیر الماء وقفا تبعا(۲) للسقایۃ وھو جائز وفاقا کما تقدم فے الشرح وذلک لان الماء ھو المقصود(۳) بالسقایۃ وھی تبع فلا یعکس الامر ولای شی تجعل السقایۃ وقفا مقصودا فیتبعہ الماء علا انہ ان تبع تبع مافیھا دون الابدال المتعاورۃ ولیس الماء مما لایتعین حتی یجعل بقاء الابدال بقاء ہ مع ان(۴) لی نظرا فے ھذا العذر فقد افاد ش فی فصل فی التصرف فی المبیع والثمن ان عدم تعین النقد لیس علی اطلاقہ بل ذلک فی المعا ۱؎ وضات الخ وذکر تفصیلا وقع فیہ خلط وخبط من الناسخین نبھت علیہ فیما علقت علیہ وقال قبلہ(۵) فی البیع الفاسد الدراھم والدنانیر تتعین فی الامانات والھبۃ والصدقۃ والشرکۃ والمضاربۃ والغضب ۲؎ اھ فالوقف اشبہ شیئ بالصدقۃ بل ھو منھا عند الامام ویظھرلے واللّٰہ تعالٰی اعلم ان النقدین والتجارات نامیات
اقول: عدم تسلیم کی یہ علت جو رملی نے بیان کی ہے دراہم کے وقف کے ممنوع ہونے کی بابت ہے اور محشی کا یہ جواب دینا کہ دراہم متعین نہیں ہوتے، تو اپنے بدل کے باقی رہنے کی وجہ سے باقی رہیں گے، اور جو امام انصاری نے ذکر کیا اور خلاصہ اور فتح اور در اور بہت سی کتب میں اس کی متابعت کی گئی ہے کہ کس طرح دراہم اور مکیل وموزون باقی رہتے ہیں اور جو گزرا (یعنی درمختار میں) یعنی صحت وقف کے شرائط میں سے اس کا ہمیشہ کیلئے ہونا ہے، یہی صحیح ہے اور اس پر اتفاق ہے اور محققین مشائخ نے اس پر نص کیا ہے، اور اس تمام بحث کا تقاضا یہی ہے کہ سبیل کا پانی وقف نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اس کو ختم کئے بغیر اس سے نفع حاصل کرنا ممکن نہیں، تو یہ اباحت قرار پائے گا نہ کہ وقف، ہاں سقایہ جو عمارت ہوتی ہے اس کا وقف کرنا متعارف ہوگیا ہے جیسا کہ پُل ہوتا ہے تو یہ صحیح ہے، اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ جب سقایہ وقف ہوا تو پانی بھی اس کی متابعت میں وقف ہوگیا، اور اس پر اتفاق ہے جیسا کہ شرح میں گزرا، کیونکہ سقایہ میں مقصود تو پانی ہی ہے اور سقایہ تو تابع ہے تو معاملہ برعکس نہیں کیا جائے گا،
اور پھر سقایہ کیونکر وقف مقصود ہوسکتا ہے تاکہ پانی اس کا تابع ہوعلاوہ ازیں یہ کہ اگر پانی تابع ہو بھی تو اسی قدر تابع ہوگا جو سقایہ میں موجود ہے نہ کہ اس کے بدل جو بار بار لوٹ کر آرہے ہیں اس کے تابع ہوں، اور پانی ایسی چیز نہیں جو متعین نہ ہوتا کہ بدل کے باقی رہنے کو اس کی بقاء قرار دیا جائے۔ مجھے اس عذر پر اعتراض ہے ''ش'' نے ''تصرف فی المبیع والثمن'' کی بحث میں فرمایا کہ نقود کا غیر متعین ہونا مطلق نہیں، یہ صرف معاوضات میں ہے الخ پھر انہوں نے اس میں ایک تفصیل ذکر کی جس میں ناقلین سے کچھ خلطِ مبحث ہوگیا، میں نے اس پر جو تعلیقات کی ہیں ان میں اس پر تنبیہ کی ہے، اور اس سے قبل باب 'بیع فاسد' میں فرمایا: اوردراہم ودنانیر، امانات، ہبہ، صدقہ، شرکۃ، مضاربۃ اور غصب میں متعین ہوجاتے ہیں اھ۔ وقف صدقہ سے بہت مشا بہ چیز ہے بلکہ امام کے نزدیک صدقہ ہی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں (واللہ تعالٰی اعلم)
(۱؎ ردالمحتار فصل فی التصرف فی البیع البابی مصر ۴/ ۱۸۵) (۲؎ ردالمحتار فصل فی التصرف فی البیع البابی مصر ۴/ ۱۸۵)
شرعا وحسا فبقاؤھا بنماء ھا اذھی الاصل المتولد منہ فتشبہ مالیتھا شجرۃ تبقی فتؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا وکیفما کان لایقاس علیھا الماء وقد عللوا مااذا ملأ صبی کوزا من حوض ثم صبہ فیہ لایحل لاحد شربہ بان الصبی ملک مااخذہ من ماء الحوض المباح فاذاصبہ فیہ اختلط ملکہ بہ فامتنع استعمالہ ۱؎ کما فی الحدیقۃ الندیۃ اخر نوع العشرین من اٰفات اللسان وغمز العیون من احکام الصبیان والطحطاوی من فصل فی الشرب وفی ھذا الکتاب اعنی ش من الفصل المذکور عن ط عن الحموی عن الدرایۃ عن الذخیرۃ والمنیۃ وقد جعلوا ماء الحوض مباحا ولو کان وقفا لم یملکہ الصبی باخذہ فی کوزہ فان الوقف(۱) لایملک وقد عرفہ شمس الائمۃ السرخسی بانہ حبس المملوک عن التملیک عن الغیر ۲؎ اھ کما فی ش بخلاف غلۃ ضیعۃ موقوفۃ علی الذراری فانھم یملکونھا عند ظھورھا فمن مات منھم بعدہ یورث عنہ قسطہ کما یاتی فی الکتاب فان الوقف ھی الضعیفۃ وھذہ نماؤھا۔
کہ سونا چاندی اور تجارتی معاملات شرعاً اور حساناً نامی چیزیں ہیں تو ان کی بقاء ان کی نماز کے باعث ہوگی، کیوں کہ ان سے جو چیز متولد ہوتی ہے وہ یہی ہے، تو ان کی مالیت اُس درخت کی طرح ہوگی جو باقی رہتا ہے اور موسم پر اس کا پھل آتا رہتا ہے اور جو بھی صورت ہو بہرحال اس پر پانی کو قیاس نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر کسی بچّے نے ایک حوض سے پانی کا ایک کوزہ بھراپھر اس کو اس میں انڈیل دیا، تو اب اس حوض کا پانی کسی کو پینا جائز نہیں اور اس کی علّت فقہاء نے یہ بیان کی ہے کہ بچّے نے مباح حوض سے جو پانی لیا، وہ پانی اس کی ملکیت میں آگیا، اور پھر اُس پانی کو جب اسی حوض میں ڈال دیا تو اس کی ملک اس کے ساتھ مخلوط ہوگئی تو اب اس کا استعمال ممنوع ہوگیا، حدیقہ ندیہ آفات اللسان، بیسویں نوع کا آخر۔ غمز العیون، بچّوں کے احکام۔ طحطاوی، فصل شرب۔ اور 'ش' میں، مذکور فصل میں 'ط' سے 'حموی' سے 'درایہ' سے 'ذخیرہ سے' اور منیہ سے ہے کہ فقہاء نے حوض کے پانی کو مباح قرار دیا ہے، اگر یہ پانی وقف ہوتا تو بچہ اس کو کوزہ میں لینے سے اس کا مالک نہ ہوجاتا، کیونکہ وقف پر ملکیت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ شمس الائمہ سرخسی نے وقف کی تعریف اس طرح کی ہے کہ یہ مملوک کو تملیک سے روکنا ہے، یعنی غیر اس کا مالک نہیں ہوسکتا اھ جیسا کہ ''ش'' میں ہے، یہ اس کے خلاف ہے کہ کوئی شخص ذرّیت پر کسی زمین کی آمدنی وقف کردے، کیونکہ جب یہ آمدنی ظاہر ہوگی تو ذرّیت اس کی مالک ہوجائے گی، ذریت میں سے جو اس کے بعد وفات پائے گا اس کی میراث جاری ہوگی، جیسا کہ کتاب میں آئے گا ، کیونکہ وقف تو زمین ہے اور یہ اس کا ''نماء'' ہے۔ (ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ النوع العشرین من آفات اللسان رضویہ فیصل آباد ۲/ ۲۶۹) (۲؎ ردالمحتار کتاب الوقف البابی مصر ۳/ ۳۹۲)
فان قلت الیس قد تقدم فی وضؤ الکتاب مانصہ مکروھہ الاسراف فیہ الٰی آخر مامر نقلہ اقول:وباللّٰہ التوفیق المراد(۱) بہ الماء المسبل بمال الوقف کماء المدارس والمساجد والسقایات التی تملؤ من اوقافھا فان ھذا الماء لایملکہ احد ولا یجوز صرفہ الا الی جھۃ عینھا الواقف وھذا ھو حکم الوقف اما(۲ الماء الذی یسلبہ المرء من ملکہ فلا یصیر وقفا سواء کان فی الحباب اوالجرار اوالحیاض اوالکسقایات انما غایتہ الاباحۃ یتصرف فیھا الناس وھو علی ملکہ فلا تتأتی فیہ مسألۃ کوزا لصبی المذکورۃ ھذاماظھرلی وارجوان یکون ھو الصواب٭ باذن الملک الوھاب٭ ولہ الحمد وعلی حبیبہ الکریم والاٰل والاصحاب، صلاۃوسلام یدومان بلاعدد ولاحساب اٰمین۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کتاب کے وضو کی بحث میں گزرا ہے، اس وضوء کے مکروہات میں اسراف ہے الٰی آخر مانقلہ میں کہتا ہوں اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد سبیل کا پانی ہے جو وقف ہو، جیسا کہ مدارس، مساجد، سقایات کا پانی جو ان کے اوقاف کی آمدنی سے بھرا جاتا ہے، کیونکہ اس پانی کا کوئی مالک نہیں، اور اس کو فقط اُسی جہت میں صَرف کیا جاسکتا ہے جو اُس کے واقف نے اس کیلئے متعین کی ہے، اور یہی وقف کا حکم ہے۔ اور اگر کوئی شخص اپنی مِلک سے پانی کی سبیل لگائے تو وہ وقف نہ ہوگی، خواہ وہ مٹکوں میں ہویا چھوٹے گھڑوں میں یا حوضوں اور سقایوں میں، کیونکہ اُس سے تو صرف اتنا مقصود ہے کہ پانی مالک کی مِلک میں رہتے ہوئے لوگوں کیلئے مباح کردیا جائے تو اس میں بچّے کے کوزہ کا مذکورہ مسئلہ نہیں چلے گا، مجھ پر یہی ظاہر ہوا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہی صحیح ہوگا.... (ت)
(۳۰) اقول: یوں ہی مسجد کے سقائے(۱) یا حوض جواہلِ جماعتِ مسجد کی طہارت کو بھرے جاتے ہیں اگر مالِ وقف سے بھرے گئے ہوں تو مطلقاً جب تک ابتدا سے واقف کی اجازت ثابت نہ ہو اور کسی نے اپنی مِلک سے بھروائے ہوں تو بے اس کی اجازت قدیم خواہ جدید کے گھروں میں اُن کا پانی اگرچہ طہارت ہی کیلئے لیجانا روا نہیں طہارت ہوجائیگی مگر گناہ ہوگا اجازت واقف ومالک کی وہی تفصیل ہے جو آبِ سبیل میں گزری والدلیل الدلیل (اور دلیل بھی وہی ہے جو پہلے گزر چکی ہے) جاڑوں(۲) میں کہ سقائے گرم کئے جاتے ہیں بعض لوگ گھروں میں پانی لے جاتے ہیں اس میں بہت احتیاط چاہئے کہ غالباً بے صورتِ جواز واقع ہوتا ہے۔
اماما فی الخانیۃ ثم الھندیۃ من کتاب الشرب یجوز ان یحمل ماء السقایۃ الی بیتہ لیشرب اھلہ اھ۔ فھو فی المعد للشرب بدلیل اٰخرہ وصدرہ اختلفوا فی التوضی بماء السقایۃ جوز بعضھم وقال بعضھم ان کان الماء کثیرا یجوز والا فلا وکذا کل ماء اعد للشرب حتی قالوا فی الحیاض التی اعد للشرب لایجوز فیہ التوضی ویمنع منہ وھو الصحیح ویجوز ان یحمل ۱؎ الخ بناء علی ان الذی یعد(۳) للشرب لایمنع منہ مخدرات الحجال وبالجملۃ لاشک ان المبنی العرف فان علمنا(۴) ان المسبل للشرب خص بہ الواردین ولا یرضی بحملہ الی البیوت لم یجز ذلک قطعا بل لوعلم خصوص فی المارۃ لم یجز لغیرھم من الواردین کما یفعلہ بعض الجھلۃ فی عشرۃ المحرم بسبل الماء والشربۃ لمن مع الضریح المختلق بدعۃ محدثۃ یسموھا تعزیۃ فلا یجوز شربہ لغیرھم وان جعلوہ لمن مع الضریح الفلانی لم یجز لاھل ضریح وغیرہ واللّٰہ تعالٰی اعلم لاجرم ان قال فی متفرقات کراھیۃ البزازیۃ حمل ماء السقایۃ الی اھلہ ان مادونا للحمل یجوز والالا ۱؎ اھ۔ وھذا عین ماقررت وللّٰہ الحمد۔
پھر خانیہ اور ہندیہ کے کتاب الشرب میں ہے کہ اگر کوئی شخص سقایہ کا پانی اپنے گھر بیوی بچّوں کو پلانے کیلئے لے جائے تو جائز ہے اھ تو اس سے مراد وہ پانی ہے جو خاص پینے ہی کیلئے رکھا گیا ہو، عبارت کا اوّل وآخر یہی بتاتا ہے۔ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ ''سقایہ'' کے پانی سے وضوء جائز ہے یا نہیں، بعض نے جواز کا قول کیا، اور بعض نے کہا کہ اگر پانی زائد ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور یہی حکم ہر اُس پانی کیلئے ہے جو پینے کیلئے رکھا گیا ہو، یہاں تک فقہاء نے اُس حوض کی بابت بھی یہی فرمایا ہے جو پینے کیلئے بنایا گیا ہو کر اُس میں وضوء جائز نہیں، اور اگر کوئی کرے تو اس کو منع کیا جائیگا، اور یہی صحیح ہے۔ اور یہ جائز ہے کہ وہ پانی گھر لے جائے الخ اس کی بنیاد یہ ہے کہ جو پانی پینے کیلئے رکھا جائے اس سے پردہ نشینوں کو محروم نہ رکھا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اصل دارومدار عُرف پر ہے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ سبیل کا پانی پینے کیلئے ہے اور وہی لوگ اس سے استفادہ کرسکیں گے جو اس پر وارد ہوں تو ایسے پانی کو گھر نہیں لے جایا جاسکتا ہے بلکہ اگر بطور خاص گزرنے والوں کیلئے ہے تو دوسرے وارد ہونے والوں کو اُس کا استعمال جائز نہ ہوگا، چنانچہ بعض جاہل محرّم کے عشرہ میں پانی یا دُودھ کی سبیل تعزیہ کے ساتھ گزرنے والوں کے لئے بطور خاص لگاتے ہیں، یہ بدعث محدثہ ہے، اس کا استعمال دوسروں کو جائز نہیں بلکہ اگر ایک تعزیہ کے لئے جائز ہے تودوسرے تعزیہ کے شرکاء کو اس کا استعمال جائز نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔ بزازیہ میں ہے (متفرقات کراہیۃ میں) (ت) سِقایہ کا پانی گھر والوں کیلئے لے جانا اگر اُس کی اجازت ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں اھ اور یہ بعینہٖ وہی ہے جو میں نے کہا ہے وللہ الحمد (ت)
(۱؎ ہندیۃ الباب الاول من کتاب الشرب پشاور ۵/ ۳۹۱)