اُسی میں ذخیرہ سے ہے:الماء قبل الاحراز بالاوانی لایملک فقد اتلف مالیس بمملکوک لغیرہ ۲؎۔
پانی کو جب تک برتنوں میں نہ بھر لیا جائے مِلک ثابت نہیں ہوتی ہے، تو اس نے وہ چیز تلف کی ہے جو غیر کیمملوک نہیں۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار فصل الشرب مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۱۷)
اُسی میں درمختار سے ہے:الماء تحت الارض لایملک ۳؎۔
زمین کے نیچے جو پانی ہے اس پر کسی کی مِلک نہیں۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب احیاء الموات مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۰۸)
اسی طرح کُتب کثیرہ میں ہے:اقول: والعبرۃ للمنقول وان بحث البحر تبعا للفتح لزوم کون ماء البئر مملوکا للحافر بناء علی احد قولین فی الکلائ۔
میں کہتا ہوں اعتبار منقول کو ہے، اگرچہ بحر نے اس پر فتح کی متابعت میں بحث کی ہے، اور فرمایا ہے کہ جس نے کنواں کھودا ہے پانی بھی اسی کی ملکیت میں ہے اس بناء پر کہ گھاس میں بھی ایک قول یہی ہے۔ (ت)
اقول وقد کان یخالج صدری نظر الی ان من نصب(۱) شبکۃ لیتعلق بھا صید ملکہ لا لونصبھا للجفاف تنویروغیرہ وان من وضع اناء لجمع ماء المطر ملکہ اما اذالم یضع٭ لذلک واجتمع٭ فالماء لمن رفع خیریۃ وغیرھا
میں کہتا ہوں میرے دل میں یہ خلجان تھا کہ جس شخص نے جال لگایا کہ اس میں کوئی شکار پھنس جائے تو شکار اسی کی ملکیت ہوگا بشرطیکہ اس نے جال خشک کرنے کیلئے نہ لگایا ہو، تنویر وغیرہ۔ اور اگر کسی شخص نے برتن رکھا کہ اس میں بارش کا پانی جمع ہوجائے، پھر پانی جمع ہوا تو وہ اسی کی مِلک ہے،
وظھر الجواب بحمدہ تعالٰی ان ملک(۱) المباح بالاستیلاء والاستیلاء بالاحراز وقدتم فی الشبکۃ والانء بخلاف البئر ففی ش عن جامع الرموز ملاء الدلو من البئر ولم یبعدہ من رأسھا لم یملکہ عندالشیخین اذ الاحراز جعل الشیئ فی موضع حصین ۱؎ اھ۔اماما بحثہ الفتح فقد اجاب عنہ فی النھر فراجع ش من البیع الفاسد مسألۃ بیع المراعی۔
جب برتن پانی جمع ہونے کیلئے نہ رکھا ہو اور پانی جمع ہوجائے تو وہ پانی اس کی ملکیت میں ہوگا جس میں اٹھایا، خیریہ وغیرہ۔ اور یہ جواب معلوم ہوا کہ مباح چیز پر ملکیت استیلاء اور غلبہ سے ہوتی ہے اور استیلأ اس چیز کو قبضہ میں لے لینے سے ہوتی ہے، اور یہ چیز جال اور برتن کی شکل میں تو پائی جاتی ہے لیکن کنویں کی صورت میں نہیں "ش" میں جامع الرموز سے منقول ہے کہ اگر کسی شخص نے کنویں سے ڈول بھرا لیکن اس کو کنویں کے منہ سے دُور نہ کیا تو وہ اس کی ملک میں نہ ہوگا، یہ شیخین کے نزدیک ہے، کیونکہ احراز کسی چیز کو محفوظ جگہ رکھنے کو کہا جاتا ہے اھ اور جو بحث فتح میں ہے تو اس کا جواب نہر میں ہے اس سلسلہ میں بیع فاسد کا باب تحت مسئلہ چراگاہوں کے بیچنے 'ش' میں ملاحظہ کیجئے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار فصل الشرب مصطفی البابی مصر ۵/ ۳۱۷)
اقول: ویؤیدہ(۲) مافی الھندیۃ عن المبسوط ماانبتہ صاحب الارض بان(۳) سقی ارضہ وکربھا لینبت فیھا الحشیش لدوابہ فھو احق بذلک ولیس لاحدان ینتفع بشیئ منہ الابرضاہ لانہ کسبہ والکسب للمکتسب ۲؎ اھ فلا یقاس علیہ ماء البئر فانہ لیس من کسب حافرھا انما صنعہ فیہ رفع الحجاب کالفصاد۔
میں کہتا ہوں اس کی تائید ہندیہ کے اُس حوالہ سے ہوتی ہے جو انہوں نے مبسوط سے نقل کیا ہے، حوالہ یہ ہے کہ کسی شخص نے اپنی زمین میں جانوروں کو کھلانے کیلئے گھاس اگائی تو وہ اسی کی ہے اور کوئی شخص اُس سے اس کی مرضی کے بغیر استفادہ نہیں کرسکتا ہے کیونکہ وہ اس کی کمائی ہے، اور ہر شخص کی کمائی اسی کی ہوتی ہے اھ مگر اس پر کنویں کے پانی کو قیاس نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ پانی کنویں کے کھودنے والے کی کمائی نہیں ہے اُس نے تو صرف اتنا کام کیا کہ پانی پر جو حجاب تھا وہ رفع کردیا،جیسے فصد کے عمل میں ہوتا ہے۔
(۲؎ الفتاوٰی الہندیۃ الباب الاول من کتاب الشرب پشاور ۵/ ۳۹۲)
فرمانِ الٰہی ہے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی نے آسمان سے پانی نازل فرمایا تو اللہ تعالٰی نے اس کو چشموں میں جاری کردیا، اس آیت کی تقریر در کے باب المیاہ میں ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ القرآن ۳۹/۲۱)
یونہی(۱) کسی کا برتن صحن میں تھا، مینہ برسا، برتن بھر گیا، پانی بھی اس کی ملک نہ ہوا اپنی اصل اباحت پر باقی ہے اگرچہ برتن اور مکان اس کی ملک ہے جو اس پانی کو لے لے وہی اس کا مالک ہوجائے گا اگرچہ برتن کا مالک منع کرتا ہے ہاں اس کے برتن کا استعمال بے اجازت جائز نہ ہوگا۔
(۲۸) اگر(۲) اس نے برتن اسی نیت سے رکھا تھا کہ آبِ باراں اس میں جمع ہو تو اب وہ پانی اُس کی ملک ہے دوسرے کو بے اس کی اجازتِ صحیحہ کے حرام ہے ہاں طہارت یوں بھی ہوجائے گی گناہ کے ساتھ فتاوٰی کبری پھر ہندیہ میں ہے:
وضع طستا علی سطح فاجتمع فیہ ماء المطر فجاء رجل ورفع ذلک فتنازعا ان وضع صاحب الطست الطست لذلک فھو لہ لانہ احرزہ وان لم یضعہ لذلک فھو للرافع لانہ مباح غیر محرز ۲؎۔
کسی شخص نے چھت پر پانی کا طشت رکھا تو اس میں بارش کا پانی جمع ہوگیا، اب ایک شخص نے آخر وہ طشت اٹھالیا، تو اگر طشت کے مالک نے یہ طشت اسی مقصد سے رکھا تھا تو وہ مالک کا ہی ہے اور اگر اس نے یوں ہی رکھ دیا تھا تو جس نے طشت اٹھایا پانی اسی کا ہوا کیونکہ احراز کا فعل اس کی طرف منسوب ہوگا۔ (ت)
(۲۹) سبیل(۳) جو پینے کیلئے لگائی گئی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اُس سے وضو، غسل اگرچہ صحیح ہوجائیں گے جائز نہیں یہاں تک کہ اگر اُس کے سوا اور پانی نہ ملے اور اسے وضو یا غسل کی حاجت ہے تو تمیم کرے اس سے طہارت نہیں کرسکتا۔
اقول: مگر جبکہ مالک(۴) آب کی اجازت مطلقاً یا اس شخص خاص کیلئے صراحۃً خواہ دلالۃً ثابت ہو، صراحۃًیہ کہ اُس نے یہی کہہ کر سبیل لگائی ہو کہ جو چاہے پئے وضوء کرے نہائے، اور اگر فقط پینے اور وضوء کے لئے کہا تو اس سے غسل روانہ ہوگا اور خاص اس شخص کیلئے یوں کہ سبیل تو پینے ہی کو لگائی مگر اُسے اُس سے وضوء یا غسل کی اجازت خود یا اس کے سوال پر دے دی اور دلالۃً یوں کہ لوگ اس سے وضوء کرتے ہیں اور وہ منع نہیں کرتا یا سقایہ قدیم ہے اور ہمیشہ سے یوں ہی ہوتا چلا آیا ہے یا پانی اس درجہ کثیر ہے جس سے ظاہر ہے کہ صرف پینے کو نہیں مگر جبکہ ثابت ہوا کہ اگرچہ کثیر ہے صرف پینے ہی کی اجازت دی ہے فان الصریح یفوق الدلالۃ (کیونکہ صراحت کو دلالت پر فوقیت حاصل ہے۔ ت) اور شخص خاص کے لئے یوں کہ اس میں اور مالکِ آب میں کمال انبساط واتحاد ہے یہ اُس کے ایسے مال میں جیسا چاہے تصرف کرے اُسے ناگوار نہیں ہوتا۔
لان المعروف کالمشروط کما ھو معروف فی مسائل لاتحصی وفی الھندیۃ عن السراج الوھاج ان کان بینھما انبساط یباح والافلا ۱؎۔
کیونکہ معروف مشروط کی طرح ہے، اور یہ چیز بے شمار مسائل میں ہے، اور ہندیہ میں سراج الوہاج سے ہے کہ اگر ان دونوں کے درمیان بے تکلفّی کا رشتہ ہو تو یہ مباح ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
(۱؎ سراج الوہاج)
محیط وتجنیس ووالوالجیہ وخانیہ وبحر ودرمختار میں ہے:واللفظ لہ الماء المسبل فی الفلاۃ لایمنع التیمّم مالم یکن کثیرا فیعلم انہ للوضوء ایضا قال ویشرب ماللوضوء ۲؎۔
لفظ درمختار کے ہیں وہ پانی جو جنگل میں سبیل کے طور پر ہو مانع تیمم نہیں تاوقتیکہ کثیر نہ ہو، اگر کثیر ہو تو معلوم ہوگا کہ یہ وضوء کے لئے بھی ہے۔ نیز فرمایا: جو پانی وضوء کیلئے ہے وہ پیا جائیگا۔ (ت)
(۲؎ الدرالمختار باب التمیم مجتبائی دہلی ۱/ ۴۵)
ردالمحتار میں ہے: قولہ المسبل ای الموضوع فی الحباب لابناء السبیل قولہ لایمنع التیمّم لانہ لم یوضع للوضوء بل للشرب فلا یجوز الوضوء بہ وان صح قولہ مالم یکن کثیرا قال فی شرح المنیۃ الاولی الاعتبار بالعرف لابالکثرۃ الا اذا اشتبہ ۳؎ اھ کلام ش ۔ اقول وانت(۱) تعلم ان ماذکر الفقیراجمع واشمل وانفع واکمل۔
ان کا قول مسبل یعنی وہ پانی جو مٹکوں میں ہو مسافروں کیلئے، ان کا قول ''لایمنع التیمم'' کیونکہ وہ وضوء کیلئے نہیں رکھا گیا ہے بلکہ پینے کیلئے ہے تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں اگرچہ صحیح ہے ان کا قول مالم یکن کثیرا، شرح منیہ میں ہے بہتر یہ ہے کہ اعتبار عرف کا ہے نہ کہ کثرۃ کا، مگر جب مشتبہ ہو اھ کلام ش۔ (ت) میں کہتا ہوں جو کچھ فقیر نے ذکر کیا ہے وہ جامع، مانع، زیادہ مفید اور مکمل ہے۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار باب التمیم مصر ۱/ ۱۸۵)
تنبیہ: یہ جو شخص خاص کی اجازت صراحۃً خواہ دلالۃً ہم نے ذکر کی اُس حالت میں ہے کہ پانی
وقتِ اجازت بھی اجازت دہندہ کی مِلک ہو اور اگر وقف(۱) کا پانی ہے تو اس میں نہ کسی کو تغیر کا اختیار نہ کسی کی اجازت کا اعتبار،
فی البحر ثم الدر من الوضوء مکروھہ الاسراف فیہ لوبماء النھر والمملوک لہ اما الموقوف علی من یتطھر بہ ومنہ ماء(۲) المدارس فحرام ۱؎ اھ وفی ش عن الحلیۃ لانہ انما یوقف ویساق لمن یتوضوء الوضوء الشرعی ولم یقصد اباحتھا لغیر ذلک ۲؎ اھ وفی ط تحت عبارۃ الدر السابقۃ قولہ المسبل ای الموقوف الذی یوضع علی السبل قولہ مالم یکن کثیرا محل ذلک عنہ عدم التیقن بانہ للمشرب اما اذا تیقن انہ للشرب فیحرم الوضوء لان شرط الواقف کنص الشارع قولہ وشرب(۳) ماللوضوء ظاھرہ وان لم یکن للضرورۃ وفیہ انہ لایلزم مخالفۃ شرط الواقف ۳؎ اھ واشار'ش' الی الجواب عن ھذا بقولہ کأن الفرق ان الشرب اھم لانہ لاحیاء النفوس بخلاف الوضوء لان لہ بدلا فیاذن صاحبہ بالشرب منہ عادۃ ۴؎ اھ
بحر اور دُر کے باب الوضوء میں ہے وضوء میں پانی کا اسراف مکروہ ہے خواہ نہر کا پانی ہو یا اپنا مملوک پانی ہو، اور جو پانی پاکی حاصل کرنے والوں کیلئے وقف ہوتا ہے، جس میں مدارس کا پانی بھی شامل ہے، اس کا اسراف عام ہے اھ اور 'ش' میں حلیہ سے منقول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی انہی لوگوں کیلئے وقف ہے جو شرعی وضوء کرنا چاہتے ہیں، اور دوسروں کیلئے مباح نہیں ہے اھ اور 'ط' میں در کی سابقہ عبارت کے تحت فرمایا 'مسبل' وہ پانی جو راستوں میں وقف رکھا جاتا ہے اور اس کے قول مالکم یکن کثیرا اس کے مفہوم یہ ہے کہ جب یہ یقین نہ ہو کہ یہ پینے کیلئے ہے، اگر یہ یقین ہو کہ یہ پینے کیلئے ہے تو اس سے وضو حرام ہے کیونکہ شرط واقف نص شارع کی طرح ہوتی ہے۔ اور ان کا قول ''شرب ماللوضوء'' کا بظاہر یہ مفہوم ہے کہ اگرچہ وہ پانی ضرورت کیلئے نہ ہو، اور اس میں یہ قباحت ہے کہ اس میں شرط واقف کی مخالفت ہے اھ اور 'ش' نے اس کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرمایا، غالباًاس میں فرق یہ ہے کہ پانی کا پینا اہم ہے کیونکہ اس میں زندگی بچانا ہے جبکہ وضوء میں یہ چیز نہیں، کیونکہ وضو کا متبادل ہوتا ہے اس لئے مالک عام طور پر پینے کی اجازت دے دیتا ہے اھ (ت)
(۱؎ الدرالمختار مکروہات الوضوء مجتبائی دہلی ۱/۲ ۴)
(۲؎ ردالمحتار مکروہات الوضوء مصطفی ا لبابی مصر ۱/ ۹۸)
(۳؎ طحطاوی علی الدر باب التمیم بیروت ۱/۱۲ ۳)
(۴؎ ردالمحتار باب التمیم مصطفی البابی مصر ۱/۱۸ ۵)