Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
123 - 176
(۲۴) مولٰی کریم رؤف رحیم عزجلالہ، اپنے حبیب اکرم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی وجاہت کریمہ کے صدقہ میں اپنے غضب سے دونوں جہان میں بچائے جس بستی پر(۱) عیاذاً باللہ عذاب اُترا اُس کے کُنوؤں تالابوں کا پانی کہ اُس کا استعمال کھانے پینے طہارت ہر شے میں مکروہ ہے یوں ہی اس کی مٹی سے تیمم، ہاں زمین(۲) ثمود کا وہ کُنواں جس سے ناقہئ صالح علیہ الصلوٰۃ والسلام پانی پیتا اُس کا پانی مستشنٰی ہے، صحاح میں ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم ہمراہ رکاب اقدس حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم زمین ثمود پر اُترے وہاں کے کنووں سے پانی بھرا اُس سے آٹے گوندھے، حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ پانی پھینک دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلادیں چاہِ ناقہ سے پانی لیں۔ ردالمحتار میں ہے:
ینبغی کراھۃ التطھیر ایضا اخذا مما ذکرناہ وان لم ارہ لاحد من ائمتنا بماء وتراب من کل ارض غضب علیھا الا بئرالناقۃ بارض ثمود وقد صرح الشافعیۃ بکراھتہ ولا یباح عند احمد ثم نقل الحدیث عن شرح المنتھی الحنبلی وانہ قال ظاھرہ منع الطہارۃبہ قال وبئر الناقۃ ھی البئر الکبیرۃ التی یردھا الحجاج فی ھذہ الازمنۃ ۱؎ اھ۔ وقولہ اخذا مما ذکرنا یشیر الٰی ماقدم من تعلیل الکراھۃ بمراعاۃ الخلاف۔
جس زمین پر بھی غضب نازل ہوا ہو، اس کے پانی اور مٹّی سے طہارت حاصل کرنامکروہ ہونا چاہئے سوائے ناقہ کے کنویں کے جو زمین ثمود میں پایا جاتا ہے۔ یہ بات اس تحقیق سے معلوم ہوتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے، اگرچہ میری نظر سے نہیں گزرا کہ ہمارے ائمہ میں سے کسی نے یہ بات کہی ہو، البتہ شافعیہ نے اس کے مکروہ ہونے کی تصریح کی ہے، اور امام احمد کے نزدیک مباح نہیں ہے، پھر حدیث نقل کی شرح منتہی حنبل سے، اور فرمایا اس سے بظاہر طہارت کا ممنوع ہونا مفہوم ہوتا ہے، فرمایا اونٹنی کے کنویں سے مراد وہ بڑا کُنواں ہے جس پر آج کل حاجی آتے ہیں اور اس کے قول اخذا مما ذکرنا سے مراد کراہت کی علّت ہے جو انہوں نے بیان کی کہ اختلاف کی رعایت مقصود ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    مکروہات الوضو ء    مصطفی البابی مصر    ۱/ ۹۸)
اقول وفیہ(۱) ماقدمنا لکن الکراھۃ ھھنا واضحۃ فقد کرہ الاٰجر فی القبر مما یلی المیت لاثر النار کما فی البدائع وغیرھا فھذا اولی بوجوہ کما لایخفی علی من اعتبر فجزاہ اللّٰہ تعالٰی خیرا کثیرا فی جنات الفردوس کمانبہ علی ھذہ الفائدۃ الفازۃ۔
میں کہتا ہوں اس پر وہ اعتراض ہے جو ہم نے ذکر کیا، لیکن کراہت یہاں واضح ہے، کیونکہ آگ میں پکی ہوئی اینٹ قبر میں میت سے لگا کر استعمال کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس میں آگ کا اثر ہوتا ہے، جیسا کہ بدائع وغیرہ میں ہے تو یہ بطریق اولی مکروہ ہے کئی وجوہ سے جیسا کہ عبرت حاصل کرنے والے پر مخفی نہیں اللہ تعالٰی اسے جنۃ الفردوس میں خیر کثیر عطا فرمائے جیسا کہ اس عمدہ فائدہ میں تنبیہ کی گئی ہے۔ (ت)

(۲۵) آبِ(۲) مغصوب۔ آبِ مغصوب میں تو کراہت ہی تھی آب مغصوب کا استعمال صرف کھانے پینے میں ہو خواہ طہارت میں محض حرام ہے مگر وضو وغسل صحیح ہوجائیں گے اور ان سے نماز ادا ہوجائے گی لان المنع للمجاور (یہ ممانعت ساتھ ملنے کی وجہ سے ہے۔ ت) ردالمحتار میں زیر قول شارح یجوز رفع الحدث بما ذکر (حدث کا دور کرنا جائز ہے ان چیزوں سے جو ذکر کی گئیں) فرمایا ای یصح وان لم یحل فی نحو الماء المغضوب ۲؎ (یعنی صحیح ہے اگرچہ حلال نہیں مغضوب پانی کی شکل میں۔ ت)
(۲۶) وہ(۳) پانی کہ کسی کے مملوک کنویں سے بے اس کی اجازت بلکہ باوصف ممانعت کے بھرا اس کا پینا وضو وغیرہ میں خرچ کرنا سب جائز ہے یہ مغضوب کی حد میں نہیں کہ کنویں(۴) کا پانی جب تک کُنویں میں ہے کسی کی مِلک نہیں آبِ باراں کی طرح مباح وخالص مِلک الٰہ عز جلالہ ہے۔ ردالمحتار میں ہدایہ سے ہے: الماء فی البئر غیر مملوک ۳؎ (کنویں کے اندر کا پانی کسی کی ملکیت نہیں ہے۔ ت)
(۲؎ ردالمحتار    باب المیاہ         مصطفی البابی مصر       ۱/ ۱۳۵)

(۳؎ ردالمحتار    فصل الشرب      مصطفی البابی مصر        ۲/ ۱۸۶)
اُسی میں ولوالجیہ سے ہے:اونزح ماء بئر رجل بغیر اذنہ حتی یبست لاشیئ علیہ لان صاحب البئر غیر مالک للماء ۱؎۔
اگر کسی شخص کے کنویں کا پانی اس کی اجازت کے بغیر نکالا اور اتنا نکالا کہ وہ کنواں خشک ہوگیا تو اس شخص پر کوئی ضمان نہیں، کیونکہ وہ شخص پانی کا مالک نہیں۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ    مسائل الشرب    بیروت        ۲/ ۱۸۶)
Flag Counter