اقول:افادکراھۃ التحریم لمقابلتھا بالاجازۃ وھی محمل قول احمد واسحٰق ونفی البأس مرجعہ الی خلاف الاول وقد بینا المسألۃ بابسط مماھنا فی فتاوٰنا۔
میں کہتا ہوں اس سے کراہت تحریمی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس کا مقابلہ اجازت سے ہے، اور اسی پر احمد اور اسحاق کے قول کو محمول کیا گیا ہے اور جہاں بأس کی نفی ہے اس کا مطلب خلاف اولٰی ہے، ہم نے اس مسئلہ کو بہ نسبت اِس مقام کے اپنے فتاوٰی میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (ت)
ذخیرہ میں ہے: یکرہ الاکل(۱) والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل لان الغالب الظاھر من حال اوانیھم النجاسۃ ۱؎۔
مشرکین کے برتنوں میں دھونے سے پہلے کھانا پینا مکروہ ہے کیونکہ ان کے برتن میں بظاہر ناپاک ہوتے ہیں۔ (ت)
(۱؎ حدیقہ ندیۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۷۱۲)
(۱۵) جس پانی(۲) میں بچّہ نے ہاتھ یا پاؤں ڈال دیا یہاں بھی وہی حکم ہے کہ قابلِ طہارت ہے جب تک نجاست پر یقین نہ ہو مگر اولٰی احتراز ہے جب تک طہارت پر یقین نہ ہو۔
ہندیہ میں ہے: اذا ادخل الصبی یدہ فی کوزماء اورجلہ فان علم ان یدہ طاھرۃ بیقین یجوز التوضؤ بہ وان کان لایعلم انھا طاھرۃ اونجسۃ فالمستحب ان یتوضأ بغیرہ ومع ھذا لوتوضأ اجزأہ کذا فی المحیط ۲؎۔
بچّے نے پانی کے کُوزے میں اگر ہاتھ یا پیر ڈالا تو اگر یقین سے یہ معلوم ہے کہ اس کا ہاتھ یا پَیر پاک ہے تو اس سے وضو جائز ہے اور اگر معلوم نہیں کہ وہ پاک ہے یا ناپاک، تو مستحب یہ ہے کہ دوسرے پانی سے وضو کیا جائے، لیکن اگر وضو کر ہی لیا تو جائز ہے کذا فی المحیط۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ فصل فیما لایجوزبہ التوضؤ پشاور ۱/ ۲۵)
(۱۶) یوں ہی(۳) جس میں مشکوک کپڑا گر گیا حتی کہ بچّے کے نہالچے کی روئی جبکہ نجاست معلوم نہ ہو مگر کراہت ہے کہ مظنہ زیادہ ہے، جواہر الفتاوٰی باب اول فتاوٰی امام رکن الدین ابو الفضل کرمانی میں ہے:
قطعۃ قطن من فراش صبی وقعت فی بئرولا یدری انھا نجسۃ ام طاھرۃقال لایحکم بکونھا نجسۃ بالشک والاحتمال ولو احتیط ونزح کان اولی ۱؎۔
.بچّے کے بچھونے سے رُوئی کا ایک ٹکڑا کُنویں میں گر گیا اور یہ معلوم نہیں کہ یہ پاک ہے یا ناپاک، تو محض شک اور احتمال کی بنا پر اس کی نجاست کا حکم نہیں دیا جائیگا اور اگر احتیاط سے کام لیا جائے اور تمام پانی نکال دیا جائے تو بہتر ہے۔ (ت)
(۱؎ جواہر الفتاوٰی)
وہ پانی(۱) جس میں استعمال جُوتا گر گیا جبکہ نجاست نہ معلوم ہو یہاں پر بھی وہی حکم ہے تاتارخانیہ پھر طریقہ وحدیقہ میں ہے:
سئل الامام الخجندی عن رکیۃ وھی البئر وجد فیھا خف ای نعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا ۲؎ اھ ملخصا۔
امام خجندی سے ایسے کنویں کی بابت دریافت کیا گیا جس میں ایسا موزہ (ہلکا جوتا) پایا گیا جسے پہن کر عام راستوں پر چلا جاتا ہے، اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کب گرا ہے، اور اس پر بظاہر نجاست کا اثر بھی نہیں تو کیا کنواں ناپاک ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں اھ (ت)
(۲؎ حدیقہ ندیۃ صنف ثانی من الصنفین نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۶۷۴)
(۱۸ تا ۲۱) شکاری پرندوں اور حشرات الارض اور بلّی اور چھوٹی ہوئی مرغی کا جھوٹا جبکہ طہارت یا نجاست پر یقین نہ ہو یہ اُس وقت مکروہ ہے جبکہ دوسرا صاف پانی موجود ہو وقد بیناہ فی فتاوٰنا (ہمارے فتاوٰی میں بیان کر دیا گیا ہے۔ ت)
(۲۲) اُس جانور کا جھوٹا جس میں خون سائل نہیں جیسے بچھّو وغیرہ اس میں کراہت بھی نہیں۔ درمختار میں ہے:
سؤر مالادم لہ طاھر طھور بلاکراھۃ ۳؎۔
اس جانور کا جھُوٹا جس میں خون سائل نہیں بلاکراہت پاک اور پاک کرنے والا ہے۔ (ت)
(۳؎ الدرالمختار فی البئر مجتبائی دہلی ۱/ ۴۰)
(۲۳) حوض(۲) کا پانی جس میں بدبُو آتی ہو جبکہ اُس کی بُو نجاست کی وجہ سے ہونا معلوم نہ ہو۔ خانیہ میں ہے:
یجوز التوضوء فی الحوض الکبیر المنتن اذالم تعلم نجاسۃ لان تغیر الرائحۃقد یکون بطول المکث ۱؎ اھ
بڑے حوض میں اگر بدبو ہو تو بھی اس سے وضو ء جائز ہے بشرطیکہ اس میں نجاست معلوم نہ ہو کیونکہ پانی کے ٹھہرے رہنے کی وجہ سے بھی کبھی بدبُو پیدا ہوجاتی ہے اھ (ت)
(۱؎ قاضی خان الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱/ ۴)
اقول:وکذا الصغیر وانما قید بالکبیر لاجل فی معناہ ان الکبیر اذا تغیر احد اوصافہ بنجس ینجس فالحوض الکبیر المنتن قدیتوقاہ الموسوس توھما ان نتنہ بالنجس فافادانہ وھم لایعتبر۔
میں کہتا ہوں چھوٹے حوض کا بھی یہی حکم ہے، بڑے کی قید محض اس لئے لگائی ہے کہ بڑے حوض کا پانی جب نجاست کی وجہ سے متغیر ہوجائے اور اس کا کوئی وصف بدل جائے تو نجس ہے اگر بڑے حوض میں بدبو پائی جائے تو وہمی شخص اس سے پرہیز کرسکتا ہے کہ شاید اس کی بدبو نجاست کے باعث ہے، لیکن اس عبارت سے یہ بتادیا کہ یہ وہم معتبر نہیں ہے۔ (ت)