Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
121 - 176
اقول: بل الجوھرۃ النیرۃ وھی منالکتب المعتبرۃ کما نص علیہ فی ردالمحتار ونظیرہ(۱) ان مجتبی النسائی المختصر من سننہ الکبرٰی من الصحاح دون الکبری۔
میں کہتا ہوں بلکہ جوہرہ نیرہ ہے اور وہ کتب معتبرہ سے ہے جیسا کہ اس کی صراحۃ ردالمحتار میں موجود ہے اور اس کی نظیریہ ہے کہ نسائی کی مجتبٰی جو ان کی سنن کبرٰی سے مختصر ہے صحاح میں شمار ہوتی ہے جبکہ کبری صحاح میں شمار نہیں ہوتی۔ (ت)
ثم اقول ھھنا اشیاء یطول الکلام علیھا ولنشر الی بعضھا اجمالا منھا(۲) لاتبتنی کراھتہ مطلقا علی قول الامام احمد بعدم الجواز لانہ مخصوص عندہ بالاختلاء ومنھا(۳) ان مراعاۃ الخلاف انما ھی(۴) مندوب الیھا فیما لایلزم منھا مکروہ فی المذھب کما نص علیہ العلماء منھم العلامہ ش نفسہ وترک(۵) المندوب لایکرہ کما نصوا علیہ ایضا منھم نفسہ فی ھذا الکتاب فکیف تبتنی الکراھۃ علیھا لاسیما بعد تسلیم(۶) ان نسخ التحریم ینفی کراھۃ التنزیہ ایضا ومنھا(۷) ھل الحکم مثلہ فی عکسہ ای یکرہ لما ایضا فضل طھورہ ردی احمد وابو داو،د والنسائی عن رجل صحب النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اربع سنین وابن ماجۃ عن عبداللّٰہ بن سرجس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما نھی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان تغتسل المرأۃ بفضل الرجل اویغتسل بفضل المرأۃ ۱؎
پھر میں کہتا ہوں یہاں بعض چیزیں ایسی ہیں جن سے کلام میں طوالت ہوگی تاہم کچھ کا ذکر اجمالی طور پر کیا جاتا ہے، کراہت کی بنیاد مطلقاً امام احمد کے عدمِ جواز کا قول نہیں، کیوں کہ اُن کے نزدیک یہ قول خلوت کے ساتھ مختص ہے، خلاف کی رعایت ایسے امور میں مندوب ہے جن میں اپنے مذہب کا کوئی مکروہ لازم نہ آئے جیسا کہ علماء نے اس کی صراحت کی ہے، خود علامہ 'ش' نے ایسا ہی کیا ہے اور مندوب کا ترک مکروہ نہیں جیسا کہ فقہا ء نے اس کی صراحت کی ہے خود 'ش' نے اس کتاب میں صراحت کی ہے، تو پھر کراہت اس پر کیسے مبنی ہوگی؟ خاص طور پر جبکہ اس امر کو تسلیم کرلیا گیا کہ تحریم کا منسوخ ہوجانا تنزیہی کراہت کی بھی نفی کرتا ہے، کیا اس کے عکس میں بھی ایسا ہی حکم ہوگا؟ یعنی عورت کیلئے بھی مرد کا چھوڑا ہوا پانی استعمال کرنا مکروہ ہوگا؟ تو احمد، ابو داو،د اور نسائی نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ایک صحابی جو چار سال تک آپ کے ساتھ رہے، سے روایت کی اور ابن ماجہ نے عبداللہ بن سرجس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز سے منع کیا کہ عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے۔
 (۱؎ مشکوٰۃ المصابیح    باب مخالطۃ الجنب    مجتبائی دہلی    ص۵۰)
لکن قال الشیخ ابن حجرالمکی فی شرح المشکوٰۃ لاخلاف فی ان لھا الوضوءبفضلہ ۱؎ اھ وقال ایضا ان احدالم یقل بظاھرہ ومحال ان یصح وتعمل الامۃ کلھا بخلافہ ۲؎ اھ وتعقبہ الشیخ المحقق الدھلوی فی اللمعات بقولہ قد قال الامام احمد بن حنبل مع مافیہ من التفصیل والخلاف فی مشایخ ۳؎ مذھبہ الی اخر ماذکر من خلافیاتھم۔
مگر شیخ ابن حجر مکّی نے شرح مشکوٰۃ میں فرمایا کہ اس میں اختلاف نہیں کہ عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کرسکتی ہے اھ۔ نیز فرمایا کہ کسی ایک نے بھی اس کے ظاہر کے خلاف نہیں فرمایا اور یہ محال ہے کہ ایک چیز صحیح بھی ہو اور تمام اُمّت اس کے خلاف عمل پیرا ہو اھ۔ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں اس پر رد کیا اور فرمایا احمد بن حنبل نے جو فرمایا ہے اس میں تفصیل ہے اور ان کے مذہب کے مشایخ میں بھی اختلاف رہا ہے، پھر وہ اختلاف ذکر کیا۔ (ت)
(۱؎ شرح المشکوٰۃ لابن حجر    )

(۲؎ شرح المشکوٰۃ لابن حجر)    

(۳؎ لمعات التنقیح باب مخالطۃ الجنب    المعارف العلمیہ لاہور    ۲/ ۱۳۰)
اقو ل: (۱) رحم اللّٰہ الشیخ ورحمنا بہ کلام ابن حجر فی وضوئھا بفضلہ وقول الامام احمد وخلافیات مشایخ مذھبہ فی عکسہ نعم قال الامام العینی فی العمدۃ حکی ابو عمر خمسۃ مذاہب الثانی یکرہ ان یتوضأ بفضلھا وعکسہ والثالث کراھتہ فضلھا لہ والرخصۃ فی عکسہ والخامس لاباس بفضل کل منھما وعلیہ فقہاء الامصار ۴؎ اھ ملتقطا فھذا یثبت الخلاف واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں اللہ رحم کرے شیخ پر اور ہم پر، ابن حجر نے مرد کے بچے ہوئے پانی سے عورت کے وضو کرنے کی بابت جو کلام کیا ہے اور امام احمد کا قول اور ان کے مشایخ مذہب کے اختلافات اس کے برعکس صورت میں ہیں، ہاں عینی نے عمدہ میں فرمایا کہ ابو عمر نے پانچ مذاہب گنائے ہیں، ان میں دوسرا یہ ہے کہ مرد کا عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے اور اس کا عکس بھی مکروہ ہے اور تیسرا یہ ہے کہ عورت کا بچا ہوا مرد کیلئے مکروہ ہے اور اس کے عکس میں رخصت ہے اور پانچواں یہ ہے کہ دونوں کے بچے ہوئے پانی میں کچھ حرج نہیں، اور اسی پر شہروں کے فقہاء ہیں اھ۔ ملتقطا، اس سے خلاف ثابت ہوتا ہے واللہ تعالٰی اعلم (ت)
 (۴؎ عمدۃ القاری باب وضؤ الرجل مع امرأتہ        مصر    ۳ /۸۵) (۱۲) اُس کنویں یا(۲) حوض کا پانی جس سے بچّے عورتیں گنوار جہّال فسّاق ہر طرح کے لوگ اپنے میلے کچیلی  گھڑے ڈال کر پانی بھریں جب تک نجاست معلوم نہ ہو فتح القدیر میں ہے:
یتوضوء من البئر التی یدلی فیہ الدلاء والجرار الدنسۃ یحملھا الصفار والعبید الذین لایعلمون الاحکام ویمسھا الرستاقیون بالایدی الدنسۃ مالم یتعلم نجاسۃ ۱؎۔
جس کو کنویں میں بچّے اور غلام میلے ڈولوں اور ٹھیلوں سے پانی بھرتے ہوں اور جن کو سقّے مَیلے ہاتھ لگاتے ہوں ایسے کنوؤں سے وضو کرنے میں حرج نہیں، ہاں اگر نجاست کا یقین ہو تو جائز نہیں (ت)
 (۱؎ فتح القدیر        غدیر عظیم                سکھر    ۱/ ۷۲)
اشباہ والنظائر میں ہے:قال الامام محمد حوض تملؤ منہ الصغار والعبید بالایدی الدنسۃ والجرار الوسخۃ یجوز الوضوءمنہ مالم تعلم نجاسۃ ۲؎۔
امام محمد نے فرمایا وہ حوض جس سے چھوٹے بچّے اور غلام پانی بھرتے ہوں، اُن کے ہاتھ اور ٹھلیاں مَیلی ہوں تو جب تک نجاست کا یقین نہ ہو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الیقین لایزول بالشک        ادارۃ القرآن کراچی    ۱/۸۷)
وہ پانی(۱) جس میں ایسا برتن ڈالا گیا ہو جو زمین پر رکھا جاتا ہے جس کے پیندے کی طہارت پر یقین نہیں جب تک نجاست پر یقین نہ ہو فتح القدیر میں ہے:
قالوا ولاباس بالتوضی من حب یوضع کوزہ فی نواحی الدار ویشرب منہ مالم یعلم بہ قذر ۳؎۔
فقہاء نے فرمایا وہ تالاب جس کے کوزے گھر کے گوشے میں رکھے جاتے ہوں اور اس سے پانی پیا جاتا ہو تو اُس سے وضو کرنے میں حرج نہیں، جب تک اس کی گندگی کا علم نہ ہو۔ (ت)
 (۳؎ فتح القدیر        غدیر عظیم            سکھر    ۱/ ۷۲)
حدیقہ ندیہ میں جامع الفتاوٰی سے ہے:وکذا الکوز الموضوع فی الارض اذا ادخل فی الحب للشرب منہ یعنی یجوز مالم یعلم النجاسۃ ۴؎۔
اسی طرح وہ لوٹا جو زمین پر رکھا ہوا ہو جب اس کو تالاب میں ڈال کر اس سے پینے کیلئے پانی نکالا جائے تو اس سے وضو جائز ہے، یعنی جب تک نجاست کا علم نہ ہو۔ (ت)
 (۴؎ حدیقہ ندیہ    صنف ثانی من المصننفین    نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/ ۶۶۷)
یہی حکم اُن(۲) لوٹوں کے پیندوں کا ہے جو زمین پر رکھے جاتے بلکہ بیت الخلاء میں لے جاتے ہیں جبکہ موضع نجاست سے جُدا ہوں۔

(۱۴) ہنود(۱) وغیرہم کفار کے کنووں یا برتنوں کا پانی اس سے طہارت ہوسکتی ہے جب تک نجاست معلوم نہ ہو مگر کراہت رہے گی جب تک طہارت نہ معلوم ہو کہ وہ مظنہئ ہر گونہ نجاست ہیں عینی شرح بخاری میں زیر اثر توضأ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ من بیت نصرانیۃ (حضرت عمر نے ایک نصرانی عور ت کے گھر سے وضو کیا۔ ت) فرمایا:
الذی یدل ھذا الاثر جواز استعمال میاھھم ولکن یکرہ استعمال اوانیھم وثیابھم سواء فیہ اھل الکتاب وغیرھم وقال الشافعیۃ فان تیقن طہارتھا فلا کراھۃ ولا نعلم فیھا خلافا واذا تطھر من اناء کافر ولم یتیقن طہارتہ ولا نجاستہ فان کان من قوم لایتدینون باستعمالھا صحت طہارتہ قطعا والا وجہان اصحھما الصحۃ وممن کان لایری بأسا بہ الاوزاعی والثوری وابو حنیفۃ والشافعی واصحابھما وقال ابن المنذر لااعلم احداکرھہ الا احمد وابن اسحٰق قلت وتبعھما اھل الظاھر واختلف قول مالک ففی المدونۃ لایتوضوء بسؤر النصرانی ولا بمأ ادخل یدہ فیہ وفی العتبیۃ اجازہ مرۃ وکرھہ اخری ۱؎ اھ
اس اثر سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے پانیوں کا استعمال جائز ہے لیکن ان کے برتنوں اور کپڑوں کا استعمال مکروہ ہے اس میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب برابر ہیں اور شافعی حضرات فرماتے ہیں اگر ان کی پاکی کا یقین ہو تو کراہت بھی نہیں، اور ہم اس میں کوئی اختلاف نہیں جانتے اور جب کسی برتن سے کسی کافر نے پاکی حاصل کی اور اس کی طہارت ونجاست میں سے کسی کا یقین نہیں، تو اگر وہ ایسے لوگوں کا برتن ہے جو نجاست کے استعمال کو جائز نہیں سمجھتے، تو اس کو طہارت قطعاً ثابت ہے ورنہ اس میں دو صورتیں ہیں، دونوں میں اَصَحّ صحت ہے، امام اوزاعی، ثوری، ابو حنیفہ، امام شافعی اور دونوں کے اصحاب اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، اور ابنِ منذر فرماتے ہیں میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس کو مکروہ سمجھا ہو سوائے احمد اور ابن اسحاق کے، میں کہتا ہوں اہلِ ظاہر نے ان دونوں کی متابعت کی اور مالک کے قول میں اختلاف پایا جاتا ہے، مُدَوّنہ میں ہے نصرانی کے جھُوٹے سے اور اُس پانی سے جس میں اُس نے اپنا ہاتھ ڈالا ہو وضو نہ کیا جائے، اور عتبیہ میں ایک قول جواز کا ہے اور ایک کراہۃ کا۔ (ت)
 (۱؎ عمدۃ القاری    باب وضؤ الرجل مع امرأتہٖ    مصر    ۳/ ۸۲)
Flag Counter