اور تحقیق(۱) یہ ہے کہ ہمارے نزدیک بھی اُس پانی سے وضو وغسل مکروہ ہے
کما صرح بہ فی الفتح والبحر والدرایۃ والقنیۃ والنھایۃ
(جیسا کہ فتح، بحر، درایہ، قنیہ اور نہایہ میں صراحت کی گئی ہے۔ ت)
اور یہ کراہت شرعی تنزیہی ہے
کما اشار الیہ فی الحلیۃ والامداد ھذا ماحققہ ش خلافا للتنویر والدر حیث نفیا الکراھۃ اصلا ویمکن حمل التنویر علی التحریم اما الدر فصرح انھا طبعیۃ عند الشافعیۃ وھو خلاف نصہم۔
جیسا کہ حلیہ اور امداد میں اشارہ کیا ''ش'' نے یہی تحقیق کی، تنویر اور دُر میں اس کے خلاف ہے، ان دونوں حضرات نے مطلقاً کراہت کا انکار کیا ہے، اور تنویر کی عبارت کو مکروہ تحریمی پر محمول کرنا ممکن ہے مگر در میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ شافعیہ کے نزدیک وہ کراہت طبعیہ ہے اور یہ ان کی تصریحات کے خلاف ہے۔ (ت)
اقول:وزیادۃ(۲) التنویر قید القصد حیث قال وبماء قصد تشمیسہ لیس اتفاقیا بل الدلالۃ علی الاول واشارۃ الی نفی ماوقع فی المعراج ان الکراھۃ مقیدۃ عند الشافعی بالقصد فافہم۔
میں کہتا ہوں تنویر میں ارادہ کی قید کا اضافہ ہے انہوں نے فرمایا ''اور اس پانی سے جس کو دھوپ میں قصداً گرم کیا گیا ہے، یہ قید اتفاقی نہیں ہے بلکہ پہلی پر دلالت کے لئے ہے اور جو معراج میں فرمایا ہے اسکی نفی کیلئے ہے کہ شافعیوں کے نزدیک کراہت اس وقت ہے جب بالقصد ہو فافہم۔ (ت)
(۱۱) عورت کی طہارت سے بچا ہوا پانی اگرچہ جنب یا حائض ہو اگرچہ اس پانی سے خلوتِ تامّہ میں اُس نے طہارت کی ہو، خلافا لاحمد والمالکیۃ (اس میں احمد اور مالکیہ کا اختلاف ہے۔ ت) ہاں مکروہ(۳) ضرور ہے۔
بل فی السراج لایجوز للرجل ان یتوضأ ویغتسل بفضل وضؤ المرأۃ ۱؎ اھ وھو نص فی کراھۃ التحریم واستظھرھا ط من قول الدر من منھیاتہ التوضی بفضل ماء ۱؎ المرأۃ قال وفیہ نظر واجاب ش بانہ یشمل المکروۃ تنزیھا فانہ منھی عنہ اصطلاحا حقیۃ کما قدمناہ عن التحریر ۲؎ اھ۔ وعللہ ط بخشیۃ التلذذ وقلۃ توقیھن النجاسات لنقص دینھن قال وھذا یدل علی ان کراھتہ تنزیہیۃ ۳؎۔
بلکہ سراج میں ہے کہ مرد کو جائز نہیں کہ وہ عورت کے غسل یا وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے اھ
اور یہ مکروہ تحریمی میں نص ہے، اور طحطاوی نے اس پر دُر کے قول ''عورت کے باقیماندہ پانی سے وضوء نہ کیا جائے'' سے استدلال کیا ہے، فرمایا اس میں نظر ہے، اور 'ش' نے جواب دیا کہ یہ مکروہ تنزیہی کو شامل ہے کہ یہ منہی عنہ ہے اصطلاحی طور پر حقیقۃً جیسا کہ ہم نے تحریر سے نقل کیا اھ اور طحطاوی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس میں ایک تو تلذذ کا خطرہ ہے اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے دینی نقصان کی وجہ سے نجاستوں سے نہیں بچتی ہیں، فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد کراہت تنزیہی ہے اھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار مکروہات الوضوء مصطفی البابی مصر ۱/ ۹۸)
(۱؎ طحطاوی علی الدرالمختار مکروہات الوضوء بیروت ۱/ ۷۶)
(۲؎ ردالمحتار مکروہات الوضوء مصطفی البابی مصر ۱/ ۹۸)
(۳؎ طحطاوی علی الدرالمختار مکروہات الوضوء بیروت ۱/ ۷۶)
اقول:علی الاول(۱) یعم النھی عکسہ اعنی توضوء المرأۃ من فضل طھورہ وفیہ کلام یاتی اما الثانی۔
میں کہتا ہوں پہلے قول کے مطابق نہی اُس کے عکس کو شامل ہے یعنی عورت کا مرد کے بچے ہوئے پانی سے وضؤ کرنا، اس میں کچھ بحث ہے جو آئے گی۔
فاولا:یقتضی تعمیمہ(۲) رجال البد و والعبید والجھلۃ واشد من الکل العمیان(۳) فلا تبقی خصوصیۃ للمرأۃ۔
رہا دوسرا قول تو اس میں پہلی چیز یہ ہے کہ یہ دیہاتی، غلام اور جاہل سب کو عام ہے، اور سب سے زیادہ نابینا لوگوں کو۔ تو اس میں عورت کی کوئی خصوصیت نہیں۔
وثانیا:لایتقید(۴) بطھورھا فضلا عن اختلائھا بہ بلک اذن یکفی مسھا۔
اور ثانیا، یہ قید نہیں کہ اس کا طہور ہو چہ جائیکہ عورت کا خلوت میں اس کو استعمال کرنا، بلکہ اس کا محض پانی کو چھُولینا بھی کافی ہوگا۔
وثالثا:فی قلۃ(۵) توقیھن النجاسات نظر ونقص دینھن ان احدٰھن تقعد شطر دھرھا لاتصوم ولا تصلی کما فی الحدیث وھذا لیس من صنعھا الا ان یعلل بغلبۃ الجھل علیھن فیشار کھن العبید والاعراب۔
اور تیسرا یہ کہ اُن کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ نجاستوں سے کم بچتی ہیں اس میں اعتراض ہے،اور ان کے دین کا نقص محض یہ ہے کہ وہ ایک زمانہ تک گھر بیٹھتی ہے نہ روزہ رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، اور اس میں اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں، ہاں اس کی تعلیل یہ ہوسکتی ہے کہ ان میں جہل کا غلبہ ہوتا ہے تو یہ بات غلاموں اور دیہاتی لوگوں میں بھی ہوتی ہے۔
ورابعا: العلۃ(۱) توجد فی حق المرأۃ الاخری والکراھۃ خاصۃ بالرجل وجعل ش النھی تعبدیا۔
چوتھے، یہ علّت دوسری عورت کے حق میں بھی پائی جاتی ہے حالانکہ کراہت مرد کے ساتھ خاص ہے اور ''ش'' نے اس مخالفت کو محض تعبّدی امر قرار دیا ہے۔ (ت)
اقول: وھو الاولی لما عرفت عدم انتھاض العلل وبہ صرحت الحنابلۃ ولا بدلھم عن ذلک اذعدم الجواز لایعقل لہ وجہ اصلا وکونہ تعبدیا لما رواہ الخمسۃ ۱؎ انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نھی ان یتوضأ الرجل بفضل طھور المرأۃ ۲؎ ثم ذکر عن غرر الافکار نسخہ بحدیث مسلم ان میمونہ قالت اغتسلت من جفنۃ ففضلت فیھا فضلۃ فجاء النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یغتسل فقٰلت انی اغتسلت منہ فقال الماء لیس علیہ جنابۃ قال ش مقتضی النسخ انہ لایکرہ عندنا ولا تنزیھا وفیہ ان دعوی النسخ تتوقف علی العلم یتأخرا لناسخ ولعلہ ماخوذ من قول میمونۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھا انی قد اغتسلت فانہ یشعر بعلمھا بالنھی قبلہ
میں کہتا ہوں یہی بات بہتر ہے، کیونکہ دوسری علتیں درست نہیں ہے، اور حنبلی حضرات نے بھی یہ علت بیان کی ہے، اور ایسا کرنا ان کیلئے ضروری تھا، کیونکہ عدم جواز کی کوئی وجہ موجود نہیں، اور اس کے تعبدی ہونے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو پانچوں محدثین نے نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کرنے کی ممانعت فرمائی، پھر غرر الافکار کے حوالہ سے اس کا منسوخ ہونا نقل کیا۔ اس میں مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے ایک ٹب میں غسل کیا اس میں کچھ پانی بچ گیا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے غسل کا ارادہ فرمایا'' تو انہوں نے عرض کی کہ ''ہم نے اس سے غسل کیا ہے''۔ آپ نے فرمایا ''پانی پر جنابت کا اثر نہیں ہوتا''۔ ش نے فرمایا نسخ کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے نزدیک نہ وہ مکروہ تحریمی ہے نہ مکروہِ تنزیہی، اس میں اعتراض ہے کہ نسخ کا دعوٰی اس پر موقوف ہے کہ ناسخ کے متأخر ہونے کا علم ہو، اور شاید یہ حضرت میمونہ کے اس قول سے ماخوذ ہے کہ میں نے غسل کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس سے قبل ہی نہی کا علم تھا،
عہ۱ : اقول المعروف فی اطلاق الخمسۃ ارادۃ الستۃ الا البخاری وھذا انما رواہ احمد والاربعۃ نعم ھو اصطلاح عبدالسلام ابن تیمیۃ فی المنتقی لانہ ادخل الامام احمد فی الجماعۃ فاذ ارادہ غیر الشیخین قال رواہ الخمسۃ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں عام طور پر خمسہ کا اطلاق بخاری کے علاوہ باقی اصحابِ ستّہ پر ہوتا ہے جبکہ اس کو امام احمد اور اربعہ نے روایت کیا ہے۔ ہاں منتقی میں عبدالسلام ابن تیمیہ کی یہ اصطلاح ہے کہ کیونکہ وہ امام احمد کو بھی اصحابِ صحاح کی جماعت میں داخل کرتے ہیں جس حدیث کو شیخین کے علاوہ باقی اصحابِ صحاح نے روایت کیا ہو تو کہتے ہیں رواہ الخمسۃ منہ غفرلہ (ت)
(۲؎ ردالمحتار مکروہات الوضوء البابی مصر ۱/ ۹۸)
قال وقد صرح الشافعیۃ بالکراھۃ فینبغی کراھتہ وان قلنا بالنسخ مراعاۃ للخلاف فقد صرحوا بانہ یطلب مراعاۃ الخلاف وقد علمت انہ لایجوز التطھیر بہ عند احمد ۱؎ اھ۔
اور شافعیہ نے کراہت کی تصریح کی ہے تو چاہئے کہ یہ مکروہ ہو، اگرچہ ہم اختلاف کی رعایت کرتے ہوئے نسخ کا قول کریں، کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ خلاف کی رعایت کی جائے اور یہ تو آپ جان ہی چکے ہیں کہ احمد کے نزدیک اس پا نی سے طہارت جائز نہیں اھ۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار مکروہات الوضوء البابی مصر ۱/۹۸)
اقول:ولاقرب الی الصواب ان لانسخ ولا تحریم بل النھی للتنزیہ والفعل لبیان الجواز وھو الذی مشی علیہ القاری فی المرقاۃ نقلا عن السید جمال الدین الحنفی وبہ اجاب الشخ عبدالحق الدھلوی فی لمعات التنقیح ان النھی تنزیہ لاتحریم فلا منافاۃ ۲؎
میں کہتا ہوں زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ نہ تو نسخ ہے اور نہ ہی تحریم ہے بلکہ نہی محض تنزیہی ہے اور فعل بیان جواز کے لئے ہے ملّا علی قاری نے بھی مرقاۃ میں سید جمال الدین حنفی سے یہی نقل کیا ہے اور لمعات التنقیح میں محدث عبدالحق دہلوی نے بھی یہی جواب دیا ہے کہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیںتو کوئی منافاۃ نہیں،
وقال فی الباب قبلہ اجیب ان تلک عزیمۃ وھذا رخصۃ ۱؎ اھ وبھذا جزم فی الاشعۃ من باب مخالطۃ الجنب وقال الامام العینی فی عمدۃ القاری اما فضل المرأۃ فیجوز عند الشافعی الوضوء بہ للرجل سواء خلت بہ اولاقال البغوی وغیرہ فلا کراھۃ فیہ للاحادیث الصحیحۃ فیہ وبھذا قال مالک وابو حنیفۃ وجمہور العلماء وقال احمد وداود لایجوز اذا خلت بہ و روی ھذا عن عبداللّٰہ بن سرجس والحسن البصری و روی عن احمد کمذھبنا وعن ابن المسیب والحسن کراھۃ فضلھا مطلقا ۲؎ اھ۔ واذ احملنا المنفیۃ علی کراھۃ التحریم لم یناف ثبوت کراھۃ التنزیہ وکیفما(۱) کان فما فی السراج غریب جدا ولم یستند لمعتمد وخالف المعتمدات ونقول الثقات ولا یظھر لہ وجہ وقد قال(۲) فی کشف الظنون السراج الوھاج عدہ المولی المعروف ببرکلی جملۃ الکتب المتداولۃ الضعیفۃ غیر المعتبرۃ اھ۔ قال چلپی ثم اختصر ھذا الشرح وسماہ الجوھر النیر ۳؎ اھ۔
اس پہلے باب میں فرمایا کہ ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ وہ عزیمۃ تھی اور یہ رخصۃ ہے اھ اور اشعۃ اللمعات میں اسی پر جزم کیا ہے عینی نے عمدۃ القاری میں فرمایا ہے عورت کا بچے ہوئے پانی سے امام شافعی کے نزدیک مرد کیلئے وضو جائز ہے خواہ اُس عورت نے اس سے خلوت کی ہو یا نہ کی ہو بغوی وغیرہ نے فرمایا تو اس میں کراہت نہیں ہے کہ صحیح احادیث اس بارے میں موجود ہیں یہی قول مالک، ابو حنیفہ اور جمہور علماء کا ہے، اور احمد اور ابو داو،د نے فرمایا کہ جب عورت اس پانی کے ساتھ خلوت کرے تو جائز نہیں، یہ قول عبداللہ بن سرجس اور حسن بصری سے منقول ہے، اور احمد کی ایک روایت مذہب ابی حنیفہ کے مطابق ہے، اور ابن المسبّب اور حسن سے اس بچے ہوئے کی کہ کراہت مطلقاً منقول ہے اھ اور اگر ہم منفی کو کراہتِ تحریم پر محمول کریں تو اس سے کراہت تنزیہی کے ثبوت کی نفی لازم نہ آئے گی، بہرصورت جو سراج میں ہے وہ بہت ہی غریب ہے اور کسی معتمد کتاب کی سند اس پر موجود نہیں، بلکہ کتب معتمدہ اور نقول مستندہ کے صریح خلاف ہے، اور اس کی کوئی وجہ ظاہر نہیں ہوتی ہے، کشف الظنون میں ہے کہ سراج الوہاج کو مولی المعروف برکلی نے کتبِ متداولہ، ضعیفہ غیر معتبرہ میں شمار کیا ہے اھ اور چلپی نے فرمایا پھر اس کتاب کو مختصر کیا گیا اور اس کا نام جوہر نیر ہوا اھ (ت)
(۱؎ لمعات التنقیح باب الغسل المعارف العلمیہ لاہور ۲/ ۱۱۲)
(۲؎ عمدۃ القاری وضوء الرجل مع امرأتہ مصر ۳/ ۸۳)
(۳؎ کشف الظنون ذکر مختصر القدوری بغداد ۲ /۱۶۳)