Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
119 - 176
حیاۃ الحیوان میں ہے:الذی قالہ یوافق قول القاضی حسین فیما تقدم فی الدود ۳؎۔
جو انہوں نے کہا وہ قاضی حسین کے قول کے موافق ہے جیسا کہ دود کے ذکر میں پہلے گزرا۔ (ت)
 (۳؎ حیاۃ الحیوان الکبرٰی(زلال) البابی مصر۱/ ۵۳۶)
علامہ شامی نے جب تک اُس جانور کا دموی ہونا ثابت نہ ہو پانی پاک مگر ناقابلِ وضو بتایا۔
حیث قال نعم لایکون نجسا عندنا مالم یعلم کونہ دمویا اما رفع الحدث بہ فلا یصح وان کان غیر دموی ۴؎۔
انہوں نے فرمایا جب تک اس کا دموی ہونا معلوم نہ ہو ہمارے نزدیک نجس نہیں، رہا اس سے پاک حاصل کرنا تو یہ صحیح نہیں اگرچہ وہ غیر دموی ہو۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار        باب المیاہ        البابی مصر        ۱/ ۱۳۲)
اقول: ظاہراً اُس پانی کی طہارت محلِ اشتباہ نہیں جیسے ریشم(۲) کا کیڑا کہ خود بھی پاک ہے اور اس کا پانی بلکہ بیٹ بھی پاک  علمگیریہ میں ہے:
ماء دود القزو عینہ وخرؤہ طاھر کذا فی القنیۃ ۵؎۔
ریشم کا کیڑا اس کا پانی اور اس کی بیٹ پاک ہے جیسا کہ قنیہ میں ہے۔ (ت)
 (۵؎ فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فے الاعیان النجسۃ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۴۶)
بلکہ خلاصہ میں ہے:الدودۃ(۳) اذا تولدت من النجاسۃ قال شمس الائمۃ الحلوائی انھا لیست بنجسۃ وکذا کل حیوان حتی لوغسل ثم وقع فی الماء لاینجسہ وتجوز الصلاۃ معھا ۱؎۔
کیڑا جو نجاست میں پیدا ہو تو شمس الائمہ حلوائی فرماتے ہیں کہ وہ ناپاک نہیں ہے اور یہی حال ہر حیوان کا ہے۔

تو اگر کسی حیوان کو دھویا جائے پھر وہ پانی میں گر جائے تو اس کو ناپاک نہیں کرے گا، اور اس کے ساتھ نماز جائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل السابع فیما یکون نجساً الخ    نولکشور لکھنؤ        ۱/ ۴۴)
اور جب(۱) طاہر ہے تو جب تک ثابت نہ ہو کہ یہ پانی نہیں بلکہ اُس کیڑے ہی کے پیٹ کی رطوبت ہے یا اُس کی رطوبت اِس میں نصف یا زاید ملی ہوئی ہے ناقابلِ وضو ہونے کی کوئی وجہ نہیں ظاہراً وہ برف ہی کا پانی ہے کہ اس کے جوف میں ملتا ہے اور پاک پانی کے غیر طہور ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو خلط غیر سے مائے مطلق نہ رہے یا اسقاط فرض خواہ اقامت قربت سے مستعمل ہوجائے ثانی یہاں قطعاً منتفی اور اول کا ثبوت نہیں اور کوئی مطلق بلا ثبوت مقید نہیں ہوسکتا۔
الا تری ان النجاسۃ لاتثبت بالشک وھی تسلب الطھوریۃ والطھارۃ معا فضلا عن التقیید۔
نجاست شک سے ثابت نہیں ہوتی ہے اور یہ طہوریت کو سلب کرتی ہے اور طہارت کو بھی چہ جائیکہ تقیید۔ (ت)

(۸) گرم پانی
وھذا وفاق الا ما یحکی عن مجاھد من کراھۃ۔
 (اس بات میں اتفاق ہے مگر وہ جو مجاہد سے اس کی کراہت منقول ہے۔ ت)

اقول: مگر اتنا گرم کہ(۱) اچھی طرح ڈالا نہ جائے تکمیل سنت نہ کرنے دے مکروہ ہے یونہی اتنا سرد اور اگر تکمیل فرض سے مانع ہو تو حرام اور وہ وضو نہ ہوگا وفی صحیح البخاری توضأ عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بالحمیم ۲؎ (صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے گرم پانی سے وضو فرمایا۔ ت)

(۹) اُپلوں سے گرم کیا ہُوا اور بچنا بہتر، درمختار میں ہے:
وکرہ احمد المسخن بالنجاسۃ ۳؎
 (نجاست کے ذریعے گرم شدہ پانی کو امام احمد نے مکروہ گردانا ہے۔ ت)
 (۲؎ جامع للبخاری    باب وضؤ الرجل مع امرأتہٖ        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۲)

(۳؎ الدرالمختار        باب المیاہ            مجتبائی لاہور        ۱/ ۳۴)
 (۱۰)دھوپ کا گرم پانی مطلقا مگر گرم ملک(۲) گرم موسم میں جو پانی سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم ہوجائے وہ جب تک ٹھنڈا نہ ہولے بدن کو کسی طرح پہنچانا نہ چاہئے وضو سے غسل سے نہ پینے سے یہاں تک کہ جو کپڑا اس سے بھیگا ہو جب تک سرد نہ ہوجائے پہننا مناسب نہیں کہ اُس پانی کے بدن کو پہنچنے سے معاذ اللہ احتمالِ برص ہے اختلافات اس میں بکثرت ہیں اور ہم نے اپنی کتاب منتہی الآمال فے الاوفاق والاعمال میں ہر اختلاف سے قول اصح وارجح چنا اور مختصر الفاظ میں اُسے ذکر کیا اُسی کی نقل بس ہے
وھو ھذا قط (ای الدارقطنی) عن عامر والعقیلی عن انس مرفوعا قط والشافعی عن عمر الفاروق موقوفا لاتغتسلوا بالماء انشمس فانہ یورث البرص ۱؎ قط وابو نعیم عن ام المؤمنین انھا سخنت للنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ماء فی الشمس فقال لاتفعلی یاحیمراء فانہ یورث البرص ۲؎ وقیدہ العلماء بقیود ان یکون فی قطر ووقت حارین وقد تشمس فی منطبع صابر تحت المطرقۃ کحدید ونحاس علی الاصح الا النقدین علی المعتمد دون الخزف والجلود والا حجار والخشب ولا للشمس فی الحیاض والبرک قطعا وان یستعمل فی البدن ولو شربالا فی الثواب الا اذا لبسہ رطبا اومع العرق وان یستعمل حارا فلو برد لاباس علی الاصح وقیل لافرق علی الصحیح ووجہ ورد فالاول الاوجہ قیل وان لایکون الاناء منکشفا والراجح ولو فالحاصل منع ایصال الماء المشمس فی اناء منطبع من غیر النقدین الی البدن فی وقت وبلد حارین مالم یبرد واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
دارقطنی نے عامر سے اور عقیلی نے انس سے مرفوعاً روایت کی، دارقطنی اور شافعی نے عمر فاروق سے موقوفاً روایت کی کہ تم آفتاب سے گرم شدہ پانی سے غسل نہ کرو کہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے، دارقطنی اور ابو نعیم نے ام المؤمنین سے روایت کی کہ آپ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کیلئے آفتاب سے پانی گرم کیا تو آپ نے فرمایا: آیندہ ایسا نہ کرنا اے حمیراء کیونکہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے۔ اور علماء نے اس میں کچھ قیود لگائی ہیں مثلاً یہ کہ گرم پانی گرم علاقہ میں ہو، گرم وقت میں ہو، یہ کہ پانی کسی دھات کے بنے ہوئے برتن میں جیسے پانی لوہے تانبے کے برتن میں گرم ہوا ہو اصح قول کے مطابق مگر سونے چاندی کے برتن میں گرم نہ کیا گیا ہو معتمد قول کے مطابق مٹی کھال پتھّر اور لکڑی کے برتنوں کو دھوپ میں رکھ کر گرم نہ کیا گیا ہو۔ حوض اور گڑھے میں سورج کا گرم شدہ پانی قطعاً نہ ہو، یہ پانی بدن میں استعمال ہوا ہو، اگرچہ پی لیا تو بھی یہی خطرہ ہے، کپڑے دھوئے تو حرج نہیں، ہاں اگر کپڑا دھو کر تر ہی پہن لیا تو خطرہ ہے، یا کپڑا پہنا اور جسم پر پسینہ تھا، یہ پانی گرم استعمال کیا جائے اگر ٹھنڈا ہونے کے بعد استعمال کیا تو حرج نہیں، اصح قول یہی ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ فرق نہیں، اور یہی صحیح ہے، اس کی توجیہ بھی ہے اور اس پر رد ہے، تو اول کی وجہ زیادہ درست ہے، ایک قول یہ ہے کہ برتن کھُلا ہوا نہ ہو، اور راجح ولو کان الاناء منکشفاہے (یعنی اگرچہ برتن کھلا ہو) تو خلاصہ یہ ہے کہ دھوپ کے گرم پانی کا سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کے برتن سے جسم پر پہنچانا، گرم وقت میں اور گرم علاقہ میں بلا ٹھنڈا کیے ممنوع ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۱؎ سنن الدار قطنی    باب الماء المسخن    نشر السنۃ ملتان    ۱/ ۳۹)

(۲؎ سنن الدار قطنی    باب الماء المسخن    نشر السنۃ ملتان     ۱/ ۳۸)
Flag Counter