Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
118 - 176
وفی البحر والنھر وعن ابی یوسف یجوز وان لم یکن متقاطرا والصحیح ولفظ النھر الاصح قولھما ۲؎ اھ ونسبہ فی جامع الرموز للصاحبین حیث قال لایتوضوء بالثلج الا اذا تقاطر وعن الصاحبین انہ یتوضوء بہ والاول ھو الصحیح کما فی الظھیریۃ ۳؎اھ۔
اور بحر ونہر میں ابو یوسف سے منقول ہے کہ وضو جائز ہے اگرچہ ٹپکنے والا نہ ہو یہ صحیح ہے اور لفظ نہر اصح ہے ان دونوں کا قول اھ اور جامع الرموز میں اس کو صاحبین کی طرف منسوب کیا ہے، فرمایا کہ برف سے اس وقت تک وضو نہ کرے جب تک وہ ٹپکنے نہ لگے اور صاحبین سے مروی ہے کہ اس سے وضو کرے، اور پہلا ہی صحیح ہے جیسا کہ ظہیریہ میں ہے اھ
 (۲؎ بحرالرائق    آخر الماء البحر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۷)

(۳؎ جامع الرموز    بحث الماء السماء مطبعۃ کریمیہ قزان ایران    ۱/۴۶)
ورأیتنی کتبت علی ھامشہ  اقول لیس(۱) ھذا محل خلاف وتصحیح اذ لاوضوء الابالغسل ولا غسل الا بالاسالۃ ولا اسالۃ الا بالتقاطر فھو المراد اھ۔ ماکتبت علیہ اقول نعم یروی عن الثانی ان الغسل بل المحل وان لم  یسل۴؎ کما فی البحر وھذا لا یختص بالثلج والبرد وقدمنا فی تبیان الوضوء ان مرادہ سال من العضو قطرۃ اوقطرتان ولم یتدارک فلا خلاف ۵؎ قال ش الظاھر ان معنی لم یتدارک لم یقطر علی الفوربان قطر بعد مھلۃ ۶؎ اھ
میں نے اس کے حاشیہ پر یہ لکھا ہے کہ یہ محل خلاف اور تصحیح نہیں ہے کیونکہ دھوئے بغیر تو وضو ہو نہیں سکتا ہے اور دھونا بہائے بغیر نہ ہوگا اور بہانا بغیر تقاطر کے نہ ہوگا، اور یہی مراد ہے اھ۔ میں کہتا ہوں ہاں دوسرے امام سے یہ مروی ہے کہ دھونا جگہ کے تر کرنے کو کہتے ہیں خواہ نہ بہے، جیسا کہ بحر میں ہے اور یہ چیز برف اور اَولوں کے ساتھ خاص نہیں ہے اور ہم نے تبیان الوضوء میں بیان کیا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ عضو سے ایک یا دو قطرے بہہ جائیں اور تدارک نہ ہو اس میں اختلاف نہیں ''ش'' نے فرمایا کہ لم یتدارک کے معنی یہ ہیں کہ فوراً قطرات نہ بہیں، بلکہ مہلت کے بعد قطرات بہیں اھ (ت(
 (۴؎ بحرالرائق    فرض الوضو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۱)

(۵؎ ردالمحتار    فرض الوضو    البابی مصر        ۱/۷۱)

( ۶؎ ردالمحتار    فرض الوضو    البابی مصر        ۱/۷۱)
اقول بل الظاھر(۱) ان المعنی لم تتتابع القطر کثرۃ یقال تدارک القوم ای تلاحقوا ومنہ قولہ تعالٰی حتی اذا دارکوا فیھا کما فی الصحاح ۱؎ ومعلوم انہ لم یثبت الفور فی دخول طائفۃ منھم بعد اخری واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں بلکہ معنی یہ ہیں کہ قطرات کثرت سے نہ بہیں، کہتے ہیں ''تدارک القوم'' یعنی ایک دوسرے سے ملے اور اسی سے فرمان الٰہی ہے ''حتی اذا دارکوا فیھا'' صحاح میں بھی ایسا ہی ہے اور یہ معلوم ہے کہ ان میں سے ایک جماعت کا دوسری جماعت کے فوراً بعد داخل ہونا مراد نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(
 (۱؎ صحاح الجوہری     د رک بیروت        ۴/۱۵۸۲)
)۵( یوں ہی کل کا برف جب پگھل جائے کہ وہ بھی پانی ہی تھا کہ گیس کی ہوا سے جم گیا ومر عن الدر وجمد وھو محرکا الماء الجامد ط عن ح عن القاموس (اور گزرا ہے کہ الْجَمَد حرکت کے ساتھ جما ہوا پانی (برف) ہے یہ ط سے ح سے قاموس سے ہے۔ ت(

)۶( شبنم

اقول یعنی جبکہ پتّوں پھُولوں پر سے یا پھیلے ہوئے کپڑے نچوڑ کر اتنی جمع کرلی جائے کہ کسی عضو یا بقیہ عضو کو دھو دے مثلاً روپے بھر جگہ پاؤں میں باقی ہے اور پانی ختم ہوگیا اور شبنم جمع کئے سے اتنی مل سکتی ہے کہ اُس جگہ پر بَہ جائے تو تیمم جائز نہ ہوگا یا اوس(۲) میں سر برہنہ بیٹھا اور اس سے سر بھیگ گیا مسح ہوگیا اگر ہاتھ نہ پھیرے گا وضو ہوجائیگا اگرچہ سنّت ترک ہوئی یوں ہی شبنم(۳) سے تر گھاس میں موزے پہنے چلنے سے موزوں کا مسح ادا ہوجائے گا جبکہ شبنم سے ہر موزہ ہاتھ کی چھنگلیا کے طول وعرض کے سہ چند بھیگ جائے،
ومر عن الدر وندا قال ش قال فی الامداد وھو الطل وھو ماء علی الصحیح وقیل نفس دابۃ ۲؎ اھ
اور دُر سے گزرا وندَّا "ش" نے امداد میں کہا یہ شبنم ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ پانی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ چو پائے کا سانس ہے۔ (ت(
 (۲؎ ردالمحتار        باب المیا ہ     البابی مصر         ۱/۱۳۲)
اقول لااعلم لہ اصلا ولو کان کذا لم یجز الوضوء بہ لانہ لیس بماء ولو جاز بہ لکان ریق الانسان وعرقہ احق بالجواز ثم رأیت فی مسح الخفین من الفتح ولا فرق بین حصول ذلک بیدہ اوباصابۃ مطر اومن حشیش مشی فیہ مبتل ولو بالطل علی الاصح وقیل لایجوز بالطل لانہ نفس دابۃ لاماء ولیس بصحیح ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں مجھے اس کی اصل معلوم نہیں اور اگر ایسا ہوتا تو اس کے ساتھ وضو جائز نہ ہوتا کیونکہ وہ پانی نہیں اور اگر اس سے وضو جائز ہوتا تو انسان کے تھوک اور پسینہ سے بطریق اولیٰ جائز ہوتا، پھر فتح کے مسح علی الخفین میں ہے کہ اس میں کچھ فرق نہیں کہ یہ ہاتھ سے ہو یا بارش کی وجہ سے ہو یا ترگھاس میں چلنے کی وجہ سے ہو یا شبنم سے ہو اصح قول کے مطابق، اور ایک قول یہ ہے کہ شبنم سے جائز نہیں کیونکہ وہ چوپائے کا سانس ہے پانی نہیں، اور یہ صحیح نہیں اھ (ت(

)۷( زلال

اقول لغۃً وعرفاً مشہور یہی ہے کہ زلال میٹھے ٹھنڈے ہلکے خوشگوار صاف خالص پانی کو کہتے ہیں،
 (۱؎ فتح القدیر            مسح الخفین    رضویہ سکھر        ۱/۱۳۲)
فی القاموس ماء زلال کغراب وامیر وصبور وعلابط سریع المرفی الحلق باردعذب صاف سھل ۲؎ سلس اھ۔ ولم یعرج علی معنی غیرہ وفی صحاح الجوھری ماء زلال ای عذب ۳؎ اھ وفی حیاۃ الحیوان الکبری المشہور علی الالسنۃ ان الزلال ھو الماء البارد ۴؎۔
قاموس میں ہے ماء زلال، زلال غراب کے وزن پر بھی آتا ہے اور امیر، صبور اور عُلابِط کے وزن پر بھی (یعنی زلیل زُلول زلازِل) اس پانی کو کہا جاتا ہے جو حلق سے بآسانی گزرے اور ٹھنڈا، میٹھا، صاف، لطیف اور رواں ہو اھ اور اس کے علاوہ کوئی معنٰی نہیں بتائے، اور صحاح جوہری میں ماء زلال یعنی میٹھا اھ اور حیوٰۃ الحیوان میں ہے زبانوں پر مشہور یہ ہے کہ زلال ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں (ت)
 (۲؎ القاموس المحیط (زللت)        مصطفی البابی مصر    ۳/ ۴۰۰)

(۳؎ صحاح الجوہری (زلل)         بیروت        ۴/ ۱۷۱۸)

(۴؎ حیاۃ الحیوان الکبرٰی (زلال)    مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۳۷)
اس تقدیر پر تو اس کے شمار کی کوئی وجہ نہیں مگر علامہ شامی نے امام ابن حجر مکی سے نقل کیا کہ برف میں ایک چیز جانور کی شکل پر ہوتی ہے اور حقیقۃ جانور نہیں اس کے پیٹ سے جو پانی نکلتا ہے وہ زلال ہے،
حیث قال عقیب ذکر الطل اقول وکذا الزلال قال ابن حجر وھو مایخرج من جوف صورۃ توجد فی نحوا الثلج کالحیوان ولیست بحیوان ۱؎۔
انہوں نے طل کے ذکر کے بعد فرمایا میں کہتا ہوں اور اسی طرح ''زلال'' ہے، ابنِ حجر فرماتے ہیں کہ برف میں حیوانی شکل کی ایک چیز پائی جاتی ہے جو دراصل حیوان نہیں ہوتی ہے اس کے پیٹ سے جو پانی نکلتا ہے وہ زلال ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/ ۱۳۲)
اقول:یہ اگر ثابت(۱) ہو تو اُس کے جانور ہونے سے انکار محتاج دلیل ہے اُس کی صورت جانور کی ہے اور کتابوں اور جخود ائمہ شافعیہ کی کتب میں اُسے حیوان کہا انگلی برابر قد سفید رنگ زرد چتّیاں اور خود اُس جانور ہی کا نام زلال بتایا تاج العروس میں ہے:
الزلال بالضم حیوان صغیر الجسم ابیضہ اذا مات جعل فی الماء فیبردہ ومنہ سمی الماء البارد زلالا ۲؎۔
زُلال، پیش کے ساتھ سفید جسم کا ایک چھوٹا سا جانور ہے، جب مرجاتا ہے تو اس کو پانی میں ڈال دیتے ہیں یہ پانی کو ٹھنڈا کرتا ہے، اور اسی لئے ٹھنڈے پانی کو ماءِ زُلال کہتے ہیں۔ (ت)
 (۲؎ تاج العروس    فصل الزأ من باب الدم    مطبوعہ احیاء التراث العربی    ۷/ ۳۵۹)
حیاۃ الحیوان امام دمیری شافعی میں ہے:الزلال بالضم دود یتربی فی الثلج وھو منقط بصفرۃ یقرب من الاصبع یاخذہ الناس من اماکنہ لیشربوا مافی جوفہ لشدۃ بردہ ۳؎۔
زُلال پیش کے ساتھ، ایک کیڑا جو برف میں پلتا ہے اس پر پیلے رنگ کی چتیاں ہوتی ہیں، تقریباً ایک انگلی کے برابر ہوتا ہے لوگ اس کو پکڑتے ہیں تاکہ اس کے پیٹ میں سے جو نکلتا ہے وہ پی سکیں، کیونکہ یہ پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے (ت)
(۳؎ حیاۃ الحیوان الکبرٰی (زلال)         البابی مصر        ۱/ ۵۳۶)
اُس کے حیوان ہونے کی تقدیر پر امام ابنِ حجر شافعی نے اُس پانی کو قے ٹھہرا کر ناپاک بتایا۔
قال ش عن ابن حجر بعد مامر فان تحقق (ای کونہ حیوانا) کان نجسا لانہ قیئ ۱؎۔
ش نے ابنِ حجر سے نقل کیا پس اگر متحقق ہو (یعنی اس کا حیوان ہونا ثابت ہوجائے) تو وہ نجس ہوگا اس لئے کہ وہ قے ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        باب المیاہ        البابی مصر        ۱/ ۱۳۲)
اقول:قے کی تعریف(۱) اس پر صادق آنے میں کلام ہے اور کتبِ شافعیہ میں اُس سے جوازِ وضو مصرح شرح وجیز ابو الفرج عجلی شافعی میں ہے:
الماء الذی فی دود الثلج طھور ۲؎۔
وہ پانی جو برف والے کیڑے میں ہوتا ہے پاک طہور ہے۔ (ت)
 (۲؎ حیاۃ الحیوان الکبرٰی     (زلال)        البابی مصر        ۱/ ۵۳۶)
Flag Counter