نعم فی مسند الفردوس عن ابن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنھما رفعہ تحت البحر نار وتحت النار بحر وتحت البحر نار ۱؎ اھ ویمکن ان تکون فی قولہ تعالٰی والبحر المسجور اشارۃ الیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم قال ط وکان ابن عمر لایری جواز الوضوء بہ ولا الغسل عن جنابۃ ۲؎ اھ
ہاں مسند فردوس میں ابن عمر سے مروی ہے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے اھ، اس کو انہوں نے مرفوعاً روایت کیا، اور ممکن ہے کہ اللہ کے قول والبحر المسجور میں اس طرف اشارہ ہو، واللہ تعالٰی اعلم ''ط'' نے فرمایا: ابن عمر سمندر سے وضو اور غسلِ جنابت کو جائز نہیں سمجھتے تھے اھ (ت(
(۱؎ مسند فردوس)
(۲؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح بحث ماء البحر ازہریہ مصر ص۱۳)
اقول یذکر عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ قال ماء البحر لایجزئ من وضوء ولا جنابۃ ان تحت البحر نارا ثم ماء ثم نارا حتٰی عد سبعۃ ابحر وسبع انیار ۳؎ ولم اقف لہ علی اصل فاللّٰہ اعلم بہ
میں کہتا ہوں ابن عمر سے یہ روایت منسوب ہے کہ سمندر کا پانی وضو اور غسلِ جنابت کیلئے کافی نہیں بیشک سمندر کے نیچے آگ ہے پھر پانی پھر آگ ہے یہاں تک کہ انہوں نے سات سمندروں اور سات آگوں کا ذکر کیا، اور مجھے اس کی کسی اصل پر اطلاع نہیں واللہ اعلم،
(۳؎ یذکر عن ابن عمر)
وانما الذی فی الحلیۃ ان کون الطھارۃ جائزا بھذہ المیاہ سواہ کانت عذبۃ اومالحۃ مما دل علیہ الکتٰب والسنۃ ولم یعرف فی شیئ منھا خلاف نعم نقل عن بعض الصحابۃ کراھۃ الوضوء بماء البحر منھم عبداللّٰہ بن عمر و الجمہور علی عدم الکراھۃ ۴؎ اھ
حلیہ میں یہ ہے کہ ان پانیوں سے طہارت جائز ہے خواہ میٹھے ہوں یا نمکین ہوں، اس پر کتاب وسنّت دلالت کرتے ہیں، اور اس میں کوئی خلاف معروف نہیں، ہاں بعض صحابہ سے کراہت منقول ہے کہ اِن سے وضو مکروہ ہے، اُن میں عبداللہ بن عمر بھی شامل ہیں، اور جمہور کا قول ہے کہ کراہت نہیں ہے اھ
(۴؎ حلیہ)
وفی ھامش الا نقرویۃ عن مختارات النوازل حکی عن ابن عباس وابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم انھما قال الوضوء بماء البحر مکروہ ۵؎اھ۔ قال ط وکذا روی ابی ھریرۃ ۱؎ اھ
اور انقرویہ کے حواشی میں مختارات النوازل سے ہے کہ ابن عباس اور ابن عمر سے مروی ہے کہ دونوں حضرات نے سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ قرار دیا ہے اھ"ط" اسی طرح ابو ہریرہ سے مروی ہے اھ (ت(
(۵؎ علی حاشیۃ فتاوٰی انقرویہ بحث ماء البحر دار الاشاعۃ العربیہ قندھار ۱/۲)
(۱؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح بحث ماء البحر ازہریہ مصر ص۱۳)
اقول وھذا عجب مع ما صح عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ماسمعناک نعم فی البدائع روی عن ابی العالیۃ الریاحی انہ قال کنت فی جماعۃ من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی سفینۃ فی البحر فحضرت الصلاۃ قضی ماؤھم ومعھم نبیذ التمر فتوضأ بعضھم نبیذ التمروکرہ التوضؤ بماء البحر وتوضأ بعضھم بماء البحر ذکرہ التوضؤ بنبیذ التمرو(عہ۱) ،
میں کہتا ہوں یہ زیادہ عجیب ہے حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بروایت صحیح جو تھا وہ ہم نے نقل کیا، ہاں بدائع میں ابو العالیۃ الریاحی سے مروی ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سمندری سفر میں تھا کہ نماز کا وقت آگیا کشتی والوں کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا ان کے پاس شیرہ کھجور تھا تو بعض نے اسی سے وضو کرلیا اور سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ سمجھا اور بعض نے سمندر کے پانی سے وضو کرلیا،
(عہ۱) اقول لم یبلغ فھمی القاصر کیف کان ھذا حکایۃ الاجماع علی جواز الوضوء بنبیذ التمر عند عدم الماء فان من توضأ بماء البحر جاز ان لم یر الوضوء بالنبیذ فی الحالۃ الراھنۃ لوجود الماء وجاز ان لم یرالوضوء بہ اصلا حتی لووجدہ وعدم الماء تیمم کما ھو المفتی بہ عندنا والکراھۃ فی عرف السلف لایدل علی الجواز ۱۲ منہ غفرلہ (م(
میں کہتا ہوں میری ناقص سمجھ میں یہ بات نہ آسکی کہ یہ اجماع کیونکر ہوگیا کہ پانی نہ ہونے کے وقت نبیذ تمر سے وضو جائز ہے، کیونکہ جن حضرات نے سمندر کے پانی سے وضو کیا ممکن ہے کہ وہ موجودہ حالت میں نبیذ تمر سے وضو کو جائز نہ سمجھتے ہوں کیونکہ پانی موجود ہے اور یہ بھی ممکن ہے ہے کہ وہ نبیذ تمر سے وضو کو بالکل جائز نہ سمجھتے ہوں یہاں تک کہ اگر نبیذ موجود ہو اور پانی نہ موجود ہو تو وہ تیمم کے قائل ہوں جیسا کہ یہ ہمارے نزدیک مفتی بہ ہے اور سلف کی عرف میں کراہت جواز پر دلالت نہیں کرتی ہے۔ (ت(
وھذا حکایۃ الاجماع فان من کان یتوضؤ بماء البحر کان یعتقد جواز التوضؤ بماء البحر فلم یتوضأ بنبیذ التمر لکونہ واجد ا للماء المطلق ومن کان یتوضؤ بالنبیذ کان لایری ماء البحر طھورا اوکان یقول ھو ماء سخطۃ ونقمۃ کانہ لم یبلغہ قولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی صفۃ البحر ھو الطھور ماؤہ الحل میتۃ فتوضأ بنبیذ التمرلکونہ عادما للماء(عہ۱) الطاھر ۱؎ اھ فھذا ما ابداہ احتمالا وانما لفظ الروایۃ ما سمعت۔
یہ اجماع کی حکایت ہے کیونکہ جو حضرات سمندر کے پانی سے وضو کر رہے تھے تو وہ اس کے پانی سے وضو کے جواز کے قائل تھے اور انہوں نے نبیذ تمر سے وضو اس لئے نہ کیا کہ انہوں نے ماء مطلق کو پایا اور جو نبیذ تمر سے وضو کر رہے تھے وہ سمندر کے پانی کو طہور نہیں سمجھتے تھے، یا وہ یہ کہتے تھے کہ یہ پانی ناراضگی اور عذاب کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوا ہے شاید ان کو حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی یہ حدیث نہیں پہنچی کہ سمندر کا پانی پاک کرنے والا اور اس کا مردہ حلال ہے تو پانی نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے نبیذ تمر سے وضو کیا اھ تو یہ انہوں نے بطور احتمال فرمایا ورنہ روایت کے الفاظ وہ ہیں جو آپ نے سُنے۔ (ت(
)عہ۱( ھکذا فی نسختی البدائع وکأنھا زلۃ من قلم الناسخ والوجہ الطھور ۱۲ منہ غفرلہ (م(
میرے پاس بدائع کا جو نسخہ ہے اس میں اسی طرح ہے شاید کاتب نے غلط لکھ دیا مناسب الطھور ہے۔ (ت(
اقول ویجوز ان یکونوا معتقدین جواز الوضوء بھما اذا کان الماء غالبا فی النبیذ کما سیأتی اِن شاء اللّٰہ تعالی فمن توضأ بہ کرہ التوضوء بماء البحر کراھۃ تنزیہ ولم یشک ان النبیذ الذی عندہ ماؤہ غالب ومن توضأ بماء البحر شک فی النبیذ الذی عندہ فکرہ التوضوء بہ کراھۃ امتناع وتوضأ بماء البحر واللّٰہ تعالی اعلم۔
میں کہتا ہوں یہ بھی جائز ہے کہ وہ دونوں سے وضو کے جواز کے قائل ہوں جبکہ نبیذ پر پانی غالب ہو، جیسا کہ اِن شاء اللہ آئے گا، تو جس نے اس سے وضو کیا اس نے سمندری پانی سے وضو کو مکروہ تنزیہی سمجھا اور اس میں شک نہیں جانا کہ جو نبیذ اس کے پاس ہے اس کا پانی غالب ہے اور جس نے سمندری پانی سے وضو کیا اس کو اس نبیذ میں شک تھا جو اُس کے پاس موجود تھا تو اس نے بطور کراہت تحریمی اس سے وضو نہ کیا اور سمندری پانی سے وضو کرلیا، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(
)۳ و ۴) پالا اولے جب پگھل کر پانی ہوجائیں کہ یہ بھی وہی آسمانی پانی ہیں کہ کُرہ زمہریر کی سردی سے یخ بستہ ہوگیا،
فی الدر یرفع الحدث بماء مطلق کالثلج مذاب وبرد و جمد وندی ۱؎ اھ
دُر میں ہے حدث کو دُور کیا جاسکتا ہے مطلق پانی سے جیسے برف یا اَولوں کا پگھلا ہوا پانی، منجمد پانی یا تری اھ