یرفع الحدث مطلقا بماء مطلق کماء سماء واودیۃ وعیون وابار وبحار وماء زمزم بلا کراھۃ وعن احمد یکرہ ۱؎۔
حدث مطلق پانی سے رفع ہوتا ہے جیسے آسمان کا پانی، وادیوں، چشموں، کنووں، نہروں، سمندروں اور زمزم کا پانی، زمزم کے پانی سے رفع حدث بلا کراہت ہوتا ہے جبکہ امام احمد کے نزدیک کراہت کے ساتھ ہوتا ہے۔ (ت(
(۱؎ درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱/۳۴)
نیز حج در میں ہے:یکرہ الاستنجاء بما زمزم لا الاغتسال ۲؎۔
زمزم کے پانی سے استنجا مکروہ ہے غسل کرنا مکروہ نہیں۔ (ت(
(۲؎ درمختار آخر کتاب الحج مجتبائی دہلی ۱/۱۸۴)
شامی میں ہے:وکذا ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ من ثوبہ اوبدنہ حتی ذکر بعض العلماء تحریم ذلک اھ ۳؎۔
اور اسی طرح بدن یا کپڑے سے نجاست حقیقیہ کا دور کرنا، یہاں تک بعض علماء نے تو اس کو حرام تک لکھ دیا ہے۔ (ت(
(۳؎ ردالمحتار آخر کتاب الحج مصطفی البابی مصر ۲/۲۷۸)
اقول مطلق(۱) الکراھۃ للتحریم واطلاق(۲) الحرام علی المکروہ تحریما غیر بعید فلاخلف(۳) نعم اذا(۴) استنجی بالمدر فالصحیح انہ مطھر فلا یبقی الا اساءۃ ادب فیکرہ تنزیھا بخلاف الاغتسال ففرق بیّن بین القصدی والضمنی ھذا ماظھرلی۔
میں کہتا ہوں مطلق کراہت سے مراد کراہت تحریمی ہوتی ہے، اور حرام کا اطلاق مکروہ تحریمی پر کوئی بعید امر نہیں، تو کوئی مخالفت نہیں، ہاں اگر کسی نے ڈھیلے سے استنجا کرلیا تو صحیح یہ ہے کہ یہ پاک کرنے والا ہے تو ایسی صورت میں صرف سوءِ ادبی رہے گی اور مکروہِ تنزیہی ہوگا بخلاف غسل کے تو ارادی اور ضمنی کاموں میں واضح فرق ہوتا ہے ھذا ماظھرلی۔ (ت(
اقول یہ بھی دلیل واضح ہے کہ ہمارے ائمہ سے روایت صحیحہ طہارت مائے مستعمل ہے ورنہ غسل واستنجا میں فرق نہ ہوتا۔
)۲( سمندر کا پانی بعض صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے منقول کہ اُس سے وضو ناجائز جانتے اور ہمارے اور جمہور امت کا اُس سے جواز وضو پر اجماع ہے،
فی البحر وفی قولہ والبحر رد قول من قال ان ماء البحر لیس بماء حتی حکی عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما انہ قال فی ماء البحر التیمم احب الی منہ کما نقلہ عنہ فی السراج الوھاج ۱؎ اھ
اور اس کے قول "والبحر"میں ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں ماء البحر پانی نہیں ہے یہاں تک کہ ابن عمر سے منقول ہے کہ وہ فرماتے تھے سمندری پانی سے میرے نزدیک تیمم کرلینا زیادہ پسندیدہ عمل ہے، سراج الوہاج میں نقل کیا ہے،
(۱؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ بحث الماء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۶۶)
وقال السید ط فی حاشیۃ المراقی قال ابن سیدہ فی المحکم البحر الماء الکثیر ملحا اوعذبا وغلب علی الملح فالتنصیص علیہ دفع لتوھم عدم جواز التطھیر بہ لانہ مرمنتن کما توھم بعض الصحابۃ ۲؎ اھ
اور "ط" نے حاشیہ مراقی الفلاح میں فرمایا کہ ابن سیدہ نے محکم میں فرمایا بحر سے مراد کثیر پانی ہے خواہ میٹھا ہو یا نمکین، لیکن عام طور پر اس کا استعمال نمکین کے لئے ہوتا ہے، اس کی تصریح اس وہم کو دفع کرنے کیلئے ہے کہ اس سے پاکی کا حاصل کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ کڑوا اور بدبودار ہوتا ہے جیسے کہ بعض صحابہ نے تو ہم کیا اھ ۔
(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۱۳)
اقول ھذا(۵) اللفظ بعید عن الادب فلیجتنب قال وفی الخبر من لم یطھرہ ماء البحر فلا طھرہ اللّٰہ ۳؎ اھ
میں کہتا ہوں یہ لفظ بے ادبی کے ہیں، ان سے بچنا چاہئے، فرمایا ایک روایت میں ہے کہ جس کو سمندر کا پانی پاک نہ کرسکے تو خدا اسکو کبھی پاک نہ کرے۔ (ت(
( ۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۱۳)
قلت رواہ الدار قطنی والبیھقی کلاھما فی السنن بسند واہ بدون لفظ ماء عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فالاولی الاقتصار(۱) علی ماتمسک بہ شارحہ اعنی العلامۃ الشرنبلالی حیث قال لقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ھو الطھور ماؤہ الحل میتتہ ۱؎ اھ
میں کہتا ہوں اس کو دار قطنی اور بیہقی نے اپنی سنن میں کمزور سند سے روایت کیا، یہ ابو ہریرہ کی روایت نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے اور اس میں ماء کا لفظ نہیں ہے تو زیادہ بہتر ہے کہ اس پر اکتفاء کیا جائے جس سے اس کے شارح نے استدلال کیا ہے، یعنی علامہ شرنبلالی نے، انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے ''سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مُردہ حلال۔ (ت(
(۱؎ مراقی الفلاح بحث الماء البحر ص۱۳ مطبعہ ازہریہ مصر)
قلت رواہ احمد والاربعۃ وابن حبان والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بسند صحیح واحمد وابن ماجۃ والاخیران والدار قطنی والطبرانی فی الکبیر عن جابر وابن ماجۃ عن ابی الفراسی والدار قطنی والحاکم عن علی وعن ابی عمرو وعبدالرزاق عن انس والدار قطنی عنہ وایضا عن ابن عمر وایضا عن جابر عن ابی بکر الصدیق وابنا مردویہ والنجار عن ابی الطفیل عن الصدیق رضی اللّٰہ تعالی عنہم کلھم عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وفی اخری لابن مردویہ کالدار قطنی عن ابی الطفیل عن الصدیق من قولہ ولعبد الرزاق وابی بکربن ابی شیبۃ عن عکرمۃ ان عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سئل عن الوضوء من ماء البحر فقال سبحٰن اللّٰہ فای ماء اطھر من ماء البحر وفی لفظ اطیب ۲؎
میں کہتا ہوں اس کو احمد اور چاروں نے اور ابن حبان، حاکم نے ابو ھریرہ سے بسند صحیح روایت کیا ہے، اور احمد ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم، دار قطنی اور طبرانی نے کبیر میں جابر سے اور ابن ماجہ نے ابو الفراسی سے اور دارقطنی اور حاکم نے علی سے اور ابن عمرو سے اور عبدالرزاق نے انس سے اور دارقطنی نے انس سے اور ابن عمرو سے نیز جابر سے ابو بکر صدیق سے اور ابن مردویہ اور ابن نجار نے ابو الطفیل سے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہم سے سب نے نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے، دوسری سند میں ابن مردویہ نے دارقطنی کی طرح ابو الطفیل سے ابو بکر صدیق سے ان کے قول سے۔ اور عبدالرزاق اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے عکرمہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سمندر سے وضو کی بابت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ، سمندر کے پانی سے زیادہ کون سا پاک ہے، اور ایک روایت میں اطیب کا لفظ ہے،
(۲؎ مصنف عبدالرزاق باب الوضوء من ماء البحر ۱/۹۵ مکتبۃ الاسلامی بیروت)
ولھذا وابن عبد الحکم فی فتوح مصر والبیھقی عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال اغتسلوامن ماء البحر فانہ مبارک ۱؎
اور ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن عبدالحکم نے فتوح مصر میں اور بیہقی نے اُن سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا سمندر کے پانی سے غسل کرو کیونکہ وہ مبارک ہے،
(۱؎ بحوالہ کنز العمال فصل فی المیاہ مطبوعہ موسسۃ الرسا لۃ بیروت ۹/۵۷۲)
قال ط ومن الناس من کرہ الوضوء من ۲؎ البحر الملح(۱) لحدیث ابن عمر انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال لایرکب البحر الا حاج او معتمر او غازی فی سبیل اﷲ فان تحت البحر ناراو تحت النار بحرا تفرد بہ ابو داؤد ۳؎ اھ
"ط" نے کہا کچھ لوگ نمکین سمندر سے وضو کو مکروہ قرار دیتے ہیں، ان کا استدلال ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث سے ہے کہ سمندر میں صرف حاجی یا عمرہ کرنے والا یا غازی سفر کرے غیر نہیں کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے، اس کی روایت میں ابو داؤد متفرد ہیں۔ (ت(
(۲؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح بحث الماء البحر مطبعہ ازہریہ مصریہ ص۱۳)
(۳؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح بحث الماء البحر مطبعہ ازہریہ مصریہ ص۱۳)
اقول لم یتفرد بہ بل رواہ(۲) قبلہ سعید بن منصور فی سننہ واٰخرون الا ان یرید التفرد من بین الستۃ ثم لیس ھذا حدیث(۳) ابن عمر الفاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم انما رواہ د عن مطرف ھو ابن طریف ثقۃ فاضل عن بشر ابی عبداللّٰہ ھو الکندی مجھول قال الذھبی لایکاد یعرف عن بشیر ۴؎ بن مسلم ھو ابو عبداللّٰہ الکندی الکوفی مجہول عن عبداللّٰہ بن عمرو رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما یعنی ابن العاص قال خ لم یصح حدیثہ واوردہ ابن حبان علی قاعدتہ فی ثقات اتباع التابعین وقال روی عن رجل عن ابن عمرو واللّٰہ تعالٰی اعلم ۵؎
میں کہتا ہوں وہ متفرد نہیں ہیں بلکہ اُن سے قبل اسی کو سعید بن منصور نے اپنی سنن میں اور دوسرے محدثین نے روایت کیا ہے، ہاں چھ کے درمیان تفرد کا دعویٰ ہو تو درست ہے۔ پھر یہ حدیث ابن عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہما کی نہیں ہے اس کو ''د'' نے مطرف سے جو ابن ظریف ہیں روایت کیا اور وہ ثقہ ہیں فاضل ہیں، بشر ابو عبداللہ الکندی سے، یہ مجہول ہیں، ذہبی نے کہا کوئی نہیں جانتا بشیر بن مسلم سے وہ ابو عبداللہ الکندی الکو فی مجہول ہیں، عبداللہ بن عمرو سے یعنی ابن العاص سے، خ نے کہا ان کی حدیث صحیح نہیں اور اس کو ابن حبان نے اپنے قاعدہ کے مطابق اتباع تابعین کے ثقات میں ذکر کیا اور فرمایا ایک شخص سے مروی ہے ابن عمرو سے واللہ تعالٰی اعلم،
(۴؎ میزان الاعتدال بشر عبداللہ بیروت ۱/۳۲۷)
(۵؎ میزان الاعتدال بشیر بن مسلم بیروت ۱/۳۲۹)