| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول انفصال سے استعمال کی بعدیت ذاتیہ ہے کہ وہ علت استعمال کا جزء اخیر ہے تو تخلف محال اور اتصالِ آب کی بعدیت زمانیہ ہے کہ جتنی جگہ کھلی تھی بعد انفصال ید حرکتِ آب سے بھرے گی اور حرکت تدریجیہ ہے تو بفور انفصال قبل اتصال حکم استعمال نازل ہوجائیگا فافہم اور اگر پہلے سے کوئی نجاست نہیں اور چلّو یا لپ حسبِ ضرورت لیا اور زمین کھل گئی مستعمل نہ ہوگا اگرچہ وسط حوض میں جاکر پانی لیا ہو کہ اگرچہ زمین کھُلنے سے پانی قلیل ہوگیا مگر ضرورت اغتراف تو مٹکے میں بھی معاف ہے جبکہ کوئی چھوٹا برتن پانی لینے کیلئے نہ ہو اور اس وقت اگرچہ اس کے پاؤں اُس قلیل پانی میں ہیں مگر اندر جاتے ہوئے دُھل چکے ہیں ہاں اُس زمین کے کھُلتے وقت اسے حدث واقع ہوتو ضرور پاؤں کی وجہ سے سارا پانی مستعمل ہوجائیگا ان وجوہ کی نظر سے وہ شرط کی گئی تو ظاہر الروایۃ اور یہ قول مفتی بہ دونوں متوافق اور باہم اصل وفرع ہیں وللہ الحمد۔
ھذا کلہ ماظھر لکثیرا لسیاٰت وبہ تجتمع الکلمات، وتندفع الشبھات، والحمدللّٰہ واھب المرادات، وصلی اللّٰہ تعالٰی وسلم وبارک علی مصحح الحسنات، مقیل العثرات، والہ وصحبہ الاکارم السادات، وابنہ وحزبہ الاجلۃ الاثبات،وعلینا معھم، وبھم ولھم، الی یوم یقوم حبیبنا فیہ بالشفاعات، علیہ وعلیھم الصلوات الزاکیات، والتسلیمات النامیات، والتحیات المبارکات، اٰمین، والحمدللّٰہ رب العٰلمین، ومع ذلک لااقول ان الحکم ھذا انما اقول ھذا ماظھر لی فان کان صوابا فمن الوھاب الکریم ولہ الحمد وان کان خطأ فمنی ومن الشیطان وانا ابرؤ الی اللّٰہ منہ والحمد للّٰہ رب العٰلمین واللّٰہ تعالی اعلم۔
یہ تمام وہ ہے جو اس کثیر المعاصی پر ظاہر ہوا اور اس سے ائمہ کے ارشادات جمع ہوجاتے ہیں اور شبہات دفع ہوجاتے ہیں، تمام تعریفیں مرادیں دینے والے اللہ تعالٰی کیلئے، اور اللہ تعالٰی رحمتیں نازل فرمائے نیکیوں کے صحیح کرنے والے اور غلطیوں کو معاف فرمانے والے پر اور آپ کی آل اور آپ کے صحابہ ساداتِ کرام پر، اور آپ کے بیٹے اور جلیل القدر راسخ علم والی جماعت پر اور ان کے ساتھ ہم پر، ان کی بدولت اور ان کے وسیلے سے اس دن تک جب ہمارے حبیب شفاعتوں کیلئے کھڑے ہوں گے، ان پر اور ان کے تمام متبعین پر پاکیزہ رحمتیں، نشوونما پانے والے سلام اور بابرکت تحفے، آمین، سب تعریفیں اللہ رب العٰلمین کیلئے، اس کے باوجود میں یہ نہیں کہتا کہ حکم یہ ہے، میں تو صرف اتنا کہتا ہوں کہ حکم یہ ہے جو مجھے ظاہر ہوا، اگر درست ہے تو اللہ تعالٰی وہابِ کریم کی طرف سے اور اس کے لیےحمد ہے، اور اگر خطا ہے تو میری طرف سے اور شیطان سے ہے، میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں شیطان سے برأت کا اظہار کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ رب العٰلمین کیلئے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
بشارۃ ماتقدم من قول البحران العمل والفتوی ابدا بقول الامام الاعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۔وان افتی المشائخ بخلافہ اقرہ الشامی فی مواضع ونازعہ فی مواضع وکنت اردت ان اذکر ھذا البحث ثمہ ثم رأیت ان الکلام یطول، ویقطع بالاجنبی الفصل الطویل، فطویتہ ثمہ، وافرزتہ بحمداللّٰہ تعالٰی رسالۃ مھمۃ، رأیت الحاقھا ھھنا اتماما للکلام، واسعافا با لمرام، وھاھی ذہ والحمدللّٰہ ولی الانعام۔
بشارت: اس سے پہلے بحر کا جو قول بیان ہوا کہ عمل اور فتوٰی ہمیشہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر ہے اگرچہ مشائخ اس کے خلاف پر فتوٰی دیں، علامہ شامی نے متعدد مقامات میں اس قول کی تائید کی اور کئی جگہوں میں اس سے اختلاف کیا، میرا ارادہ تھا کہ اس بحث کو اس جگہ ذکر کرتا، پھر خیال ہوا کہ کلام طویل ہوجائیگا، اور غیر متعلق گفتگو سے فاصلہ طویل ہوجائیگا، لہٰذا اس جگہ میں نے گفتگو سمیٹ لی اور بحمداللہ تعالٰی اسے اہم رسالے کی صورت میں الگ کردیا، گفتگو کی تکمیل اور مقصد کے پورا کرنے کیلئے اس جگہ اس کے لاحق کرنے کا فیصلہ کیا، اور وہ رسالہ یہ ہے، تمام تعریفیں اللہ تعالٰی مالک انعام کیلئے۔ (ت( (نوٹ: اصل کتاب میں یہاں رسالہ ''اجلی الاعلام'' تھا جسے رسم المفتی کے طور پر جلد اول میں شامل کردیا گیا ہے(
فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق(عہ۱) لاسفار الماء المطلق ) آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق (
(عہ۱)اگرچہ تمام مطبوعہ نسخوں میں لفظ ''النورق'' ہے مگر کتب لُغت میں یہ لفظ نہیں ملا۔ میری رائے میں یہ ''الرونق'' ہونا چاہئے اس سے عدد اور معنیٰ دونوں درست رہتے ہیں۔ (دائم(
مسئلہ ۵۵ : ۲۴ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۴ھ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آب مطلق کہ وضو وغسل کیلئے درکار ہے اُس کی کیا تعریف ہے آبِ مقید کسے کہتے ہیں بینوا توجروا۔
الجواب بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ط الحمدللّہ الذی انزل من السماء ماء طھورا لیطھرنا بہ تطھیرا، حمدا مطلقاً غیر مقید بعدد اوامد دائما ابدا کثیرا کثیرا والصلاۃ والسلام علی الطیب الطاھر الطھور المطھر المفضل علی الخلق فضلا کبیرا، وعلیٰ اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ماامطرت السحب ماء نمیرا امین اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جس نے آسمان سے پاک پانی اتارا کہ اس کے ذریعے ہمیں پاک صاف کرے مطلق تعریفیں بغیر کسی قید عددی اور غائی کے ہمیشہ ہمیشہ بہت زیادہ اسی کیلئے ہیں طیب، طاہر، پاک کرنے والے اور مخلوق پر فضیلت رکھنے والے پر اور آپ کے آل، اصحاب، بیٹے اور گروہ پر بے شمار صلوٰۃ وسلام ہوں جب تک بادل وافر پانی برساتے رہیں، آمین۔ اے اللہ ہمیں سچّے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما۔ (ت(
یہ سوال بظاہر چھوٹا اور اس کا جواب بہت طول چاہتا ہے یہ مسئلہ نہایت معرکۃ الآرا ہے۔ فقیر بتوفیق القدیر اول(۱) جزئیات منصوصہ ذکر کرے پھر(۲) تعریفِ مطلق ومقید کہ اصالۃً ضابطہ جامعہ کلیہ ہے اور دیگر ضوابط کے لئے معیار پھر(۳) ضوابط جزئیہ متون پھر(۴) ضوابط کلیہ متأخرین پھر(۵) جزئیات جدیدہ کے احکام وما توفیقی الا باللّٰہ علیہ توکلت والیہ انیب۔ یوں یہ کلام پانچ فصل پر منقسم ہوا: فصل اول جزئیات منصوصہ، اور وہ تین قسم ہیں: قسم اول وہ پانی جن سے وضو صحیح(عہ۱) ہے: )۱( مینہ، دریا، نہر، چشمے، جھرنے، جھیل، بڑے تالاب، کنویں کے پانی تو ظاہر ہیں بالخصوص قابلِ ذکر مائے مبارک زمزم شریف(عہ۲) ہے کہ ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک اُس سے وضو وغسل بلاکراہت جائز ہے اور ڈھیلے کے بعد استنجا مکروہ اور نجاست دھونا ممنوع۔
(عہ۱)یعنی اُن سے طہارت کی جائے تو ہو جائے گی اور اس سے نماز صحیح ہوگی اگرچہ اُس پانی کا استعمال مکروہ بلکہ حرام ہو جیسا کہ مفصلاً بیان ہوگا ۱۲ (م( (عہ۲)سب سے اعلیٰ سب سے افضل دونوں جہان کے سب پانیوں سے افضل، زمزم سے افضل، کوثر سے افضل وہ مبارک پانی ہے کہ بارہا براہِ اعجاز حضورانور سید اطہر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی انگشتانِ مبارک سے دریا کی طرح بہا اور ہزاروں نے پیا اور وضو کیا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ وہ پانی زمزم وکوثر سب سے افضل مگر اب وہ کہاں نصیب اور آگے ہر قسم کے پانی مذکور ہوں گے اُن کے سلسلے میں بلا ضرورت اس کا نام لینا مناسب نہ جانا ۱۲ منہ غفرلہ (م( تنویر ودرمختار میں ہے: