Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
114 - 176
اب کہ پانی لیا اور زمین کھلی تو نہیں مگر اُتنی جگہ صرف جو بھی عرض کا پانی رہ گیا تو اب کیا آبِ قلیل نہ ہوگیا کہ اتنی دیر ساری مساحت میں اُتنا عمق نہیں۔ ظاہر ہوا کہ یہ عمق مطلوب نہ تھا بلکہ وہی زمین کا کہیں سے کھُلا نہ ہونا کہ وقت اغتراف یہی باقی رہے گا نہ وہ عمق۔

ثالثاً اسی پر شاہد ہے سیدنا امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی سے وہ روایت کہ بدائع وتبیین سے گزری کہ خود جاری پانی میں بھی اتنا عمق شرط فرماتے ہیں یہ ہرگز نفس جریان کی شرط نہیں ہوسکتا کون عاقل کہے گا کہ مینہ کا پانی جو چھت یا زمین پر بہ رہا ہے جاری نہ ہوگا جب تک چار پانچ انگل دَل نہ ہوجائے امام ابو یوسف کی شان اس سے ارفع واعلیٰ ہے وہ قطعاً عرفاً وشرعاً ہر طرح جاری ہے اگرچہ صرف جو بھر(عہ۱) دَل ہو لاجرم کوئی شبہ نہیں کہ یہ وقت اغتراف بقائے جریان کیلئے شرط فرمائی ہے کہ اگر پانی لیتے وقت زمین کھُل گئی دو پانی ہوگئے اور اس وقت جریان جاتا رہا کہ اُتنی دیر اُوپر کا پانی رک گیا اور نیچے کا مدد بالا سے منقطع ہوگیا،
 (عہ۱)بلکہ فتاوے امام قاضی خان میں ہے:
الجنب اذا قام فی المطر الشدید متجردا بعد ما تمضمض واستنشق حتی اغتسلت اعضاؤہ جاز لانہ جار

یعنی (ف۱) جنب اگر کُلی کرکے ناک میں پانی موضع فرض تک چڑھا کر زور کے مینہ میں ننگا کھڑا ہو کہ سارا بدن دُھل گیا غسل ہوگیا کہ مینہ جاری پانی ہے ظاہر ہے کہ مینہ کی دھاریں متفرق ہوتی ہیں اور اُن میں کوئی دھار آدھا انگل بھی دَل نہیں رکھتی بلکہ اکثر جَو بھر سے زیادہ نہیں ہوتا مگر وہ بلاخلاف جاری پانی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (م(
اور ہم رسالہ رحب الساحۃ میں بیان کر چکے کہ جریان کیلئے مدد کا اشتراط بھی ایک قول مصح ہے امام ابن الہمام نے اس کو ترجیح دی اور یہی امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ کی کتاب تجنیس اور امام حسام الدین کے واقعات سے مستفاد یہ روایت امام ابو یوسف اسی قول پر مبنی تو یہ شرط اس لئے فرمائی کہ پانی لیتے وقت بھی جاری رہے نہ کہ ہر جاری میں یہ عمق درکار یوں ہی یہاں نفس کثرت اس سے مشروط نہیں بلکہ وقت اغتراف کثیر رہنا وللہ الحمد۔

رابعاً اسی کے مؤید ہے وہ کہ ہمارے رسالہ رحب الساحۃ میں کتب کثیرہ جلیلہ معتمدہ سے منقول ہوا کہ بڑے تالاب کے بطن میں نجاستیں پڑی ہیں بارش کا پانی آیا اگر ان نجاستوں تک پہنچنے سے پہلے یہ پانی تالاب کے اندر دہ در دہ ہوگیا اُس کے بعد نجاستوں کی طرف بڑھ کر اُن سے ملا ناپاک نہ ہوا یوں سارا تالاب پاک رہے گا۔ ظاہر ہے کہ بڑھتے وقت ساری مساحت میں پانچ انگل دل ہونا ضرور نہیں بلکہ نادر ہے جس کا بیان اُسی رسالہ میں گزرا مگر اس کا لحاظ نہ فرمایا اور مطلقاً حکمِ طہارت دیا اس کا وہی مبنی ہے کہ فی نفسہٖ کثرت کے لئے دَل کی حاجت نہیں بالجملہ روشن ہوا کہ کثرت کیلئے صرف اس قدر درکار کہ مساحت بھر میں کوئی جگہ پانی سے کھلی نہ ہو یہی ظاہر الروایۃ وتصحیح اول ہے اسی بنا پر پانی لیتے وقت کثرت باقی رہنے کیلئے لازم کہ اُس سے زمین کھل نہ جائے ورنہ قلیل ہوجائے گایہی مطلب عامہ کتب وتصحیح دوم ہے۔

ثم اقول یہ توفیق انیق بعض فیصلے اور کرے گی۔

اوّل اغتراف(۱) مطلق رہے گا جس طرح متون وہدایہ وعامہ کتب میں ہے کہ پانی فی نفسہٖ ہر طرح کثیر ہے مقصود اُس وقت زمین کا بالفعل نہ کھُلنا ہے نہ کوئی صلاحیت عامہ تو چلّو ہو یا لپ جس طرح پانی لیا اُس سے نہ کھلنا چاہئے اگرچہ دوسری طرح انکشاف ہوسکے بلکہ ہاتھ کی بھی تخصیص نہیں برتن سے لیں خواہ کسی سے اُس وقت زمین کھُلے نہیں۔

دوم ساری(۲) مساحت میں اس عمق کی حاجت نہیں صرف وہیں کافی ہے جہاں سے پانی لیا گیا۔

سوم یہ شرط دہ در دہ میں فرمائی ہے پانی اگر(۳) اس درجہ کثیر ہے کہ جہاں سے لیا گیا اگر زمین کھُل بھی جائے تو ہر طرف کا ٹکڑہ دہ در دہ رہے تو کھُلنا مضر نہ ہوگا کہ اگرچہ دو پانی ہوگئے مگر دونوں کثیر ہی ہیں۔ 

چہارم مذہب معتمد یہ ہے کہ آب مستعمل طاہر ہے اور آبِ مطلق میں اُس کا اختلاط مانع طہارت نہیں جب تک مقدار میں اُس سے زائد نہ ہوجائے اور آب قلیل کتنا ہی کثیر ہو بدن محدث اُس میں پڑنے سے سب مستعمل ہوجاتا ہے مگر بضرورتِ اغتراف ہاتھ ڈالنا معاف ہے یہ سب مسائل ہمارے رسائل الطرس المعدل والنمیقۃ الانقی میں مبرہن ہوچکے تو وہ پانی جس میں سے وقتِ اغتراف زمین کھل کر اُس کے ٹکڑے دہ در دہ نہ رہیں اگر اس میں پہلے سے نجاست موجود تھی اس کھلنے سے ضرور ناپاک ہوجائیگا 

یوں(عہ۱) ہی اگر ضرورت چُلّو کی تھی اور لپ سے لیا سب پانی مستعمل ہوجائیگا کہ دُوسرا بے دُھلا ہاتھ بے ضرورت پڑا عام ازیں کہ چلّو سے بھی زمین کھلتی یا نہیں اگر کہئے استعمال بعد انفصال ید ہوگا اور اس وقت اتصال آب ہو کر کثیر ہوجائیگا۔
 (عہ۱) اقول ظھر بھذا التحقیق ان مسألۃ الخانیۃ وغیرھا من الکتب المعتمدۃ ان خرج الماء من النقب وانبسط علی وجہ الجمد بقدر مالو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الجمد جاز فیہ الوضوء والا فلا اھ۔ نقلھا فی الغنیۃ بالمعنی فاقام مقام جواز الوضوء فیہ وعدمہ فسادہ بوقوع المفسد وعدمہ ولیس کذلک عند التحقیق فانہ اذا کان کثیرا لمساحۃ لایفسد بوقوع شیئ مالم یتغیر اوینحسر بوقوعہ فیبقی ماء ین قلیلین بخلاف الوضوء فیہ بغمس الاعضاء فانہ یفسد بہ مطلقا لان الفرض انہ ینحسر بالغرف فبالغمس اولی وبہ ظھر ان الاولی ترک النقل بالمعنی مطلقا فلربما یحصل بہ تغیر دقیق فی غایۃ الخفاء وباللّٰہ التوفیق اھ منہ غفرلہ۔ (م(

میں کہتا ہوں کہ ہماری اس تحقیق سے ظاہر ہوگیا کہ فتاوٰی خانیہ وغیرہ کتب معتبرہ میں جو یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر پانی سوراخ سے نکلا اور منجمد پانی پر اتنا پھیل گیا کہ اگر کوئی شخص ہاتھ سے پانی اٹھائے تو نیچے کا جامد پانی منکشف نہیں ہوتا اس صورت میں اس پانی میں وضو کرنا جائز ہے ورنہ اس سے وضو جائز نہیں (اھ) اس مسئلے کو غنیہ میں معنیً نقل کرتے ہوئے وضو کے جواز اور عدمِ جواز کی جگہ پلیدی کے واقع ہونے سے اس پانی کے پلید ہونے اور نہ ہونے کو رکھ دیا، حالانکہ تحقیق کی رُو سے اس طرح نہیں ہے، کیونکہ جب پانی کی پیمائش زیادہ ہو تو کسی چیز کے واقع ہونے سے وہ فاسد نہیں ہوگا جب تک اس میں تغیر نہ آئے یا پلیدی کے گرنے سے نیچے کی سطح منکشف نہ ہوجائے، اس صورت میں پانی دو تھوڑے حصّوں میں تقسیم ہوجائیگا برخلاف اس صورت کے کہ اس پانی میں اعضاء ڈبو کر وضو کیا جائے تو اس سے پانی مطلقاً فاسد ہوجائیگا کیونکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ چُلّو میں پانی لینے سے نیچے کی سطح منکشف ہوجاتی ہے تو ڈبونے سے بطریقِ اولیٰ منکشف ہوجائیگی، اس بیان سے واضح ہوگیا کہ بہتر یہ ہے کہ مسئلہ معنیً مطلقاً نقل نہ کیا جائے، ورنہ اس سے بہت ہی پوشیدہ اور باریک فرق پیدا ہوجائیگا، اللہ تعالٰی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ (ت(
Flag Counter