| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ) |
اقول والوجہ عندی ان یراد بالغرف للوضوء الغرف بالایدی وللغسل بالقصاع والاباریق واللّٰہ تعالٰی اعلم اما المروی عن الامام فلیس نصا فی الوحدۃ قال فی غمز العیون اطلق الید و اراد الیدین لانہ اذا کان(۲) الشیاٰن لایفترقان من خلق اوغیرہ اجزاء من ذکرھما ذکر احدھما کالعین تقول کحلت عینی وانت ترید عینیک ومثل العینین المنخران والرجلان والخفان والنعلان تقول لبست خفی ترید خفیک کذا فی شرح الحماسۃ ۲؎ اھ وقد بسطت الکلام علی ھذا فی رسالتی صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین۔
میں کہتا ہوں میرے نزدیک وجہ یہ ہے کہ وضو کیلئے چلّو بھر لینے سے مراد ہاتھوں سے چلّو بھرنا مراد ہو اور غسل کیلئے پیالوں اور لوٹوں کے ذریعہ پانی کا لینا مراد ہو واللہ تعالٰی اعلم، اور جو چیز امام سے مروی ہے وہ وحدت میں نص نہیں ہے، غمز العیون میں فرمایا ید بول کریدین کا ارادہ کیا ہے، کیونکہ جو دو چیزیں پیدائشی طور پر جُڑی ہوئی ہوں یا کسی اور سبب سے تو ان میں سے ایک کا ذکر دوسری کے ذکر کو بھی کافی ہوگا، جیسے عین، کہا جاتا ہے کحلتُ عینی اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں میں سُرمہ لگایا اور آنکھ کی طرح نتھنے، پیر، موزے اور جُوتے ہیں لبست خفی کہا جاتا ہے اوراس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میں نے دونوں موزے پہنے، کذا فی شرح الحماسۃ اھ، میں نے اس پر مکمل تفصیلی گفتگو اپنے رسالہ ''صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین'' (چاندی کی تختیاں، اس مسئلے میں کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہوتا ہے۔ ت) میں کی ہے۔ (ت) تو راجح یہی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے پانی لینا مراد ہے،
(۲؎ غمز العیون مع الاشباہ الفن الاول قواعد کلیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/۱۹)
اوّلاً یہی متون کا مفاد ثانیا یہی عامہ کتب سے مستفاد ثالثاً کتب متعددہ میں اُس پر تنصیص اور کف واحد پر کوئی نص نہیں۔ رابعاً کف سے کفین مراد لے سکتے ہیں نہ بالعکس تو اس میں توفیق ہے اور وہ نصب خلاف سے اولیٰ۔ خامساً زمین نہ کھلنے سے مقصود یہ ہے کہ مساحت برقرار رہے ورنہ دو۲ پانی جُدا ہوجائیں گے۔
تبیین میں ہے:المعتبر فی العمق ان یکون بحال لاینحسر بالاغتراف لانہ اذا انحسر ینقطع الماء بعضہ عن بعض ویصیر الماء فی مکانین وھو اختیار الھندوانی ۱؎ اھ ثم ذکر التصحیح المار۔
گہرائی میں معتبر یہ ہے کہ وہ حوض ایسا ہو کہ چلّو بھرنے سے کھُل نہ جاتا ہو کیونکہ اگر کھلا تو پانی کا ایک حصہ دوسرے حصے سے جُدا ہوجائیگا، اور پانی دو جگہوں میں ہوجائیگا، ہندوانی نے اسی کو اختیار کیا ہے اھ پھر اس نے گزشتہ تصحیح کو ذکر کیا ہے۔ (ت(
(۱؎ تبیین الحقائق عشر فی عشر بولاق مصر ۱/۲۲)
مثلاً حوض پورا دہ در دہ ہے اُس کے وسط میں سے پانی اٹھایا اور زمین کھُل گئی تو اُس وقت وہ کسی طرف دس۱۰ ہاتھ نہیں بلکہ طول وعرض ہر ایک کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ہر ٹکڑا پانچ ہاتھ سے بھی قدرے کم تو آب قلیل ہوگیا لہٰذا لازم ہوا کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلنے پائے اور اس کی ضرورت وضو وغسل دونوں کیلئے ہے بلکہ غسل کیلئے زائد۔
ہدایہ میں فرمایا:الحاجۃ الی الاغتسال فی الحیاض اشد منھا الی التوضی ۲؎۔
حوضوں میں نہانے کی ضرورت بہ نسبت وضو کے زیادہ ہوتی ہے۔ (ت(
(۲؎ الہدایۃ الغدیر العظیم مکتبہ عربیہ کراچی ۱/۲۰)
عنایہ میں فرمایا:لان الوضوء یکون فی البیوت عادۃ ۱؎۔
کیونکہ وضو عام طور پر گھر میں ہوتا ہے۔ (ت(
(۱؎ العنایۃ علی حاشیۃ فتح القدیر نوریہ رضویہ سکھر ۱/۷۰)
اور شک نہیں کہ حوض یا تالاب میں نہاتے ہوئے پانی لپوں سے لیتے ہیں نہ چلّوؤں سے تو ضرور ہوا کہ دونوں ہی ہاتھ سے لینا مراد واللّٰہ تعالٰی اعلم بالحق والسداد۔ توفیق انیق وتحقیق دقیق بحسن التوفیق، والحمدللہ علے تیسرالطریق۔ اقول وباللہ استعین، وھو نعم المعین، یہ سب تنقید وتنقیح وتصحیح وترجیح اُس ظاہر خلاف پر تھی جو عبارات کتب سے مفہوم اور بعونہ عز جلالہ وعم نوالہ قلب فقیر پر القا ہوتا ہے کہ ان اقوال میں اصلا خلاف نہیں قول اول کی نسبت ہم بیان کر آئے کہ وہی ظاہر الروایۃ اور وہی اقوی من حیث الدرایۃ ہے اور مذیل بطراز تصحیح بھی اور ظاہر الروایۃ اوجہ ومصحح سے عدول کی کوئی وجہ نہیں قول دیگر کہ عامہ کتب میں مختار ومرجح ومفتی بہ ہے اسی ظاہر الروایۃ پر متفرع اور اُسی کے حکم کے تحفظ کو ہے ظاہر ہے کہ مساحت معینہ ہو مثلاً دہ در دہ یا عدمِ خلوص پر مفوضہ بہرحال اُتنی مقدار میں پانی کا اتصال ضرور ورنہ وہ مساحت نہ رہے گی ولہٰذا ظاہر الروایۃ نے فرمایا کہ کہیں سے زمین کھلی نہ ہو تو اُس قدر کا شرط کثرت ہونا بداہۃً ثابت، مگر کثرت(۲) وقت استعمال چاہئے پہلے کثیر تھا اور استعمال کرتے وقت قلیل ہوگیا تو کثرت سابقہ کیا مفید ہوگی اب اس میں پانی لیتے ہوئے زمین اگر کھُل گئی تو ظاہر الروایۃ نے جو امر کثرت کیلئے شرط کیا تھا کب باقی رہا اتنی دیر کو پانی قلیل ہوگیا پہلے سے اگر نجاست پڑی تھی اور بوجہ کثرت مؤثر نہ ہوئی تھی اب قلیل ہوتے ہی مؤثر ہوگئی اور پھر پانی مل جانا طاہر نہ کردیگا کہ آب نجس کثیر ہو کر پاک نہیں ہوجاتا اور جن کے نزدیک مائے مستعمل نجس ہے پہلے سے کسی نجاست پڑی ہونے کی حاجت نہیں پہلے لپ کا پانی بدن پر ڈالا یہ مستعمل ونجس ہو کر پانی میں گرا دوبارہ لپ لیا پانی قلیل ہو کر اسی مائے مستعمل سے نجس ہوگیا۔ یوں ہی جن کے نزدیک آب مستعمل اگرچہ پاک ہے مگر مائے مطلق سے اُس کا اختلاط مطلقاً اُسے ناقابلِ طہارت کردیتا ہے اگرچہ مغلوب ہو لہٰذا وقت اغتراف حفظ کثرت کیلئے یہ شرط لگائی کہ اغتراف آب کثیر سے ہو اُس وقت بھی ظاہر الروایۃ کا ارشاد یأخذ الماء وجہ الارض صادق ہو کہ زمین کہیں سے کھلی نہ ہو تو یہ عمق شرط کثرت نہیں بلکہ وقت اغتراف شرط بقائے کثرت۔ اس توفیق رفیق کے مؤیدات اقول اولا خود یہی تبیین مبین تعلیل تبیین کہ اتنا عمق اس لئے رکھا گیا کہ پانی لیتے وقت زمین کھُل کر دو پانی نہ ہو جائیں کہ مساحت نہ رہے گی قلیل ہوجائیگا معلوم ہوا کہ تابقائے مساحت کثیر ہے تفریق مساحت تقلیل کرے گی۔ ثانیاً اگر کثرت فی نفسہٖ اس پر موقوف ہو تو یہ شرط بھی کام نہ دے گی اور وقت اغتراف وہی دقّت پیش آئے گی۔ شرط ہے تو ساری مساحت میں نہ کہ بعض میں۔ غیاثیہ میں ہے:
المختار ان لاینحسر بالاغتراف مطلقا غیر مقید بکونہ من اعمق المواضع ۱؎۔
مختار یہ ہے کہ چُلّو لینے سے زمین نیچے سے نہ کھُلے مطلقاً ا س میں زیادہ گہرا ہونے کی کوئی قید نہیں ہے۔ (ت(
(۱؎ فتاوٰی غیاثیہ باب المیاہ مکتبہ اسلامیہ، کوئٹہ ص۵)