Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
112 - 176
خزانۃ المفتین میں ہے:وعمقہ بحال لو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الارض وھو المختار ۲؎۔
پانی کی گہرائی یہ ہے کہ اگر ہتھیلی سے پانی اٹھائے زمین نیچے سے نہ کھُلے یہی مختار ہے۔ (ت(
 (۲؎ خزانۃ المفتین)
چلپی علی صدر الشریعۃ میں ہے:والغرف اخذ الماء بالید للتوضی وھو الاصح ۳؎۔
غرف ہاتھ کے ذریعے وضو کیلئے پانی لینے کو کہتے ہیں اور یہی اصح ہے۔ (ت(
 (۳؎ ذخیرۃ العقبٰی    کتاب الطہارت    مطبعہ اسلامیہ لاہور    ۱/۶۸)
سوم کفین بصیغہ تثنیہ یہ امام ابو یوسف سے مروی آیا اور اسی کو امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے اختیار فرمایا زیلعی علی الکنز میں ہے:
عن ابی یوسف اذا کان لاینحسر وجہ الارض بالاغتراف بکفیہ فھو جار ۴؎ اھ وقدمناہ عن ملک العلماء واذا کان ھذا فی الجاری حقیقۃ ففی الملحق(عہ۱)بہ بالاولی۔
اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ جب دو چُلّو بھر کر پانی اٹھانے سے زمین کی سطح نہ کھلے تو یہ پانی جاری ہے اھ ہم اس کو ملک العلماء سے پہلے ہی نقل کر آئے ہیں، جب یہ بات حقیقی جاری پانی میں ہے تو جو جاری پانی سے ملحق ہوگا اس میں بطریق اولیٰ ہوگی۔ (ت(
 (عہ۱)اقول وھذا بخلاف مافعل فی البحر فان تصحیح الاطلاق فی الجاری لایستلزم تصحیحہ فی الملحق بہ واشتراط العمق فیہ یستلزم اشتراطہ فی الملحق بالاولی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(

میں کہتا ہوں یہ اس کے خلاف ہے جو بحر میں کیا ہے کیونکہ جاری میں اطلاق کی تصحیح سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو جاری سے ملحق ہو اس میں بھی یہی تصحیح ہوگی اور گہرائی کی شرط اس میں اس امر کو مستلزم ہے کہ یہی شرط ملحق میں بھی ہو۔ (ت(
 (۴؎ تبیین الحقائق  کتاب الطہارت       مطبعہ الازہریہ مصر    ۱/۳۳)
بدائع میں ہے:عن الفقیہ ابی جعفر الھندوانی ان کان بحال لو رفع انسان الماء بکفیہ انحسر اسفلہ ثم اتصل لایتوضؤ بہ وان کان لاینحسر اسفلہ لابأس بالوضوء منہ ۱؎۔
فقیہ ابو جعفر ہندوانی سے منقول ہے کہ وہ پانی ایسا ہو کہ اگر کوئی اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھائے تو اس کے نیچے زمین کھل جائے اور پھر مل جائے، ایسے پانی سے وضو نہیں ہوگا اور اگر اس کے نیچے سے زمین نہ کھلتی ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت(
 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مقدار الخ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۳)
جامع الرموز میں ہے:بالغرفۃ ای برفع الماء بالکفین ۲؎۔
بالغرفۃ یعنی دو ہتھیلیوں سے پانی اٹھانا۔
 (۲؎ جامع الرموز    بحث عشر فی عشر    الکریمیہ قزان ایران    ۱/۴۸)
عبدالحلیم الدرر میں ہے:ای باخذ الماء بالکفین ۳؎۔
یعنی دو ہتھیلیوں میں پانی لینا۔
 (۳؎ حاشیۃ علی الدرر للعبد الحلیم        مطبعہ عثمانیہ مصر    ۱/۱۷)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:قولہ بالغرف منہ ای بالکفین کما فی القھستانی وفی الجوھرۃ علیہ الفتوی ۴؎۔
بالغرف منہ یعنی دو ہتھیلیوں سے جیسا کہ قہستانی میں ہے اور جوہرہ میں ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت(
 (۴؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح            نور محمد کتب خانہ کراچی    ص۱۶)
اقول ربما(۱) یتوھم منہ ان الفتوی علی الکفین ولیس کذلک فانما عبارۃ الجوھرۃ اما مقدار العمق فالاصح ان یکون بحال لاتنحسر الارض بالاغتراف وعلیہ الفتوی ۵؎ اھ فکان ینبغی ان یقدم عبارتھا ویقول قولہ بالغرف علیہ الفتوی جوھرۃ ای بالکفین قھستانی۔
میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے یہ وہم پیدا ہو کہ فتوی کفین پر ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جوہرہ کی عبارت یہ ہے ''اور گہرائی کی مقدار میں اصح یہ ہے کہ چُلّو بھرنے سے زمین نہ کھلتی ہو، اسی پر فتوٰی ہے اھ۔ تو ان کو جوہرہ کی عبارت پہلے لانی چاہئے تھی۔ اور یوں کہنا چاہئے تھا قولہ بالغرف علیہ الفتوی جوھرۃ یعنی بالکفین قھستانی۔ (ت(
 (۵؎ الجوہرۃ النیرۃ            مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱/۱۶)
علامہ برجندی نے کف واحد کو مرجح اور کفین کو محتمل رکھا:
حیث قال بالکف الواحد علی ماھو المفہوم من اطلاقات الکتب ویحتمل ان یکون المراد بالغرف الاخذ بالکفین معاعلی ماھو المتعارف ۱؎ اھ
اس لئے فرمایا کہ بالکف الواحد، یہی کتابوں کے اطلاقات سے مفہوم ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ بالغرف سے مراد دونوں چُلّوؤں سے لینا ہو، جیسا کہ متعارف ہے اھ (ت(
 (۱؎ قہستانی برجندی    کتاب الطہارۃ    نولکشور بالسرور    ۱/۳۳)
اقول وقد یؤخذ ترجیح لہ من فحوی الدرر فان نصہا الصحیح ان یکون بحیث لاتنکشف ارضہ بالغرف للتوضی وقیل للاغتسال ۲؎ اھ۔ وذلک لان المراد ھھنا الغرف بالایدی دون الاوانی ولا یظھر الفرق بین الغرف للوضوء والاغتسال بالایدی الا ان الاول بکف والاٰخر بالکفین کما ھو المعتاد فی الغسل وح یعود الیہ تصحیح ذخیرۃ العقبی المذکور ویزیدہ قوۃ انہ المروی عن الامام ھذا کلہ ظاھر النظر۔
میں کہتا ہوں کبھی اس کی ترجیح درر کے فحوی سے بھی معلوم ہوتی ہے اس کی عبارت یہ ہے کہ صحیح یہ ہے کہ وضو کیلئے چُلّو سے پانی لیتے وقت اس کی زمین نہ کھلتی ہو، اور ایک قول یہ ہے کہ غسل کیلئے پانی لیتے ہوئے نہ کھلتی ہو اھ کیونکہ یہاں چُلّو سے مراد ہاتھ کا چلّو بھرنا ہے نہ کہ برتن کا چلّو، اور وضو کیلئے چلّو سے پانی لینے اور ہاتھ سے غسل کرنے میں صرف یہی فرق ہے کہ وضو ایک ہاتھ سے اور غسل دو ہاتھ سے ہوتا ہے، جیسا کہ عادتاً غسل میں کیا جاتا ہے اور اس وقت اس کیلئے ذخیرۃ العقبیٰ کی تصحیح ہوگی، اور اس کو مزید تقویت اس سے ہوتی ہے کہ یہ امام سے مروی ہے یہ جو کچھ ہے ظاہر نظر میں ہے۔ (ت(
 (۲؎ الدرر        فرض الغسل        دارالسعادۃ مصر    ۱/۲۲)
واقول وباللّٰہ التوفیق ترجیح علامہ برجندی میں نظر ہے،
اولا اذ(۱) اعترف انہ المتعارف فلم لاینصرف المطلق الیہ۔
جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہی متعارف ہے تو مطلق اسی کی طرف کیوں نہیں پھرتا۔ (ت(
ثانیا وہ عند التحقیق(۲) منعکس ہے اطلاقات متون وعامہ کتب سے اغتراف کفین ہی مستفاد،
وذلک لان الغرف کما قلتم مطلق شامل باطلاقہ الغرفۃ بکف وکفین غیر انہ لیس ھھنا فی کلام موجب بل سالب والمطلق (۱) وان کان یوجد بوجود فرد لاینتفی الابانتفاء الافراد جمیعا فی التحریر ثم فوا تح الرحموت من بحث النکرۃ المنفیۃ نفی المطلق یوجب نفی کل فرد ۱؎ اھ
اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا آپ نے کہا غرف مطلق ہے خواہ ایک ہاتھ سے ہو یا دو ہاتھ سے، البتہ یہ کلام موجب میں نہیں ہے کلام سالب میں ہے، اور مطلق اگرچہ ایک فرد کے پائے جانے سے پایا جاتا ہے مگر اس کا انتفاء اسی وقت ہوگا جب تمام افراد کا انتفاء ہوگا تحریر میں پھر فواتح الرحموت میں نکرہ منفیہ کی بحث سے ہے کہ مطلق کی نفی ہر فرد کی نفی کو ثابت کرتی ہے۔ (ت(
 (۱؎ فواتح الرحموت    بحث النکرۃ المنفیۃ     مطبعۃ امیرقم    ۱/۲۶۱)
بل اقول اللام فی الغرف والاغتراف لیس للعھد ضرورۃ فان کان للاستغراق فذاک فانہ لکل فردلا لمجموع الافراد والا فللجنس وھو الوجہ المفھوم ونفی الجنس(۲) فی العرف واللغۃ لایکون الابنفی جمیع الافراد ۲؎ فواتح فافھم،
بلکہ میں کہتا ہوں لام ''الغرف'' اور ''الاغتراف'' میں عہد کیلئے نہیں، اور اگر یہ استغراق کیلئے ہو تو درست ہے کہ وہ ہر فرد کیلئے ہے مجموعہ افراد کیلئے نہیں، ورنہ یہ جنس کیلئے ہوگا، اور یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے، اور جنس کی نفی عرف ولغت میں تمام افراد کی نفی سے ہی ہوتی ہے، فواتح فافہم،
 (۲؎ فواتح الرحموت    بحث النکرۃ المنفیۃ     مطبعۃ امیرقم      ۱/۲۶۰)
ولا شک ان من اغترف بکفیہ فانحسرت الارض یقول انھا ارض تنحسر بالغرف وان کانت لاتنحسر بکف واحدۃ واذا صدق بہ الانحسار لایصدق عدمہ الا اذالم تنحسر بشیئ من الغرفات وتوجیہ الدرر بما فیہ ان المعتاد فی الوضوء ایضا الاغتراف بالکفین فی غسل الوجہ مطلقا وفی غسل الرجلین اذالم یکن بالغمس لاجرم ان اطلق البرجندی تعارفہ علی انی لم ارمن(۱) فرق ھھنا بالوضوء والغسل انما المعروف ذلک فی معرفۃ الخلوص من جانب الی آخر بالتحریک ولم یتکلم علیہ محشوہ الشرنبلالی وعبدالحلیم والحسن العجیمی والخادمی رحمھم اللّٰہ تعالٰی و ردہ الثانی بقولہ ان کلامنھما (ای من الوضوء والغسل یحتاج الی اخذہ بھما (ای بالیدین) قال فظھران لاوجہ لتضعیف الثانی ۱؎ اھ
اور اس میں شک نہیں کہ جس نے دونوں ہتھیلیوں سے پانی لیا اور زمین کھلی تو یہی کہا جائیگا کہ چلّو بھرنے سے زمین کھلی ہے، اگرچہ ایک ہتھیلی سے نہ کھلے اور جب اس کی وجہ سے کھلنا صادق آگیا تو نہ کھلنا صادق نہیں آئے گا، صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ کسی چلّو سے زمین نہ کھلے اور درر میں یہ توجیہ ہے کہ وضو میں بھی عام طور پر دونوں ہاتھ سے چلّو بھرا جاتا ہے چہرے کے دھونے میں مطلقاً اور دونوں پیروں کے دھونے میں جبکہ ڈبو کر نہ دھویا جائے، برجندی نے تعارف کو مطلق رکھا ہے علاوہ ازیں میں نے نہیں دیکھا کہ یہاں کسی نے وضو اور غسل میں فرق کیا ہو، اس سلسلہ میں معروف یہ ہے کہ خلوص کی معرفت ایک جانب سے دُوسری جانب تک حرکت کے ذریعے ہوگی اس پر اس کے حاشیہ نگاروں، شرنبلالی، عبدالحلیم، حسن العجیمی اور خادمی رحمہم اللہ نے کلام نہیں کیا، اور دوسرے نے اس کی تردید اس طرح کی ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک (یعنی غسل و وضوء میں سے) محتاج ہوتا ہے پانی کیلئے (دونوں ہاتھوں کی طرح) فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے کی تضعیف کی کوئی وجہ نہیں ہے اھ (ت(
 (۱؎ حاشیۃ علی الدرر للعبد الحلیم        بحث عشر فی عشر    عثمانیہ مصر        ۱/۱۷)
Flag Counter