وروی عن ابی یوسف ان کان بحال لواغترف انسان الماء بکفیہ لم ینحسر وجہ الارض بالاغتراف فھو جار والا فلا وقیل مایعدہ الناس جاریا فھو جار وما لا فلا وھو اصح الاقاویل ۲؎ اھ فقد افاد تصحیح(۱) عدم التقدیر بعمق لکنہ فی الجاری وھو کذٰلک فیہ بلاشک والکلام ھھنا فی الراکد الکثیر
اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ وہ ایسا پانی ہو کہ اگر کوئی شخص اس میں سے چُلّو بھر کر پانی لے تو زمین کھلنے نہ پائے، ایسا پانی جاری ہے ورنہ نہیں، ایک قول ہے کہ جس کو لوگ جاری سمجھیں وہ جاری ہے اور جس کو جاری نہ سمجھیں وہ جاری نہیں اور سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے اھ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے گہرائی کا تعین نہیں فرمایا، لیکن یہ جاری پانی میں ہے اور اس میں شک نہیں، اور گفتگو یہاں ٹھہرے ہوئے کثیر پانی میں ہے۔
(۲؎ بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۱)
اما قول البحر ھو الاوجہ فاقول ھو رحمہ اللّٰہ تعالٰی مع علو کعبہ الرجیح، لیس من ارباب الترجیح، کما یعرفہ من رزق حظا من النظر الصحیح، وخدمۃ ھذا الفن یفکر نجیح، وقال سیدی محمد بن عابدین رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی شرح منظومۃ عقود رسم المفتی بعد مانقل عن البحر فیما نقلوا عن اصحابنا انہ لایحل لاحدان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا ان ھذا الشرط کان فی زمانھم اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ کما فی القنیۃ وغیرھا فیحل الافتاء بقول الامام بل یجب وان لم نعلم من این قال فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ ۱؎ اھ
لیکن بحر کا قول معقول تر ہے، میں کہتا ہوں وہ بلندی مقام کے باوجود اصحابِ ترجیح سے نہیں ہیں جیسا کہ صاحبِ نظر اور فن کا ماہر جانتا ہے، ابن عابدین نے اپنی منظوم کی شرح عقود رسم المفتی میں بحر سے نقل کے بعد جو اصحاب سے نقل کیا وہ یہ کہ کسی شخص کیلئے یہ حلال نہیں کہ وہ ہمارے قول پر فتوٰی دے تاوقتیکہ اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ ہم نے کہاں سے یہ قول لیا، اس کے بعد فرمایا یہ اُن کے زمانہ میں تھا، مگر ہمارے زمانہ میں صرف یاد پر اکتفاء کرنا کافی ہے، جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے تو امام کے قول پر فتوٰی حلال ہے بلکہ واجب ہے خواہ یہ معلوم نہ ہو کہ انہوں نے کہاں سے یہ قول لیا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم پر قول امام پر فتوٰی دینا واجب ہے خواہ یہ قولِ مشائخ کے خلاف ہو اھ
(۱؎ شرح المنظومۃ المسماۃ بعقود رسم المفتی من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/۲۸)
مانصہ یؤخذ من قول صاحب البحر یجب علینا الافتاء بقول الامام الخ انہ نفسہ لیس من اھل النظر فی الدلیل فاذ اصحح قولا مخالفا لتصحیح غیرہ لایعتبر فضلا عن الاستنباط والتخریج علی القواعد خلافا لما ذکرہ البیری عند قول صاحب البحر فی کتابہ الاشباہ النوع الاول معرفۃ القواعد التی تردُّ الیھا وفرعوا الاحکام علیھا وھی اصول الفقہ فی الحقیقۃ وبھا یرتقی الفقیہ الی درجۃ الاجتھاد ولوفی الفتوٰی واکثر فروعہ ظفرت بہ ۲؎ الخ فقال البیری بعد ان عرف المجتھد فی المذھب بما قدمناہ عنہ۔
صاحبِ بحر کا قول یہ ہے ''ہم پر قول امام پر فتوٰی واجب ہے الخ وہ خود دلیل میں غور وفکر کی اہلیت نہیں رکھتے، اب اگر وہ کسی قول کی تصحیح کریں جو غیر کی تصحیح کے خلاف ہو تو اعتبار نہ ہوگا چہ جائیکہ استنباط وتخریج جو قواعد کے مطابق ہو، بیری نے اس کے خلاف کیا ہے، یہ صاحب بحر کے اس قول کے پاس ہے جہاں وہ اپنی کتاب "الاشباہ" میں فرماتے ہیں، پہلی قسم اُن قواعد کی معرفت میں جن پر فقہاء نے احکام متفرع کئے ہیں، اور یہی حقیقۃ میں اصولِ فقہ ہیں، اور ان کے ذریعہ فقیہ درجہ اجتہاد تک پہنچتا ہے خواہ یہ اجتہاد فتوٰی میں ہو، اور اُس کی اکثر فروع پر مجھے کامیابی ہوئی ہے الخ بیری نے مجتہد فی المذہب کی تعریف کی جو ہم نے بیان کی
(۲؎ الاشباہ والنظائر بکون ہذا النوع الثانی منہا ادارۃ القرآن کراچی ۱/۱۵)
وفی ھذا اشارۃ الی ان المؤلف قدبلغ ھذہ المرتبۃ فی الفتوٰی وزیادۃ وھو فی الحقیقۃ قد من اللّٰہ تعالٰی علیہ بالاطلاع علی خبایا الزوایا وکان من جملۃ الحفاظ المطلعین انتھی اذ لایخفی ان ظفرہ باکثر فروع ھذا النوع لایلزم منہ ان یکون لہ اھلیۃ النظر فی الادلۃ التی دل کلامہ فی البحر علی انھا لم تحصل لہ وعلی انھا شرط الاجتھاد فی المذھب فتأمل ۱؎ اھ
پھر فرمایا کہ اس میں اشارہ ہے کہ مصنف فتوی میں خود اس مرتبہ پر فائز ہے، بلکہ اس سے زیادہ ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اسرار و رموز پر مطلع فرمایا تھا اور وہ حفاظ میں سے تھے انتہی، یہ مخفی نہ رہے کہ اُن کا اس کی اکثر فروع پر مطلع ہونا اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ صاحبِ فکر ونظر بھی ہیں کہ یہ مقام ان کو حاصل نہیں، یہ مجتہد فی المذہب کی شرائط ہیں فتأمل اھ (ت(
(۱؎ بیری زادہ)
اقول ای بالمعنی الذی عرفہ بل بیری زادہ شاملا للمجتھد فی المسائل واھل التخریج والمجتھد فی الفتوی حیث قال(۱) المجتھد فی المذھب عرف بانہ المتمکن من تخریج الوجوہ علی منصوص امامہ والمتبحر فی مذھب امامہ المتمکن من ترجیح قول لہ علی اٰخر ۲؎ اھ لا المجتھد فی المذھب الذی ھی الطبقۃ الثانیۃ الفائقۃ علی الثلثۃ الباقیۃ لقول البحر ولو فی الفتوی۔
میں کہتا ہوں، یعنی اُس معنی کے اعتبار سے جو بیری زادہ نے کیے ہیں یہ مجتہد فی المسائل کو بھی شامل ہے اور اہلِ تخریج اور مجتہد فی الفتوی کو بھی، انہوں نے فرمایا کہ مجتہد فی المذہب کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ وہ ایسا عالم ہوتا ہے جو اپنے امام کے بیان کردہ مسئلہ کی وجوہ کی تخریج پر قادر ہو، اور مذہب امام کا متبحر عالم ہو اس کے اقوال کو دوسروں کے اقوال پر ترجیح دے سکتا ہو، نہ کہ مجتہد فی المذہب، جو دوسرے طبقہ میں ہوتا ہے جو باقی تین پر فائق ہوتا ہے، کیونکہ بحر نے فرمایا ''اگرچہ فتوٰی میں''۔ (ت(
(۲؎ بیری زادہ)
واقول لم یدع البحران من عرف الفروع ارتقی الی مرتبۃ الاجتھاد واین جمعھا من اھلیۃ النظر فی الدلیل والصیدلۃ من الطب وانما اراد ان تلک القواعد من ادرک حقائقھا وان الفروع کیف تستنبط منھا وتردُّ الیھا کان ذلک سلّما لہ یرتقی بھا الی ادنی درجات الاجتھاد ولم یدع ھذا لنفسہ انما ذکر الظفر باکثر الفروع فاین ھذا من ذاک والعجب(۱) کیف خفی ھذا علی العلامۃ بیری مع وضوحہ ثم ھو ایضا لم یشھد(۲) بحصول درجۃ الاجتھاد فی الفتوی لہ رحمھما اللّٰہ تعالی انما زعم ان فی کلام البحر اشارۃ الیہ وشھد بکونہ من الحفاظ المطلعین وھذا لاشک فیہ وقد قال السید ابو السعود الازھری فی فتح اللّٰہ المعین لایعتمد علی فتاوی ابن نجیم ولا علی فتاوی (عہ۱)الطوری ۱؎ اھ واقرہ ش فی غیر موضع من ردالمحتار،
میں کہتا ہوں بحر نے یہ دعوٰی نہیں کیا کہ جوشخص بھی فروع کو جانے گا وہ مرتبہ اجتہاد پر فائز ہوجائے گا، فروع کا یاد کرنا اور ہے اور فکر ونظر چیزے دگراست، یہ بالکل ایسا ہے جیسے دو افروش اور طبیب کا فرق ہوتا ہے، ان کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص ان قواعد کو پہچاننے لگے اور اُن سے استنباطِ مسائل کا طریقہ معلوم کرلے، تو یہ اجتہاد کے ادنیٰ درجہ تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور انہوں نے خود اپنے لئے اس مقام کا دعوٰی نہیں کیا ہے انہوں نے تو محض یہ کہا ہے کہ وہ اکثر فروع کو جاننے میں کامیاب ہوئے ہیں دونوں میں بڑا فرق ہے تعجب ہے کہ یہ حقیقت علامہ بیری پر کیسے مخفی رہی، حالانکہ بالکل واضح ہے، پھر اُنہوں نے اپنے لئے درجہ اجتہاد فی الفتوٰی کا دعوٰی بھی نہیں کیا ہے رحمہما اللہ تعالٰی، صرف یہ کہا ہے کہ بحر کے کلام میں اس طرف اشارہ ہے اور انہوں نے اس امر کی شہادت دی ہےکہ وہ حفاظ میں سے ہیں، اور اس میں شک کی گنجائش نہیں، ابو السعود الازہری نے فتح اللہ المعین میں فرمایا نہ تو ابن نجیم کے فتاوٰی پر اعتماد کیا جائے اور نہ ہی طوری کے فتاوی پر اھ اور اس کو "ش" نے برقرار رکھا یہ چیز ردالمحتار کے کئی مقامات پر مذکور ہے،
(عہ۱) اقول کذا قال ولم اطلع علیھا لاعلم حالھا لکن قال فی کشف الظنون من الذال تحت ذخیرۃ الناظر فی الاشباہ والنظائر انھا للعالم الفاضل علی الطوری المصری الحنفی المتوفی ۱۰۰۴ اربع والف ثم قال قال الامینی فی خلاصۃ الاثر اخذ عن الشیخ زین الدین بن نجیم وغیرہ حتی برع وتفنن والف مؤلفات ورسائل فی الفقہ کثیرۃ کان یفتی وفتاواہ جیدۃ مقبولۃ و بالجملۃ فھو فی فقہ الحنفیۃ الجامع الکبیر لہ الشھرۃ التامۃ فی عصرہ والصیت الذائع انتھی ۱۲ منہ غفرلہ (م(
میں کہتا ہوں، انہوں نے یہی فرمایا ہے، لیکن میں اس پر مطلع نہیں ہوا، مگر کشف الظنون میں ذال کی تختی میں ذخیرۃ الناظر فی الاشباہ والنظائر کے تحت ہے کہ یہ کتاب عالم فاضل علی الطوری المصری الحنفی المتوفی ۱۰۰۴ھ کی ہے پھر انہوں نے کہا کہ امینی نے خلاصۃ الاثر میں کہا کہ انہوں نے شیخ زین الدین بن نجیم وغیرہ سے علم حاصل کیا یہاں تک کہ وہ عظیم المرتبت عالم ہوگئے اور علمِ فقہ میں بہت سی کتب ورسائل تصنیف کیے وہ فتوے دیتے تھے اور ان کے فتوے بہت عمدہ اور مقبول ہوتے تھے، خلاصہ یہ کہ یہ کتاب فقہ حنفی میں جامع ہے اور اسے اپنے زمانہ میں شہرت تامہ حاصل ہے۔ (ت(
(۱؎ فتح المعین بحوالہ ردالمحتار رسم المفتی مصطفی البابی مصر ۱/۵۲)
وفی ط عنہ سمعت کثیرا من شیخنا (یرید اباہ السید علیا رحمھما اللّٰہ تعالٰی) فتاوی الطوری کفتاوی الشیخ زین لایوثق بھما الا اذا تأیدت بنقل اخر ۲؎ اھ وکیف یصح لمجتھد فی الفتوی ان یمنع العمل بفتاواہ۔
اور "ط" میں انہی سے منقول ہے کہ ہم نے اپنے شیخ سے بکثرت سُنا ہے (اس سے مراد ان کے باپ سید علی ہیں) وہ فرماتے تھے فتاوٰی طوری شیخ زین کے فتاوٰی کی طرح ہیں، ان دونوں کا کوئی اعتبار نہیں، ہاں اگر کسی اور نقل سے ان کی تائید ہوجائے تو اور بات ہے، اور ایک مجتہد فی الفتوٰی کو یہ بات کب زیب دے سکتی ہے کہ وہ اپنے فتوی پر عمل کی مخالفت کردے۔ (ت(
(۲؎ طحطاوی)
قول سوم کی ترجیح عامہ کتب میں ہے وقایہ(۱) ونقایہ(۲) واصلاح(۳) وغرر(۴) وملتقی متون (۵) ووجیز کردری (۶) وغیرہا میں اسی پر جزم فرمایا امام اجل قاضی خان(۷) نے اسی کو مقدم رکھا اور امام اعظم سے امام ابو یوسف کی روایت بتایا ہدایہ(۸) ودرر(۹) ومجمع الانہر(۱۰) ومسکین(۱۱) ومراقی الفلاح (۱۲) وہندیہ(۱۳) میں اسی کو صحیح او رذخیرہ العقبی (۱۴) میں اصح اور غیاثیہ(۱۵) وغنیہ(۱۶) وخزانۃالمفتین (۱۷) میں مختار کہا معراج(۱۸) الدرایہ وفتاوی ظہیریہ (۱۹) وفتاوی خلاصہ (۲۰) وجوہرہ نیرہ(۲۱) وشلبیہ(۲۲) وغیرہا میں علیہ الفتوٰی فرمایا اس قول میں عبارت علماء تین طور پر آئیں:
اول مطلق اغتراف یا غرف کہ ہاتھ سے پانی لینا ہے ایک سے ہو خواہ دونوں سے دونوں کو شامل ہے عام عبارات اسی طرح ہیں جیسے خانیہ وخزانہ کے سوا اکثر کتب مذکورہ اور بحر وشامی وغیرہا۔
دوم لفظ کف یا یدبصیغہ مفرد سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یوں ہی مروی ہوا ،
فتاوی امام قاضی خان میں ہے:ان کان بحال لو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الارض فھو عمیق رواہ ابویوسف عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما ۱؎۔
اگر پانی اس حال پر ہے کہ اگر ہتھیلی سے پانی اٹھائے تو زمین نیچے سے نہ کھلے تو وہ گہرائی والا ہے اس کو ابو یوسف نے ابو حنیفہ سے روایت کیا۔ (ت(
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فی الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱/۴)