بحرالرائق میں ہے:ھو الاوجہ لما عرف من اصل ابی حنیفۃ ۳؎۔
یہی اوجہ ہے جیسا کہ ابو حنیفہ کی اصل سے معلوم ہوا۔ (ت(
(۳؎ بحرالرائق بحث عشر فی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۷)
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس تصحیح کی تضعیف کی فقال قیل والصحیح اذا اخذالماء الخ ۱؎
(وہ فرماتے ہیں کہ بعض نے کہا صحیح یہ ہے کہ جب پانی لے الخ۔ ت(
(۱؎ فتح القدیر بحث عشر فی عشر نوریہ رضویہ سکھر ۱/۷۱)
اقول یہاں دو نظریں ہیں ایک بظاہر قوی اس قول کی تزییف میں دوسری کمال ضعیف اس کی تایید میں اور شاید اسی لئے امام ابن الہمام نے اس تصحیح کو ضعیف کیا مگر نظر دقیق اس کی قوت پر حاکم وباللہ التوفیق
اما التائید فلعل زاعما یزعم ان الکثیر قدالحق بالجاری فی کل حکم کما حققہ فی الفتح والجاری لاتقدیر فیہ للعمق کما دلت علیہ فروع کثیرۃ منھا مسألۃ المطر النازل علی سطح فیہ نجاسات فکذا ھھنا۔
اور جہاں تک تائید کا تعلق ہے شاید کوئی گمان کرنے والا گمان کرے کہ کثیر کو جاری کے حکم میں کیا گیا ہے تمام احکام میں، جیسا کہ اس کی تحقیق فتح میں ہے اور جاری کی گہرائی میں کوئی مقدار نہیں ہے، اور اس پر فروع کثیرہ دلالت کرتی ہیں ایک فرع ان میں سے یہ ہے کہ بارش چھت پر ہو اور وہاں مختلف نجاستیں ہوں تو یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ (ت(
اقول ھب ان الکثیر ملحق بالجاری فی جمیع الاحکام لکن الکلام انہ متی یکون کثیرا فلا یمکن الالحاق قبل اثبات ان الکثرۃ لاتحتاج الی العمق الا تری ان الجاری لاتقدیر فیہ بشیئ من الطول ولا العرض کما دلت علیہ فروع جمۃ ذکرناھا فی رحب الساحۃ منھا الماء النازل من الابریق علی ید المستنجی قبل وصولہ الیھا ولا یلزم منہ عدم التقدیر بھما ھھنا ایضا فکذا العمق واللّٰہ تعالی اعلم۔
میں کہتاہوں مان لیا کہ کثیر تمام احکام میں جاری کے ساتھ ملحق ہے لیکن اصل گفتگو تو اس میں ہے کہ وہ کب کثیر ہوگا تو اس کو اس کے ساتھ ملحق کرنا اس وقت تک درست نہ ہوگا جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ کثرت گہرائی کی محتاج نہیں، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جاری میں طول وعرض کا کوئی اندازہ نہیں، اس پر بہت سی فروع دلالت کرتی ہیں جن کا ذکر ہم نے رحب الساحۃ میں کیا، ایک فرع یہ ہے کہ لوٹے سے پانی استنجاء کرنے والے کے ہاتھ پر گرے اس تک پہنچنے سے قبل اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان دونوں کا اندازہ نہ ہو یہاں بھی، تو عمق کا بھی یہی حال ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
واما التزییف ففی الراکد الکثیر قولان معتمدان الاول ظاھر الروایۃ وھو اعتبار عدم الخلوص ظنا وتفویضہ الی رأی المبتلی بہ من دون تقدیر بشیئ ومعرّف ذلک التحریک عند ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھم وھو بالتوضی علی الاصح والثانی معتمد عامۃ المتأخرین وعلیہ الفتوی وھو التقدیر بعشر فی عشراعنی مساحۃ مائۃ علی الصحیح فعدم التقدیر الموافقُ لاصل الامام رضی اللّٰہ تعالی عنہ انما ھو علی الروایۃ الاولی اما الاٰن فالکلام علی تقدیر التقدیر فکیف یلاحظ فیہ اصل عدم التقدیر کما فعل البحرام کیف یراعی فیہ ظاھر الروایۃ کما فعل الامام الفخر ونفس العشر فی عشر لیست فی ظاھر الروایۃ۔
اور تزییف کا بیان یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں دو۲ معتمد قول ہیں پہلا ظاہر الروایۃ ہے اور وہ بطور گمان عدم خلوص کا اعتبار ہے اور اس میں کوئی مقدار نہیں بلکہ جو اس میں مبتلی ہے اس کی رائے پر چھوڑا گیا ہے اور اس کی پہچان ہمارے ائمہ ثلثہ کے نزدیک حرکت دینا ہے اور یہ حرکت اصح قول کے مطابق وضو سے ہوگی، اور دوسرا قول عام متأخرین کا مختار ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، اور اس سے مراد دہ در دہ کی مقدار ہے، یعنی سو ہاتھ کی پیمائش صحیح قول پر ہے، اور اندازہ نہ ہونا جو امام کی اصل کے مطابق ہے وہ پہلی روایت کے مطابق ہے، اور اب گفتگو مقدار کی تقدیر پر ہے تو اس میں عدم تقدیر کی اصل کا لحاظ کیسے ہوگا جیسا کہ بحر نے کیا ہے یا اس میں ظاہر الروایۃ کی رعایت کیسے ہوگی؟ جیسا کہ امام فخر نے کیا ہے جبکہ دَہ در دہ ظاہر روایۃ میں کوئی قول نہیں۔ (ت(
اقول والتحقیق(۱) عندی ان التقدیر بعشر فی عشر لیس حکما منحازا برأسہ فیحتاج(۲) الی ابداء اصل لہ کما تجشمہ الامام صدر الشریعۃ ویطعن(۳) فیہ بانہ لایرجع الی اصل فی الشرع کما قالہ فی البحر وتبعہ فی الدر ویرد بمخالفتہ لقول الامام المصحح من کثیرین اعلام کما یتوھم بل ھو تقدیر منھم رحمنا اللّٰہ تعالی بھم لما فی ظاھر الروایۃ من عدم الخلوص وجدوا ھذا القدر لایخلص فحکموا بہ
میں کہتاہوں میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ دہ در دہ کا اندازہ مستقل حکم نہیں ہے کہ اس کیلئے کوئی اصل تلاش کرنا ہو، جیسا کہ صدر الشریعۃ نے اس کی کوشش کی ہے، اور اس پر یہ اعتراض کہ یہ چیز شریعت کی کسی اصل پر متفرع نہیں، جیسا کہ بحر میں فرمایا اور دُر نے اس کی متابعت کی اور اس کو اس بنا پر رد کر دیا جائے کہ یہ قول اکثر علماء کے مطابق امام کے صحیح قول کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے جیسا کہ وہم ہوتا ہے بلکہ یہ اُن کی طرف سے اندازہ ہے، کیونکہ ظاہر روا یۃ میں عدم خلوص ہے اور اس مقدار میں انہوں نے خلوص نہ پایا تو انہوں نے اس پر یہ حکم لگایا۔
قال فی البدائع ذکر ابوداؤد لایکاد یصح لواحد من الفریقین حدیث عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی تقدیر الماء ولہذا رجع اصحابنا فی التقدیر الی الدلائل الحسیۃ دون السمعیۃ ثم اختلفوا فی تفسیر الخلوص فاتفقت الروایات عن اصحابنا انہ یعتبر بالتحریک وابو حفص الکبیر اعتبر الخلوص بالصبغ وابو نصر بالتکدیر والجوزجانی بالمساحۃ فقال ان کان عشرا فی عشر فھو مما لایخلص وان کان دونہ فھو مما یخلص ۱؎ اھ ۔فقد جعل ھذا تفسیر الما فی المذھب وقال فی الغنیۃ تحت قولہ الحوض اذا کان عشرا فی عشر المقصود من ھذا التقدیر حصول غلبۃ الظن بعدم خلوص النجاسۃ ۲؎ اھ۔
بدائع میں فرمایا ابو داؤد نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث جو پانی کے اندازہ سے متعلق ہے فریقین میں سے کسی کیلئے کوئی حدیث صحیح نہیں، اور اسی لئے ہمارے اصحاب نے اندازہ میں دلائل حسّیہ کی طرف رجوع کیا نہ کہ سمعیۃ کی طرف اب خلوص کی تفسیر میں اختلاف ہے تو ہمارے اصحاب کی متفقہ روایت میں ہلانے کا اعتبار ہے اور ابو حفص کبیر نے خلوص رنگنے کو کہا اور ابو نصر نے گدلا ہونے کو کہا اور جوزجانی نے پیمائش کو کہا، فرمایا کہ اگر وہ دہ در دہ ہو تو اس میں خلوص نہیں اور اگر اس سے کم ہے تو اس میں خلوص ہے اھ انہوں نے یہ مذہب کی تفسیر بنائی ہے غنیہ میں مصنف کے قول الحوض اذا کان عشر فی عشر کے تحت ہے کہ اس تقدیر سے مقصود نجاست کے عدم خلوص کی بابت ظن غالب کا حصول ہے اھ
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی )
(۲؎ غنیۃ المستملی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۸)
فاذا کان ھذا تفسیر مافی ظاھر الروایۃ وجبت رعایتھا فیہ وبقی عمقہ علی اصل الامام لان ھذا انما ھو تقدیر ما لایخلص وما لایخلص لم یعتبر فیہ عمق فی ظاھر الروایۃ فلا داعی الی اعتبارہ ھنا اللھم الا ان یثبت ان للعمق مدخلا فی خلوص الحرکۃ وعدمہ ایضا فح یقال ان ظاھر الروایۃ حیث احالت الامر علیہ ارسلت الامتدادات ارسالا وکان ذلک الواجب حینئذ اما انتم فقدرتم الامتدادین ولیس ان کل عمق بعدھما سواء فیجب علیکم تقدیر عمق لایقبل معہ الامتدادان الخلوص فافہم۔
اور جب یہ ظاہر روایت کی تفسیر ہے تو اس کی رعایت اس میں لازم ہے، اور امام کی اصل کے مطابق عمق باقی رہا کیونکہ یہ اسکی تقدیر ہے جس میں خلوص نہ ہو اور جس میں خلوص نہ ہو ظاھر الروایۃ کے مطابق اس میں عمق معتبر نہیں، تو یہاں اس کے اعتبار کی کوئی وجہ نہیں، ہاں اگر عُمق کا دخل خلوص حرکت اور عدمِ خلوص میں ثابت کردیا جائے، تو اُس وقت کہا جائیگا کہ ظاہر روایت نے جہاں معاملہ کا دارومدار اس پر رکھا ہے تو امتدادات کو مطلق رکھا ہے اور اس وقت یہی لازم تھااور تم نے دونوں امتدادوں کی تقدیر کی ہے اور ان دونوں کے بعد ہر عمق برابر نہیں تو تم پر لازم ہے کہ ایک ایسے عمق کی تقدیر کرو کہ اس کے ہوتے ہوئے دونوں امتداد خلوص کو قبول نہ کریں۔ فافہم،
وح لایضاد القول الحادی عشر للقول الاول اذ ترک التقدیر فی ظاھر الروایۃ لایکون اذن لنفیہ بل لعدم تعینہ واختلافہ باختلاف الامتدادات فیصح التفویض الی رأی الناظر لکنہ شیئ یحتاج الی ثبت ودونہ خرط القتاد بل یدفعہ ان لوکان کذلک لم یصح تعیین عشر فی عشر فانہ یختلف الامتدادان المانعان للخلوص علی ھذا باختلاف الاعماق فکیف یجوز التحدید علی شیئ منھا وھو عود علی المقصود بالنقض فترجح ان الاوجہ ھو ظاھر الروایۃ بل ھی الوجہ ھذا ماعندی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اس صورت میں گیارھواں قول پہلے قول کی ضد نہ ہوگا کہ ظاہر روایت میں تقدیر کا ترک کرنا اس کی نفی کیلئے نہ ہوگا بلکہ اس کی عدمِ تعیین کیلئے ہوگا اور اس کا اختلاف امتدادات کے اختلاف کی وجہ سے ہوگا تو دیکھنے والے کی رائے کی طرف اس کو سپرد کرنا صحیح ہوگا، مگر یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو دلیل کی ضرورت ہے حالانکہ اس کی دلیل مشکل ہے بلکہ اس کا رَد یہ ہے کہ اگر بات یہی ہوتی تو دہ در دہ کی تعیین صحیح نہ ہوئی، کیونکہ جو دو امتداد خلوص کے مانع ہیں اس بنا پر گہرائیوں کے اختلاف سے مختلف ہونگے تو ان میں سے کسی ایک کی تحدید کیونکر درست ہوگی اور یہ تو نقض کے سبب مقصود کی طرف عود کرنا ہے تو راجح یہی قرار پایا کہ ظاہر روایت ہی درست ہے بلکہ صرف ایک یہی وجہ ہے ھذا ماعندی الخ (ت(
اس قول کی تصحیح امام زیلعی کے سوا دوسرے سے نظر میں نہیں:
اما ما فی البحر فی البدائع اذا اخذ ای الماء وجہ الارض یکفی ولا تقدیر فیہ فی ظاھر الروایۃ وھو الصحیح ۱؎ اھ
اور جو بحر میں ہے کہ بدائع میں ہے جب پانی زمین کی سطح کو چھپا دے یہ اس کیلئے کافی ہے اور ظاہر الروایۃ میں کوئی تقدیر متعین نہیں، اور یہی صحیح ہے۔ (ت(
(۱؎ بحرالرائق بحث عشر فی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۷)
فاقول ھذا کما تری کلام التبیین ولیس فی البدائع انما ذکر فیہ عن الجوزجانی ماتقدم ثم قال وعن الفقیہ ابی جعفرالھندوانی ان کان بحال لورفع انسان الماء بکفیہ انحسرا سفلہ ثم اتصل لایتوضؤ ۱؎ بہ ثم ذکر الزیادۃ علی عرض الدرھم والشبر والذراع ولم یصحح شیئا منھا نعم قال قبلہ فی الماء الجاری اختلف المشائخ فی حد الجریان قال بعضھم ھو ان یجری بالتبن والورق وقال بعضھم ان کان بحیث لووضع رجل یدہ فی الماء عرضا لم ینقطع جریانہ فھو جار والا فلا،
ہندوانی کہتے ہیں کہ اگر پانی ایسا ہے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھائے تو اس کی تہ کھل جائے پھر جُڑ جائے تو اُس سے وضو نہیں ہوسکتا ہے، پھر درہم، بالشت اور ایک ہاتھ سے زائد کی چوڑائی کا ذکر کیا اور ان میں سے کسی کی تصحیح کا ذکر نہیں کیا ہاں اس سے قبل جاری پانی کی بابت کہا کہ مشائخ کا حدِ جریان میں اختلاف ہے بعض نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ پانی میں چوڑائی میں ڈالے تو پانی کا جاری رہنا ختم نہ ہو تو وہ جاری ہے ورنہ نہیں (بعض نے فرمایا کہ اگر اس پانی میں کوئی تنکا ڈالا جائے یا پتّہ ڈالا جائے تو بہا لے جائے) ،
(۱؎ بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۳)