فتوٰی مسمّٰی بہ
ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر
ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں (ت(
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
، نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم
مسئلہ ۵۴: ۴ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آبِ کثیر کے لئے جو مثل جاری نجاست قبول نہ کرے کتنا عمق درکار ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہاتھ سے پانی لینے میں زمین نہ کھُلے اس سے چُلّو مراد ہے یا لپ، بینّوا تو جّروا۔
الجواب
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اُس کے عُمق میں گیارہ قول ہیں:
)۱( کُچھ درکار نہیں صرف اتنا ہو کہ اُتنی مساحت میں زمین کہیں کھُلی نہ ہو۔
)۲( بڑا درہم کے ۰۴ ماشے ہوتا ہے اُس کے عرض سے کچھ زیادہ گہرا ہو۔
)۳( اُس میں سے پانی ہاتھ سے اُٹھائیں تو زمین کھُل نہ جائے۔
)۴( پانی لینے میں ہاتھ زمین کو نہ لگے۔
اقول یہ اپنے سابق سے زائد ہے کمالایخفی۔
)۵( ٹخنوں تک ہو۔
)۶( چار اُنگل کشادہ
اقول یہ تقریباً نو انگل یعنی تین گرہ ہوا۔
)۷( ایک بالشت
)۸( ایک ہاتھ
)۹( دو ہاتھ
)۱۰( سفید سکہ اس میں ڈال کر مرد کھڑے سے دیکھے تو روپیہ نظر نہ آئے۔
اقول: یعنی پانی کی کثرت سے نہ کہ اس کی کدرت سے۔
)۱۱( اپنی طرف سے کوئی تعیین نہیں ناظر کی رائے پر موقوف ہے۔
اقول: یعنی جو جتنے گہراؤ پر سمجھے کہ آبِ کثیر ہوگیا، اس کے حق میں وہ کثیر ہے دوسرا نہ سمجھے تو اس کیلئے قلیل ہے۔
میں کہتا ہوں وہ اول کا غیر ہے تو وہ سلب تقدیر ہے، اور یہ اُسی شخص کی رائے کی طرف سپرد کرنا ہے جو اس میں مبتلا ہو، اور خلاصہ یہ ہے کہ پہلا حکمِ عدم ہے اور یہ عدم حکم ہے۔ تو اگر تم کہو کہ تفویض ظاہر روایت میں صرف طول و عرض میں ہے کیونکہ انہی دونوں سے خلوص اور عدمِ خلوص کا علم ہوتا ہے تو عمق میں اس کی رائے کی طرف کیونکر سپرد کیا جائے گا۔ (ت(
اقول اختلفوا فی معیار عدم الخلوص ھل ھو التحریک وھی الروایۃ المتفقۃ عن اصحابنا ام الصبغ وھو قول الامام ابی حفص الکبیر البخاری ام التکدیر وھو قول الامام ابی نصر محمد بن محمد بن سلام ام المساحۃ وھو قول الامام ابی سلیمٰن الجوزجانی الکل فی البدائع ولا شک ان التکدیر یختلف باختلاف العمق فلعل ھذا القائل قائل بھذا القول ففوضہ الی رای الناظر واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں عدمِ خلوص کے معیار میں اختلاف ہے کہ آیا وہ تحریک ہے اور یہی متفقہ روایت ہمارے اصحاب کی ہے، یا صرف رنگنا ہے اور یہی قول امام ابو حفص الکبیر بخاری کا ہے، یا گدلا کرنا ہے، اور یہ امام ابو نصر محمد بن محمد بن سلام کا ہے، یا مساحت ہے اور یہ امام ابو سلیمان الجوزجانی کا قول ہے۔ یہ تمام تفصیل بدائع میں ہے، اور اس میں شک نہیں کہ گدلا کرنا گہرائی کے اختلاف سے مختلف ہوتا ہے، اور غالباً یہ قائل اسی قول کی طرف۔مائل ہے اور اسی لئے انہوں نے اس معاملہ کو دیکھنے والوں کی رائے کی طرف سپرد کیا ہے۔ (ت(
ان میں قول سوم عامہ کتب میں ہے اور اوّل ودوم وہفتم وہشتم بدائع وتبیین وفتح میں نقل فرمائے اور چہارم خانیہ وغنیہ پنجم جامع الرموز ششم غنیہ نیز مثل نہم ویاز دہم قہستانی ونہم شرح نقایہ برجندی میں۔
ان میں صرف دو قول مصحح ہیں اوّل وسوم وبس۔
اما ما رأیت فی جواھر الاخلاطی من قولہ جمع الماء فی خندق لہ طول مثلا مائۃ ذراع وعرضہ ذراع اوذراعان فی جنس ھذہ المسألۃ اقوال فی قول یجوز التوضی منہ بغیر فصل وھو الماخوذ وفی قول لووقعت فیہ نجاسۃ یتنجس من طولہ عشرۃ اذرع وفی قول ان کان الماء مقدار مالوجعل فی حوض عرضہ عشرۃ فی عشرۃ ملیئ الحوض وصار عمقہ قدر شبر یجوز التوضی بہ والا فلا وھو الصحیح تیسیرا للامر علی الناس وقیل لایجوز التوضی فیہ وان کان من بخاری الی سمرقند ۱؎ اھ
جواہر الاخلاطی میں ہے کہ کسی شخص نے کسی خندق میں پانی جمع کیا جس کا طول سو ہاتھ اور چوڑائی ایک ہاتھ یا دو ہاتھ ہو، تو اس مسئلہ میں چند اقوال ہیں، ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے وضو مطلقاً جائز ہے اور یہی قول ماخوذ ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اگر اس میں نجاست گر جائے تو وہ لمبائی میں دس ہاتھ ناپاک ہوگا، اور ایک قول یہ ہے کہ اگر اس میں اتنا پانی ہے کہ اگر اس کو ایک ایسے حوض میں کر لیا جائے جس کی چوڑائی دہ در دہ ہو تو حوض بھر جائے، اور اس کی گہرائی ایک بالشت ہو، تب تو اس سے وضو جائز ہے ورنہ نہیں اور یہی صحیح ہے کہ اس میں لوگوں پر آسانی ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے وضو جائز نہیں اگرچہ وہ بخارا سے سمرقند تک ہو اھ۔ (ت(
(۱؎ جواہر الاخلاطی)
فاقول قولہ ھو الصحیح ناظر الی اعتبار المساحۃ وحدھا من دون اشتراط الامتدادین وبہ یوافق تصحیحہ الاول بقولہ ھو الماخوذ الی اشتراط عمق شبر والدلیل علیہ قول البرجندی،
میں کہتا ہوں ان کا قول ھو الصحیح صرف پیمائش کو دیکھتے ہوئے ہے، دونوں امتدادوں کی اس میں شرط نہیں، اور اسی کی وجہ سے یہ ان کی پہلی تصحیح کے مطابق ہوجائیگا، وہ فرماتے ہیں یہی ماخوذ ہے، اس میں ایک بالشت کی گہرائی کی شرط نہیں اور اس کی دلیل برجندی کا قول ہے
قال الامام ابو بکر الطرخانی اذ الم یکن لہ عرض صالح وکان طولہ من بخارٰی الی سمرقند لایجوز التوضی منہ وقال محمد بن ابرھیم المیدانی ان کان بحال لوجمع ماؤہ یصیر عشرا فی عشرو صار عمقہ بقدر شبرجاز التوضی بہ الکل فی الفتاوی الظھیریۃ وذکر فی الخلاصۃ ان الفقیہ ابا اللیث اخذ بہ وعلیہ اعتماد الصدر الشھید وفی الملتقط انکان عرض الغدیر ذراعین وبلغ طولہ فی عرضہ عشرا فی عشر فبال فیہ انسان فالماء طاھر ۱؎ اھ
''امام ابو بکر طرخانی نے فرمایا جب اس کی چوڑائی مناسب نہ ہو اور اس کی لمبائی خواہ بخاریٰ سے سمرقند تک ہو تو اُس سے وضو جائز نہیں''۔ اور محمد بن ابراہیم میدانی نے فرمایا اگر حوض اتنا بڑا ہو کہ اگر اس کا پانی اکٹھا کیا جائے تو وہ دہ در دہ ہوجائے اور اس کی گہرائی بقدر ایک بالشت ہو تو اس سے وضو جائز ہے، یہ سب فتاوٰی ظہیریہ سے ماخوذ ہے، اور خلاصہ میں ذکر کیا کہ فقیہ ابو اللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی پر صدر الشہید کا اعتماد ہے، اور ملتقط میں ہے کہ اگر تالاب کی چوڑائی دو ہاتھ ہو اور اس کی لمبائی چوڑائی میں دہ در دہ ہو اور اس میں کوئی انسان پیشاب کردے تو پانی پاک ہے اھ
(۱؎ نقایۃ برجندی کتاب الطہارت نولکشور لکھنؤ ۱/۳۳)
فانما الضمیر فی قول اخذ بہ وقولہ علیہ اعتماد الی اعتبار المساحۃ ولو بالجمع والا لم تکن الحوالۃ رائجۃ لان عبارۃ الخلاصۃ فی جنس فی النھر ھکذا ان کان الماء لہ طول وعمق ولیس لہ عرض کانھار بلخ ان کان بحال لوجمع یصیر عشرا فی عشر یجوز التوضی بہ وھذا قول ابی سلیمان الجوزجانی وبہ اخذا لفقیہ ابو اللیث وعلیہ اعتماد الصدر الشھید وقال الامام ابوبکر الطرخانی لایجوز وان کان من ھنا الی سمرقند ۲؎ اھ
اور ضمیران کے قول اخذ بہ اور علیہ میں اعتبار مساحت کی طرف راجع ہے اگرچہ جمع کے اعتبار سے ہو ورنہ تو حوالہ رائج نہ ہوتا کیونکہ خلاصہ کی عبارت جنس فی النھر میں اس طرح ہے کہ اگر پانی کیلئے لمبائی گہرائی ہو اور چوڑائی نہ ہو جیسے بلخ کی نہریں، ان میں کا پانی اگر جمع کر لیا جائے تو وہ دہ در دہ ہوجائے تو اُس سے وضو جائز ہے اور یہ ابو سلیمان الجوزجانی کا قول ہے اور فقیہ ابو اللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی پر صدر الشہید کا اعتماد ہے، اور امام ابو بکر الطرخانی نے فرمایا جائز نہیں اگرچہ یہاں سے سمرقند تک ہو اھ
فلیس فیہ ذکر العمق اصلا فضلا عن تقدیرہ بشبر کیف والامام الجوزجانی اٰخذ فی العمق بالقول الاول وھو نفی التقدیر رأسا قال فی البدائع اما العمق فھل یشترط مع الطول والعرض عن ابی سلیمان الجوزجانی انہ قال ان اصحابنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اعتبروا البسط دون العمق ۱؎ اھ فالمیدانی اخذ بقولہ فی اعتبار المساحۃ دون الامتدادین وزاد من عند نفسہ قدر العمق فنقلاہ فی الجواھر وشرح النقایۃ وذکرا تصحیحہ باعتبار اصلہ مع قطع النظر عن الزیادۃ لان المحل محل الخلافیۃ الاصل لاخلافیۃ العمق واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اس میں گہرائی کا سرے سے کوئی ذکر نہیں۔ چہ جائیکہ ایک بالشت کے اندازے کا ذکر ہو پھر امام جوزجانی نے گہرائی کے بابت پہلا قول ہی اختیار کیا ہے، جس میں اندازہ کو مطلقاً ترک کیا گیا ہے، بدائع میں فرمایا کہ گہرائی کی بابت سوال یہ ہے کہ اس کو طول وعرض کے ساتھ مشروط کیا جائے گا، ابو سلیمان الجوزجانی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا ہمارے اصحاب نے چوڑائی کا اعتبار کیا ہے گہرائی کا نہیں، اھ تو میدانی نے پیمائش میں ان کے قول کو لیا ہے نہ کہ دو امتدادوں میں اور اپنی طرف سے انہوں نے گہرائی کی مقدار کا اضافہ کیا، تو ان دونوں نے اس کو جواہر اور شرح نقایہ میں ذکر کیا اور ان دونوں نے اس کی تصحیح اصل کے اعتبار سے کی ہے اور زیادتی سے قطع نظر کیا ہے، کیونکہ یہ محل ہے جس کے اصل میں اختلاف ہے نہ کہ جس کے عمق میں اختلاف ہے واللہ اعلم۔ (ت(