بقیہ کتب مذکورہ میں ہے: ثم انتھی الی النجاسۃ (عہ۱) ۳؎
(پھر نجاست تک پہنچ جائے۔ ت)
(عہ۱)تنبیہ اس مسئلہ کی تحقیق جلیل رسالہ ہبۃ الحبیر میں آتی ہے وہاں سے بتوفیقِ الٰہی یہ توفیق ظاہر ہوگی کہ پانی کے فی نفسہ کثیر ہونے کیلئے عمق درکار نہیں صرف اتنا ہو کہ زمین کہیں کھلی نہ ہو اور یہ جو اتنا عمق شرط کیا گیا کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلے اُس حالت میں ہے کہ اُس کے اندر وضو وغسل کریں اس تقدیر پر توجیہ مذکور کی گنجائش ہی نہیں واللہ تعالٰی اعلم ۲۱ منہ غفرلہ (م(
(۳؎ بحرالرائق ابحاث الماء ایچ، ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۷)
بالجملہ کلمات جمہور کسی طرح اُس آنے والے پانی کا بھی بطن حوض میں جریان درست نہیں آتا۔
وانا اقول: وباللہ التوفیق تحقیق(۱) یہی ہے کہ وہ جاری نہیں ورنہ اگر مثلاً نصف لوٹے میں ناپاک پانی ہو جس میں نجاست غیر مرئیہ ہو یا مرئیہ تھی اور نکال دی اُس کے بعد لوٹا بھر دیا اور کناروں سے کچھ نہ نکلا بلکہ بھرا بھی نہیں کچھ پانی ڈال دیا جو اُس کے ایک کنارے سے دوسرے تک بہہ گیا تو چاہئے کہ سب پانی اور لوٹا پاک ہوجائے کہ جریان ہوگیا اور وہ نجاست غیر مرئیہ کو فنا کر دیتا ہے اور اُس میں کوئی مساحت شرط نہیں اور بعد فنائے نجاست قلت پر استقرار کیا مضر حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں یہ مشائخ کہ خروج اصلا شرط نہیں کرتے اُن کا کلام بھی حوض کبیر میں ہے ولہٰذا منیہ وذخیرہ ونظم زندویسی میں فرمایا اذا کان ۴؎ الحوض کبیرا
بزازیہ میں بظاہر حوض کو صفت کثرت سے مطلق رکھ کر فرمایا: ثم دخل ماء کثیر ۱؎ (پھر کثیر پانی داخل ہو۔ ت) غنیہ میں اُن کے حکم کی تعلیل یوں فرمائی:
(قیل لیس بنجس) لکونہ کبیرا ۲؎ الخ کما تقدم کل ذلک۔(کہا گیا ہے کہ یہ نجس نہیں ہے) کیونکہ یہ بڑا ہے الخ جیسا کہ یہ سب کچھ پہلے گزر چکا ہے۔ (ت(
(۱؎ بزازیہ مع الہندیہ نوع فی الحیض نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۸)
(۲؎ غنیہ المستملی عشر فی عشر سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۱)
تویہ اعتراض بھی اسی قول دوم پر رہا مگر یہ اُن کا کلام مرئیہ باقیہ سے مخصوص کیا جائے۔ اب رہے وجوہ ثلثہ مذکورہ بحث اول اقول وبہ استعین جو ظرف حبس وحفظ آب کیلئے ہو اُس میں پانی کی حرکت عرفاً جریان نہیں کہلاتی مشک کی تہ میں کٹورا بھر پانی ہو اسے دہانہ باندھ کر زیروبالا کیجئے کہ پانی اِدھر سے اُدھر جائے اسے کوئی جاری ہونا نہ کہے گا۔ جب دہانے سے نکل کر بہے گا اب کہیں گے کہ پانی بہا یہاں سے تینوں وجوہ کا جواب ہوگیا کہ بطن ظرف میں متحرک کو عرفاًجاری نہیں کہتے اور مکان اور اس کی دیواریں کوئی ظرفِ آب نہیں اور نہر ظرف ہے مگر نہ ظرف حبس بلکہ محلِ جریان بخلاف تالاب اور حوض کے، اگرچہ کبیر ہو، تو بحمداللہ تعالٰی قول جمہور ہی پر عرش تحقیق مستقر ہوا اور کیوں نہ ہو کہ:
العمل علی قول الاکثر ویداللّٰہ علی الجماعۃ ھذا کلہ ما فاض علی قلب الفقیر، من فیض اللطیف الخبیر، مع تشتت البال، وتراکم البلبال،و ہجوم الحساد ،بانواع الفساد، واللّٰہ المستعان، وعلیہ التکلان، ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم، وحسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل، نعم المولیٰ ونعم النصیر،
عدت العادون وجاروا ورجوت اللّٰہ عجیرا وکفٰی باللّٰہ ولیا وکفٰی باللّٰہ نصیرا
عمل اکثر کے قول پر ہی ہوتا ہے، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہی ہوتا ہے، یہ سب کچھ فقیر کے دل پر اُترا، مہربان باخبر خدا کے فیض کرم سے ہے، حالانکہ طبیعت پر اگندہ اور پیہم مصائب میں گرفتار ہوں اور حاسدوں نے الگ کئی قسم کے فساد برپا کر رکھے ہیں اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے اور اسی پر بھروسا کیا جاتا ہے اور طاقت وقوت اللہ ہی سے ملتی ہے جو بلند اور باعظمت ہے، ہمیں اللہ کافی ہے اور معتبر کارساز ہے، بہترین آقا اور بہترین مددگار ہے دشمنوں نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ اور میں اللہ کے کرم کی امید کرتا ہوں حالتِ انکساری میں اور اللہ کافی کارساز ہے اور اللہ کافی مددگار ہے
ومما قلت فیہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم، مستجرا بذیلہ الاکرم،
رسول اللہ انت المستجاب فلا اخشی الا عادی کیف جاروا
بفضلک ارتجی ان عن قریب تمزَّق کیدھم والقوم باروا
میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں آپ کے دامن کی پناہ حاصل کرنے کیلئے یہ اشعار کہے ہیں اے اللہ کے رسول! آپ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے، تو اب مجھے دشمنوں کا کچھ خوف نہیں کہ وہ کیا ظلم ڈھائیں گے، مجھے آپ کے فضل سے امید ہے کہ عنقریب ان کا مکر پارہ پارہ ہوجائیگا اور وہ ہلاک ہوجائیں گے۔
وقلت؎
اور اس سے پہلے ربیع الآخر ۱۳۰۰ھ میں کہا تھا تو امید سے فزوں ترحیرت انگیز طور پر میری مرادیں پُوری ہوگئیں وللہ الحمد، خدا کرے ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے۔
الحمد للمتوحد بجلالہ المتفرد
وصلاتہ دوما علی خیرا لانام محمد
والاٰل والاصحاب ھم مأوای عند شدائدی
فالی العظیم توسلی بکتا بہ وبا حمد
وبمن(عہ۱) اٰتی بکلامہ وبمن ھدی وبمن ھدی
وبطیبۃ وبم جَوَت وبمنیر وبمسجد
تمام تعریفیں خدائے یکتا کو سزاوار ہیں جو اپنے جلال میں یکتا ہے، اور اس کی رحمتیں مدام، بہترین مخلوق محمد پر نازل ہوں، اور آل واصحاب پر، جو سختیوں میں میری پناہ گاہ ہیں، تو خداوند عظیم کی بارگاہ میں، میں وسیلہ لاتا ہوں، اس کی کتاب اور احمد کا۔ اور ان کا جو اللہ کے کلام کولائے اور جنہوں نے ہدایت دی اور جن سے ہدایت لی جاتی ہے، اور مدینہ منورہ کو اور ان کو جو مدینہ میں رہتے ہیں، اور منبر اور مسجد شریف کو
(عہ۱)ھو جبریل علیہ الصلاۃ والسلام ونبینا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وحملۃ القرآن من اٰلہ وصحبہ وامتہ (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم) ۱۲ منہ غفرلہ (م(
اور وہ جبریل علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حاملینِ قرآن آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی آل، اصحاب اور امت میں سے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت(
وبکل من وجد الرضا من عند رب واجد
لاھمّ (عہ۱) قدھجم العدای من کل شأوٍ ابعد
فی خیلھم ورجالھم مع کل عاد معتد
ھاوین زلۃ مثبتٍ باغین ذلۃ مھتد
لکنَّ عبدک اٰمن اذمن دعاک یؤید
لااختشی من باسھم یدناصری اقوی ید
لاھُمَّ فادفع شرھم وقنی مکیدۃ کائد
وآدِم صلاتک والسلا م علی الجیب الاجود
والاٰل امطار النَّدا والصحب سحب عوائد
ماغرّدَتْ ورقا علی بانٍ کخیر مغرِّد
واجعل بھا احمد رضا عبدا بحرز السید
اور ان تمام کو جنہیں خوشنودی میسر آئی رب کی جانب سے۔ اے اللہ ! دشمنوں نے مجھ پر ہلّہ بول دیا ہے ہر دُوری سے ان کے پیادوں اور ان کے سواروں نے، ہر حد سے تجاوز کرنے والے ظالم نے، جو ثابت قدم کی لغزش کی امید کرتے ہیں، اور ہدایت یافتہ کی ذلت کے خواہاں ہیں، مگر آپ کا غلام بے خوف ہے کیونکہ جو آپ کو پکارتا ہے اس کی تائید کی جاتی ہے، میں ان کی طاقت وقوت سے خوفزدہ نہیں۔ میرے مددگار کا ہاتھ مضبوط تر ہے۔ یا اللہ! ان کے شر کو دفع کردے، اور مکار کے مکر سے مجھے بچالے، اور اپنے صلوٰۃ وسلام کو سخی تر حبیب پر ہمیشہ نازل فرما، اور اُن کی آل پر جو جُود وسخا کی بارش ہیں، اور اصحاب پر جو فوائد کے بادل ہیں، جب تک قمریاں بان کے درخت پر بہترین گانے گاتی رہیں۔
اور اس صلوٰۃ وسلام کے طفیل احمد رضا کو، آقا کا امان یافتہ غلام بنادے۔
اور اللہ تبارک وتعالٰی صلوٰۃ وسلام اور برکتیں نازل فرمائے آقا، کریم اور مبارک پر، اور ان کی آل واصحاب اور بیٹے اور ان کی جماعت پر، وہ صلوٰۃ جو گرہوں کو کھول دے اور مدد عطا کردے، اور ہمیں حاسدوں کے حسد سے اور کینہ پروروں کے کینوں سے اور سرکشوں کی شرارت سے بچادے، بطفیل قل ھو اللہ احد۔۔۔الخ کے، واللہ سبحانہ، وتعالٰی اعلم۔ (ت(
(عہ۱) لغۃ فی اللھم ۱۲ منہ غفرلہ (م(
اَللّٰھُمَّ میں ایک لغت ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت(