Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲(کتاب الطہارۃ)
107 - 176
تحفۃ الفقہاء وبدائع میں امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی اور تبیین الحقائق میں دربارہ آب جاری امام ابو یوسف سے اور عبدالحلیم علی الدرر وجامع الرموز میں تصریح کی کہ دونوں ہاتھوں سے پانی لینا مراد ہے یعنی لپ بھر کر لینے میں نہ کھُلے اور قہستانی سے مفہوم کہ اُس کا اندازہ، پانچ انگل دَل ہے۔
حیث قال (ان کان) وجہ الماء (عشرا فی عشر لاینحسر ارضہ بالغرفۃ) ای یرفع الماء بالکفین وھذا قول بعض المشائخ فی تقدیر العمق وعلیہ الفتوی کما فی الخلاصۃ وھو علی مااختارہ من المقدارین والعمق الذی ھو خمس اصابع تقریبا ۱؎ الخ
قہستانی نے کہا کہ اگر پانی کا بالائی حصہ ایسا دہ در دہ ہو کہ چُلّو بھرنے سے پانی کی زمین نہ کھلے یعنی دونوں ہاتھوں سے پانی اٹھانے سے۔ اور عمق کی مقدار میں یہ بعض مشائخ کا قول ہے اور اسی پر فتوٰی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے، اور یہ وہ ہے جس کو مقداروں میں سے اختیار کیا ہے، اور عمق تقریباً پانچ انگل ہے الخ (ت(
 (۱؎ جامع الرموز    بحث عشر فی عشر    مطبہ کریمیہ قزان، ایران    ۱/۴۸)
اقول وھو تقریب قریب مشھودلہ بالتجربۃ (یہ اچھی تقریب ہے تجربہ اس پر گواہ ہے۔ ت) تو آبِ کثیر ہونے کو یہ چاہئے کہ سو ہاتھ مساحت میں تقریباً پانچ انگل دَل کا پانی پھیلا ہوا ہو کہیں اس سے کم دل نہ ہو تالاب یا حوض کہ بارش کے بہاؤ یا چرخ وغیرہ سے بھرتے ہیں ان کی دھار کبھی اتنی نہیں ہوتی کہ تالاب یا حوض میں گر کر تمام سطح مطلوب پر اُس کنارے تک معاً پانچ اُنگل پانی چڑھادے پانی بالطبع طالب مرکز ہے اُس کے اجزاء زیروبالا اُسی وقت تک رہ سکتے ہیں کہ اوپر کے اجزاء ڈھلکنے کی جگہ نہ پائیں جب محل پائیں گے فوراً اتر کر پھیل جائیں گے پرنالے سے جتنے دَل کی دھار اُتر رہی ہے زمین پر آکر ہرگز اُتنے دل پر نہ رہے گی معاً پھیلے گی یہی سبب ہے کہ مثلاً حوض میں ایک پورے کنارے سے پانی جس حجم کا اتارے باآنکہ مدد برابر جاری اور حوض کے سارے عرض میں معاً ساری ہے تو چاہئے تھا کہ یہی حجم آخر تک محفوظ رہتا اور دوسرے کنارے پر معاً اُتنے دَل کا پانی ہوجاتا مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ اُس کنارے پر بتدریج بڑھتا ہے اور اوپر گزرا کہ دوسرے کنارے پر پہنچ کر یہ جریان ٹھہر جاتا ہے تو مساحت کی کثرت کیا نفع دے گی جبکہ معاً پانچ انگل دَل نہ ہو بتدریج ہوا تو ہر وقت آب قلیل ہے اتنا ناپاک ہوگیا اور آیا وہ بھی یونہی کم تھا یونہی ناپاک ہوا یہاں تک کہ حوضِ کبیر بھر گیا اور ناپاک ہی رہا۔ ہاں عظیم سیلابوں میں اتنے اور اس سے زیادہ حجم کا پانی اُس کنارے پر معاً چڑھتا ہے مگر وہ دم کے دم میں تالاب کو بھر کر اُبال دیں گے تو اس صورتِ نزاع میں رہے گا ہی نہیں اور بالفرض اگر کبھی ایسی صورت ہو کہ اُتنے عظیم بہاؤ کا پانی آئے اور کنارے ہی پر رک رہے تو یہ بغایت نادر ہے اور احکامِ فقہیہ میں نادر کا لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ ہے اُس حکم دائر سائر کا منشا اور یہ ہے اُس تعلیل کا مفاد کہ کل مادخل صار نجسا یہ ہے وہ غایت عذر کہ تالاب میں باہر سے آنے والے پانی کو جاری مان کر بھی بحال نجاست مرئیہ باقیہ تمام تالاب کو ناپاک ٹھہرائے کتنا ہی کبیر ہو اگرچہ مسئلہ حوضین ومسئلہ نجاست غیر مرئیہ یا مرئیہ مخرجہ کا اب بھی جواب نہ ہوا۔

اقول مگر اس تقریر پر وہ صورت وارد ہے کہ اگر پانی تالاب میں داخل ہوکر پہلے دہ در دہ ہو لیا پھر نجاست سے ملا تو ناپاک نہ ہوگا کہ وہ دہ در دہ سہی پانچ اُنگل دَل بھی تو درکار۔

اگر کہیے ملنے سے پہلے اُس پُوری مساحت میں اُتنا دَل پیدا ہونا بعید نہیں کہ پھیلنا تو بہتے میں ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ ملنے سے پہلے کہیں ٹھہر کر دَل پیدا کرلے پھر ملے۔ یہی سِرہے کہ صورتِ مذکورہ خانیہ میں ان لفظوں سے ارشاد ہوئی:
واجتمع الماء فی مکان طاھر وھو عشر فی عشر ۱؎۔
اور پانی پاک جگہ اکٹھا ہوگیا اور وہ دہ در دہ ہے۔ (ت(
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)
خلاصہ میں:ان کان الماء الذی یدخل فی الغدیر یستقر فی مکان طاھر حتیٰ صار عشرا فی عشر ۲؎۔
اگر وہ پانی جو تالاب میں داخل ہورہا ہے پاک جگہ ٹھہر گیا یہاں تک کہ دہ در دہ ہوگیا۔ (ت(
 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    فصل فی الحیاض     نولکشور لکھنؤ       ۱/۵)
فتح القدیر وبحرالرائق میں:انکان دخل فی مکان طاھر واستقر فیہ حتی صار عشرا فی عشر ۳؎۔
اور اگر پاک جگہ پانی داخل ہو کر ٹھہر گیا یہاں تک کہ وہ دہ در دہ ہوگیا۔ (ت(
 (۳؎ فتح القدیر        الغدیر العظیم        نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۱)
ذخیرہ وحلیہ میں:انکان الماء الذی یدخل الغدیر ولایستقر فی مکان طاھر حتی یصیر عشرا فی عشر ۱؎۔
اگر وہ پانی جو تالاب میں داخل ہوتا ہے داخل ہوتے ہی پاک جگہ نہیں ٹھہرتا ہے یہاں تک کہ دہ در دہ ہوجائے۔ (ت(
 (۱؎ حلیہ)
ورنہ صرف دہ در دہ ہونے کیلئے کسی مکان میں ٹھہر کر جمع ہولینا کیوں درکار ہوتا۔

اقول اس وقت کا دَل کیا فائدہ دے گا جبکہ اُسے آگے بڑھ کر نجاستوں سے ملنا ہے بڑھے گا پھر اُسی بہنے پھیلنے سے جو اُس میں وہ حجم نہ رہنے دیں گے۔ 

اگر کہیے اتصال نجاست یوں بھی ممکن کہ آبِ نجس بڑھ کر اُس سے ملے۔

اقول یہ تصویر مفروض کے خلاف ہے اور خانیہ میں الفاظ مذکورہ کے بعد تصریح ہے:
ثم تعدی الی موضع النجاسۃ ۲؎
 (پھر نجاست کی جگہ تک تجاوز کر جائے۔ ت)
 (۲؎ قاضی خان    الماء الراکد        نول لکشور لکھنؤ        ۱/۴)
Flag Counter